وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے اختیار ولی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء کے جنازوں میں شرکت کو سیاست کا موضوع بنانا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ دہشتگردی اور شہداء کے جنازوں پر منفی سیاست کرنا وفاقی حکومت کے وزراء اور نمائندوں کا پرانا وطیرہ ہے، وفاقی حکومت کے نمائندے اپنی ناکامیاں چھپانے کے لئے خیبرپختونخوا حکومت پر مسلسل الزام تراشیاں کررہی ہے انھوں نے کہا کہ دہشتگردی جیسے سنجیدہ قومی مسئلے پر اختیارولی کے بیانات محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے، اختیار ولی وفاقی حکومت کی طرف سے عوام پر گرائے گئے پیٹرول بم سے متعلق خاموش کیوں ہے،وفاقی نمائندے، حکومت کی ناقص معاشی اور عوام دشمن پالیسیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے گمراہ کن پریس کانفرنسز کا سہارا لے رہی ہے ، ان کا مزید کہنا تھا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے دور میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں معمولی اضافے پر پیٹ پر پتھر باندھ کر ڈرامہ رچانے والوں کو اب سانپ سونگھ گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت اور صوبے کے عوام شہداء کے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت عوام کے ووٹوں سے قائم ہوئی ہے اور اپنی آئینی ذمہ داریاں بخوبی ادا کر رہی ہے۔وفاقی حکومت بغیر عوامی مینڈیٹ سے قائم کی گئی ہے،اختیار ولی کسں اختیار اور مینڈیٹ سے یہ بات کررہے ہیں۔ بانی چئیرمن عمران خان کا نام اور نظریہ ہی قوم کی آواز ہے،خوف عمران خان میں وفاقی حکومت اندھی ہوچکی ہے، شفیع جان نے کہا کہ اختیارولی کو عمران خان کے نام لکھنے سے بھی تکلیف ہے، عمران خان عوام کے لیڈر ہیں۔ اختیارولی صوبائی حکومت پر الزام تراشی سے پہلے 5300 ارب روپے کی کرپشن حوالے سے آئی ایم ایف رپورٹ پر قوم کو جواب دیں۔ خیبرپختونخوا حکومت عوام کی خدمت، امن کے قیام اور ترقی کے ایجنڈے پر گامزن ہے۔ وفاقی حکومت کے جعلی نمائندے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے صوبائی حکومت کو عوامی خدمت سے نہیں روک سکتے
KP Food Authority Seizes Substandard Juice, Minced Meat in Crackdown
The Khyber Pakhtunkhwa Food Safety and Halal Food Authority has intensified its operations across the province to ensure the provision of safe and quality food, carrying out major actions in Mardan and Swat against substandard food items.
According to spokesperson for the authority, a food safety team in Mardan conducted a raid on a juice production unit and recovered more than 200 cartons of substandard juice. During the operation, low-quality packaging material used in the preparation of the juice was also confiscated. Officials stated that the harmful products were intended for supply to various urban areas.
The unit was sealed for violating food safety regulations, while a heavy fine was imposed on the owner and further legal proceedings have been initiated.
Meanwhile, in Swat, the food authority, in collaboration with the district administration, carried out an operation at a kebab shop and recovered unhygienic minced meat. The shop was subsequently sealed, and legal action has been initiated.
Director General Food Authority, Kashif Iqbal Jilani, lauded the successful operations of the food safety teams and reiterated that indiscriminate action against those endangering public health would continue. He emphasized that the authority remains committed to ensuring the availability of safe and quality food across the province.
