Home Blog Page 6

سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار کی زیر صدارت کھاد کی دستیابی اور کسانوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے اجلاسدکا انعقاد

سیکرٹری زراعت خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد بختیار خان کی زیر صدارت صوبے میں کھاد کی دستیابی، ڈیلرز کی رجسٹریشن اور کسانوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں آل پاکستان فرٹیلائزرز ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نمائندگان اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبے میں کھاد کی موجودہ صورتحال، ڈیلرز کی رجسٹریشن، کھاد کی فروخت میں درپیش مشکلات، کسانوں کو بروقت کھاد کی فراہمی اور گندم کی آئندہ فصل کے لیے کھاد کی ضروریات سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے ڈیلرز کی رجسٹریشن، کھاد کی فروخت اور ترسیل سے متعلق درپیش مشکلات سے اجلاس کو آگاہ کیا اور ان کے حل کے لیے تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے متبادل فرٹیلائزرز کی فروخت کی اجازت دینے سمیت دیگر مطالبات بھی پیش کیے۔اس موقع پر سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان نے کہا کہ کسانوں کو معیاری کھاد کی بروقت اور آسان فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے اس سلسلے میں کسی قسم کی رکاوٹ کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کھاد کی دستیابی اور ترسیل کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور ڈیلرز کو درپیش جائز مسائل کے حل کے لیے متعلقہ فورمز سے مؤثر رابطہ رکھا جائے۔ڈاکٹر محمد بختیار خان نے کہا کہ گندم کی کاشت کا سیزن شروع ہونے والا ہے، اس لیے کسانوں کو بروقت کھاد کی فراہمی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کھاد کی دستیابی کے حوالے سے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے گی تاکہ گندم کی کاشت متاثر نہ ہو اور کسانوں کو اپنی فصل کے لیے ضروری زرعی مداخل بروقت دستیاب ہوں۔سیکرٹری زراعت نے کہا کہ اجلاس میں سامنے آنے والے مسائل اور تجاویز کا جائزہ لے کر انہیں متعلقہ وفاقی و صوبائی فورمز پر اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں، کھاد ڈیلرز اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے مسائل کے حل اور کھاد کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

ملک لیاقت علی خان کی خصوصی افراد کے لیے سرکاری و نجی عمارتوں میں رسائی کی سہولیات یقینی بنانے کی ہدایت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کی ہدایت پر محکمہ سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ نے تمام انتظامی سیکرٹریز، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سرکاری و نجی عمارتوں میں خصوصی افراد کے لیے، محفوظ اور آسان رسائی کی ضروری سہولیات یقینی بنانے کی تاکید کی ہے۔ مشیر برائے سماجی بہبودملک لیاقت علی خان کی خصوصی افراد کے مسائل کے حل اور انہیں معاشرے میں باوقار مقام دینے کے لیے جاری اقدامات کے تحت محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری دفاتر، عوامی مقامات اور دیگر ضروری خدمات تک خصوصی افراد کی آزادانہ اور بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنایا جائے۔مراسلے کے مطابق ملک لیاقت علی خان کے مختلف اضلاع کے حالیہ دوروں کے دوران خصوصی افراد کی جانب سے سرکاری دفاتر اور عوامی مقامات تک رسائی میں درپیش مشکلات، مسائل اور تجاویز سامنے آئیں، جن کی روشنی میں متعلقہ اداروں کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ عمارتوں کی نوعیت اور ضرورت کے مطابق قابلِ رسائی ریمپس، مناسب ڈھلوان، ہینڈ ریلز، وہیل چیئر استعمال کرنے والوں کے لیے موزوں داخلی راستے ا ور دروازے سمیت دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔ملک لیاقت علی خان نے کہا ہے کہ خصوصی افراد معاشرے کا اہم اور قیمتی حصہ ہیں، انہیں سرکاری و عوامی سہولیات تک مساوی، محفوظ اور باعزت رسائی فراہم کرنا ان کی عزتِ نفس، خودمختاری اور معاشرے میں مؤثر شمولیت کے لیے ایسا اقدام نہایت اہم ہے۔

Tariq Saeed Marwat Inaugurates Digital Parole and Probation Management System in KP

Special Assistant to the Chief Minister for Home & Tribal Affairs Tariq Saeed Marwat on Tuesday inaugurated the Parole and Probation Management System (PPMS) and Performance Management System (PMS) at the Conference Room of the Home & Tribal Affairs Department.

