Home Blog Page 69

CM’s aide Shafi Jan Expresses Grief over Tragic Landslide in Gambat, Kohat

Special Assistant to the Chief Minister KP on Information and Public Relations, Shafi Jan, has expressed profound sorrow and grief over the tragic landslide incident in the Gambat area of Kohat district.

He stated that the loss of seven precious lives after incident were buried under the debris is extremely heartbreaking.

Shafi Jan said that Rescue 1122 and other relevant departments responded promptly and immediately launched rescue operations, resulting in the recovery of all the bodies from the rubble.

The Special Assistant said that the provincial government stands in complete solidarity with the bereaved families and will not leave them alone in this difficult hour.

He prayed that Almighty Allah grant eternal peace to the departed souls and bestow patience and strength upon the grieving families.

خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے ریڈیو پاکستان پشاور کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد ریڈیو پاکستان پشاور میں 9 اور 10 مئی 2023 کو پیش آنے والے واقعے کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔ اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر قانون اور چیئرمین خصوصی کمیٹی افتاب عالم نے کی۔اجلاس میں خصوصی کمیٹی کے اراکین و ممبران صوبائی اسمبلی طارق سعید، ملک عدیل اقبال، محمد اسرار، سمیع اللہ، احمد کنڈی اور سجاد اللہ شریک تھے اس کے علاوہ محکمہ قانون، محکمہ پولیس، متعلقہ محکموں کے افسران اور صوبائی اسمبلی کے افسران نے بھی شرکت کی-اجلاس کے دوران ریڈیو پاکستان پشاور میں پیش آنے والے واقعے کی اصل وجوہات اور اب تک کی گئی تحقیقات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اس امر پر بھی غور کیا گیا کہ آیا یہ واقعہ کسی سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ تھا یا دیگر عوامل اس کے محرک تھے۔ واقعے سے متعلق ذیلی امور اور درپیش مسائل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین خصوصی کمیٹی آفتاب عالم نے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ حقائق پر مبنی مکمل معلومات، شواہد اور رپورٹس اگلے اجلاس میں کمیٹی کے سامنے پیش کریں – تاکہ واقعے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔

صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فروغ دیتے ہوئے دیانت داری اور خلوص کے ساتھ معاشرے کی خدمت کرنی چاہیے۔وزیر صحت۔

خیبر پختونخواکے وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے خیبر کالج آف ڈینٹسٹری پشاور میں منعقدہ وائٹ کوٹ تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور 100 نئے داخل شدہ بی ڈی ایس طلبہ سے پیشہ ورانہ حلف لیا۔تقریب میں ڈین خیبر کالج آف ڈینٹسٹری پروفیسر ڈاکٹر سید ناصر شاہ، وائس ڈین پروفیسر مسلم خان، پروفیسر ڈاکٹر بشیر رحمان، مختلف شعبہ جات کے سربراہان، فیکلٹی ممبران، طلبہ کے والدین اور انصاف ڈاکٹرز فورم کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ صحت نے نو داخل شدہ طلبہ اور ان کے والدین کو اس اہم سنگِ میل کے حصول پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ وائٹ کوٹ تقریب ایک باوقار اور ذمہ دار پیشہ ورانہ سفر کے آغاز کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر کالج آف ڈینٹسٹری جیسے معتبر ادارے کا حصہ بننا مسلسل محنت، والدین کی قربانیوں اور اساتذہ کی رہنمائی کا نتیجہ ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ سفید کوٹ محض ایک تعلیمی لباس نہیں بلکہ اعتماد، ذمہ داری، پیشہ ورانہ مہارت اور انسانیت کی خدمت کی علامت ہے۔ انہوں نے طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ مریضوں کے ساتھ ہمدردی، شفقت اور احترام کا رویہ اپنائیں اور ساتھ ہی مضبوط طبی مہارتیں بھی حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کو اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فروغ دیتے ہوئے دیانت داری اور خلوص کے ساتھ معاشرے کی خدمت کرنی چاہیے۔ خلیق الرحمان نے کہا کہ طلبہ سے لیا جانے والا حلف محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ اس پر عملی زندگی میں عملدرآمد ناگزیر ہے۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ کردار کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں اور مستقبل میں صحت کے اداروں میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے خود کو تیار کریں۔ انہوں نے تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی اور کردار سازی کی سرگرمیوں میں فعال شرکت پر بھی زور دیا۔اس سے قبل پروفیسر ڈاکٹر سمرین محمد نے نو داخل شدہ طلبہ سے پیشہ ورانہ حلف لیا اور سفید کوٹ سے وابستہ اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں انعامات اور اسناد تقسیم کیں۔

