Home Blog Page 69

کمشنر مردان ڈویژن نثار احمد نے محکمہ سماجی بہبود و ترقی خواتین کے زیر اہتمام منشیات بحالی مرکز مردان کا دورہ کیا

کمشنر مردان ڈویژن نثار احمد نے محکمہ سماجی بہبود و ترقی خواتین کے زیر اہتمام منشیات بحالی مرکز مردان کا دورہ کیا۔ بحالی مرکز پہنچنے پر ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفیئر محمد شعیب، ری ہیبیلٹیشن آفیسر جمشید خان، سائیکالوجسٹ عمر زاہد اور مرکز کے عملے نے کمشنر کا استقبال کیا۔ سیکرٹری ٹو کمشنر فضل واحد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ کمشنر مردان نے مرکز کے مختلف شعبوں بشمول میڈیکل روم، ڈی ٹاکس سنٹر، جوینائل سمیت دیگر وارڈز، پلے گراونڈ اور کچن کا معائنہ کیا اور بحالی مرکز میں داخل افراد کو سہولیات کے بارے معلومات حاصل کیں۔ کمشنر مردان کو بتایا گیا کہ بحالی مرکز میں فی الوقت 117 افراد داخل ہیں جن کو سائیکالوجسٹ، مذہبی ٹیچر اور ڈاکٹر کی خدمات حاصل ہیں جبکہ داخل افراد کو مختلف انڈور اور آؤٹ ڈور کھیلوں کی سہولیات سمیت تین وقت بہترین کھانے کی سہولتیں میسر ہیں۔ کمشنر مردان نثار احمد نے سنٹر میں موجود سہولیات کے معیار اور عملے کی دلچسپی و کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے بحالی مرکز کے کرکٹ گراؤنڈ میں پچ کی تعمیر سمیت دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کے لیے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کر دی۔ انہوں نے کہا کہ منشیات کی لعنت معاشرے میں تیزی سے پھیل رہی ہے جس کو روکنے کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں منشیات کے تباہ کن اثرات کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے سیمینارز اور ورکشاپس کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے تاکہ اپنی نئی نسل کو منشیات کی لت میں مبتلا ہونے سے بچایا جا سکے۔ کمشنر مردان نے اس موقع پر بحالی مرکز میں داخل افراد کے مابین رسہ کشی کا مقابلہ بھی دیکھا

عوامی مسائل سے آگاہی اور فوری پائدار حل کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کا ازخود عوام سے ٹیلیفونک رابطہ، مسائل کے فوری ازالے کے لئے متعلقہ افسران کو احکامات جاری

تفصیلات کے مطابق چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا سید شہاب علی شاہ کی ہدایات پر سیٹیزن پورٹل پر پشاور ڈویژن کے حوالے سے موصول ہونے والے شکایات پر کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے ازخود شکایات کنندگان سے بذریعہ ٹیلیفون رابطہ کیا اور ان سے مسائل کے حوالے سے تفصیلات دریافت کیں، مسائل سے تفصیلی آگاہی کے بعد کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے موقع پر ہی متعلقہ افسران کو مسائل کے حل کے لیے احکامات جاری کرتے ہوئے 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی اس ہفتے موصول ہونے والی شکایات میں زیادہ تر محکمہ مال، غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈوں، غیر قانونی پارکنگ سٹینڈز، سٹریٹ لائٹس، نکاسی آب، گرانفروشی اور تجاوزات سے متعلق تھیں جن کے فوری ازالے کے لئے متعلقہ افسران کو احکامات جاری کیے گئے اس حوالے سے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل کے حوالے سے سیٹیزن پورٹل کا استعمال کریں تاکہ ان کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جاسکے

Speed Up the Restoration and Repair Work on Hazara Motorway, Directs Commissioner Hazara Fayaz Ali Shah

A key meeting regarding the restoration and repair of the Hazara Motorway, and in compliance with the directives of the Honorable Peshawar High Court, was held under the chairmanship of Commissioner Hazara Division, Fayaz Ali Shah, at the Commissioner’s Office, Abbottabad.

The General Manager of the National Highway Authority (CPEC Burhan) gave a detailed briefing on the ongoing repair work across various sections of the motorway. He informed the meeting that repair work is in progress at five major locations, three of which have already been completed, while work at the remaining two sites is being carried out on a fast track.

