سیکرٹری لائیو اسٹاک، فشریز و کوآپریٹیوز محمد طاہر اورکزئی کی زیر صدارت محکمہ لائیو اسٹاک کی ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری میں بہتری سے متعلق آن لائن اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک توسیع ڈاکٹر اصل خان سمیت صوبے کے تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ڈائریکٹرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس میں ضلعی سطح پر سروس ڈیلیوری، کارکردگی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری طاہر اورکزئی نے ڈسٹرکٹ سروس ڈیلیوری میں بہتری پر افسران کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ محکمہ لائیو اسٹاک صوبے کی عوامی ضروریات کو پورا کرنے اور زرعی معیشت کو فروغ دینے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لائیو سٹاک کا ملکی معیشت میں اہم کردار ہے اور خوراک کی ضروریات پوری کرنے میں بھی اس کا کردار انتہائی نمایاں ہے، لہٰذا اس شعبے میں بہتری براہ راست عوامی فائدے سے منسلک ہے۔سیکرٹری لائیو اسٹاک نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ضلعی افسران محکمے کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے بھرپور محنت کریں۔ انہوں نے سختی سے تنبیہ کی کہ جن اضلاع میں کارکردگی 50 فیصد سے کم ہے، وہاں کے افسران فوری طور پر اپنی کارکردگی بہتر کریں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ محکمہ لائیو سٹاک عوام کو معیاری اور بروقت سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لاتا رہے گا اور صوبے میں سروس ڈیلیوری کے مجموعی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت محکمہ داخلہ کے کمٹی روم میں کابینہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا
خیبرپختونخوا کے وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت محکمہ داخلہ کے کمٹی روم میں کابینہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایکشن ان ایڈ آف سول پاورز ریگولیشن کے قانون کے مجوزہ خاتمے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل اور محکمہ داخلہ کے دیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں مجوزہ قانون کے خاتمے سے متعلق ضروری قانونی تقاضوں، ممکنہ قانونی پیچیدگیوں اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی شمولیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کمیٹی نے قانون کے خاتمے کے انٹنیگریم پیریڈ کے قانون کا مختلف پہلوؤں کے حوالے سے بھی غور کیا۔ اجلاس میں حال ہی میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں منعقدہ امن جرگے کے فیصلوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔وزیر قانون نے تجویز دی کہ اس قانون کو اسمبلی سے ریپیل کرانے سے قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔صوبائی کابینہ نے کابینہ کمیٹی کو اس قانون کے قانونی اور پروسیجرل پہلوؤں سے متعلق اختیارات دیے ہیں تاکہ قانون کی منسوخی کے عمل کو موثر اور قانونی طور پر درست بنایا جا سکے اور ان تجاویز کو کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
تیل قیمتیں نومبر 2021 کے بعد سے کم ترین سطح پر ہیں جبکہ دوسری طرف ملک میں گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گیس قیمتوں سے متعلق اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل قیمتیں نومبر 2021 کے بعد سے کم ترین سطح پر ہیں اب 58.6 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہی ہیں جبکہ دوسری طرف ملک میں گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اوگرا نے ایک روز قبل گیس قیمت میں 8 فیصد کمی کی منظوری دی لیکن اچانک اپنا فیصلہ بدل کر 7 فیصد اضافہ کر دیا اچانک اوگرا یوٹرن سے لوگ حیرت اور صدمے میں ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ایکسپورٹرز پہلے ہی اپنی غیر مسابقتی حیثیت پر چیخ رہے ہیں اور وزیرِ اعظم نے کاروبار لاگت کم کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنا دی ہے کیا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ ہماری قابل اتھارٹی کتنی اہل ہے۔ ایک دوسرے بیان میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے پاکستانی بینکوں میں جمع کرانے کی بجائے نقدی رکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 کھرب روپے سے زائد رقم بینکاری نظام سے باہر کرنسی اِن سرکولیشن میں ہیں جو آئی ایم ایف رپورٹ میں شناخت شدہ 5.3 کھرب روپے کی کرپشن سے دو گنا سے زیادہ ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ کرنسی اِن سرکولیشن میں پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔نقدی رکھنے کی ایک اور وجہ ملک میں بلند ٹیکس شرح بھی ہوسکتی ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومتی ڈیجیٹل لائزیشن کی مہم کسی کام کی ثابت نہیں ہو رہی۔
خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے، معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش دھماکے کے روز خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کرنا افسوسناک اور قابل مذمت ہے، ایسے سانحے کے دن الزام تراشی کی بجائے یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا جانا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا کہ پشاور کے ایک حساس مقام پر ہونے والے خودکش حملے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے جوان شہید اور زخمی ہوئے۔اس واقعے کے فوری بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اپنی تمام سرکاری مصروفیات ترک کرکے ہسپتال پہنچے زخمیوں کی عیادت کی اور بعد ازاں شہدائ کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کی۔اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں شفیع جان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو چاہئے تھا کہ دہشتگردی کے واقعہ پر صوبائی حکومت اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کرتی لیکن افسوس کہ انہوں نے الزام تراشی کو ترجیح دی ہماری روایت رہی ہے کہ سانحات کے موقع پر سیاست نہیں کی جاتی بلکہ غم زدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔معاون خصوصی شفیع جان نے کہا کہ مریم صفدر کی سیاست الزام تراشی سے شروع ہو کر نفرت پر ختم ہوتی ہے اور یہی ان کی جماعت کا وطیرہ بھی ہے۔ خیبرپختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور آج بھی ہمارا صوبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے صوبے میں امن کے قیام کے لیے امن جرگہ کے ذریعے تمام سیاسی قیادت کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا،صوبے کے حقوق کے حوالے سے وفاق کی سرد مہری پر شفیع جان نے کہا کہ وفاق کا خیبرپختونخوا کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے وفاق خیبرپختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ اور نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی مد میں واجبات ادا نہیں کر رہا تاہم وفاقی حکومت کی سرد مہری کے باوجود صوبائی حکومت اپنے وسائل سے وزیراعلیٰ کی قیادت اور بانی چیئرمین عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے کی ترقی کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے،شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت موٹرویز کی تعمیر، پن بجلی کے منصوبوں، ٹرانسمیشن لائن بچھانے سمیت کئی اہم ترقیاتی منصوبوں پر عملی کام کر رہی ہے۔ضمنی الیکشن پر بات کرتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ سوچی سمجھی سازش کے تحت فارم 47 کے ذریعے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ 8 فروری کے عام انتخابات سے جاری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت اور اپنے قائد عمران خان کی رہنمائی میں صوبے کے حقوق اور عمران خان کی رہائی کے لیے پرامن، آئینی و قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا کرنسی سرکولیشن بارے اہم بیان
پاکستانی بینکوں میں جمع کرانے کے بجائے نقدی رکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ مزمل اسلم
اسٹیٹ بینک کے مطابق 11 کھرب روپے سے زائد رقم بینکاری نظام سے باہر کرنسی اِن سرکولیشن میں ہیں۔ مزمل اسلم
جو آئی ایم ایف رپورٹ میں شناخت شدہ 5.3 کھرب روپے کی کرپشن سے دو گنا سے زیادہ ہے۔ مزمل اسلم
کرنسی اِن سرکولیشن مٰیں پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مزمل اسلم
نقدی رکھنے کی ایک اور وجہ ملک میں بلند ٹیکس شرح بھی ہوسکتی ہیں۔ مزمل اسلم
حکومتی ڈیجیٹل لائزیشن کی مہم کسی کام کی ثابت نہیں ہو رہی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا
انور خان خٹک اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ پی آر او ٹو مشیر خزانہ خیبرپختونخوا
صوبائی وزیر ایکسائز سید فخرجہان کی زیرِ صدارت بونیر میں انسدادِ منشیات کے حوالے سے کھلی کچہری کا انعقاد
خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان کی زیرِ صدارت پیر کے روز ڈپٹی کمشنر آفس بونیر میں انسدادِ منشیات کے حوالے سے اعلی سطح کی کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا جس میں ڈپٹی کمشنر بونیر کاشف قیوم، ڈی جی ایکسائز،ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول عبدالحلیم خان، ڈی پی او بونیر، ڈائریکٹر نارکوٹکس کنٹرول، ایی ٹی او انٹی نارکوٹکس آپریشنز،سرکل آفیسر و ایس ایچ او ایکسائز سوات، فلاحی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں، سیاسی مشران، صحافی برادری اور سول سوسائٹی کے افراد نے بھرپور شرکت کی۔کھلی کچہری کا مقصدمنشیات کے پھیلاؤ کی روک تھام، آگاہی کے فروغ، اصلاحی سماجی اقدامات کو مضبوط کرنا اور متعلقہ اداروں و فلاحی تنظیموں کے ساتھ مشترکہ کوششیں و تدابیر وضع کرنا تھا۔کھلی کچہری سے خطاب میں صوبائی وزیر سید فخر جہان نے کہا کہ منشیات ایک ایسا ناسور ہے جو نہ صرف نوجوان نسل بلکہ پوریمعاشرتی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بانی چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کے ڈرگ فری خیبرپختونخوا کے ویژن کے مطابق بلا امتیاز، سخت اور مؤثر کارروائیوں کے ذریعے اس لعنت کے خاتمے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث کسی بھی فرد کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ انسدادِ منشیات کیلئے اصلاحی و سماجی اقدامات بھی ضروری ہیں جس میں سول سوسائٹی اور سماجی تنظیموں کا حکومت اور اداروں کیساتھ ایک کلیدی کردار بنتا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت اس لعنت کے خلاف موثر اقدامات اٹھائے گی تاہم معاشرے کو من حیث القوم کمیونٹی کی سطح پر اس سوچ کو مضبوط کرنا ہے کہ منشیات ایک سماجی دشمن ہے اور اس کے خلاف ہر شہری کو اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے بونیر میں محکمہ ایکسائز کے سب سٹیشن آفس کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نئے دفتر میں ایڈیشنل ایس ایچ او سمیت عملہ تعینات ہوگا جس سے ضلع میں انسدادِ منشیات کی کارروائیوں میں تیزی آئے گی اور مقامی نگرانی کا نظام مضبوط ہوگا۔اپنے خطاب کے دوران صوبائی وزیر نے تمام شرکاء، فلاحی تنظیموں، ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ ایکسائز اور سول سوسائٹی کا شکریہ ادا کیا اورکہا کہ ہمارا مشترکہ مقصد ایک محفوظ، باشعور اور منشیات سے پاک خیبرپختونخوا اور ہے۔انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اداروں، فلاحی تنظیموں اور عوام کی کوششوں کی ہر سطح پر مکمل سرپرستی کرتی رہے گی تاکہ آنے والی نسلیں صحت مند اور محفوظ ماحول میں پروان چڑھ سکیں۔شرکاء نے انسدادِ منشیات کے حوالے سے اپنی تجاویز اور بعض گذارشات بھی پیش کیں اور صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی وجہ سے تاریخ میں پہلی دفعہ انسداد منشیات کے لئیسنجیدہ اقدامات اٹھاتے ہوئے بونیر میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر ڈی پی او بونیر نے کہا کہ پولیس منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور مشترکہ کارروائیاں جاری رکھے گی اور محکمہ ایکسائز کے ساتھ مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ڈی جی ایکسائز عبدالحلیم خان نے کہا کہ محکمہ ایکسائز صوبے کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھاتا رہے گا۔سماجی تنظیموں نے یقین دلایا کہ وہ اس مہم میں حکومت کے شانہ بشانہ رہیں گے تاکہ نوجوان نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھا جا سکے۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی زیرصدارت گورننس امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت ہفتہ وار گورننس امور پر اجلاس میں پشاور کی ترقی و بحالی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹریز اور ویڈیو لنک کے ذریعے ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے حکومت خیبرپختونخوا کے اصلاحاتی اقدامات کے تحت پشاور میں بیوٹیفکیشن اور بحالی پر تیزی سے کام جاری ہے۔ پی ڈی اے کی جانب سے ماہانہ پلان تیار کرلیا گیا۔پہلے مہینے کے اقدامات میں فلائی اوورز کی بہتری، لائٹس کی تنصیب، کرب سٹونز کی تبدیلی، گرین بیلٹس کی بحالی، پیڈیسٹرین برجز کی خوبصورتی شامل ہیں۔ اسی طرح محکمہ سیاحت دس بی آر ٹی فیڈر بسز اور سات بی آر ٹی اسٹیشنز کی تزئین و آرائش بھی کررہی ہے۔