The ceremony was attended by Additional Chief Secretary Ikram Ullah Khan, Director Probation & Reclamation Farooq, Child Safety Representative Aftab, KP Information Technology Board representative Saad Javed, while Bashir, Shagufta and Gul Bano were also present.

Speaking on the occasion, Special Assistant Tariq Saeed Marwat said, “Under the Good Governance Roadmap of the Home & Tribal Affairs Department, we are committed to modernizing the parole and probation system through digital solutions. The launch of PPMS and PMS is an important step towards this objective.”

He said, “The Digital Parole and Probation Management System will provide a centralized platform for maintaining case records, prisoners’ details, court orders, release records and monitoring the progress of cases. This will make supervision and timely follow-up more effective.”

Tariq Saeed Marwat said the government was working to establish a transparent and systematic digital mechanism for identifying prisoners eligible for release on parole and probation, enabling timely access to relevant records and improving the decision-making process.

He further said, “The Performance Management System will provide a structured mechanism for monitoring the performance and service delivery of parole and probation officers. Data-based performance reviews will also help identify administrative gaps, workload requirements and training needs.”

The two systems have been developed by the Directorate of Reclamation and Probation under the Good Governance Roadmap of the Home & Tribal Affairs Department, with the support of Justice Prism, while the Khyber Pakhtunkhwa Information Technology Board (KPITB) has also provided technical support for the initiative.

The Parole and Probation Management System provides a centralized digital platform for entering case information, identifying records for eligibility assessment, monitoring case progress and ensuring timely follow-up. The system includes case-status tracking, alerts, reports, user management, assignment of responsibilities, prisoner details, court orders and release records.

The Performance Management System introduces a structured framework for monitoring the performance and service delivery of parole and probation officers. It will facilitate regular data-based monitoring, transparent performance assessment and identification of administrative requirements.

According to the system’s sample dashboard, the Parole and Probation Management System currently contains records of 12,163 prisoners, including 8,924 under-trial prisoners and 3,239 convicted prisoners. Similarly, the Performance Management System dashboard contains data on 450 active probationers, along with indicators relating to reports, reviews and approvals.

The Special Assistant said, “The purpose of these digital reforms is not merely to computerize records, but to strengthen transparency, accountability, effective monitoring and service delivery throughout the parole and probation system.”

He said reducing reliance on manual records would facilitate easier access to relevant information, strengthen the follow-up mechanism and support timely, organized and data-driven administrative decisions. The systems would also provide a foundation for future digital integration with the broader justice system.

The systems are currently in the testing and validation phase, during which identified issues and required improvements will be addressed with the support of KPITB. Training at the directorate level has already been completed, while further training of field formations is also planned to ensure effective implementation across the province.

Tariq Saeed Marwat said, “The provincial government is committed to institutional modernization and improved governance through better public service delivery. These digital reforms in the parole and probation sector will further strengthen transparency, performance, accountability and coordination within the system.”

