Home Blog Page 62

ممبر صوبائی اسمبلی و چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن افتخار علی مشوانی کے زیر صدارت محکمہ تعلیم کی سٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا

ممبر صوبائی اسمبلی و چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن افتخار علی مشوانی کے زیر صدارت محکمہ تعلیم کی سٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب،کمیٹی کے اراکین ممبران صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی،زرشاد خان، احسان اللہ میانخیل، رشاد خان، احمد کنڈی اور صوبیہ شاہد کے علاوہ سیکرٹری ایجوکیشن خالد خان، سپیشل سیکرٹری مسعود احمد، مینیجنگ ڈائریکٹر مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن فریحہ پال، ڈائریکٹر ایجوکیشن سجاد اختر اور چیف پلاننگ آفیسر زین اللہ شاہ کے علاوہ پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے حکام، ای ایس ایف، محکمہ قانون، ہیومن ریسورسز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ سٹینڈنگ کمیٹی نے صوبے کے مختلف اضلاع میں سرکاری سکولوں کی عمارتوں پر قبضہ اور اس حوالے سے عدالتوں میں زیر التوا کیسز کا جائزہ لیا اور ایجوکیشن حکام کو ہدایت کی کہ تمام ضلعی دفاتر میں لیگل آفیسرز کی تعیناتی کے لئے اقدامات کیے جائیں جبکہ اس مقصد کے لئے منتخب تدریسی کیڈر کے اساتذہ کو سکولوں میں پڑھانے کے لئے بھیجا جائے اور لیگل ایڈوائزرز کی خدمات حاصل کرنے کے لیے فوراً طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ درس و تدریس کا عمل متاثر نہ ہو۔ کمیٹی نے اقلیتی کوٹہ کے تحت اساتذہ کی بھرتی کے عمل کا بھی تفصیلی جائزہ لیا اور محکمہ قانون، محکمہ تعلیم اور ہیومن ریسورسز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے حکام سے رائے لینے کے بعد فیصلہ ہوا کہ جن اضلاع میں اقلیتی کوٹہ کے امیدوار دستیاب نہیں وہاں قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے جبکہ جن جن اضلاع میں بھرتی کے عمل میں عدالتی کیسز موجود ہیں ان کو چھوڑ کر باقی اضلاع میں کنڈیشنل بھرتی کے آرڈرز جاری کئے جائیں۔ جبکہ ضلع ڈی ائی خان کی اساتذہ بھرتی عمل میں پیجیدگی کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ ہوا کہ وہاں کے لئے الگ سے انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے جو کہ شفاف بھرتی کے عمل کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ سات دنوں کے اندر سٹینڈنگ کمیٹی کو ارسال کرے گی۔ ممبر صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی کے سوال کے جواب میں انہیں بتایا گیا کہ حکومت گرلز ایجوکیشن کی بہتری کے لئے عملی اقدامات کر رہی ہے اور امسال بھی گرلز سٹائپنڈ پروگرام کے لئے دو ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور محکمہ تعلیم اس کو بروقت ریلیز کے لئے بھی عملی اقدامات کرے گی۔ سٹینڈنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر نجی سکولوں کے اساتذہ کی کم سے کم منظور شدہ اجرت تک تنخواہ لانے کے لئے کیس صوبائی کابینہ کو بھجوانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے ریگولرائزیشن ایکٹ 2018 کے تحت بھرتی شدہ اساتذہ کی سنیارٹی کے مسائل حل کرنے کے لئے ممبر صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی کی سربراہی میں محکمہ قانون، ہیومن ریسورسز منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ، ایڈوکیٹ جنرل اور محکمہ تعلیم کے حکام پر مشتمل کمیٹی کے قیام کا بھی فیصلہ کیا جو تمام رولز اور ریگولیشن کا جائزہ لے کر سٹینڈنگ کمیٹی کو اپنی رپورٹ مرتب کرے گی۔