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیر صدارت ضلع کرک میں جاری واٹر سپلائی سکیموں سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پیر کے روز پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی زیر صدارت ضلع کرک میں جاری واٹر سپلائی سکیموں سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پیر کے روز پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔اجلاس میں سابق صوبائی وزیر و رکن صوبائی اسمبلی میجر (ر) سجاد بارکوال، رکن صوبائی اسمبلی خورشید خٹک، سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ مسعود یونس، چیف انجینئر ساؤتھ، ڈائریکٹر ٹیکنیکل،ایس سی، متعلقہ ایکسینز اور دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضلع کرک میں جاری اہم سالانہ ترقیاتی پروگرام سکیموں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جاری سکیموں میں چنغوز اور لاواغر ڈیمز سے ضلع کرک کی مختلف یونین کونسلز تک گریوٹی بیسڈ واٹر سپلائی سکیم کی توسیع، گریوٹی بیسڈ ڈرنکنگ واٹر سپلائی سکیم برائے زرین چینہ تا منگر خیل، ڈب اور عیسک چونتڑا، لاواغر ڈیم سے کرک سٹی تک گریوٹی فلو واٹر سپلائی سکیم اور ضلع کرک میں کمنگر چشمہ سے احمد والا، سورتی کلی، سائیکوٹ، زانیہ کلی، کنڈہ، تورڈنڈ اور رحمت آباد تک پینے کے پانی کی فراہمی کی سکیمیں شامل تھیں اجلاس میں ان منصوبوں پر اب تک ہونے والی پیش رفت، درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا اورمنصوبوں کی تکنیکی و مالی صورتحال سے آگاہ کیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر فضل شکور خان نے ہدایت کی کہ چنغوز اور لاواغر ڈیمز سے ضلع کرک کی مختلف یونین کونسلز تک گریوٹی بیسڈ واٹر سپلائی سکیم کی توسیع کے لیے نظرثانی شدہ پی سی-ون جلد از جلد تیار کرکے منظوری کے لیے ارسال کیا جائے تاکہ منصوبے پر پیش رفت کو تیز کیا جا سکے۔ انہوں نے لاواغر ڈیم سے کرک سٹی تک گریوٹی فلو واٹر سپلائی سکیم کے لیے باقاعدہ فیزیبیلٹی سٹڈی اور پی سی-ون کی فوری تیاری کی بھی ہدایت کی، تاکہ اس اہم منصوبے کو جلد عملی شکل دی جا سکے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت عوام کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور ضلع کرک سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں پانی کے مسائل کے حل کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے گا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوہاٹ کا ضلعی عدالتوں میں ڈبل ڈاکٹ کورٹس سسٹم کا افتتاح، مقدمات کے تیز تر فیصلوں کا عزم
پشاور ہائی کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوہاٹ محترمہ صوفیہ وقار خٹک نے ڈسٹرکٹ کورٹس کوہاٹ میں ڈبل ڈاکٹ کورٹس سسٹم کا باضابطہ افتتاح کر دیا جس کا مقصد مقدمات کے جلد تصفیے اور عدالتی بوجھ میں کمی لانا ہے۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوہاٹ نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈبل ڈاکٹ کورٹس کے قیام سے عدالتی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی اور سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام زیرالتواء مقدمات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔تقریب میں انسداد دہشت گردی عدالت کوہاٹ کے جج محمد آصف، ضلعی عدلیہ کے دیگر جوڈیشل افسران، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کوہاٹ، کابینہ اراکین اور وکلاء برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر بینچ اور بار نے انصاف کی فوری اور مؤثر فراہمی کیلئے مشترکہ طور پر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ دعا کے ساتھ تقریب کا اختتام ہوا۔
صوبائی وزیر سید فخر جہان کا PK-26 بونیر میں پبلک ڈے،، عوامی مسائل کے فوری حل کیلئے موقع پر ہدایات
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان نے اتوار کے روز اپنے حلقہ PK-26 بونیرمیں پبلک ڈے کے موقع پر مصروف دن گزارا، جہاں انہوں نے عوام، عمائدین علاقہ، کارکنان اور مختلف وفود سے ملاقاتیں کیں۔ وفود نے صوبائی وزیر کو اپنے علاقوں کو درپیش عوامی، ترقیاتی اور فلاحی مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف معروضات پیش کیں۔
صوبائی وزیر نے شہریوں کے مسائل تفصیل سے سنے اور ان کے فوری حل کو یقینی بنانے کیلئے موقع پر ہی متعلقہ محکموں اور افسران کو واضح اور بروقت ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ عوامی شکایات کے ازالے میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے اور تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔
اس موقع پر سید فخر جہان نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے عوامی خدمت و فلاح کے وژن کے مطابق صوبائی حکومت عام آدمی کو ریلیف دینے، نچلی سطح پر سہولتیں پہنچانے اور عوامی مسائل کے فوری حل کیلئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں عوامی خدمت، شفاف طرز حکمرانی اور عوام مسائل کے خاتمے کیلئے ٹھوس کوششیں کی جارہی ہیں جس کا مقصد صوبے میں عوام کو ہر ممکن سہولت ان کی دہلیز پر فراہم کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پبلک ڈے کا مقصد عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانا اور حکومتی کارکردگی پر عوامی اعتماد کو مزید مستحکم کرنا ہے۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ ہر وقت کھڑے ہیں اور ان کے مسائل کے حل، ترقیاتی کاموں کی رفتار تیز کرنے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عمران خان کے وژن اور صوبائی حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کے تحت خدمت کا یہ سفر مزید تیزی سے جاری رکھا جائے گا۔علاقے کے عوام، عمائدین اور کارکنان نے صوبائی وزیر کی جانب سے فوری احکامات، عوامی رسائی اور مسائل کے حل میں ذاتی دلچسپی کوسراہا۔
معاونِ خصوصی شفیع جان اور ایم این اے شہریار آفریدی کے فنڈز سے تین تالاب میں چیک ڈیم منصوبہ پر کام کا باقاعدہ آغاز
ضلع کوہاٹ کی یونین کونسل شاہ پور کے علاقہ تین تالاب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان اورسابق وفاقی وزیر داخلہ و رکن قومی اسمبلی شہریارخان آفریدی کے فنڈز سے چیک ڈیم کی تعمیر کا شہریار آفریدی کے فوکل پرسن قاسم زبیر کی موجودگی میں باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جس کا مقصد علاقے میں پانی کی قلت پر قابو پانا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔اس موقع پر معاون خصوصی شفیع جان کا کہناتھاکہ یہ اہم منصوبہ مقامی آبادی کا دیرینہ مطالبہ تھاجو عملی شکل اختیار کر گیاہے۔ ان کے مطابق چیک ڈیم بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے میں مدد دے گا جس سے خشک موسم میں پانی کی دستیابی ممکن ہوگی۔ شفیع جان نے مزید کہاکہ منصوبے سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ زیر زمین پانی کی سطح بھی بہتر ہوگی جبکہ سیلابی ریلوں کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ مقامی رہائشیوں نے منصوبے کے آغاز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے علاقے میں پانی کی کمی کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی اور معیشت کو سہارا ملے گا۔
The transparent annual matriculation examinations being conducted under the Board of Intermediate and Secondary Education Peshawar are being unsuccessfully targeted by conspiratorial elements attempting to sabotage the process
In a clarification statement issued by the board administration, it was stated that certain elements are deliberately, and as part of a well-planned conspiracy, trying to mislead students and parents regarding the ongoing examinations.
Baseless allegations such as the alleged buying and selling of examination papers, along with rumors being spread on social media, are in fact an attempt to undermine the administration’s hard work, dedication, and transparent system.
The statement further added that solved papers from previous examinations are generally available and are often used by students for guidance. However, some elements are falsely linking these materials to the current examinations and spreading misinformation.
Parents and students are urged not to pay any attention to such baseless social media posts. The board administration has taken effective measures against mafias and all such elements involved in illegal activities.
Spreading unverified news without evidence is an unsuccessful attempt to negatively impact students’ mental peace, academic performance, and future.
The board administration requests the public, especially students and parents, to rely only on authentic sources and to refrain from sharing unverified information.
The Board of Intermediate and Secondary Education Peshawar assures that examinations will always be conducted in a transparent, fair, and merit-based manner. Providing a safe, peaceful, and positive educational environment for students remains our top priority.
