Home Blog Page 64

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمان سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پروستھیٹک اینڈ آرتھیٹکس پشاورکےممبران کی ملاقات

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت خلیق الرحمان سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پروستھیٹک اینڈ آرتھیٹکس پشاورکے چیئرمین ڈاکٹر عارف، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عابد حسین اور ایڈمن آفیسر شعیب الرحمان اور دیگر ممبران نے ملاقات کی اور وزیر صحت کو بتایا کہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پروستھیٹک اینڈ آرتھیٹکس ایک خودمختار ادارہ ہے جو 1988 سے صوبے کے معذور افراد کے لئے اپنی خدمات پیش کر رہا ہے۔ ادارے کے چیئرمین نے صوبائی وزیر کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے درپیش تمام مشکلات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔خلیق الرحمان نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ادارہ معذور افراد کے لیئے ایک امید کی کرن ہے اور ہم سب نے مل کر اسے مشکلات سے نکلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت صوبائی وزیر صحت وہ یقین دلاتے ہیں کہ محکمہ صحت انشاء اللہ اس ادارے کے ساتھ بھرپور تعاون کریگا اور جو بھی مشکلات اور مسائل ہیں ان کو کم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ اس طرح ایک اچھے ماحول میں ادارے کے کام کو آگے بڑھایا جاگا۔ صوبائی وذیر نے کہا کہ عوام کو سہولیات اور خدمات کی روانی اور تسلسل میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں ہوگی اور تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے خلوص نیت سے آگے بڑھیں گے۔ اس حوالے سے آئندہ ایک جامع منصوبے بندی کے تحت کام کرینگے۔

صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان کے زیر صدارت محکمہ تعلیم جائزہ اجلاس

خیبرپختونخوا کے وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے ایجوکیشن حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ خیبرپختونخوا تعلیمی بورڈ کے پیپرز اور جائزہ آئی بی سی سی کے ذریعے کرنے کی سمری فوری طور پر واپس کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی تعلیمی بورڈز، طلباء و طالبات اور صوبائی حکومت پر کسی قسم کا کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ اور پرچوں کی پرنٹنگ، ای مارکنگ اور انسر بکس کی تیاری سمیت دیگر تمام مٹیریل کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھیجی گئی سمری صرف ایک پروپوزل تھی کوئی منظوری نہیں ہوئی اس لئے فوری طور پر واپس منگوائی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن محمد خالد خان، سپیشل سیکرٹریز عبدالباسط، مسعود خان اور محکمہ تعلیم کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ بورڈز کے اختیارات اور امتحانی نظام ہر صورت صوبے کے پاس رہے گا اور ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوگا جس سے عوام اور طلباء و طالبات متاثر ہوں۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے باضابطہ طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا

خیبر پختونخوا کے وزیرِ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان نے باضابطہ طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا صوبائی وزیرِ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے اس موقع پر کہا کہ وہ وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے وژن کے مطابق صوبے بھر میں صاف پانی کی فراہمی اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی موجودہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

سید فخر جہان نے بطور صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول چارج سنبھال لیا

خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر سید فخر جہان نے پیر کے روز باضابطہ طور پر محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول کی وزارت کا چارج سنبھال لیا۔چارج سنبھالنے کے موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کابینہ میں دوبارہ بطور وزیر شامل کیا جانا پارٹی کے کارکنان اور بونیر کے عوام کیلئے لیے باعثِ فخر ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ وزارت میں انہوں نے کھیل اور امورِ نوجوانان کے شعبے میں ایک جذبے اور عزم کے ساتھ کام کیا اور اپنی کارکردگی کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کیا۔ اب وہ اکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کے اہم شعبے میں اسی جوش و جذبے کے ساتھ اپنی نئی وزارت کی ذمہ داریاں سرانجام دیں گے تاکہ عوامی خدمت کا تسلسل برقرار رہے اور یہ شعبہ ترقی کی جانب گامزن کیا جا سکے۔سید فخر جہان نے اپنے حلقے کے عوام اور پارٹی کارکنان کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کے تعاون اور ووٹ سے انہیں دوبارہ عوامی خدمت کا موقع میسر آیا۔انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان اور وزیرِاعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا ان پر اعتماد باعثِ اعزاز ہے اور وہ دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں نئی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔

ایبٹ آباد () ڈپٹی کمشنر ایبٹ آبادد سرمد سلیم اکرم کی زیرِ صدارت ڈینگی کنٹرول کے حوالے سے اجلاس منعقد

