Home Blog Page 51

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے کہا ہے کہ صوبے میں محکمہ آبپاشی کی کارکردگی، شفافیت اور مؤثر سروس ڈیلیوری پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان نے کہا ہے کہ صوبے میں محکمہ آبپاشی کی کارکردگی، شفافیت اور مؤثر سروس ڈیلیوری پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرپشن، غفلت اور ناقص کارکردگی دکھانے والوں کے لیے محکمے میں کوئی گنجائش نہیں، جبکہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی ہدایات کے مطابق تمام ترقیاتی و حفاظتی منصوبوں میں شفافیت اور معیار کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے پشاور میں محکمہ آبپاشی نارتھ ریجن سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری آبپاشی محمد آیاز، چیف انجینئر نارتھ ریجن طارق علی اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران چیف انجینئر نے نارتھ ریجن کے اضلاع صوابی، ہزارہ، سوات اور مردان سرکلز میں جاری ترقیاتی اور فلڈ پروٹیکشن منصوبوں پر صوبائی وزیر کو تفصیلی بریفنگ دی۔صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے ہدایت کی کہ فلڈ پروٹیکشن کے تمام کاموں کی رفتار مزید تیز کی جائے اور افسران کسی قسم کا سیاسی دباؤ قبول نہ کریں بلکہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری، غیر جانبداری اور پیشہ ورانہ طریقے سے انجام دیں۔ اجلاس میں نارتھ ریجن میں فلڈ پروٹیکشن والز، نہروں کی بہتری، پانی کی منصفانہ تقسیم اور جاری ترقیاتی سکیموں کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔ ریاض خان نے اس موقع پر مزید ہدایت کی کہ تمام حفاظتی و ریلیف منصوبے بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں تاکہ سیلاب کی ممکنہ صورتحال میں عوام، املاک اور زرعی زمینوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں آبپاشی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، کرپشن کے خاتمے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نہروں کی مرمت، صفائی اور پانی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل مؤثر انداز میں استعمال کیے جائیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم ہو سکے۔

وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا ڈائریکٹر جنرل محکمہ اطلاعات محمد عمران کے ہمراہ روزنامہ ڈان کے دفتر کا دورہ

وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات وتعلقات عامہ شفیع جان نے پیر کے روزڈائریکٹر جنرل محکمہ اطلاعات محمد عمران کےہمراہ،روزنامہ ڈان کے دفتر پشاور کا دورہ کیا.اس موقع پرانہوں نے روزنامہ ڈان کےخیبرپختونخوا ریزیڈنٹ ایڈیٹر سینئرصحافی اسماعیل خان سے ملاقات کی اورصحافی برادری کے مسائل، ان کے حل اور صوبے کے امن و امان پر تفصیلی گفتگو کی.معاون خصوصی برائے اطلاعات نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبے میں امن کے قیام اور عوامی مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا امن جرگہ، امن کے لیے حکومت کی سنجیدہ کوششوں کا حصہ ہے اور امید ہے اس کے بہتر اثرات سامنے آئیں گے،شفیع جان نے کہا کہ حکومت کوصحافیوں کے مسائل و مشکلات کا بھی مکمل ادراک ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کوتعمیر و ترقی سے ہمکنار کرنے اور عوامی مشکلات کو حل کروانے میں صحافی برادری کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور صحافی برداری کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔اس موقع پر ریزیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ ڈان اسماعیل خان نے معاون خصوصی شفیع جان اور ڈائریکٹر جنرل اطلاعات کی جانب سے روز نامہ ڈان کے دورے کو سراہا۔انہوں نے معاون خصوصی کو صحافی برادری کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا۔

پشاور سمارٹ سٹی منصوبے پر وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا

پشاور سمارٹ سٹی منصوبے پر عملدرآمد مزید تیز کرتے ہوئے مینا خان آفریدی کی زیر صدارت ایک اعلی سطحی اجلاس لوکل گورنمنٹ سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں پشاور سے تعلق رکھنے والے منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ بلدیات، تعمیرات و مواصلات، آبپاشی، پبلک ہیلتھ انجینرنگ سمیت دیگر متعلقہ حکام نے منصوبے کے تحت پشاور کو سمارٹ سٹی بنانے پر اپنی بریفنگ پیش کیں۔
اجلاس کو سمارٹ سٹی پلان کے اندر صفائی، نکاسی آب، گند ٹھکانے لگانے، صاف پانی کی فراہمی، پارکس کی تعمیر، سڑکوں کی وسعت، اربن فلڈنگ سے بچاو، انڈر پاسسز بنانے، سبزی منڈیوں، بس سٹینڈز سمیت دیگر اہم سکیمز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جس پر اجلاس کے ہر ممبر نے اپنی آراء اور تجاویز پیش کئے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ غیر قانونی سبزی منڈیوں کو جلد از جلد متبادل جگہوں پر منتقل کی جائیں تاکہ ٹریفک کی روانی، صفائی کی صورتحال متاثر نہ ہو۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی پارک میں سروس خدمات فیس کے بغیر نہیں ہوں گے۔ سمارٹ سوشل اور کلچرل کمپوننٹ کے تحت سلاٹر ہاوس اور قبرستان کے لیے منتخب ممبران تجاویز جمع کریں گے۔ پشاور میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے زیر انتظام غیرفعال ٹیوب ویل دوبارہ فعال بنانے کے لیے پروپوزل سیکرٹری بلدیات کو جمع کیا جائے۔ اجلاس میں صفائی، پانی فراہمی، نکاسی آب، سڑکوں کی اسفالٹ، تعمیرات اور تزئین و آرائش پر منتخب ممبران کی تجاویز کو موقع پر ہی پلان میں شامل کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے کہا کہ تمام تجاویز اور سکیمز کی لسٹنگ، ڈیزائننگ اور فیزیبلٹی رپورٹ جلد از جلد تیار کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر پشاور کو عظیم بنائیں گے۔ پشاور تمام پشتونوں کا گھر ہے، خدمت کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔ وزیر بلدیات نے مزید کہا کہ جون 2026 تک پشاور میں دیرپا ترقی کے اثرات سب کے سامنے ہوں گے۔ فارم 45 کے ایم پی ایز و ایم ایز کے تجاویز اور سکمیز کو بھی سنجیدگی سے لیا جائے۔

نیشنل گیمز کی اولمپک ٹارچ حوالگی کے سلسلے میں قیوم اسپورٹس کمپلیکس پشاور میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

نیشنل گیمز کی اولمپک ٹارچ حوالگی کے سلسلے میں قیوم اسپورٹس کمپلیکس پشاور میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورنوجوانان تاج محمد خان ترند تھے۔تقریب میں خیبرپختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ذوالفقار بٹ، سابق صوبائی وزیر عاقل شاہ، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی،تقریب میں خیبرپختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ذوالفقار بٹ نے اولمپک ٹارچ کو صوبائی مشیر کھیل تاج محمد خان ترند کے حوالے کی، جس کے بعد انہوں نے یہ مشعل باضابطہ طور پر آزاد جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل سپورٹس کے سپرد کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر کھیل تاج محمد ترند نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا 480 کھلاڑیوں اور آفیشلز پر مشتمل دستہ کراچی میں ہونے والے 35ویں نیشنل گیمز میں بھرپور تیاری کے ساتھ شرکت کرے گا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے کھلاڑیوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں اور ہر موقع پر انہوں نے قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔تاج محمد ترند نے نیشنل گیمز میں پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے انعامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گولڈ میڈل جیتنے والے کھلاڑی کو 3 لاکھ روپے،سلور میڈل جیتنے والے کو 2 لاکھ روپے اور برانز میڈل جیتنے والے کو 1 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کھیلوں کے فروغ کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور اسی مقصد کے تحت صوبے بھر میں اسپورٹس انفراسٹرکچر کی بہتری کے متعدد منصوبے جاری ہیں۔ مشیر کھیل نے مزید کہا کہ قیوم اسپورٹس کمپلیکس میں نئے ایتھلیٹکس ٹریک کی تکمیل کے لیے کام تیزی سے جاری ہے،تاج محمد ترند نے بتایا کہ رواں سال خیبرپختونخوا گیمز بھی منعقد کیے جائیں گے جن میں 5 ہزار سے زائد کھلاڑی مختلف ایونٹس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ محنت، لگن اور عزم کے ساتھ میدان میں اتریں اور صوبے کے لیے زیادہ سے زیادہ میڈلز جیت کر اپنے صوبے کا نام روشن کریں۔تقریب سے سابق صوبائی وزیر کھیل اور سابق صدر خیبرپختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن سید عاقل شاہ نے بھی خطاب کیا۔