محکمہ زراعت کے روڈ میپ کا جائزہ اجلاس

محکمہ زراعت خیبرپختونخوا کے گڈ گورننس روڈ میپ کا جائزہ اجلاس چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت خیبرپختونخوا کے گڈ گورننس روڈمیپ کے تحت بندوبستی اضلاع میں ایک لاکھ پچاس ہزار زیتون کے درختوں پر قلم لگانے کا عمل مارچ کے مہینے سے شروع کیا جائے گا جسے جون میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ ضم اضلاع میں یہ عمل پہلے ہی کامیابی سے مکمل کیا جاچکا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ دسمبر 2025 کے ہدف کے تحت کسانوں کو جدید زرعی مشینری فراہم کی گئی ہے۔ جون 2026 تک کل 400 فارم مشینیں کسانوں کو فراہم کی جائیں گی۔ اسی طرح کسانوں کو ایک چھت تلے سہولیات کی فراہمی کیلئے فارم سروسز سینٹرز میں ون ونڈو آپریشن جاری ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مختلف منصوبوں کے ذریعے پانچ ہزار ایکڑ قابلِ کاشت بنجر زمین کی بحالی اور گندم، مکئی، چاول، گنے اور پھلوں سمیت بڑی فصلوں کی جی آئی ایس میپنگ جیسے منصوبے بھی حکومت خیبرپختونخوا کے گڈ گورننس روڈ میپ کا اہم جزو ہیں۔ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے غذائی تحفظ کے حصول، غربت میں کمی، اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے زرعی پیداواری صلاحیت میں اضافے کو صوبے کے لئے ناگزیر قرار دیا ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کو بدھ کے روز محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے ریجنل ڈویلپمنٹ سیکشن کے زیرِ اہتمام مشاورتی اجلاس

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کو بدھ کے روز محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے ریجنل ڈویلپمنٹ سیکشن کے زیرِ اہتمام مشاورتی اجلاس میں تمباکو ڈویلپمنٹ سیس کے تحت فنڈ کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کا انعقاد محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا جس میں مردان سے رکن صوبائی اسمبلی عبد السلام آفریدی،سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات سید عادل شاہ اور محکمہ کے دیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں صوبائی وزیر کو تمباکو سیس کے تحت مجوزہ منصوبوں اور ترقیاتی اقدامات، ان کے اہم خدوخال اور ورک ایبل فارمیٹس سے آگاہ کیا گیا۔مشاورتی اجلاس کا مقصد تمباکو ڈویلپمنٹ سیس کے تحت شروع کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں پر مشاورت، رہنمائی اور تجاویز حاصل کرنا تھا تاکہ منصوبوں کو مقامی ترقیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ اور مؤثر انداز میں نافذ کیا جا سکے۔صوبائی وزیر سید فخرجہان نے اس موقع پر کہا کہ تمباکو سے حاصل ہونے والے وسائل کو متعلقہ اضلاع کی پائیدار ترقی، بنیادی سہولیات کی بہتری اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انھوں نے کہا کہ اس رقم سے بونیر و دیگر پیداواری علاقوں میں تعلیم، صحت اور علاقائی دیگر ضروری شعبوں میں عوامی ضروریات کے مطابق بہتر اثرات کے حامل منصوبوں پر فوکس رکھا جائے تاکہ اس کے ثمرات سے مقامی عوام کو حقیقی معنوں میں فائدہ پہنچے۔اجلاس میں متعلقہ افسران نے صوبائی وزیر کو ٹو بیکو ڈویلپمنٹ سیس کے مجوزہ پروگرام میں شامل اہم مدوں پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ صوبائی وزیر نے اس سلسلے میں مفید تجاویز پیش کیں جنہیں حتمی منصوبہ بندی میں شامل کیا جائے گا۔

احیاء پشاور منصوبے کے تحت جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا

احیاء پشاور منصوبے کے تحت جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، پختونخوا ہائی وے اتھارٹی، محکمہ آبپاشی اور پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران نادرن بائی پاس کے نامکمل حصے کی تعمیر، رنگ روڈ پر ٹریفک رش کے شکار مقامات پر انڈر پاسز کی تعمیر اور دیگر اہم ترقیاتی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر پیسکو کی سپلائی لائن کو پیر زکوڑی فلائی اوور سے سوری پل، امن چوک اور کارخانو تک زیرِ زمین منتقل کرنے کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پشاور میں بچوں کے لیے 750 ملین روپے کی لاگت سے ایک ہائی ٹیک پارک قائم کیا جا رہا ہے۔ وزیر بلدیات نے ہدایت کی کہ اس منصوبے کے لیے تمام فیزیبلٹی اور تکنیکی تقاضوں کی تکمیل کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔ اجلاس میں جی ٹی روڈ اور رنگ روڈ کے سنگم پر پیر زکوڑی کلوور لیف انٹرچینج کی تعمیر پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی اور بتایا گیا کہ پانی کے چینل کی موجودگی کے باعث رنگ روڈ ہزار خوانی کے مقام پر فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا۔وزیر بلدیات نے یونیورسٹی روڈ، رامداس چونگی اور لاہوری چوک پر ٹریفک ہاٹ سپاٹس کے مسائل کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر تعمیراتی کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پشاور شہر میں تمام لوکل بس اسٹینڈز کو ختم کیا جا رہا ہے، جبکہ جنوبی اضلاع کے لیے کوہاٹ روڈ پر قائم بس اڈے کو بھی متبادل مقام پر منتقل کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ جنوبی اضلاع کے لیے ایک جدید اور اسٹیٹ آف دی آرٹ بس اسٹینڈ کے قیام کے لیے موزوں مقام کی نشاندہی کا عمل بھی جاری ہے۔اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ یونیورسٹی روڈ سے رنگ روڈ اور نادرن بائی پاس تک لنک روڈز کی تعمیر کے لیے کنسلٹنٹ کی بھرتی رواں ماہ کی جائے گی۔ اجلاس کے اختتام پر وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے ہدایت کی کہ آئندہ جائزہ اجلاس تک احیاء پشاور منصوبے کے تحت تمام سکیموں کی فیزیبلٹی اور متعلقہ امور ہر لحاظ سے مکمل کیے جائیں تاکہ منصوبوں پر بروقت اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