ایبٹ آباد () ڈپٹی کمشنر ایبٹ آبادد سرمد سلیم اکرم کی زیرِ صدارت ڈینگی کنٹرول کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر کو محکمہ صحت کی جانب سے انسدادی اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں اے ڈی سی جنرل، ڈی ایچ او، ایم ایس ڈی ایچ کیو، ٹی ایم اوز، محکمہ تعلیم، زراعت، لوکل گورنمنٹ، پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ضلعی محکمہ صحت ایبٹ آباد کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کی ہدایات پر ڈینگی کی روک تھام کے لیے انسدادی کارروائیوں، سرویلنس اور آگاہی مہم میں مزید تیزی لائی گئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اکتوبر 2025 تک ضلع بھر میں ڈینگی کے 136 کیسز رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ سال 2024 کے 251 کیسز کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ڈینگی سے متاثرہ علاقوں میں سلہڈ، کھوکھر میرا، مسلم آباد، حویلیاں اربن، لنگرہ، کیہال اور ملکپورہ شامل ہیں، جہاں محکمہ صحت کی ٹیمیں ضلعی میڈیکل اینٹومالوجسٹ کی نگرانی میں متحرک ہیں۔ ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کی ہدایات پر ہاٹ سپاٹ علاقوں میں مفت ڈینگی اسکریننگ کیمپس کا انعقاد کیا گیا، 6,834 مچھر دانیاں مستحق خاندانوں میں تقسیم کی گئیں، فومیگیشن اور انڈور اسپرے آپریشنز جاری ہیں، جبکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس ایبٹ آباد میں مفت ڈینگی ٹیسٹنگ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں اسکولز، مدارس، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر آگاہی مہمات کا بھی تسلسل برقرار ہے۔ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام ادارے اپنی استعداد کار میں اضافہ کریں اور ڈینگی کنٹرول کے لیے مربوط اقدامات کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اسکولوں، پبلک مقامات، پارکس، ٹائر شاپس، ورکشاپس اور دیگر جگہوں پر پانی کھڑا نہ ہونے دیا جائے اور فوگ اسپرے پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ایبٹ آباد سے ڈینگی کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔آخر میں ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں، گھروں اور گلیوں میں پانی جمع نہ ہونے دیں، اور کسی بھی مشتبہ ڈینگی کیس کی فوری اطلاع قریبی ہیلتھ سینٹر کو دیں تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں

12 نومبر سے شروع ہونے والے ایف اے/ایف ایس سی امتحانات کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی

12 نومبر سے شروع ہونے والے ایف اے/ایف ایس سی امتحانات کی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں کمشنر مردان ڈویژن نثار احمد کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں امتحانات کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر مردان واصف رحمن، اے ڈی سی صوابی، ایس پی ہیڈکوارٹرز مردان، مختلف کالجوں کے پرنسپلز اور محکمہ تعلیم کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ کمشنر مردان نے شرکاء پر زور دیا کہ امتحانی نظام کی شفافیت برقرار رکھنے اور امتحانات کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ (BISE) مردان کے چیئرمین پروفیسر جہانزیب نے امتحانات کے شفاف اور منصفانہ انعقاد کے لیے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے تعاون کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کی بدولت طلبہ اپنی محنت پر انحصار کریں گے اور غیر منصفانہ طریقوں سے گریز کریں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بی آئی ایس ای مردان نے حال ہی میں ایم ڈی کیٹ کے نتائج میں صوبہ بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کیا ہے جو تعلیمی معیار میں بہتری کا مظہر ہے۔ بورڈ حکام کے مطابق، آنے والے امتحانات میں 40,600 سے زائد طلبہ و طالبات امتحان دیں گے۔
طلبہ کے لیے 106 امتحانی ہال جبکہ لڑکیوں کے لیے 68 ہال قائم کیے گئے ہیں۔
چیئرمین نے یقین دلایا کہ جن کالجوں میں فرنیچر کی کمی ہے، وہاں فوری طور پر فرنیچر فراہم کیا جائے گا جبکہ تمام امتحانی مراکز میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے تاکہ سخت نگرانی ممکن ہو سکے۔
کمشنر نثار احمد نے متعلقہ تمام محکموں اور افسران کو ہدایت کی کہ وہ امتحانات کے شفاف، منظم اور منصفانہ انعقاد کے لیے تعلیمی بورڈ کو مکمل تعاون فراہم کریں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ یہ امتحانات صوبائی حکومت کی پالیسی کے مطابق ہر قسم کے نقائص سے پاک ہوں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم میں کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی یقینی بنانا اور سرکاری سکولوں کے نتائج میں بہتری لانے کیساتھ ساتھ سکولوں میں سہولیات کی فراہمی اور اساتذہ کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت کی فراہمی اور محکمہ تعلیم کے تمام نظام کو ڈیجیٹائز کرنا ان کی اولین ترجیح ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم میں کوالٹی ایجوکیشن کی فراہمی یقینی بنانا اور سرکاری سکولوں کے نتائج میں بہتری لانے کیساتھ ساتھ سکولوں میں سہولیات کی فراہمی اور اساتذہ کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت کی فراہمی اور محکمہ تعلیم کے تمام نظام کو ڈیجیٹائز کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانی نظام میں مزید اصلاحات متعارف کرکے رٹہ کلچر کا خاتمہ ہوگا اور ایس ایل او بیسڈ امتحانات کے انعقاد کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ جس کیلئے پرائمری سے آٹھویں گریڈ تک کے طلباؤ طالبات کو تیار کیا جائے گا۔ اساتذہ کی تربیت پروگرام پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور اس ضمن میں ڈی پی ڈی اور ڈی سی ٹی ای سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم اور اس کے ذیلی اداروں سے بریفنگ لیتے وقت کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن محمد خالد خان، سپیشل سیکرٹریز عبدالباسط، مسعود خان، مینجنگ ڈائریکٹر مرجڈ ایریاز ایجوکیشن فاؤنڈیشن فریحہ پال، مینجنگ ڈائریکٹر ای ایس ایف قیصر عالم، ایم ڈی پی ایس آر اے افتخار مروت، چئیرمین ٹیکسٹ بک بورڈ عابداللہ کاکاحیل، تمام تعلیمی بورڈز سربراہان، ڈائریکٹر ایجوکیشن، ڈائریکٹر آئی ٹی اور محکمہ تعلیم کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے مزید کہا کہ صوبے کے تمام سکولوں میں مفت درسی کتابوں، اور سکول بیگز کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ساتھ صوبے کے ہر سکول میں فرنیچر کی فراہمی کے ساتھ موجودہ فرنیچر کو قابل استعمال بنانے کیلئے مرمت بھی کیا جائے گا۔ محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹوریٹ اور سیکرٹریٹ بشمول تمام ذیلی اداروں کو مکمل طور پر ڈیجیٹائزڈ اور پیپرلیس بنایا جائے گا۔ ہوسٹنگ ٹرانسفرز پر پابندی برقرار رہے گی اور ملازمین کی آسانی اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹائزڈ آن لائین سسٹم متعارف کیا جائے گا۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ آوٹ آف سکول بچوں کو سکولوں میں لانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لاکر لانگ، میڈیم اور شارٹ ٹرم پلانز تریب دیئے جا ئیں گے۔ نان فارمل ایجوکیشن کے تحت کمیونٹی سکولوں اور اے ایل پی سینٹرز قائم کئے جائیں گے۔ اور ان اداروں میں کوالٹی ایجوکیشن کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ اور محکمہ تعلیم کے فاؤنڈیشن ورچوئل لرننگ پروگرام کو صوبے کے دیگر اضلاع تک توسیع دی جائے گی۔ تاکہ طلباؤ طالبات ان آن لائن کلاسز سے استفادہ لے سکیں۔ وزیر تعلیم نے بجٹ کے حوالے سے کہا کہ ترجیحی منصوبوں کی نشاندہی کریں اور ان منصوبوں کیلئے فوری طور پر بجٹ ریلیز کیلئے لائحہ عمل تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ گرلز ایجوکیشن کو حصوصی توجہ دی جائے گی اور طالبات کو اپنے ہی قریبی علاقوں میں بہترین تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ وزیر تعلیم نے یہ بھی ہدایت جاری کی کہ محکمہ تعلیم کمپلینٹ سیل کو فوری طور پر فعال کرنے کے ساتھ عوام کو آگاہی کی فراہمی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