صوبائی حکومت محکمہ جاتی اصلاحات، موثر گورننس اور ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے سروس ڈلیوری کے نظام کی بہتری کیلئے کوشاں ہے, چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت گورننس امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں محکموں کے سیکرٹریز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پشاور میں بیوٹیفکیشن اور بحالی کے منصوبے کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے کے لئے تجاوزات کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں۔ چیف سیکرٹری نے محکموں کو آپس میں باہمی رابطہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ذخیرہ اندوزی کے تدارک کیلئے چینی اور آٹے کی مارکیٹ میں سپلائی اور ڈیلرز کے سٹاک کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔ خیبرپختونخوا میں خسرہ و روبیلا سے بچاو کی ویکسینیشن مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ڈپٹی کمشنرز کو ٹاسک سونپ دیا گیا۔ اسی طرح پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی قائم کرنے کے لئے کمیٹی دو مہینے میں قانون سازی کرے گی۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں عوامی شراکت داری اورالیکٹرک وہیکل رکشہ کیلئے لائحہ عمل تشکیل دیا جارہا ہے۔چہرہ شناس حاضری نظام کو پورے صوبے میں متعارف کرایا جارہا ہے جبکہ لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیز اور تعمیرات کی شکایات کیلئے دو ہفتے میں پورٹل کا اجراء کردے گی۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 10 دسمبر تک سرکاری امور کی ڈیجیٹائزیشن کے منصوبے ای آفس کو تمام ڈائریکٹوریٹس اور ذیلی دفاتر تک توسیع دے دی جائے گی۔

صحت اور تعلیم صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان

خیبرپختونخوا میں خسرہ و روبیلا سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم کا باضابطہ آغاز کردیا گیا۔ اس حوالے سے ورسک روڈ پشاور کے ایک مقامی سکول میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان، صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ سمیت محکمہ صحت سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی، اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی کے معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ صوبہ بھر میں 12 روزہ مہم 29 نومبر تک جاری رہے گی، اس دوران تقریباً 60 لاکھ بچوں کو خسرہ و روبیلا سے بچاؤ کی ویکسین اور ٹیکے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔شفیع جان نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں جلد صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی جارہی ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات تک مؤثر اور بروقت رسائی مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ بانی چئیرمن عمران خان کے ویژن کے تحت وزیراعلی کی قیادت میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے صحت اور تعلیم کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ویکسینیشن مہم کی کامیابی میں اساتذہ، والدین اور علمائے کرام کا کلیدی کردار ہے۔ حکومت سمیت معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ کوششوں سے ہی اس قومی ذمہ داری کو مؤثر انداز سے پورا کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم عوام کے ووٹ سے منتخب ہوئے ہیں اور عام لوگوں کے مسائل کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں۔ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود کے ہر منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھا رہی ہے۔