ضلع مردان میں طلبہ کی کم تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے تین سکولوں کے مختلف سکولوں کے ساتھ انظمام کے حوالے سے فیصلہ ہوا کہ ایجوکیشن حکام اگلے کمیٹی اجلاس میں انضمام سٹریٹجی اور پروپوزل پیش کرے گی۔ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت کمیونٹی سکولوں میں فیسلیٹیٹرز کے بھرثیوں کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلی رپورٹ سٹینڈنگ کمیٹی کے اگلے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ ممبر صوبائی اسمبلی زرشاد خان کے سوال پر محکمہ تعلیم حکام نے انہیں بتایا کہ ان کے حلقے میں 11 سکولوں کی تعمیر کے لئے فوری طور پر اقدامات کئے جائیں گے جبکہ تعمیر شدہ دو سکولوں میں اساتذہ کی آسامیوں کی فائنانس محکمہ سے منظوری کے لیے بھی فوری اقدامات کیے جائیں گے۔
آئی ٹی اساتذہ کی سروس رولز کے حوالے سے سٹینڈنگ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ہیومن ریسورسز منیجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو محکمہ تعلیم سے ڈرافٹ سروس رولز موصول ہوئے ہیں۔ 14 جولائی کو ہونے والے ایس ایس آر سی اجلاس میں یہ کیس شامل ہے اور سروس رولز بننے کے بعد ائی ٹی کیڈر کے اساتذہ کے کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا کہ حکومت تعلیمی بہتری کیلئے عملی اقدامات کررہی ہے۔ اور سٹینڈنگ کمیٹی ممبران اور تمام سٹیک ہولڈرز کے رائے اور فیصلوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سکولوں سے باہر بچوں کو سکولوں میں لانے ڈراپ آوٹ کو کنٹرول کرنے اور سکولوں میں موجود بچوں کو کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کرنے ہیں۔

چیئرپرسن کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن ڈاکٹر سمیرا شمس نے “خیبر پختونخوا ایچ آئی وی اور ایڈز (تدارک، کنٹرول، علاج اور تحفظ) ایکٹ” کو صوبے کے ہیلتھ کیئر سسٹم اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم قانونقرار دیا ہے

چیئرپرسن کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن ڈاکٹر سمیرا شمس نے “خیبر پختونخوا ایچ آئی وی اور ایڈز (تدارک، کنٹرول، علاج اور تحفظ) ایکٹ” کو صوبے کے ہیلتھ کیئر سسٹم اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم قانونقرار دیا ہے۔ بدھ کے روز خیبرپختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کے زیر اہتمام منعقدہ ایچ آئی وی و ایڈز سے متعلق قانون سازی بابت مشاورتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان قانون کا بنیادی مقصد نہ صرف ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنا اور مریضوں کو مفت علاج فراہم کرنا ہے، بلکہ اس موذی مرض کے شکار افراد کے ساتھ ہونے والے معاشرتی امتیازی سلوک، تعصب اور ناانصافی کا جڑ سے خاتمہ کرنا بھی ہے۔ڈاکٹر سمیرہ شمس نے قوانین کے مختلف پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت صوبہ بھر میں ایچ آئی وی کے مریضوں کے لیے تشخیصی ٹیسٹ، کونسلنگ اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کو تعلیم، روزگار اور صحت سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں برابر کے حقوق دیے گئے ہیں، اور کسی بھی سطح پر ان کے ساتھ امتیازی سلوک کو قانونی جرم قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مریضوں کی شناخت اور ٹیسٹ کے نتائج کو مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ بغیر کسی خوف اور جھجک کے اپنا علاج کروا سکیں۔ ڈاکٹر سمیرہ شمس نے کہا کہ ایڈز صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا سماجی چیلنج ہے، اور ہمیں مریضوں کو تنہا کرنے کے بجائے ان کا سہارا بننا ہوگا۔ انہوں نے محکمہ صحت، سول سوسائٹی اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ قوانین کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے میں اپنا فعال کردار ادا کریں تاکہ خیبر پختونخوا کو ایچ آئی وی سے پاک اور ایک ہمدرد معاشرہ بنایا جا سکے۔

صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمن کا ایچ آئی وی سے بچاؤ، علاج اور آگاہی کے فروغ کے عزم کا اعادہ

صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت خیبرپختونخوا ایچ آئی وی کی روک تھام، بروقت تشخیص، معیاری علاج اور اس مرض سے وابستہ بدنامی کی مناسبت غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کے زیر اہتمام منعقدہ ایچ آئی وی سے متعلق قانون سازی بابت مشاورتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر شاہین آفریدی، چئیر پرسن خیبرپختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن ڈاکٹر سمیرا شمس، متعدد سابق خواتین اراکینِ صوبائی اسمبلی، ترقیاتی شراکت داروں، محکمہ صحت کے افسران، طبی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ ایچ آئی وی ایک بیماری ہے، کوئی بدنامی نہیں۔ اس مرض کے ساتھ زندگی گزارنے والے ہر فرد کو عزت، احترام، بروقت تشخیص، بلا تعطل علاج اور معیاری طبی سہولیات تک مساوی رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں آگاہی پیدا کرنا، بروقت ٹیسٹنگ اور علاج کی سہولیات کی فراہمی ہی اس بیماری پر قابو پانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت 10,655 افراد ایچ آئی وی کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں، جبکہ اندازاً 39 ہزار افراد اس مرض کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ رجسٹرڈ مریضوں میں 7,721 مرد، 2,684 خواتین اور 250 ٹرانس جینڈر افراد شامل ہیں۔صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا ہیلتھ پالیسی کے تحت ایچ آئی وی کی روک تھام اور علاج کے لیے جامع اقدامات کررہی ہے، جن میں اسکریننگ سروسز کی توسیع، اینٹی ریٹرو وائرل ادویات کی بلا تعطل فراہمی، جدید لیبارٹری سہولیات، بیماری کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا، ایچ آئی وی سروسز کو دیگر صحت پروگراموں کے ساتھ مربوط کرنا اور طبی عملے کی استعداد کار میں اضافہ شامل ہے۔تقریب کے دوران غیر سرکاری تنظیم بلو وینز کے حکام نے خیبرپختونخوا ایچ آئی وی اینڈ ایڈز سے متعلق قانون پر تفصیلی پریزنٹیشن دی، جس میں قانون کے اہم نکات، ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کے حقوق، امتیازی سلوک کے خاتمے، رازداری کے تحفظ اور مؤثر قانونی فریم ورک پر روشنی ڈالی گئی۔صوبائی وزیرِ صحت نے خیبرپختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن، بلو وینز، ترقیاتی شراکت داروں، طبی ماہرین اور سول سوسائٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ایچ آئی وی سے متعلق آگاہی، مؤثر علاج اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی رکاوٹ بیماری نہیں بلکہ اس سے وابستہ بدنامی کا خوف، غلط معلومات اور امتیازی رویے ہیں۔ حکومت اس امر کو یقینی بنا رہی ہے کہ ہر شہری بلا خوف و خطر تشخیص اور علاج کی سہولیات حاصل کر سکے، جبکہ رازداری، خون کے محفوظ استعمال اور مساوی طبی سہولیات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔آخر میں صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت خیبرپختونخوا ترقیاتی شراکت داروں، طبی ماہرین، سول سوسائٹی اور عوام کے تعاون سے ایک مضبوط، جامع اور عوام دوست صحت کا نظام قائم کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ ایچ آئی وی کے تدارک میں کوئی کسر نہ رہے۔

Standing Committee on Minerals of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly was held on Wednesday at the Provincial Assembly Secretariat

A meeting of the Standing Committee on Minerals of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly was held on Wednesday at the Provincial Assembly Secretariat under the chairmanship of the Committee Chairman and Member of the Provincial Assembly, Ikramullah Ghazi.

The meeting was attended by committee members Muhammad Yamin Khan, Ahmad Karim Kundi, Zubair Khan, Ms. Shehla Bano, and Ms. Sobia Shahid, while Arbab Muhammad Usman participated via Zoom. Also present were the Secretary for Minerals along with relevant officials, as well as representatives from the Forest Department, Revenue Department, Law Department, Advocate General’s Office, and the Provincial Assembly Secretariat.

The committee reviewed the progress made by the Minerals Department in implementing the directives issued during the previous meeting and examined the follow-up measures taken. The Secretary for Minerals briefed the committee on the department’s performance, ongoing initiatives, and overall progress.

During the meeting, Member of the Provincial Assembly Ahmad Karim Kundi raised various questions regarding mineral leases, Guzara Areas, Reserved Areas, Protected Areas, and forest-related matters. Committee members held a detailed discussion on these issues. Chairman Ikramullah Ghazi expressed concern that out of approximately 4,000 mineral leases, only around 2,000 are currently operational, while 765 leases have been cancelled.

Officials from the Minerals Department explained that lease cancellations were due to a number of factors, including the law and order situation, issues related to the use of explosives during mining operations, and legal complications concerning forest lands. However, the Standing Committee was not satisfied with these explanations.