رواں سال پہلے ہی جی ڈی پی کے تناسب سے ملکی تاریخ کا کم ترین ترقیاتی بجٹ تھا اب اس میں مزید 300 ارب کٹوتی کر کے 700 ارب کردیا گیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے ملکی معشیت سے متعلق اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال پہلے ہی جی ڈی پی کے تناسب سے ملکی تاریخ کا کم ترین ترقیاتی بجٹ تھا اب اس میں مزید 300 ارب کٹوتی کر کے 700 ارب کردیا گیا۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستان کے مجموعی قرضے پچھلے چار سالوں میں 35000 ارب لئے گئے اس دوران وفاقی ترقیاتی اخراجات 4000 ارب سے بھی کم رہے عوام ملک کے قرض اور ترقی کا اندازاہ اس سے بخوبی لگا لیں اور ان حالات میں بھی دوسری جانب حکومت معیشت بہتری کے دعوے کر رہی ہے۔اس حکومت میں پاکستان کی ترقی اب ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ ایک دوسرے بیان میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے بلاول بھٹو زرداری کے 27ویں آئینی ترمیم بارے ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دیانتداری سے ان ترامیم کے لیے قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔ ملک کی بہتری کے لیے اس پر وسیع مشاورت درکار ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ این ایف سی کی ازسرِنو تشکیل کے حوالے سے خیبرپختونخوا بالکل لاعلم ہے این ایف سی مشاورت کے لیے مجوزہ مسودہ درکار ہے۔

محکمہ جنگلات کی لکڑیوں کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف کامیاب کارروائیاں، 363 مکعب فٹ لکڑی برآمد، چار ملزمان گرفتار

صوبائی حکومت کی ہدایات پر محکمہ جنگلات کی جانب سے لکڑیوں کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔اسی سلسلے میں محکمہ جنگلات ملاکنڈ فارسٹ ڈویژن کی ٹیم نے سوات موٹروے پر دو الگ الگ کارروائیوں میں لکڑیوں کی اسمگلنگ ناکام بناتے ہوئے مجموعی طور پر 365 مکعب فٹ دیار اور کائل کی لکڑی برآمد کرلی۔تفصیلات کے مطابق ڈویژنل فارسٹ آفیسر ملاکنڈ واصل خان کی قیادت میں فارسٹ ٹیم نے ملک احمد خان بابا چیک پوسٹ پر ایک مؤثر کارروائی کے دوران ایک مزدا گاڑی سے 288 مکعب فٹ لکڑی برآمد کی، جو کباڑ گتے کے نیچے چھپائی گئی تھی۔ موقع پر دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔اسی طرح مذکورہ چیک پوسٹ پر دوسری کارروائی کے دوران ایک پک اَپ ڈاٹسن گاڑی سے 77 مکعب فٹ لکڑی برآمد کرتے ہوئے مزید دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔محکمہ جنگلات کی ٹیم نے دونوں گاڑیاں اور برآمد شدہ لکڑیاں سرکاری تحویل میں لے کر فارسٹ آرڈیننس کے تحت ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرلیے۔اس موقع پر ڈویژنل فارسٹ آفیسر واصل خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کی ہدایات کے مطابق جنگلات کے تحفظ اور لکڑیوں کی غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی بھرپور طریقے سے جاری رہیں گی

PEDO, UET Peshawar sign strategic MoU

The University of Engineering and Technology (UET) Peshawar and the Pakhtunkhwa Energy Development Organization (PEDO) signed a Memorandum of Understanding (MoU) at the Center for Advanced Studies in Energy (CAS-E), UET Peshawar to promote collaboration in renewable energy research, technology development, and capacity building for the period of 2025–2026. The collaboration aims to facilitate access to relevant project data, site visits and equipment for academic and research purposes. Secretary Energy and Power Muhammad Zubair Khan, in presence of Syed Habib Ullah Shah, CEO PEDO and Prof. Dr. Sadiq Khattak, Vice Chancellor UET Peshawar signed the MoU along with other senior officials from both institutions.

Meanwhile, speaking on the occasion, Secretary Energy & Power Zubair Khan emphasized the pivotal role of educational institutions in socio-economic development, appreciating UET Peshawar’s efforts in applying modern technologies to address real-world challenges through academic–industry linkages. He lauded the Center for Advanced Studies in Energy for its active role in the energy sector and expressed confidence that this partnership would help overcome technical barriers in PEDO’s power projects. The partnership is designed to bridge academic excellence with practical implementation, turning university research into deployable renewable projects. It is also expected to improve project readiness and commercialization potential for both small and large-scale renewable installations thereby accelerating energy access, encouraging local industry participation, and building investor confidence in the province’s energy market he added.

Moreover, Prof. Dr. Sadiq Khattak highlighted UET Peshawar’s strong potential to address the technical challenges faced by the Energy & Power Department and PEDO. He noted that the MoU reflects a broader vision of collaboration between both organizations. He added that an international seminar would be organized soon to display the joint research, achievements and potential of both organizations for the benefit of students and the global academic community.

At this juncture, Syed Habib Ullah Shah, CEO PEDO, expressed optimism over the collaboration and said that PEDO welcomes mutual cooperation, it will fast-track practical solutions, enhance project viability and create opportunities for our engineers and youth.