وفاقی نیشنل ایکشن پلان کے بعد خیبرپختونخوا کا اپنا صوبائی ایکشن پلان موجود ہے۔ وزیراعلیٰ کسی بھی صورت نیشنل ایکشن پلان کی سربراہی نہیں کرتے عطاء تارڑ کو بنیادی معلومات اور حقائق سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی نیشنل ایکشن پلان کے بعد خیبرپختونخوا کا اپنا صوبائی ایکشن پلان موجود ہے۔ وزیراعلیٰ کسی بھی صورت نیشنل ایکشن پلان کی سربراہی نہیں کرتے۔ عطاء تارڑ کو بنیادی معلومات اور حقائق سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے بجٹ کا تقریباً 10 فیصد سکیورٹی کے لیے مختص ہے، جبکہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں خیبرپختونخوا کا سکیورٹی بجٹ نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ گزشتہ تین سال کے دوران خیبرپختونخوا کا سکیورٹی بجٹ 65 ارب روپے سے بڑھ کر 190 ارب روپے ہوگیا ہے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشتگردی کے خلاف سکیورٹی پر سب سے زیادہ وسائل خرچ کر رہا ہے۔ خیبرپختونخوا پولیس کے لیے 191.4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ پولیس کے موجودہ بجٹ میں 2024-25 کے مقابلے میں 41 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کا آپریشنل بجٹ دو سال میں 15.1 ارب روپے سے بڑھ کر 30.2 ارب روپے ہوگیا ہے۔ 22 ستمبر تک پولیس کے موجودہ بجٹ سے 137.8 ارب روپے جاری کیے جاچکے ہیں، جو پولیس کے موجودہ بجٹ کا 79.2 فیصد بنتا ہے۔مزمل اسلم کے مطابق پولیس کے ترقیاتی بجٹ کے 97.4 فیصد فنڈز جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ پولیس کے لیے آلات، گاڑیوں اور مشینری پر اخراجات 3.3 ارب روپے سے بڑھ کر 14.5 ارب روپے ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2024-25 کے بعد خیبرپختونخوا پولیس میں 3,050 نئی آسامیوں کی منظوری دی گئی ہے، جس کے بعد پولیس کی منظور شدہ نفری 136,268 سے بڑھ کر 139,318 ہوگئی ہے۔مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ جولائی 2026 سے پولیس اہلکاروں کے رسک الاؤنس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہ قومی میڈیا پر آنے سے پہلے وزیر اطلاعات کو اپنے حقائق درست کرلینے چاہئیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے منگل کے روزسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس پشاور سے میٹرک اور ایف اے مکمل کرنے والی خصوصی اور مستحق طالبات میں فی کس 30 ہزار روپے کے چیکس تقسیم کیے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان نے منگل کے روزسپیشل ایجوکیشن کمپلیکس پشاور سے میٹرک اور ایف اے مکمل کرنے والی خصوصی اور مستحق طالبات میں فی کس 30 ہزار روپے کے چیکس تقسیم کیے۔اس حوالے سے پشاور میں منعقدہ تقریب میں سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین اور ڈائریکٹر سماجی بہبود محمد صالح بھی موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ خصوصی بچے اور نوجوان معاشرے پر بوجھ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کا قیمتی اثاثہ اور اہم حصہ ہیں اور صوبائی حکومت انہیں معاشرے میں وہ عزت، وقار اور مقام دلانا چاہتی ہے جس کے وہ حقدار ہیں، کوشش ہے کہ انہیں مالی معاونت تک محدود رکھنے کی بجائے تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں تاکہ وہ معاشرے کے فعال شہری بن سکیں۔انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ، Amazon کے ذریعے آن لائن کاروبار، کارپٹ میکنگ، کپڑوں، اونی مصنوعات، سجاوٹی اشیاء، دستکاری اور دیگر ووکیشنل ہنر سکھائے جا رہے ہیں اس طرح وہ اپنی تیار کردہ مصنوعات کو مارکیٹ تک پہنچا سکیں گے اور اپنے ہنر کو روزگار اور کاروبار میں تبدیل کرسکیں گے۔مشیر سماجی بہبود نے کہا کہ کارپٹ میکنگ ایک ایسی مفید اور عملی مہارت ہے جسے گھر بیٹھے بھی کاروبار کی شکل دی جاسکتی ہے۔ اس ہنر میں گھر کے بڑے اور چھوٹے افراد مل کر کام کرسکتے ہیں، اپنی تیار کردہ مصنوعات فروخت کرکے مناسب آمدن اور منافع حاصل کرسکتے ہیں اور خودمختاری کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔ حکومت کارپٹ میکنگ کے فروغ کے لیے بھی مزید اقدامات کرے گی اور اس مقصد کے لیے تربیتی مراکز کے قیام سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی، تاکہ خصوصی افراد یہ بہترین ہنر سیکھ کر باعزت روزگار حاصل کرسکیں۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ خصوصی بچوں اور نوجوانوں کو دی جانے والی مہارتوں کا مقصد انہیں مستقل امداد کا محتاج بنانا نہیں بلکہ ان کے ہاتھ میں ایسا ہنر دینا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے گھر ہی میں روزگار حاصل کرسکیں اور معاشرے میں بہتر زندگی گزار سکیں۔