وومن ایمپاورمنٹ 2026تا2030پالیسی کا فائنل ڈرافٹ تیار

خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن نے چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس کی سربراہی میں خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسی 2026تا2030 کا حتمی مسودہ تیار کر لیا ہے، جسے سمری کے ذریعے کابینہ سے منظوری کے بعد 12 فروری کو قومی یومِ خواتین کے موقع پر باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف وومن کے تحت ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی 2026-30 کے لیے قائم ٹیکنیکل کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز کمیشن کے دفتر پشاور میں منعقد ہوا۔اجلاس کی صدارت چیئرپرسن خیبر پختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن ڈاکٹر سمیرا شمس نے کی۔اجلاس میں ٹیکنیکل کمیٹی کے اراکین عائشہ بانو، لوکل گورنمنٹ کمیٹی ممبر،اکرام اللہ خان بورڈ م ممبرکے پی سی ایس ڈبلیو،شازیہ عطا،سیکرٹری وومن کمیشن،سیدہ ندرت سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ،زینب خان یو این وومن ہیڈ کے پی،اور دیگر نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی2026-30کی مسودہ رپورٹ پر تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی، جس کے بعد اراکین کی آراء اور تجاویز لی گئیں۔ اجلاس میں پالیسی کے مختلف پہلوؤں، اہداف، نفاذ کے طریقہ کار اور ادارہ جاتی کردار پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا تاکہ صوبے میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی شمولیت کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مجوزہ ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی صوبائی سطح پر نافذ دیگر پالیسیوں اور آئینِ پاکستان سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ پالیسی کے نفاذ سے ہر عمر کی خواتین کے خلاف صنفی امتیاز میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ خواتین کو انصاف کے حصول میں سہولت اور اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی بھی ممکن ہو سکے گی۔اجلاس میں مجوزہ پالیسی کے تحت مروجہ قوانین کی روشنی میں خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ اور ضمانت کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ صوبائی کابینہ سیٹ اپ، لوکل گورنمنٹ باڈیز، سالانہ بجٹ، کنسلٹیٹو فورمز، قائمہ کمیٹیوں اور منصوبہ بندی کے عمل میں خواتین کی نمائندگی کو پالیسی کا حصہ بنانے کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔مزید بتایا گیا کہ مجوزہ پالیسی کے تحت سرکاری خدمات تک خواتین کی مؤثر رسائی، خواتین کے حقوق اور معاشی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ اس کے شارٹ ٹرم، مڈ ٹرم اور لانگ ٹرم ثمرات مرتب ہوں گے، جو صوبے میں خواتین کی مجموعی فلاح و بہبود اور بااختیاری میں اہم کردار ادا کریں گے۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ مجوزہ ویمن ایمپاورمنٹ پالیسی ٹیکنیکل کمیٹی کی منظوری کے بعد متعلقہ محکموں سے توثیق حاصل کی جائے گی اور بعد ازاں اسے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ پالیسی کو عالمی یومِ خواتین کے موقع پر باضابطہ طور پر لانچ کرنے کا منصوبہ ہے۔صوبائی حکومت کے ویمن ایمپاورمنٹ وژن کے مطابق اور چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس کی قیادت میں، خیبر پختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن نے قلیل مدت، یعنی صرف تین ماہ کے دورانیہ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا۔ جس کے مثبت نتائج صوبے میں خواتین کے حقوق کے فروغ کی صورت میں سامنے آئینگے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اور ویمن ایمپاورمنٹ کا ایک اہم اجلاس بدھ کے روز ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے زکوٰۃ، عشر، سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اور ویمن ایمپاورمنٹ کا ایک اہم اجلاس بدھ کے روز ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین زبیر خان نے کی۔اجلاس میں ممبران کمیٹی و اراکین صوبائی اسمبلی نیلوفر بابر اور صوبیہ شاہد سمیت محکمہ زکوٰۃ و عشر، سوشل ویلفیئر، للسائل و المحروم فاؤنڈیشن، کے پی کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن، زمونگ کور، ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئرخیبر پختونخوا، ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفیئر ضم اضلاع، چائلڈ ویلفیئر کمیشن، محکمہ زراعت، محکمہ خزانہ، کے پی آئی ٹی بورڈ، بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ حکام اور شیخ زید اسلامک سنٹر یونیورسٹی کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران 31 دسمبر 2025 کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی میں درج پیرا نمبر 17، جو عشر سے متعلق ہے، کے تناظر میں کمیٹی کی ہدایات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ متعلقہ محکموں کی کارکردگی، درپیش مسائل اور مستقبل کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔اجلاس میں متعلقہ حکام نے عشر کے تصور پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ فتح مکہ کے بعد عشر کا نظام عالمِ اسلام میں باقاعدہ طور پر نافذ ہوا، جو فصلوں، باغات، چارہ، شہد وغیرہ پر لاگو ہوتا رہا اور ریاست کے لیے ریونیو کے حصول کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ اجلاس میں عشر سے جڑے جدید تصورات، خصوصاً صنعت میں اس کے اطلاق کے حوالے سے بھی غور و خوض کیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ سلجوقی دور میں مصالح المرسلۃ کے تحت ٹیکس کے نفاذ کا تصور رائج رہا۔کمیٹی کی رکن نیلوفر بابر نے اس موقع پر کہا کہ 1970 تک چترال کا مالی نظم و ضبط عشر کے نظام کے تحت چلایا جاتا رہا۔ کمیٹی کے چیئرمین زبیر خان نے کہا کہ ایوانوں میں رہتے ہوئے ایسی پالیسیاں وضع کرنا مقصود ہوتا ہے جن کے ذریعے متعلقہ محکموں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد ملے۔ انہوں نے زور دیا کہ عشر کے ذریعے حاصل ہونے والے محاصل کو متعلقہ اداروں کو بااختیار بنانے اور مالی امور کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے استعمال کیا جائے۔چیئرمین کمیٹی نے عشر کے تصور کو صوبائی سطح پر نافذ کرنے کے حوالے سے محکمہ زراعت سے فصلوں کی پیداوار سے متعلق ٹھوس اور مستند معلومات فراہم کرنے پر زور دیا۔ باغات کو عشر کے طریقہ کار میں شامل کرنے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔اجلاس میں عشر کے نظام کو ڈیجیٹائز کرنے اور صوبائی سطح پر نافذ کرنے کے لیے کے پی آئی ٹی بورڈ کی جانب سے ضروری اقدامات کو ناگزیر قرار دیا گیا، جبکہ اس تصور کے فروغ کے لیے مؤثر ابلاغِ عامہ اور عوامی شعور اجاگر کرنے کو بھی اہمیت دی گئی۔ اس ضمن میں دیگر صوبوں کے ماڈلز کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کی تیاری پر زور دیا گیا۔اجلاس کے دوران کم آمدنی والے مستحق طبقات کی معاونت اور ان کی داد رسی کے لیے زکوٰۃ و عشر کے تحت مؤثر اقدامات کو ناگزیر قرار دیا گیا۔ مزید برآں محکموں کی منصوبہ بندی کے لیے درست اور جامع ڈیٹا کی دستیابی کو ضروری قرار دیا گیا، جس پر کے پی آئی ٹی بورڈ نے بھرپور تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔اجلاس کے اختتام پر متعلقہ حکام نے سوشل ویلفیئر کے اسٹیچیوٹری اداروں بشمول پروونشل کونسل فار ریہیبلیٹیشن آف ڈسیبل پرسنز، پروونشل کونسل آف سوشل ویلفیئر، سینئر سٹیزن کونسل، زمونگ کور (انسٹی ٹیوٹ آف اسٹیٹ چلڈرن)، چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن، پروونشل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف وومن اور للسائل و المحروم فاؤنڈیشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی۔