کیپرا کی جانب سے کنزیومر ریوارڈز اسکیم کے تحت پہلی قرعہ اندازی کا انعقاد
خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا) نے جمعہ کے روز کنزیومر ریوارڈز اسکیم کے تحت پہلی قرعہ اندازی کا انعقاد کیا۔قرعہ اندازی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 50 خوش نصیب افراد کا انتخاب کیا گیا، جن میں سے ہر ایک کو 10 ہزار روپے انعام دیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق کنزیومر ریوارڈز اسکیم کا آغاز کیپرا نے رواں سال فروری میں خیبر پختونخوا کے چار اضلاع میں ہوٹلز اور ریسٹورانٹس کے شعبے میں کیا۔ اسکیم کے اجراء سے قبل کیپرا کی ٹیموں نے منتخب ہوٹلز اور ریسٹورنٹس میں اسٹینڈیز نصب کیں تاکہ صارفین کو آگاہی فراہم کی جا سکے کہ وہ خدمات حاصل کرنے کے بعد موصول ہونے والی انوائسز جمع کروا کر اسکیم میں حصہ لے سکتے ہیں۔15 فروری سے 15 مارچ 2026 تک موصول ہونے والی مجموعی طور پر 176 انوائسز کو قرعہ اندازی میں شامل کیا گیا۔ قرعہ اندازی ڈائریکٹر جنرل کیپرا محترمہ ارم ناز نے دیگر سینئر افسران کی موجودگی میں ڈیجیٹل اور شفاف انداز میں کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل کیپرا محترمہ ارم ناز نے قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے افراد کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ اسکیم مزید تین ماہ تک جاری رہے گی، جس کے دوران مزید تین قرعہ اندازیاں کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسیکم کی کامیابی پر اس کے اگلے مرحلے کا اغاز کیا جائے گا جس میں خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس اسکیم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور انعام جیتنے کا موقع حاصل کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کیپرا کے افسران، عملہ اور ان کے اہل خانہ کو اسکیم میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔آخر میں ڈائریکٹر جنرل نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنی انوائسز جمع کروا کر اس اقدام کو کامیاب بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پشاور، مردان، ایبٹ آباد اور ہری پور میں منتخب ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کی خدمات حاصل کرنے والے صارفیناسٹینڈیز پر موجود کیو آر کوڈ اسکین کرکے اپنی انوائسز کی تصاویر شیئر کر کے اس اسکیم میں حصہ لے سکتے ہیں۔
صوبائی کابینہ کا 50واں اجلاس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زر صدارت جمعہ کے روز بذریعہ ویڈیو لنک منقد ہوا۔
صوبائی کابینہ کا 50واں اجلاس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زر صدارت جمعہ کے روز بذریعہ ویڈیو لنک منقد ہوا۔ صوبائی اراکین کابینہ کے علاوہ چیف سیکریٹری، ایڈشنل چیف سیکریٹری اور متعلقہ سیکریٹریوں نے اجلاس میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے جو کہ 10 کروڑ سے زائد افراد بنتی ہے، اور مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر اسی طبقے پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کا بوجھ صرف غریب طبقے تک محدود نہیں بلکہ مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس بھی اس دباؤ کو برداشت نہیں کر پا رہی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وقتی اور نمائشی اقدامات کے بجائے مستقل اور دیرپا پالیسی سازی کی ضرورت ہے کیونکہ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب قیادت واضح اور مؤثر پالیسیوں کے ساتھ آگے بڑھتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں عالمی سطح پر کورونا وبا اور مہنگائی کے باوجود پاکستان کی معیشت 6.1 فیصد شرح سے ترقی کر رہی تھی۔ اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں زیادہ ہونے کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کیا گیا اور پیٹرول کی قیمت کو 150 روپے تک محدود رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں پیٹرول کی قیمت 450 روپے سے تجاوز کر چکی ہے جو حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلط شدہ حکمرانوں کے پاس نہ کوئی واضح پالیسی ہے اور نہ ہی اصلاحات کا کوئی ایجنڈا، جبکہ عوامی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عوام کے ووٹ سے اقتدار میں آئی ہے اور عوام کی خدمت ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے موٹر سائیکل سواروں اور کسانوں کے لیے ریلیف پالیسی متعارف کروائی ہے جسے قومی سطح پر بھی سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح کے بحران کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت پاکستان کے مفاد میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے صوبائی وسائل میں کٹوتی کی کوشش کی گئی تاہم صوبائی حکومت نے مؤثر انداز میں اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوئے ان کٹوتیوں