Addressing the meeting, Commissioner Fayaz Ali Shah stated that certain sections of the motorway still suffer from road depressions, sinkholes, bumps, and potholes, all of which require immediate attention to ensure safe, comfortable, and high-quality travel facilities for the public.

He directed that all affected areas of the motorway be thoroughly inspected and repair work be completed without delay, especially on the stretches connecting Hazara Motorway with Peshawar Motorway.

Later, Commissioner Hazara, accompanied by the General Manager of NHA, visited various sections of the motorway. On-site, he instructed officials to complete the ongoing work in accordance with quality standards, eliminate bumps and sinkholes, and ensure all necessary safety measures for the public during the construction process.

He further emphasized that all repair works must be completed within the stipulated time frame and that close coordination with Motorway Police should be maintained for effective management of the operations.

The Commissioner also directed that the Motorway Police be allowed to check overloaded vehicles in accordance with the law, noting that such vehicles cause severe damage to the roads.

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت اجلاس،گورننس امور، تجاوزات کے خاتمے کے لئے جاری اقدامات کا جائزہ

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرصدارت گورننس امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں تجاوزات کے خاتمے، اشیائے خورونوش کی قیمتوں، صوبائی دارالحکومت کی اپ لفٹ، الیکٹرک وہیکلز اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے جبکہ ڈپٹی کمشنرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اجلاس کو تجاوزات ہٹانے کے حوالے سے اعدادوشمار پر بریفنگ دی گئی۔ ڈائریکٹر پی ایم آر یو کی جانب سے اجلاس کو بتایا گیا کہ چیف سیکرٹری کی ہدایت پر تجاوزات آپریشن کی ٹریکنگ کے لئے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بنایا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اضلاع میں تجاوزات کیخلاف کاروائیوں کے بارے میں بتایا کہ پشاور میں 64 کنال اراضی واگزار کروائی گئی ہے۔ مردان میں 32 کنال، بنوں میں 120 کنال، ایبٹ آباد میں 40 کنال، ہری پور میں 39 کنال، چارسدہ میں 437 کنال اورٹانک میں 47 کنال اراضی واگزار کروائی گئی ہے۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کا کہنا تھا کہ تجاوزات کیخلاف بلا تفریق کاروائیاں جاری رکھی جائیں۔ ڈی جی پی ڈی اے نے بتایا کہ پشاور نیو جنرل بس سٹینڈ پر رات کی شفٹ میں بھی کام شروع کردیا گیا ہے۔ 31 اکتوبر تک منصوبے کے گرے اسٹرکچر پر کام مکمل کرلیا جائے گا۔ اس منصوبے سے پشاور شہر میں ٹریفک کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی کے تحت نجی شعبے سے ایم او یوز کئے جارہے ہیں جس کے تحت صوبائی دارالحکومت کی بیوٹیفکیشن میں مدد ملے گی۔ جی ٹی روڈ اور رنگ روڈ کے روڈ فرنیچر، بیوٹیفکیشن، ہارٹیکلچر منصوبے کے تحت صوبائی دارالحکومت کی اپلفٹ پر کام شروع کیا جارہا ہے۔ اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ٹھنڈیانی سیاحتی منصوبہ، گھنول انٹیگریٹڈ ٹورازم زون، درابن اکنامک زون پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری خوراک نے اجلاس کو اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر بریفنگ دی۔اجلاس میں حکومت خیبرپختونخوا کا الیکٹرک وہیکل اصلاحات متعارف کرانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا جس کے تحت پہلے مرحلے میں الیکٹرک رکشہ اور الیکٹرک ٹیکسی پر کام کیا جائے گا۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ حکومت اس حوالے سے فریم ورک پر کام کرے گی۔ الیکٹرک وہیکلز کی حوصلہ افزائی سے ماحولیاتی تحفظ یقینی بنایا جاسکے گا اور اس سے مقامی روزگار کو فروغ ملے گا۔