محکمہ تعلیم میں ای ٹرانسفر پالیسی سسٹم کا باضابطہ افتتاح

خیبر پختونخوا کہ وزیر ابتدائی وثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے بدھ کے روز پشاور میں ای ٹرانسفر پالیسی سسٹم کا باضابطہ افتتاط کیا۔اس موقع پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد، سپیشل سیکرٹری ابتدائی اور ثانوی تعلیم مسعود احمد، چیف پلاننگ ایجوکیشن آفیسرزین اللہ اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ افتتا ح کے بعد صوبائی وزیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے صوبے میں کامیاب ای ٹرانسفر پالیسی کا عمل وجود میں لایا ہے جس کے تحت اساتذہ کی خواہشات اور میرٹ پالیسی کو یقینی بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے دو دفعہ ای ٹرانسفر پالیسی کا عمل شروع کیا گیا تھا تاہم اس میں خامیاں تھیں، لیکن اب ای ٹرانسفر پالیسی کے عمل میں تمام خامیاں دور کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ای ٹرانسفر کامیابی سے جاری رہے گی اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور وزیر اعلیٰ کی ہدایات کی روشنی میں اسے مزید بہتر بنائیں گے تاکہ بہتر انداز میں شعبہ تعلیم کو فروغ مل سکے۔انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں ٹینور بیسڈ اور باہمی (میوچل) تبادلے ہونگے۔

نوجوان اس ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کی فلاح کے لئے بھر پور اقدامات اٹھا رہے ہیں۔مشیر کھیل تاج محمد خان ترند

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ نوجوان اس ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کی فلاح کے لئے صوبائی حکومت بھر پور اقدامات اٹھا رہی ہے، بانی چیرمین عمران خان کے وژن کے مطابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں اس ملک کے نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پشاو رمیں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرسیکرٹری کھیل محمد آصف، ڈائریکٹر امور نوجوانان ڈاکٹر نعمان مجاہد، بینک آف خیبر کے حکام جواد تاجک اورمحمد عمران سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔اجلاس میں بینک آف خیبر اور محکمہ کھیل اور امور نوجوانان کے حکام نے مشیر کھیل کو یوتھ لون پروگرام،احساس نوجوان پروگرام،انصاف روزگار پروگرام اسکے طریقہ کار،مسائل،سہولیات اور درپیش چیلنجز سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔حکام نے اس پروگرام کے تحت خواتین کیلئے گارمنٹس،ہینڈی کرافٹس اور دیگر روزگار کے مختلف مواقع کی سہولیات پر بریفنگ دی۔مشیر کھیل تاج محمد خان ترند نے متعلقہ حکام کو نوجوانوں کیلئے قرضہ (یوتھ لون سکیم)کے حوالے سے آگاہی مہم کو تیز کرنے اور انکی شکایات کے ازالہ کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی اور کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح عوام کو انکی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنا ہے اور اس سلسلے میں محکمہ کھیل و امور نوجوانان اور بینک آف خیبر مشترکہ طور پر نوجوانوں کو اس پرواگرام کے افادیت اور طریقہ کار کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی مہم کی ضرورت ہے تاکہ عوام اس پراجیکٹ کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی سہولیات اور آسانی کیلئے گریوینس کمیٹی کو فعال بنایا جائے تاکہ عوام تکنیکی مسائل سے دوچار نہ ہوں۔تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ وہ بہت جلد وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات کرکے اس پراجیکٹ کے فنڈز اور دورانیہ کو مزید بڑھانے کی سفارش کریں گے۔