Committee member Zubair Khan pointed out that in some cases, the ownership of the land belongs to one individual, while the Minerals Department issues mining leases in the name of another person. Taking notice of the matter, Chairman Ikramullah Ghazi directed the formation of a subcommittee.

The subcommittee will be chaired by Zubair Khan, with Muhammad Yamin Khan and Ms. Sobia Shahid serving as its members. The subcommittee will conduct a comparative review of the data provided by the Forest Department and the Minerals Department regarding Guzara, Reserved, and Protected Areas. It will also examine all mineral leases issued, the criteria and procedures followed for their issuance, cancelled leases, and the losses incurred by the affected companies. The subcommittee will submit its report to the Standing Committee, which will use its findings to determine the future course of action.

At the conclusion of the meeting, Chairman Ikramullah Ghazi directed senior officials of the Minerals Department and the Forest Department to ensure that the views of landowners are duly incorporated while drafting special laws and legislation relating to the minerals sector. He further instructed the relevant departments to ensure their participation in the next meeting with accurate data and complete records.

معدنی وسائل اہم اثاثہ ہیں، شفاف و موثر استعمال اولین ترجیح ہے، عارف احمد زئی

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محکمہ معدنیات و معدنی ترقی عارف احمد زئی کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے معدنی وسائل کے موثر استعمال اور ریوینیو میں اضافے کے لیے مختلف سٹریٹجک اقدامات پر غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ مائنز اینڈ منرلز ڈاکٹر محمد اسرار اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران صوبائی وزیر کو محکمے کی موجودہ کارکردگی اور ریونیو بڑھانے کے امکانات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبے کے معدنی وسائل کے بہترین اور موثر استعمال کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا منرل ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے مجموعی کردار، اس کی افادیت، اور وسائل کے بہتر انتظام کے ذریعے صوبائی آمدنی میں اضافے کے لیے کمپنی کے فعال کردار پر تفصیلی بحث کی گئی۔صوبائی وزیر عارف احمد زئی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معدنیات صوبے کا ایک اہم اثاثہ ہیں اور ان کا شفاف و موثر استعمال حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کمپنی کے کردار اور مستقبل کے لائحہ عمل کو مزید واضح اور جامع بنانے پر زور دیا۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا منرل ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی کے کردار کی مزید وضاحت اور تفصیلی پلان کے لیے جلد ہی ایک اور اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگلے میٹنگ میں ایک جامع پریزنٹیشن پیش کی جائے گی جس کی روشنی میں مناسب عمل درآمد اور آئندہ کی ضروری کارروائی کے لیے سفارشات تیار کی جائیں گی، جس کو حتمی منظوری اور آئندہ کے اقدامات کے لیے وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا اور صوبائی حکومت کو پیش کی جائیں گی

تحصیل کٹلنگ کو سب ڈویژن کا درجہ دینے کے حوالے سے اجلاس

وزیر برائے ریونیو و اسٹیٹ طارق محمود آریانی کی صدارت میں تحصیل کٹلنگ کو سب ڈویژن کا درجہ دینے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں چیئرمین ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی ممبران سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تحصیل کٹلنگ کو سب ڈویژن کا درجہ دینے سے متعلق مختلف انتظامی، قانونی اور عوامی پہلوؤں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور اس سلسلے میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر وزیر برائے ریونیو و اسٹیٹ طارق محمود آریانی نے کہا کہ تحصیل کٹلنگ کو سب ڈویژن کا درجہ دینا علاقے کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے، جس کی تکمیل سے نہ صرف عوام کو سرکاری خدمات ان کی دہلیز پر میسر آئیں گی بلکہ انتظامی امور میں بھی بہتری، ترقیاتی عمل میں تیزی اور عوامی مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ خیبر پختونخوا عوامی سہولیات کی فراہمی اور انتظامی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جبکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔وزیر برائے ریونیو و اسٹیٹ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تحصیل کٹلنگ کو سب ڈویژن کا درجہ دینے کے حوالے سے تمام ضروری قانونی و انتظامی تقاضے جلد از جلد مکمل کیے جائیں اور اس ضمن میں پیش رفت سے باقاعدگی کے ساتھ آگاہ رکھا جائے تاکہ اس اہم عوامی منصوبے کو جلد عملی شکل دی جا سکے۔