صوابی میں محکمہ ایکسائز کی بڑی کارروائی، 240 کلو گرام چرس برآمد

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے منشیات کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران صوابی میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے منشیات کی بھاری کھیپ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی اور ایک گاڑی سے 240 کلو گرام اعلیٰ کوالٹی چرس برآمد کرلی۔صوبائی حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کی روشنی میں محکمہ ایکسائز کی کاؤنٹر نارکوٹکس ٹیمیں صوبہ بھر میں منشیات کے خلاف کارروائیوں میں مصروف عمل ہیں، جبکہ منشیات کی اسمگلنگ اور کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر کاؤنٹر نارکوٹکس آپریشنز ماجد خان کو موصول ہونے والی خفیہ اطلاع پر ایس ایچ او تھانہ ایکسائز صوابی فیصل خان کی نگرانی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ایکسائز حکام کے مطابق درمیانی شب جمال آباد، صوابی کے قریب ناکہ بندی کے دوران ایک مشکوک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا گیا، تاہم ڈرائیور نے گاڑی روکنے کے بجائے تیز رفتاری سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ ایکسائز ٹیم نے گاڑی کا تعاقب کیا، جس دوران مذکورہ گاڑی نے ایکسائز اسکواڈ کی گاڑیوں کو ٹکر ماری، جس سے سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ایکسائز اہلکاروں نے مؤثر حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے مشکوک گاڑی کو قابو کرلیا۔ گاڑی نمبر بی ٹی ڈی۔966 کی تلاشی کے دوران اس میں سے 240 کلو گرام اعلیٰ کوالٹی چرس برآمد ہوئی۔ایکسائز حکام کے مطابق گاڑی میں سوار افراد رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گاڑی چھوڑ کر فرار ہوگئے، جن کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ ایکسائز صوابی میں درج کرکے مزید تفتیش اور قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں منشیات کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا اور منشیات کی اسمگلنگ، ترسیل اور فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Federal Ministers should answer for their policies and performance instead of linking terrorism to KP Government: Shafi Jan

Khyber Pakhtunkhwa Minister for Information, Science and Information Technology Shafi Jan on Monday said that federal ministers are repeatedly trying to link terrorism with the provincial government, saying the issue of militancy should not be used for political point-scoring.

“Terrorism is a national issue and requires a serious and joint strategy for its elimination,” Shafi Jan said while addressing a press conference along with Special Assistant to the Chief Minister for Home and Tribal Affairs Tariq Saeed Marwat.

The minister said federal ministers had presented incorrect figures regarding the provincial police at a recent press conference. Referring to Ikhtiar Wali, he said that incorrect figures had been presented in an attempt to distort facts about the police.

Shafi Jan said statements by federal ministers were creating an impression that the Khyber Pakhtunkhwa government was not taking measures against terrorism. He said such statements undermined the sacrifices of the provincial police and were an attempt to create a negative narrative against the provincial government.

“If law and order is being cited as a justification for imposing Governor’s Rule, then the situation in Balochistan should also be examined,” he said, adding that any such move in KP would trigger a public response.

He said militancy in Khyber Pakhtunkhwa had emerged as a major challenge after 9/11 and recalled that PTI founder Imran Khan had opposed drone strikes in erstwhile FATA. He said the PTI government, after coming to power in 2013, had worked towards peace and development.

He further claimed that the security situation had improved during Imran Khan’s tenure as prime minister but deteriorated after the removal of his government.

The minister criticised Federal Information Minister Atta Tarar for his statements on KP and said that if he was visiting the province to assess the situation, he should also visit Balochistan.

Shafi Jan said the KP government was ready to sit with all stakeholders to formulate a comprehensive strategy against terrorism. However, he questioned the federal government’s approach towards the issue.

On the long march, the minister said the change in the September 27 date was part of the party’s political strategy. He alleged that the federal government was attempting to create confrontation between the people and state institutions, saying his government would not allow such efforts to succeed.

He also criticised the federal government over past political controversies, including the Dawn Leaks controversy and the 2014 attack on the Supreme Court. “We stand with Pakistan. Pakistan is part of our faith,” he said.

Regarding the procurement of modern equipment for the provincial police, Shafi Jan said Rs7.4 billion had been paid to Heavy Industries Taxila and other relevant federal institutions for 57 items, but only 13 had so far been supplied to the KP police.

He alleged that unnecessary delays were being caused in the supply of the remaining equipment.