پولیو فری پاکستان — ایک عزم، ایک خواب جو کوہاٹ ڈویژن میں حقیقت بن رہا ہے

زندگی کی اصل مسکراہٹ بچوں کے چہروں سے جھلکتی ہے۔ ان کی ہنسی، ان کی شرارتیں اور ان کے دوڑتے قدم ہی زندگی میں خوشی کی روح پھونک دیتے ہیں۔ مگر جب انہی ننھے قدموں کو پولیو جیسی موذی بیماری مفلوج کر دیتی ہے تو یہ کسی سانحے سے کم نہیں لگتا۔ یہی احساس ایک قوم کی بیداری کا سبب بنااور اسی عزم نے جنم دیا اس جدوجہد کو جسے ہم کہتے ہیں: ”پولیو فری پاکستان”۔ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سید شہاب علی شاہ نے صوبے بھر کے انتظامی افسران کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ پولیو کے خلاف جنگ محض ایک مہم نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں مؤثر نگرانی، عوامی آگاہی اور ہر سطح پر عوام کی شمولیت لازمی ہے۔ ان ہدایات کی عملی تصویر کوہاٹ ڈویژن میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں کمشنر سید معتصم باللہ شاہ نے انسداد پولیو مہم کو ایک تحریک کی شکل دے دی ہے۔ ہر مہم کے دوران وہ علی الصبح مختلف اضلاع کے دورے کرتے ہیں، ڈپٹی کمشنرز اور فیلڈ ٹیموں کے ساتھ فیلڈ میں موجود ہوتے ہیں، پولیو ورکرز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں، والدین سے براہِ راست گفتگو کرتے ہیں اور ہر قدم پر رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ یہی جذبہ ہے جس نے کوہاٹ، ہنگو، کرک، کرم اور اورکزئی کو صوبے کے اُن نمایاں اضلاع میں شامل کر دیا ہے جہاں کبھی پولیو ویکسین کی مخالفت ہوا کرتی تھی، اب تعاون کی مثالیں قائم ہو رہی ہیں۔ جہاں کبھی والدین اپنے بچوں کو ویکسین پلانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے، وہاں اب علما ء کرام اور آئمہ مساجد نے اپنی ذمہ داری کا حق ادا کیا ہے اور گاؤں گاؤں بھروسے کا ماحول پیدا کیا۔ عوام کو یہ احساس ہوا کہ یہ صرف حکومت کی مہم نہیں بلکہ ان کے اپنے بچوں کے مستقبل اور سلامتی کا مشن ہے۔انسداد پولیو مہم کو مزید مؤثر بنانے کیلئے گذشتہ روز ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) خیبر پختونخوا کے زیرِ اہتمام کوہاٹ پریس کلب میں ایک اہم میڈیا اورینٹیشن سیمینار کے علاوہ مختلف یونین کونسلز میں انفلوئنسر انگیجمنٹ اور اورینٹیشن سیشنز کا بھی انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر EOC کے ایڈووکیسی و کمیونیکیشن آفیسر میاں شہاب نے کہا کہ”پولیو کے خلاف جنگ صرف محکمہ صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک قومی فریضہ ہے اور میڈیا اس جدوجہد کا سب سے اہم پارٹنر اور مضبوط ہتھیار ہے”۔ ای پی آئی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محبت بنگش نے کہاکہ ”والدین کا اعتماد کامیابی کی بنیاد ہے۔ جب میڈیا حقیقت سامنے لاتی ہے تو معاشرے متحد رہتے ہیں اور والدین درست فیصلے کرتے ہیں۔پھر کوئی وائرس پھیل نہیں سکتا”۔ مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں سال 2025 کے دوران کوہاٹ ڈویژن کے تمام ماحولیاتی نمونے پولیو وائرس سے منفی آئے ہیں، یعنی کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ یہ کامیابی کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ اجتماعی شعور، تعاون اور عزم کی علامت ہے۔ جہاں کبھی مزاحمت تھی، اب وہاں والدین خود آگے بڑھ کر اپنے بچوں کو ویکسین پلوا رہے ہیں۔ پولیو سے انکار کرنے والوں کی شرح میں تیزی سے کمی آ رہی ہے، جو ایک حوصلہ افزا ء اشارہ ہے کہ پولیو کے خلاف یہ جنگ اپنی آخری کامیابی کے قریب پہنچ چکی ہے۔ پولیو فری پاکستان کا خواب محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے: کہ کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہیں رہے گا،کوئی مستقل معذوری کے اندھیرے میں گم نہیں ہوگا، پاکستان کا سورج ہمیشہ صحت، اُجالے اور اُمید کے ساتھ طلوع ہوگا۔