ترقی، شفافیت اور عوامی خدمت ہماری حکومت کی بنیادی ترجیحات ہیں،سید فخر جہان

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے تحت وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت کے ترجیحات میں شفاف حکمرانی، عوامی فلاح اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بونیر کی ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات جاری ہیں اور ان میں مزید بہتری لائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں جاری ترقیاتی عمل کو تیز کرنا اور عوام کی دہلیز پر سہولیات پہنچانا حکومت کا واضح اور عزم مصمم ہے۔ان خیالات کا اظہار دورہ بونیر کے دوران انھوں نے ہیر کے روز تحصیل چیرمین گاگرہ کے دفتر میں عوامی مسائل سننے کیلئے منعقدہ پبلک ڈے کے موقع پر علاقے کے معززین اور عوامی وفود سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر نے عوامی مسائل سننے کے حوالے سے مصروف ترین عوامی رابطہ دن گزارا جبکہ عوام نے انھیں اپنے بنیادی مسلے مسائل کے حوالے سے اپنے مطالبات پیش کیے۔اس موقع پر سرکاری اداروں کے افسران بھی موجود تھے۔سید فخر جہان نے بونیر کے عوام کو یقین دلایا کہ علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار مزید بڑھائی جائے گی جبکہ نئے منصوبے بھی لائے جائیں گے تاکہ عوام کو فوری اور پائیدار ریلیف فراہم کیا جا سکے اور صوبے کا یہ خطہ ترقی کے دھارے میں دیگر علاقوں کے برابر لایا جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے تحت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبہ ترقی، شفافیت اور عوامی فلاح کی سمت درست انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور بونیر کو اس ترقیاتی عمل میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ میری سیاست کا مرکز عوام ہیں اور بونیر کے لوگوں نے مجھ پر جو اعتماد کیا ہے میں اسے امانت سمجھ کر پوری دیانتداری سے نبھاؤں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں کسی بھی طرح کی بیجا تاخیر یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کا پیسہ عوام کی فلاح پر لگے گا۔صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ علاقے کی تعمیر و ترقی میں بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور پانی جیسے اہم شعبوں پر ہمارا خاص فوکس ہے تاکہ عوام کو دیرپا اور عملی فائدہ ملے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ہدف ایسے ترقیاتی منصوبے ہیں جو صرف آج نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی فائدہ مند ہوں۔سید فخر جہان نے کہا کہ عوامی خدمت، عوامی رابطہ اور مسائل کا عملی حل ہماری پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ بونیر کی تعمیر و ترقی کے لیے میرا دروازہ ہر شہری کے لیے کھلا ہے اور یہ رابطہ مسلسل جاری رہے گا۔

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت محکمہ آبپاشی ساؤتھ ریجن سے متعلق اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا

خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ریاض خان کی زیر صدارت محکمہ آبپاشی ساؤتھ ریجن سے متعلق اہم اجلاس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری آبپاشی محمد آیاز، چیف انجینئر باتور زمان سمیت محکمہ آبپاشی کے دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران چیف انجینئر نے صوبائی وزیر کو ساؤتھ ریجن میں جاری ترقیاتی کاموں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں امبریلا سکیم، ڈی ایف سی سکیم، مختلف تیار شدہ پی سی ونز، اور ڈی آئی خان، بنوں، کوہاٹ، لکی مروت، ہنگو، کرک اور پشاور سرکلز میں جاری منصوبوں کی پیش رفت شامل تھی۔ صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے حکام کو واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ آبپاشی کے کاموں میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ تمام زیر التوا کاموں پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کیا جائے اور 30 نومبر تک پیش رفت رپورٹ ہر صورت جمع کرائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے واضح احکامات ہیں کہ صوبے میں کرپشن کے حوالے سے کسی قسم کی نرمی یا رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت شفافیت، قانون کی بالادستی اور گڈ گورننس پر مکمل طور پر یقین رکھتی ہے اس لیے کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اور بلا امتیاز کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ افسران اپنی ذمہ داریاں ایمانداری، دیانتداری اور مکمل پیشہ ورانہ انداز میں سرانجام دیں کیونکہ کارکردگی کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص ناجائز کام کرے یا میرا نام استعمال کرے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہوگا اور جو بھی غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ریاض خان نے کہا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کا خوف ہے اور وہ اپنی زندگی عوام کی خدمت کے لیے وقف سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت میں جزا و سزا کا واضح نظام موجود ہے جہاں قائد عمران خان کے ویژن کے مطابق امیر و غریب کے لیے ایک جیسا قانون نافذ ہے۔

محکمہ صحت،حکومتِ خیبر پختونخوا نے پیر کے روزصوبہ بھر میں خسرہ۔روبیلا مہم 2025 کا باضابطہ آغاز کر دیا

