Home Blog Page 81

KP Shifts Public Service Payments to Cashless System

In a major step towards transparency and ease of payments in public service delivery, the Khyber Pakhtunkhwa government has shifted financial payments for 43 public services to a digital payment system under its cashless policy.

These services include land mutation and fard, motor vehicle registration, motor vehicle token tax, university admission fees, and fees of various educational boards. Progress on cashless service delivery initiatives was reviewed in a meeting chaired by Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa Shahab Ali Shah on Thursday.

The meeting was informed that digital payment systems have been introduced across various government departments. The Khyber Pakhtunkhwa Information Technology Board is gradually converting 170 services to a cashless mode. So far, 43 services have been made cashless, while another 23 services are scheduled to be shifted to the digital payment system by the end of January.
It was further shared that since October 2025, salaries of 280,650 government employees and pensions of 130,132 pensioners have been disbursed through digital systems. Efforts are also underway to make autonomous bodies and authorities of the Khyber Pakhtunkhwa government cashless, a process expected to be completed by December 2026.

Speaking on the occasion, Chief Secretary Shahab Ali Shah said that cashless service delivery would promote good governance, economic growth, and financial transparency. He directed the concerned authorities to ensure timely progress in accordance with the set timelines.

The meeting was attended by relevant administrative secretaries and officials of the Information Technology Board.

صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی زیرِ صدارت صوبے میں سپیشلائزڈ/یونیک نمبر پلیٹس کے اجرا کے منفرد منصوبے کے حوالے سے اہم اجلاس

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز ڈائریکٹوریٹ جنرل ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول، پشاور میں مخصوص ناموں اور شناخت پر سپیشلائزڈ/یونیک نمبر پلیٹس کے اجرا کے منفرد نئے منصوبے کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس، متعلقہ ڈائریکٹرز اور خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کے افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران آئی ٹی بورڈ کے افسران نے صوبائی وزیر کو حکومت خیبرپختونخوا کے اس نئے اور منفرد منصوبے کی جلد از جلد شروعات کیلئے ان لائن سہولیات کے نظام کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔سپیشلائزڈ اور یونیک نمبر پلیٹس کا اجراء صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول سید فخرجہان کے آئیڈیا کے تحت عمل میں لایا جارہا ہے جو پرسنلائزڈ نمبر پلیٹس کے جاری کردہ منصوبے کے بعد محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کے تحت صوبائی حکومت کا دوسرا بڑا اور اہم منفرد منصوبہ ہے۔اس منصوبے کے تحت خواہشمند مالکان اور صارفین کو اپنی نئی اور زیر استعمال گاڑیوں کیلئے انکی پسند کے مطابق مخصوص ومنفرد ناموں اور خصوصی شناخت پر مبنی نمبر پلیٹس جاری کی جائیں گے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز پشاور میں اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کے اہم اجلاس منعقد ہوئے جن میں صوبائی سطح پر قانون، امن و امان اور صحت سے متعلق اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز پشاور میں اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کے اہم اجلاس منعقد ہوئے جن میں صوبائی سطح پر قانون، امن و امان اور صحت سے متعلق اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاسوں میں وزیرِ بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی، وزیرِ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان، مشیرِ خزانہ مزمل اسلم، ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل، سیکرٹری محکمہ صحت شاہد اللہ خان، سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، رئیس خان اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔پہلے اجلاس میں پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (PPHI) کے کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کے 5 دسمبر 2024 کے فیصلے، موجودہ قوانین اور صوبائی پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ محکمہ صحت کی جانب سے عدالتی فیصلے کا باریک بینی سے تجزیہ پیش کیا گیا جبکہ ملازمین کی مستقلی سے متعلق مختلف قانونی و انتظامی تجاویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران متعلقہ افسران نے پریزنٹیشنز اور ورکنگ پیپرز کے ذریعے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی اور عدالتی فیصلے کی روشنی میں حتمی سفارشات تیار کرنے کے لیے مشاورت کی گئی۔بعد ازاں وزیر قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت اے ٹی اے 1997، مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 144 سے متعلق امور پر متعلقہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، قوانین کے نفاذ کے موجودہ طریقہ کار، شہری آزادیوں کے تحفظ اور متعلقہ قوانین کے عملی اطلاق کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیر قانون نے اس موقع پر کہا کہ دہشت گردی اور امن و امان سے متعلق قوانین کا بنیادی مقصد عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے تاہم ان قوانین کے نفاذ میں آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کو ہر صورت مدنظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ دفعہ 144 اور MPO جیسے قوانین کا استعمال صرف ناگزیر حالات میں، شفاف طریقے سے اور مقررہ قانونی حدود کے اندر ہونا چاہیے تاکہ عوامی اعتماد مجروح نہ ہو۔اجلاس میں متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ قوانین کے اطلاق، نگرانی اور جائزے کے مؤثر نظام کو مزید بہتر بنایا جائے اور کسی بھی ممکنہ زیادتی یا غلط استعمال کی روک تھام کے لیے واضح اور مؤثر میکنزم وضع کیا جائے۔ وزیر قانون نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت قانون کی بالادستی، امن و امان کے قیام اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