کو کم سے کم سطح تک محدود کر دیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبہ حالیہ سیلابوں اور کلاؤڈ برسٹ سے ہونے والے نقصانات کا بوجھ خود برداشت کر رہا ہے جبکہ این ایف سی کے تحت صوبے کا حصہ مکمل طور پر ادا نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کو انتظامی طور پر صوبے میں ضم کیا گیا ہے مگر مالی انضمام تاحال مکمل نہیں ہوا اور ان علاقوں کے اخراجات صوبائی حکومت اپنی جیب سے ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ناکام قومی پالیسیوں کے باعث دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا، عوام کو گھروں سے جبری انخلا پر مجبور کیا گیا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھی صوبہ اپنے وسائل استعمال کر رہا ہے جبکہ وفاق سے امداد نہیں مل رہی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے، بڑھتی درآمدات اور کم ہوتی برآمدات کے باعث ڈالر کے اخراج میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے بجلی مہنگی ہوگی جس کے نتیجے میں مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر واضح اور جامع معاشی پالیسی سامنے لائے اور فائر فائٹنگ کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرے۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبائی سطح پر ایک جامع کرائسس مینجمنٹ پالیسی ترتیب دے رہی ہے تاکہ قدرتی آفات اور قومی بحرانوں کے دوران عوام کو فوری اور مؤثر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل سواروں اور کسانوں کے بعد دیگر متاثرہ طبقات کے لیے بھی ریلیف پیکیج پر کام جاری ہے جس کا جلد اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت مہنگائی کے اس دور میں عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرے گی اور انہیں مہنگائی کے بوجھ تلے دبنے نہیں دے گی۔
اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے ضم شدہ اضلاع کے لئے یونیورسٹی آف ایپلائیڈ اینڈ ماڈرن سائنسز کے قیام کی منظوری دیدی جبکہ اس اسٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی کے قیام کے لئے جزئیات کو حتمی شکل دینے کے لئے صوبائی وزیر بلدیات کی سربراہی میں کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تحت زرعی یونیورسٹی میں معاون عملے کے 55 خالی آسامیوں کو ختم کرنے کی منظوری دیدی، اس فیصلے سے صوبائی حکومت کو ماہانہ 90 لاکھ روپے کی بچت ہوگی۔ شفیع جان نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے اعلی تعلیم کے شعبے میں ایک اہم اقدام کے طور پر پوسٹنگ ٹرانسفرز گائیڈ لائنز کی اصولی منظوری دیدی، ان گائیڈ لائنز پر عملدرآمد سے دور افتادہ علاقوں کے کالجوں میں تدریسی اور انتظامی عملے کی کمی کو پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ اسی طرح کابینہ نے بعض ضروری اخراجات کی مد میں محکمہ اوقاف کے لئے 229 ملین روپے گرانٹ ان ایڈ کی مشروط منظوری دیدی، کابینہ نے موجودہ بحرانی صورتحال کے پیش نظر گریڈ 20 اور اسے اوپر کے سرکاری افسران کی دو دن کی بنیادی تنخواہوں میں رضاکارانہ کٹوتی کی تجویز سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے محکمہ خزانہ کو ان افسران کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا کی گزشتہ اور موجودہ حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے تحت اب تک سرکاری گاڑیوں کے پی او ایل پر مجموعی طور پر 60 فیصد کٹوتی کی ہے۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز ایپلیٹ ٹریبیونل رولز 2020 میں ضروری ترامیم کی منظوری جبکہ سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہاسپٹل کو ایم ٹی آئی کا درجہ دینے کی منظوری دیدی۔ مزید برآں کابینہ نے تھیلیسمیا کے مرض میں مبتلا نادار بچوں کے علاج کے سلسلے میں فاطمید فاونڈیشن کے لئے ایک کروڑ روپے گرانٹ ان ایڈ، صوبے کے مختلف ہسپتالوں میں 598 پیڈ انٹرنی نرسوں کے آسامیوں کی تخلیق اور تیمرگرہ میڈیکل کالج کو فعال بنانے اور وہاں پر جلد کلاسوں کے اجراء کو یقینی بنانے کے لئے 993 ملین روپے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دیدی۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کے سات نئے نن آفیشل ممبرز کی تعیناتی کی بھی منظوری دیدی۔
شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے پاروا ڈی آئی خان میں تحصیل اسپورٹس کمپلیکس کے قیام کے سلسلے میں زمین کی خریداری کے لئے نن اے ڈی پی اسکیم، پاک افعان سیریز 2025 اور ایشیا کپ 24-2023 میں شرکت کرنے والے خیبر پختونخوا کے ویل چئیر کرکٹ کھلاڑیوں کے لئے مالی معاونت جبکہ حال ہی میں پشاور میں منعقدہ ہونے والے نیشنل باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ کی سپانسرشپ کے لئے خصوصی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دیدی۔