محکمہ صحت،حکومتِ خیبر پختونخوا نے پیر کے روزصوبہ بھر میں خسرہ۔روبیلا مہم 2025 کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ اس حوالے سے پشاور میں منعقدہ تقریب میں وزیرِ صحت خیبر پختونخواخلیق الرحمان، معاونِ خصوصی برائے اطلاعات وتعلقات عامہ شفیع جان،چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ سیکرٹری صحت شاہداللہ خان، سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹرمحمد بختیار خان اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر شاہد یونس نے شرکت کی۔ اس موقع پر بچوں کو خسرہ اور روبیلا سے محفوظ رکھنے کے لیے 12 روزہ خصوصی ویکسی نیشن مہم کا باقاعدہ آغاز کیا گیاجو 29 نومبر تک جاری رہے گی۔ اس مہم کے تحت صوبے کے تمام اضلاع میں 6 ماہ سے 5 سال تک کے بچوں کو ایم آر ویکسین لگائی جائے گی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے والدین، اساتذہ، علمائے کرام، عمائدین، ڈاکٹرز اور سیاسی نمائندگان سمیت معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ اس اہم صحت عامہ کی مہم میں بھرپور حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ ان بیماریوں کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور صوبائی حکومت اس مہم کے لیے درکار تمام انسانی وسائل اور دیگر انتظامات کی فراہمی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔وزیرِ صحت نے بتایا کہ حکومتِ خیبر پختونخوا صوبہ بھر میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے 275 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صحت کے نظام کی کارکردگی اور استعداد میں بہتری کے لیے ایک جامع اصلاحاتی حکمتِ عملی پر کام کر رہی ہے تاکہ عوام کو معیاری اور قابلِ رسائی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔بچوں کی صحت کے حساس معاملے پر زور دیتے ہوئے وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ اس مہم کے دوران بدعنوانی، غفلت یا کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ شفافیت اور سخت مانیٹرنگ ہر سطح پر یقینی بنائی جائے گی۔اپنے خطاب میں وزیرِ صحت نے تمام، شرکاء تقریب اور میڈیا نمائندگان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے الیکٹرانک، پرنٹ، سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا سے اپیل کی کہ وہ مہم کا پیغام ہر گھر تک پہنچانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔محکمہ صحت کی ٹیمیں صوبے کے ہر گوشے تک پہنچیں گی اور اس سال 60 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔ وزیرِ صحت نے یقین ظاہر کیا کہ اجتماعی کوششوں سے صوبے میں خسرہ اور روبیلا سے ہونے والی اموات کو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے گا۔

ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد سرمد سلیم اکرم کی زیرِ صدارت خسرہ و روبیلا مہم (17 تا 29 نومبر 2025) کی تیاریوں کے حوالے سے ایک اہم کوآرڈینیشن اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس ایبٹ آباد میں منعقد ہوا

ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد سرمد سلیم اکرم کی زیرِ صدارت خسرہ و روبیلا مہم (17 تا 29 نومبر 2025) کی تیاریوں کے حوالے سے ایک اہم کوآرڈینیشن اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس ایبٹ آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس میں یونیسف خیبر پختونخوا کے ٹیم لیڈ اِنُواوا، سیکیورٹی اینالسٹ قاضی سیف اللہ، ڈی ایچ او ایبٹ آباد ڈاکٹر شہزاد اقبال، ای پی آئی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر یاسر خان اور ڈی ای او سی کے فوکل پرسن ندیم خان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران مہم کے دوران درپیش چیلنجز اور ان کے حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسکولوں میں ریفیوژلز سے متعلق مسائل، ویکسینیشن ٹیموں کی دور دراز علاقوں تک رسائی، اور یونین کونسل کی سطح پر انتظامات کو مزید بہتر بنانے پر مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر سرمد سلیم اکرم نے ہدایت کی کہ والدین میں شعور و آگاہی بڑھانے اور ٹیموں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے تمام محکموں کے درمیان مؤثر کوآرڈی نیشن برقرار رکھی جائے، تاکہ مہم کے دوران کوئی بھی بچہ ویکسینیشن سے محروم نہ رہے۔آخر میں ڈپٹی کمشنر نے یقین دلایا کہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور یونیسف ایک جامع حکمت عملی کے تحت مہم کی کامیابی کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