The minister said the KP government had placed strengthening of police and law and order among its top priorities. He said the police budget had been increased to Rs191 billion, while Chief Minister Sohail Afridi had allocated a special package of Rs35 billion for the police and Counter Terrorism Department.

“After health and education, the police have received the largest budgetary allocation,” he said.

Shafi Jan said KP had borne a heavy human and financial cost in the war against terrorism, claiming that around 80,000 people had lost their lives over the years.

“Despite these sacrifices, KP is still being subjected to criticism and taunts instead of being given its due share in the fight against terrorism,” he said.

The minister said that the federal government’s current policies had contributed to an increase in terrorist incidents. He said Chief Minister Sohail Afridi had written several letters seeking a meeting of the Apex Committee but had yet to receive a response.

The Provincial Information Minister said the provincial government did not want confrontation with state institutions and remained committed to peace, the protection of citizens and the elimination of terrorism.

چارسدہ اور پشاور میں محکمہ ایکسائز کی کارروائیاں، 1005 گرام آئس اور 7174 نشہ آور گولیاں برآمد، دو ملزمان گرفتار

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا نے منشیات کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے چارسدہ اور پشاور میں دو مختلف کارروائیوں کے دوران 1005 گرام آئس اور 7174 عدد (4623 گرام) نشہ آور گولیاں برآمد کرکے دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
صوبائی حکومت کی انسداد منشیات کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان کے جاری کردہ ہدایات کے تحت محکمہ ایکسائز نے صوبہ بھر میں منشیات کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کی ہوئی ہیں۔محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق تھانہ ایکسائز چارسدہ کی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایک موٹر کار کو روک کر تلاشی لی، جس کے دوران 1005 گرام آئس برآمد ہوئی۔ کارروائی میں مہمند خان ولد محمد انور، سکنہ اجون کلے شوڈاگ، تنگی کو موقع پر گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار ملزم کے خلاف مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے تھانہ ایکسائز چارسدہ میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔دوسری کارروائی میں ایکسائز انٹیلیجنس بیورو سکواڈ نے خفیہ اطلاع پر پشاور رنگ روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے ہینو ٹرک نمبر P-7879 پشاور کو روک کر تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران ٹرک کی ڈرائیور سیٹ کے پیچھے چھپائی گئی 7174 عدد (4623 گرام) نشہ آور گولیاں برآمد کرلی گئیں۔ کارروائی کے دوران سردار خان ولد سوداگر، سکنہ اپر مہمند حال رامداس پشاور کو موقع پر گرفتار کرلیا گیا۔محکمہ ایکسائز کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف متعلقہ تھانوں میں مقدمات درج کرکے مزید تفتیش اور قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کی جانب سے منشیات کے خلاف کارروائیاں روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں، جبکہ محکمہ نے وزیر ایکسائز سید فخر جہان کی ہدایات اور صوبائی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت منشیات کے خاتمے کے لیے کارروائیوں کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ملک لیاقت علی خان کو غربت کے خاتمے کے پروگرام پر بریفنگ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کو کوہاٹ ڈویژن ڈویلپمنٹ پروگرام (KDDP) کے تحت پاورٹی ایلیویشن کمپوننٹ پروگرام (Poverty Alleviation Component – PAC) کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین، ڈائریکٹر سماجی بہبود محمد صالح، پروگرام ڈائریکٹر کوہاٹ ڈویژن ڈویلپمنٹ پروگرام حشمت علی، پاورٹی ریڈکشن کوآرڈینیٹر فرید اللہ شاہ اور ڈسٹرکٹ آفیسر سماجی بہبود کرک ڈاکٹر محمد حسین سمیت دیگر متعلقہ حکام موجود تھے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ PAC کا مقصد کوہاٹ ڈویژن کے انتہائی غریب اور مستحق گھرانوں کی درست نشاندہی کرکے انہیں پیداواری اثاثے، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور خودانحصاری و معاشی استحکام کی جانب گامزن کرنا ہے۔ پروگرام میں کرک، ہنگو اور کوہاٹ کے اضلاع شامل ہیں۔مزیدبتایا گیا کہ PAC کے تحت مجموعی طور پر 5 ہزار مستحق گھرانوں کو پیداواری اثاثے فراہم کیے جائیں گے، جن میں کرک کے 2,500، ہنگو کے 1,500 اور کوہاٹ کے 1,000 گھرانے شامل ہیں۔بریفنگ کے مطابق مستحقین کے انتخاب کے لیے آن لائن درخواستوں، ضرورت کے تخمینے، بی آئی ایس پی پی ایم ٹی اسکور کی تصدیق اور میرٹ پر مبنی خودکار اسکورنگ کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 87,443 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں کرک سے 75,633، کوہاٹ سے 6,963 اور ہنگو سے 4,847 درخواستیں شامل ہیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ درخواست گزاروں نے مختلف روزگار اور کاروباری اثاثوں کو ترجیح دی، جن میں زرعی آلات، ٹیلرنگ مشینیں، بیوٹی پارلر سیٹ اپ، کریانہ اسٹورز، فاسٹ فوڈ کارٹس، مکینیکل، الیکٹریکل، الیکٹرانکس اور پلمبنگ ٹولز سمیت دیگر شعبے شامل ہیں۔ملک لیاقت علی خان نے ہدایت کی کہ PAC میں کارپٹ میکنگ اسکل ٹریننگ سینٹرز کو بھی شامل کیا جائے تاکہ مستحق افراد کو ہنر سکھا کر باعزت اور پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مستحقین کے انتخاب میں کیٹیگری وائز اور علاقہ وار ڈیٹا کو مدنظر رکھتے ہوئے شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار اپنایا جائے تاکہ حقیقی مستحق افراد اور خاندانوں تک سہولیات پہنچائی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو پائیدار ذریعہ معاش فراہم کرنا اور انہیں خودانحصاری کی جانب گامزن کرنا ہونا چاہیے۔بریفنگ میں PAC کے تحت ضرورت کا جائزہ، مستحقین کا انتخاب، پیداواری اثاثوں کی خریداری و فراہمی اور بعد ازاں فیلڈ وزٹس کے ذریعے مانیٹرنگ کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ اثاثوں کی فراہمی کے بعد مستحقین کی آمدن، روزگار اور معاشی صورتحال میں بہتری کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ملک لیاقت علی خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ PAC پر عملدرآمد کے تمام مراحل میں شفافیت، میرٹ اور حقیقی مستحقین کی نشاندہی کو یقینی بنایا جائے اور فراہم کردہ اثاثوں کے مؤثر استعمال کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے تاکہ پروگرام کے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