تحریر: ارشاد محمد آفریدی، ڈپٹی ڈائریکٹر، ریجنل انفارمیشن آفس کوہاٹ

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے پاکستان میں تعینات ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر جمال بکر عبداللہ نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں ملاقات

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے پاکستان میں تعینات ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر جمال بکر عبداللہ نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں ملاقات کی۔ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، تجارت و سرمایہ کاری، ثقافت، ماحولیاتی تبدیلی، سیاحت کے فروغ اور خیبرپختونخوا و ایتھوپیا کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔گورنر خیبرپختونخوا نے گفتگو کے دوران کہا کہ صوبے کے شمالی علاقے اپنی قدرتی خوبصورتی، دلکش مناظر اور تاریخی ورثے کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے پرکشش مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیاحتی شعبے سمیت دیگر شعبہ جات میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، اورحکومت عالمی سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہتی ہے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا قدیم تہذیب و ثقافت کا گہوارہ اور قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ان وسائل کو بروئے کار لاکر مقامی آبادی کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جائے۔ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر جمال بکر عبداللہ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں بالخصوص سیاحت کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

Provincial Polio Eradication Task Force Reviews Preparations for Upcoming Campaign

The meeting of the Provincial Task Force on Polio Eradication was held on Friday under the chairmanship of Additional Chief Secretary Planning and Development, Ikramullah Khan. The meeting reviewed preparations for the upcoming anti-polio campaign commencing on October 13 as well as the outcomes of the previous drive.

Senior officials from the Health Department, Provincial and National Emergency Operations Centers (EOC), district administrations, police, and partner international organizations working in the health sector attended the meeting.

Briefing the participants, the Provincial EOC Coordinator said that all arrangements for the four-day campaign had been finalized. The drive will be carried out across the province in two phases, targeting over 7.3 million children under the age of five.

In the first phase starting on October 13, children in all districts of Peshawar, Kohat, Mardan, Malakand, and Hazara divisions will be administered polio drops. The second phase will begin on October 20, covering all districts of Bannu and Dera Ismail Khan divisions. To boost children’s immunity, Vitamin A doses will also be provided during the campaign.

A total of 35,248 trained polio workers have been deployed for the campaign, including 32,008 mobile teams, 1,836 fixed teams, and 1,404 transit teams. In addition, 8,279 area in-charges have been appointed for effective supervision. Around 50,000 security personnel will be deployed across the province to ensure foolproof security for the vaccination teams.

Addressing the meeting, Additional Chief Secretary Ikramullah Khan directed concerned departments to ensure a well-coordinated and organized campaign by utilizing all available resources and ensuring monitoring at every level. He appealed to parents to fully cooperate with vaccination teams so that no child remains vulnerable to the crippling disease.