KP Food Authority seizes thousands of litres of adulterated milk and counterfeit beverages in province-wide crackdown

The Khyber Pakhtunkhwa Food Safety and Halal Food Authority (KPFS&HFA), on the directives of the Special Assistant to the Chief Minister for Food Dr Muhammad Israr Khan, continued its province-wide crackdown against the transportation and distribution of substandard and adulterated food items.
According to the Food Authority spokesperson, special checkpoints were established at key entry and exit points across various districts, where food-carrying vehicles were thoroughly inspected. Mobile Food Testing Laboratories were also deployed to conduct on-the-spot testing of milk and other food products to ensure compliance with food safety standards.
During operations in Peshawar, Food Safety teams seized approximately 1,200 litres of substandard and counterfeit beverages from a vehicle. In addition, 80 litres of substandard milk were discarded on the spot, while fines were imposed on the violators.
In Haripur, more than 300 litres of adulterated milk were recovered and destroyed, and legal proceedings were initiated against those responsible.
Similarly, in Dera Ismail Khan, Food Safety officials seized and disposed of 1,400 litres of hazardous milk. In another operation, the Malakand Food Safety team intercepted a vehicle at the Swat Expressway, confiscated 500 litres of adulterated milk, destroyed the consignment, and imposed fines on the offenders.
The spokesperson added that similar inspection drives and checkpoint operations were also carried out in Bannu, Swabi, Charsadda, Abbottabad, Swat, Nowshera, Buner, Chitral, Khyber, Kohat, Lower Dir, Mardan and Lakki Marwat to prevent the movement of unsafe and substandard food products across the province.
Speaking on the occasion, Special Assistant to the Chief Minister for Food Dr Muhammad Israr Khan, said the Khyber Pakhtunkhwa government remained fully committed to ensuring the availability of safe, hygienic and quality food for the public. He reiterated that indiscriminate action against those involved in food adulteration and counterfeiting would continue until the food adulteration mafia was completely eliminated from the province.
“The health of our citizens is non-negotiable. The provincial government will continue to enforce food safety laws strictly and will not allow anyone to compromise public health for personal gain,” he said.

معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے ڈائریکٹوریٹ آف پراسیکیوشن میں لیگل ایڈ کا افتتاح کیا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ و قبائلی امور اکرام اللہ خان کے ہمراہ ڈائریکٹوریٹ آف پراسیکیوشن، خیبرپختونخوا، پشاور کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پراسیکیوشن محمد رفیق خان مہمند اور ڈائریکٹوریٹ کے سینئر افسران نے ان کا استقبال کیا۔دورے کے دوران معاونِ خصوصی طارق سعید مروت نے خیبرپختونخوا لیگل ایڈ ایکٹ 2019 کے تحت قائم لیگل ایڈ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پراسیکیوشن نے وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں مستند وکلاء کا پینل تشکیل دیا جا چکا ہے، جو فوجداری اور عائلی مقدمات میں مستحق افراد کو مفت قانونی معاونت فراہم کرے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لیگل ایڈ یکم جولائی 2026 سے باقاعدہ فعال ہو چکی ہے، جو صوبے میں انصاف تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔وفد کو محکمہ پراسیکیوشن کے مینڈیٹ، تنظیمی ڈھانچے، مجموعی کارکردگی، ادارہ جاتی اصلاحات، مقدمات کے مؤثر انتظام، سزا کی شرح میں بہتری اور فوجداری نظامِ انصاف کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر معاونِ خصوصی طارق سعید مروت نے محکمہ پراسیکیوشن کے افسران کی پیشہ ورانہ صلاحیت، لگن اور خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ محکمہ پراسیکیوشن فوجداری نظامِ انصاف کا ایک اہم ستون ہے اور پراسیکیوٹرز قانون کی حکمرانی، شفافیت اور انصاف کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کے وژن اور ہدایات کے مطابق صوبائی حکومت فوجداری نظامِ انصاف کو جدید خطوط پر استوار کرنے، متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو فروغ دینے اور عوام کو بروقت، شفاف اور سستا انصاف فراہم کرنے کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ محکمہ پراسیکیوشن کی ادارہ جاتی استعداد کار میں مزید اضافہ، نظامِ انصاف کی جدید خطوط پر بہتری اور مستحق و نادار شہریوں کو مفت قانونی معاونت کی فراہمی کو مزید وسعت دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ڈائریکٹر جنرل پراسیکیوشن محمد رفیق خان مہمند نے معاونِ خصوصی طارق سعید مروت کی آمد، حوصلہ افزائی اور محکمہ پراسیکیوشن کو مضبوط بنانے اور صوبے بھر میں مفت قانونی معاونت کی فراہمی کے اقدامات کے لیے مسلسل تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