اس کے علاوہ پشاور کیلئے 120 کلومیٹر سے زائد روڈز، سمارٹ سٹی اقدامات، ٹریفک مینجمنٹ پلان اور واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز اصلاحات بھی تیار کرلی گئی ہیں۔رنگ روڈ کی بہتری اور یونیورسٹی روڈ کی کارپٹنگ بھی ان اقدامات میں شامل ہے۔جبکہ پشاور کی طرز پر تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اپنے وسائل کیمطابق شہروں کی بہتری کیلئے کام کریں گے۔چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اس حوالے سے پلاننگ کرنے کی ہدایت جاری کیں اور کہا کہ پشاور کے ترقیاتی پیکج کیلئے نفاذی پلان اور درکار وسائل کو سامنے رکھتے ہوئے کام جلد مکمل کیا جائے اور تمام ادارے اس حوالے سے کوآرڈینیشن سے کام کریں۔
وزیراعلی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا دورہ، زخمیوں کی عیادت کی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات وتعلقات عامہ شفیع جان نے پیر کے روز لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایف سی ہیڈکوارٹر خودکش دھماکے میں زخمی ہونے والے ایف سی اہلکاروں اور عام شہریوں کی عیادت کی اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل محکمہ اطلاعات محمد عمران خان اور ہسپتال انتظامیہ بھی موجود تھی،معاون خصوصی نے زخمیوں کی خیریت دریافت کی ان کے حوصلے اور عزم کو سراہا اور ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو ہر ممکن بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ انتہائی بزدلانہ اور قابل مذمت فعل ہے، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور عوام نے قربانیاں دی ہیں، صوبائی حکومت عوام کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کرے گی،معاون خصوصی نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے باعث بڑا نقصان ٹل گیا۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے جبکہ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی خود تمام معاملات دیکھ رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کو اس وقت سیکیورٹی اور امن و امان کے چیلنجز درپیش ہیں تاہم صوبائی حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور قیام امن کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔شفیع جان نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد کار بڑھانے کے لیے خطیر فنڈز فراہم کیے ہیں اسی سلسلے میں صوبے میں امن کے قیام کے لیے حال ہی میں ایک ”امن جرگہ“ بھی منعقد کیا گیا جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین، سول سوسائٹی نمائندگان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی،انہوں نے کہا کہ صوبے کی ترقی امن کے قیام سے وابستہ ہے جب امن ہوگا تو ترقی بھی ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں معاون خصوصی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے افغانستان سے دوحہ میں مذاکرات کیے ہیں، جس پر صوبائی حکومت کو شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغانستان سے متعلق مذاکرات میں صوبائی حکومت کو بھی اعتماد میں لیا جائے شفیع جان نے واضح کیا کہ امن کا قیام قومی اور مشترکہ ایجنڈا ہے اس اہم قومی مسئلے پر کسی قسم کی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہونی چاہیے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ ہری پور اور پنجاب کے حلقہ این اے 129 پر ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں نے بھرپور حصہ لیا تاہم ہری پور ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کی امیدوار شہرناز عمر ایوب کو فارم 47 کے ذریعے ہرایا گیا
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ ہری پور اور پنجاب کے حلقہ این اے 129 پر ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں نے بھرپور حصہ لیا تاہم ہری پور ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کی امیدوار شہرناز عمر ایوب کو فارم 47 کے ذریعے ہرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پریزائڈنگ افسران کے دستخط شدہ فارم 45 کے مطابق پی ٹی آئی کی امیدوار الیکشن جیت چکی تھیں مگر راتوں رات الیکشن کمیشن کی جانب سے تعینات ریٹرننگ افسر نے نتائج تبدیل کر دیئے۔انہوں نے یہ بات صوبائی اسمبلی پشاور میں ضمنی الیکشن کے نتائج کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ اس موقع پر صدر پی ٹی آئی پشاور ضلع عرفان سلیم اور ایم پی اے ملک عدیل اقبال بھی موجود تھے۔