انہوں نے اگاہ کیا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ پشاور کے دو نئے ممبران کی تعیناتی جبکہ رواں مالی سال کے دوراں مفتی محمود کالج ڈی آئی خان کے لئے 80 ملین روپے گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دیدی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں بطور پائلیٹ پراجیکٹ بعض سرکاری سکولوں میں میٹرک ٹیک اور انٹر ٹیک پروگرامز متعارف کرانے کی منظوری دیدی گئی، اس دو سالہ منصوبے پر 450 ملین روپے لاگت آئے گی، منصوبے کے تحت صوبے کے 70 سرکاری اسکولوں کو سینٹر آف ایکسیلنس کا درجہ دیا جائے گا جبکہ مجوزہ منصوبے کے تحت جدید عصری تقاضوں سے ہم تکنیکی مہارت حاصل کرنے کے لئے 1650 طلباء کو سکالر شپس فراہم کئے جائیں گے۔ کابینہ نے صوبائی چیف سیکرٹری آفس کے سروس ڈیلیوری یونٹس میں مارکیٹ بیسڈ سیلری پالیسی کے تحت سات عملے کی تعیناتی کی منظوری دیدی۔ اجلاس میں الیکٹریسٹی رولز 1937 کے تحت مختلف فیسوں کی ادائیگیوں کے لئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال کرنے، مدائن ہائیڈرو پاور اسٹیشن کے منصوبے کو ورلڈ بینک کے پروگرام سے نکالنے اور اس منصوبے پر عملدرآمد کے لئے دیگر قابل عمل آپشنز کی طرف جانے کی منظوری دیدی گئی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا ایکسائز ڈیوٹی آن منرلز لیبر ویلفیئر ایکٹ 2021 میں بعض ضروری ترامیم کی منظوری دیدی گئی۔ شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے معربی سرحدوں پر جاری تناو کے نتیجے میں ضلع لوئر چترال کے سرحدی علاقہ ارندو کے اندرونی طور پر نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے لئے قائم کیمپ میں سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کو مزید 20 ملین روپے کی فراہمی اور دیگر ریلیف اقدامات کی منظوری دیدی۔
اجلاس میں رواں مون سون سیزن میں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لئے پیشگی اقدامات کے طور پر کشتیوں اور دیگر ضروری سامان اور آلات کی خریداری کے لئے محکمہ ریلیف کو 785 ملین روپے جاری کرنے، آنے والے مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے لئے بجٹ اسٹریٹجی پیپر 27-2026 کی بھی منظوری دیدی گئی جبکہ پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا 27 مستحق مریضوں کے علاج معالجے کے لئے مالی معاونت کی منظوری دیدی گئی۔
KP Food Authority Launches Major Crackdown Against Fake Beverages Mafia in Mardan, Haripur and Hangu
The Khyber Pakhtunkhwa Food Safety and Halal Food Authority has intensified its province-wide crackdown against fake and substandard food, carrying out major operations in Mardan, Haripur and Hangu. Large quantities of counterfeit, mislabeled and substandard beverages were seized and confiscated, while strict legal action was taken against multiple units involved in the illegal activity.
According to the Food Authority spokesperson, the Mardan Food Safety Team, acting on a tip-off, raided a beverage production unit located on Mohib Road. The raid exposed the manufacturing of counterfeit and mislabeled branded carbonated drinks. During the operation, more than 2,000 empty bottles, packaging material and harmful chemicals were recovered, which were being used in the preparation of fake beverages. The unit was sealed on the spot, and a heavy fine was imposed on the owner, while further legal proceedings have been initiated.
The spokesperson further stated that in Haripur, the Food Safety Team conducted a detailed inspection of a juice factory located in Hattar Industrial Estate. During the inspection, 350 liters of mislabeled juice were recovered and confiscated, and a fine was imposed on the factory owner. In addition, several food outlets were inspected, improvement notices were issued, and expired licenses were renewed on the spot through the Authority’s e-licensing system.
In Hangu, the Food Safety Team set up a checkpoint on Hangu Road and carried out strict checking of food-carrying vehicles. During the operation, 1,400 liters of substandard beverages were recovered from a vehicle, which were immediately confiscated, and a heavy fine was imposed on those responsible.
Director General KP Food Safety and Halal Food Authority, Kashif Iqbal Jilani, appreciated the performance of the food safety teams and reiterated that there is no room in the province for those involved in the business of fake and substandard food. He emphasized that no leniency will be shown to those endangering public health, and indiscriminate actions against such elements will continue.