مختلف مکاتب فکر کے جید علماء کرام کی انسداد پولیو کیلئے حمایت کی تجدید

مختلف مکاتب فکر کے جید علماء کرام نے بچوں کی بہتر صحت کو یقینی بنانے اور انہیں زندگی بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی ٹیکہ جات اور پولیو ویکسی نیشن کی مکمل اور غیر متزلزل حمایت کی تجدید کرتے ہوئے کمیونٹی کی سطح پر پولیو ویکسین کے بارے میں موجود خرافات اور غلط فہمیوں کو دور کرنے میں اپنا کردارجاری رکھنے کا عہد کیا۔اس عزم کا اظہارانہوں نے یونیسف کے تعاون سے ایمرجنسی آپریشنز سنٹر اور متحدہ علماء بورڈ کے باہمی اشتراک سے انسداد پولیو مہم کی افتتاح کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب کے موقع پر کیا۔ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے جید علماء کرام نے افتتاح جامعہ اشرفیہ پشاو میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کیا۔ تقریب میں ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ/ای او سی کوآرڈینیٹرشفیع اللہ خان، شیخ الحدیث مولانا احسان الحق، چیئرمین متحدہ علماء بورڈ، شیخ الحدیث مو لانا حسین احمد، صدر اتحاد تنظیمات مدارس، مفتی ظفرزمان حقانی، کوارڈینیٹر متحدہ علماء بورڈ ا، ڈپٹی کوآرڈینیٹر ای او سی، لطیف الرحمان، ڈپٹی کمشنر پشاور، کیپٹن ثناء اللہ خان، ٹیم لیڈ یونیسف ڈاکٹر انووا، ٹیم لیڈ این سٹاپ، ڈاکٹر محمد عمران، ٹیکنیکل فوکل پرسن پی ای آئی، ڈاکٹر علی حیدر، صوبائی پولیو آفیسر ڈبلیو ایچ او، ڈاکٹر سردار عالم اور مختلف مکاتب فکر کے سو سے زائد نامور ائمہ کرام اور خطباء کرام نے شرکت کی۔ تقریب میں اپنے خطابات میں شیخ الحدیث مولانا احسان الحق چئیرمن متحدہ علماء بورڈ،شیخ الحدیث مولانا حسین احمد صاحب صدر اتحاد تنظیمات مدارس۔مفتی ظفرزمان حقانی کوارڈینیٹر متحدہ علماء بورڈ اور دیگر جید علماء کرام نے پولیو مرض کے خلاف شعور وآگاہی اور شرعی تعلیمات و رہنمائی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو ایک خطرناک مگر قابلِ تدارک مرض ہے اور اس کے خاتمے کے لیے حکومت، علمائکرام، معاشرے کے دیگر تمام طبقات کو متحد ہو کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ /ای او سی کوارڈینیٹر شفیع اللہ خان نے شرکاء سے اپنے خطاب میں کہا کہ پولیو کا خاتمہ حکومتِ پاکستان اور پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اور امید ظاہر کی کہ علماء کرام اور معاشرے کے دیگر طبقات کی مدد و حمایت سے ہم بہت جلد پاکستان کو اس موذی مرض سے پاک کر دیں گے۔ انہوں نے پولیو کے خاتمے کے لیے علمائے کرام کی مسلسل حمایت کو سراہا اورانہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کے مسلسل تعاون سے ہم جلد ہی لوگوں کے ذہنوں میں ویکسین بارے پائی جانے والی پائی جانے والی شکوک و شبہات دور کرکیاس موذی مرض کے مکمل خاتمے میں کامیاب ہو جائیں گے۔انہوں نے علمائے کرام کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ علماء کرام کی آواز عوام کے دلوں تک رسائی رکھتی ہے اور اُن کی حمایت پولیو کے خاتمے کے لیے نہایت اہم اور ضروری ہے۔مولانا حسین احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام انسانی جان کی حفاظت اور صحت کی بقاء پر زور دیتا ہے لہٰذا بچوں کو بیماریوں سے بچانا والدین کی دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیو ویکسین کے حوالے سے تمام شکوک و شبہات بے بنیاد ہیں اور عوام کو چاہیے کہ وہ حکومت اور پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ ملک کو اس موذی مرض سے نجات دلائی جا سکے۔مولانا احسان الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ پولیو کے خلاف یہ جدوجہد دراصل ہماری نسلوں کے محفوظ مستقبل کی ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام کا کردار عوامی آگاہی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور ہم سب کی مشترکہ کاوشیں ہی پولیو کے مکمل خاتمے کی ضمانت ہیں۔ڈپٹی کمشنر پشاور جناب ثناء اللہ خان نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ پولیو کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور علما? کرام کے تعاون سے اس مہم کے نتائج مزید مؤثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت، تربیت اور سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ مہم کامیابی سے ہمکنار ہو سکے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی. ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور عوامی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا. دونوں رہنماؤں نے وفاقی اکائیوں کے مضبوط روابط کو ملکی استحکام کے لیے ضروری قرار دیا۔سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ جمہوری اداروں کا استحکام پارلیمان کی اولین ترجیح ہے, وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی سے ہی ملکی چیلنجز کا حل ممکن ہے. گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ایوانِ کو خوش اسلوبی سے چلانے پر اسپیکر قومی اسمبلی کے مؤثر کردار کو سراہا اور کہا کہ صوبوں اور وفاق کے درمیان رابطوں کے فروغ سے ملک کو درپیش مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے

ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے ورچوئل تعلیم کا باقاعدہ آغاز کر دیا اس سلسلے میں گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول حیات آباد پشاور میں ایک پر وقار تقریب کا اہتمام

ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے ورچوئل تعلیم کا باقاعدہ آغاز کر دیا اس سلسلے میں گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول حیات آباد پشاور میں ایک پر وقار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ مہمان خصوصی تھے۔ تقریب کے دیگر شرکا میں سیکرٹری محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے علاوہ محکمہ تعلیم کے افسران اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے بھی شرکت کی۔ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر قیصر عالم نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ فاؤنڈیشن ورچوئل سکول کا منصوبہ سرکاری سطح پر اپنی نوعیت کا ایک منفرد منصوبہ ہے جس کے تحت سرکاری مڈل ، ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو دور کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل مضامین کی تدریس کی غرض سے آن لائن کلاسوں کا بندو بست کیا گیا ہے۔ ان مضامین میں جماعت ششم سے لے کر بارہویں جماعت تک انگلش ، اردو ، سائنس ، ریاضی، فزکس ، بیالوجی اور کمسٹری کے مضامین شامل ہیں ۔ ان مضامین کے تمام اسباق نیشنل کریکلم پالیسی (NCP) اور صوبائی نصاب و سلیبس کے مطابق تیار کیے گئے ہیں تاکہ ہر بچے کو معیاری اور یکساں تعلیمی مواقع میسر ہوں ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری تعلیم نے بتایا کہ ابتدائی طور پر صوبے کے مختلف اضلاع سے ایسے پچاس (50) سکولوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے جس میں طلباء کی کثرت اور اساتذہ کی کمی کو سامنے رکھ کر ان سکولوں کی مالی معاونت کی گئی ہے تا کہ آن لائن کلاسوں کے اہتمام کے لیے ان سکولوں کو بنیادی سامان کمپیوٹر، ایل ای ڈی سکرین اور انٹرنیٹ کا بندو بست کیا جا سکے ۔ انھوں نے مزید بتایا کہ آن لائن تدریس کا یہ نظام انتہائی مفید اور کم خرچ ہے جس میں کسی قسم کے تعمیراتی خرچوں کی ضرورت نہیں بلکہ تعلیم کے موجودہ ڈھانچے کو بروئے کار لا کر طلباء کو تعلیم دی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ طلباء کیلئے آن لائن امتحانات کے نظام کو بھی مربوط بنایاجائے گا۔ اس نظام کے تحت طلبا کو ماہر اساتذہ کے ریکارڈ شدہ لیکچرز بھی میسر ہوں گے جس سے طلباء گھر بیٹھے بھی استفادہ حاصل کر سکتے ہیں اس حوالے سے اساتذہ کی بھی تربیت کی جارہی ہے۔چیف سیکرٹری خیبر پختو نخوا شہاب علی شاہ نے اس منصوبے کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جس کے تحت تدریسی نظام میں انقلاب برپا ہوگا۔
ورچوئل تدریسی عمل کے تحت طلباء اور طالبات دونوں کو تعلیم تک رسائی کے یکساں مواقع میسر ہوں گے۔ فاؤنڈیشن ورچوئل سکول کی افادیت پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے چیف سیکرٹری نے بتایا کہ دور دراز علاقوں میں اساتذہ کی تعیناتی طلباء اور طالبات کی سکولوں تک رسائی، خواندگی کی عمر کے حامل بچوں کا سکولوں میں داخلہ اور تعلیم مکمل کیے بغیر بچوں اور بچیوں کا سکول سے خروج چند ایسے پیچیدہ عوامل ہیں جو ہمارے صوبے کی شرح خواندگی پر اثر ڈالتے ہیں۔ ڈیجیٹل تدریسی نظام ان رکاوٹوں کو دور کرے گا۔چیف سیکرٹری نے اس موقع پر امید ظاہر کی ‘ فاؤنڈیشن ورچوئل سکول کے کامیاب نفاذ کے بعد اس منصوبے کے جال کو صوبے کے دیگر تمام سکولوں تک پھیلایا جائے گا جس کے ذریعے قلیل وقت میں محدود وسائل کو بروئے کار لا کر شرح خواندگی کے اہداف کو حاصل کیا جائے گا ۔