شفیع جان کا کہنا تھا کہ جیسے آٹھ فروری کے عام انتخابات میں مینڈیٹ تبدیل کیا گیا بالکل اسی طرح ہری پور ضمنی الیکشن میں بھی دھاندلی کی گئی اور راتوں رات ریٹرننگ افسر کا دفتر تبدیل کیا گیا، دفتر کے گرد خندقیں کھود دی گئیں اور پی ٹی آئی قیادت کو دفتر سے باہر نکال دیا گیا۔ انہوں نے میڈیا کے سامنے مختلف پولنگ اسٹیشنز کے دستخط شدہ فارم 45 اور ریٹرننگ افسر کے جاری کردہ نتائج بھی پیش کئے۔معاون خصوصی نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی امیدوار کو پوسٹر لگانے تک کی اجازت نہیں دی گئی، پی ٹی آئی لاہور کے صدر کو گرفتار کیا گیا اور کارکنوں پر مقدمات قائم کئے گئے۔ اس کے برعکس خیبرپختونخوا حکومت نے ہری پور میں مسلم لیگ ن سمیت تمام جماعتوں کو مکمل لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کیا اور کیپٹن (ر) صفدر پہلے دن سے انتخابی مہم چلا رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ نومئی کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی کے خلاف فسطائیت کی انتہا کر دی گئی حالانکہ ان واقعات میں پارٹی کا کوئی کردار نہیں تھا۔ الیکشن ایک جمہوری عمل ہوتا ہے جہاں عوام اپنی مرضی کے نمائندے کو ووٹ دیتے ہیں اور فیصلہ عوام ہی کرتے ہیں۔شفیع جان نے مزید کہا کہ ہری پور ضمنی الیکشن میں صوبائی حکومت نے اپنی تمام ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم صفدر پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریفرنڈم آمریت میں ہوتا ہے جبکہ جمہوریت میں انتخابی عمل ہوتا ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن کا مقابلہ دراصل مسلم لیگ ن سے ہی تھا۔ مریم صفدر خود پی ٹی آئی کے امیدوار مہر شرافت سے سیٹ ہار چکی ہیں۔ انہوں نے مریم صفدر کو چیلنج کیا کہ وہ اپنا حلقہ کھولیں۔ وہ غیر قانونی طریقے سے وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کی دیگر نشستوں پر پی ٹی آئی کا بائیکاٹ بالکل درست فیصلہ تھا کیونکہ ضمنی انتخابات کا ٹرن آؤٹ صرف پانچ سے دس فیصد رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہری پور ضمنی الیکشن میں ڈپٹی کمشنر سے لے کر چوکیدار تک تمام سرکاری ملازمین کے کردار کی انکوائری کی جائے گی۔پریس کانفرنس میں شفیع جان نے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ اختیار ولی ایک ہارا ہوا شخص ہے اور ایک جعلی وزیراعظم کا جعلی کوآرڈینیٹر ہے‘ جنہوں نے وزیراعلیٰ پر بے بنیاد الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہا کہ انہیں قانونی نوٹس بھیجا جائے گا اور اگر انہوں نے معافی نہ مانگی تو انہیں عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے 5300 ارب روپے کی کرپشن کی ہے لیکن اس پر کوئی بات نہیں کی جا رہی۔
KP Food Authority launches crackdown in Peshawar; hotels, chicken, fish and milk shops fined for hygiene violations
The Khyber Pakhtunkhwa Food Safety and Halal Food Authority launched a widespread crackdown across Peshawar following multiple public complaints regarding poor hygiene practices at local food outlets.
During the operation, food safety teams carried out surprise inspections in Taj Abad, Faqirabad, Bacha Khan Chowk and Swati Phatak, targeting hotels, kebab shops, milk sellers, and chicken and fish points. According to the officials, several businesses were found violating basic hygiene standards, leading to the imposition of heavy fines on the offenders.
A spokesperson for the authority said that during the inspections, teams identified poor sanitation, substandard milk, unhygienic meat, and improper handling practices at various establishments. Legal action was initiated against businesses found flouting food safety regulations.
Director General KP Food Authority Wasif Saeed appreciated the efforts of the food safety teams and reaffirmed the government’s commitment to protecting public health. He said that strict, indiscriminate action is being taken across the province against those endangering citizens’ health, adding that violators of food safety laws “will be dealt with an iron hand” and no leniency will be shown.