KP Irrigation Minister Riaz Khan Visits Pehur High Level Canal (PHLC) Project; directs completion by October, says no further delay bill be tolerated

PESHAWAR: The Khyber Pakhtunkhwa Minister for Irrigation, Riaz Khan, paid a detailed visit to various construction sites of the Pehur High Level Canal (PHLC) Project in district Swabi to review the pace of work.

Expressing serious concern over the slow progress of the project, the Minister issued strict directives to the concerned officials and contractors to ensure its completion by October this year, emphasizing that no further delay would be tolerated under any circumstances.

The Provincial Minister was accompanied by Provincial Minister for Relief, Rehabilitation and Resettlement Aqib Ullah Khan, Members of the Provincial Assembly Abdul Karim and Rangez Ahmad Khan, Secretary Irrigation Muhammad Abid Wazir, the Project Director, concerned engineers, and other officials.

During the visit, the Minister inspected various components of the project, including ongoing construction activities, canal infrastructure, engineering works, and other key project sites.

He was given a comprehensive briefing on the overall progress of the project, including its physical and financial progress, key challenges, and the timeline for its completion.

Minister Riaz Khan directed the concerned authorities to further accelerate the pace of work by mobilizing all available resources and ensuring daily monitoring of progress so that the project is completed within the stipulated timeframe by October.

He said that the KP government is fully committed to fulfilling its promises to the people and that the timely completion of public welfare projects remains one of the provincial government’s highest priorities.

He also reaffirmed the government’s commitment to removing all administrative, technical, and operational hurdles hindering the project’s completion to ensure that the scheme is completed without interruption and delivers improved services and long-term benefits to the people of the area.

On the occasion, Provincial Minister for Relief, Rehabilitation and Resettlement Aqib Ullah Khan, along with MPAs Abdul Karim and Rangez Khan, assured their full cooperation for the timely completion of the project. They pledged to work closely with the relevant departments to address issues within their respective constituencies and facilitate the successful execution of this important public welfare initiative.

Concluding the visit, the Provincial Minister for Irrigation directed the concerned officials to keep him regularly informed of the project’s progress and to ensure that the work is completed within the stipulated timeframe without compromising on quality, so that its benefits reach the public at the earliest.

KP Government Notified Auction Committees for Transparent Disposal of Condemned/Surplus Government Vehicles

The Government of Khyber Pakhtunkhwa has modified the Auction Committees of condemned and surplus vehicles belonging to government departments, attached departments, autonomous and semi-autonomous bodies, closed projects, government-controlled boards, corporations, and other public sector organizations.

According to a notification issued by the Administration Department (Transport Section), the committees have been constituted at the Provincial Headquarters, Divisional Headquarters, and District Headquarters to ensure a transparent, efficient, and well-publicized auction process.

At the Provincial Headquarters level, the committee will be chaired by the Minister for Law, Khyber Pakhtunkhwa, while the Secretary Administration Department, Additional Secretary (Administration) Finance Department, Director General Excise & Taxation, Deputy Secretary (Administration), DIG Telecommunication Khyber Pakhtunkhwa will serve as members. The Section Officer (Transport), Administration Department, will perform the duties of Member-cum-Secretary.

Separate Sub-Committees have also been constituted at the Divisional and District levels. These committees will be headed by a Cabinet Member or MPA nominated by the Chairman of the Auction Committee/ Minister for Law. The concerned Divisional Commissioner, Deputy Commissioner, representative of the Administration Department, Secretary RTA, Excise & Taxation Officer (ETO), and Assistant Commissioner (in Divisional) /Additional Deputy Commissioner General(in District) will serve as members, with the designated officer acting as Member-cum-Secretary.

The notification mandates the committees to conduct open, transparent, and widely publicized auctions of surplus and condemned government vehicles. The auctions will be held strictly on an “as-is” and “where-is” basis, ensuring compliance with all applicable rules, policies, and government instructions.

The committees have also been authorized to co-opt any other government official for technical assistance whenever required and to issue detailed operational procedures for the smooth conduct of the auction process.