آر ٹی ایس کمیشن میں پانچ عوامی شکایات پر کارروائی، شہری کو آنلائن ویڈیو کال کے ذریعے آسٹریلیا سے سنا گیا

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں دو رکنی بینچ نے پانچ شہریوں کی شکایات پر کارروائی کی۔ داود پرویز نامی شہری کا تعلق ڈی آئی خان سے ہے، جو آسٹریلیا میں رہائش پزیر ہے۔ انہوں نے وراثتی انتقالات کے لیے کمیشن سے رجوع کیا تھا، کمیشن نے شہری کو آنلائن ویڈیو کال کے ذریعے سنا اور متعلقہ حکام کو شہری کا مسئلہ حل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ ہری پور سے سعید الرحمن نے زمین کی حد براری کے لیے کمیشن کو درخواست دی ہے۔ کمیشن نے شہری کو اپیلیٹ اتھارٹی کے لیے مقررہ کردہ وقت گزرنے تک انتظار کرنے کا مشورہ دیا۔ پشاور سے محمد انور خان نے وراثتی انتقالات کے لیے کمیشن سے رجوع کیا تھا۔ ڈی سی پشاور کو قانون کے مطابق مسئلہ حل کرنے کے ہدایت کی گئی۔ سوات سے فضل غنی نے بھی وراثتی انتقالات کے لیے کمیشن کو درخواست دی ہے۔ ڈی سی سوات کو شہری کو بذات خود سننے اور مسئلہ حل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ پشاور سے شاہ فہد نے پولیس تصدیق کے لیے کمیشن سے رجوع کیا تھا۔ شہری نے خود اپنی درخواست واپس لے لی۔ کمیشن نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ کمیشن صوبے بھر میں عوامی آگاہی، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا اور خدمات کی بروقت فراہمی میں تاخیر ناقابل برداشت ہے۔