خیبرپختونخوا میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور میتھس پر مشتمل جدید لرننگ ماڈل کے نفاذ سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے کی

خیبرپختونخوا میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور میتھس پر مشتمل جدید لرننگ ماڈل کے نفاذ سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے کی۔ اجلاس میں سیکرٹری اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر اسرار سمیت محکمہ اعلیٰ تعلیم کے دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈگری کالجز میں سٹیم لرننگ ماڈل کے آغاز کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سٹیم لرننگ ماڈل کے پہلے مرحلے میں صوبے بھر کے ڈگری کالجز کے 2250 فیکلٹی ممبران کو خصوصی تربیت دی جائے گی، جن میں 50 فیصد خواتین فیکلٹی سٹاف شامل ہوں گی۔ اس مرحلے کے تحت تقریباً 30 ہزار طلبہ براہِ راست مستفید ہوں گے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ڈگری کالجز میں سٹیم لرننگ ماڈل کے نفاذ سے ڈیجیٹل ٹولز کے استعمال میں 50 فیصد تک اضافہ ممکن ہو سکے گا، جس سے تدریسی معیار میں بہتری آئے گی۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سٹیم لرننگ کے نتیجے میں تیار ہونے والی مصنوعات اور تخلیقی منصوبوں کو صوبائی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں اس پروگرام پر مجموعی طور پر 341 ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ فیکلٹی سٹاف تربیت حاصل کرے اور اس کا فائدہ طلبہ تک نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیم لرننگ ماڈل کے ذریعے طلبہ کو جدید دور اور مارکیٹ بیسڈ ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے گا تاکہ وہ عملی زندگی میں بہتر کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں فیکلٹی ممبران کی پروموشن کے عمل میں بھی سٹیم لرننگ ماڈل سے وابستہ کارکردگی اور شمولیت کو بطور ایک اہم عنصر شامل کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ تعلیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں جدید تعلیم کے فروغ کے لیے ایسے اصلاحاتی اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ تعلیمی ادارے قومی و بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ ہو سکیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان کی زیرِ صدارت جمعرات کے روز پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع کرک کے ایم این اے شاہد خٹک اور ایم پی اے خورشید خٹک سمیت سیکٹری صحت شاہداللہ، متعلقہ ڈی ایچ اوز، ہسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت کے سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کرک سمیت ضلع بھر کے دیگر مراکز صحت کو درپیش انتظامی، انسانی وسائل اور سروس ڈیلیوری کے مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منہدم سول ڈسپنسریاں (سی ڈی) شاہندند اور سی ڈی لاواگر کی تعمیرِ نو نئی اے ڈی پی کے تحت کی جائے گی۔صوبائی وزیرِ صحت نے جنرل ڈیوٹی کے معاملات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ افسران و ملازمین جو ڈی ایچ او کرک سے تنخواہیں لے رہے ہیں مگر ضلع سے باہر خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں فوری طور پر واپس تعینات کیا جائے اور ان کے خلاف سخت انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ وزیرِ صحت نے اعلان کیا کہ 41 نئے ڈاکٹرز کی منتقلی اور بھرتی کی جائے گی تاکہ ڈی ایچ کیو اور دیگر صحت مراکز میں موجود خلا کو پُر کیا جا سکے اور طبی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔اجلاس میں ٹائپ ڈی ہسپتال لٹمبر کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ناقص کارکردگی کی بنیاد پر تبدیل کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ ڈی ایچ او کرک کو ڈاکٹروں کی ریشنلائزیشن پلان پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ افرادی قوت کی منصفانہ تقسیم اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔دواؤں کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے وزیرِ صحت نے ڈی ایچ کیو ہسپتال کرک میں ہسپتال کی اپنی فارمیسی قائم کرنے کی منظوری دی، جہاں ایم سی سی ادویات کی فہرست اور ایم سی سی ریٹس برقرار رکھے جائیں گے اور ایم سی سی کی آمدن ہسپتال کو حاصل ہوگی۔ اجلاس میں ڈی ایچ کیو کرک میں سی ٹی اسکین سروس کو پی پی پی موڈ کے تحت آؤٹ سورسنگ کے ذریعے شروع کرنے کی بھی منظوری دی گئی، جبکہ ہسپتالوں خصوصاً ایمرجنسی سروسز کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے کی ہدایت کی گئی۔انسانی وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے وزیرِ صحت نے ہدایت کی کہ ڈی ایچ کیو کرک میں افرادی قوت کی کمی بالخصوص نرسنگ سٹاف کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہسپتال مینجمنٹ کمیٹی ہسپتال کی نگرانی میں سخت اور مؤثر کردار ادا کرے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صحت کارڈ کی سہولیات فعال ہیں اور انہیں مزید مؤثر بنایا جائے گا۔اجلاس میں نشاندہی کی گئی کہ مریضوں کا زیادہ دباؤ ٹائپ سی صحت مراکز پر ہے، لہٰذا اسٹاف تعیناتی، او پی ڈی توازن اور سہولیات کی فراہمی اسی تناسب سے یقینی بنائی جائے۔ وزیرِ صحت نے ایچ ایم سی ریونیو میں بہتری، صفائی کی صورتحال کی درستگی، مناسب سیوریج سسٹم کے قیام، ویسٹ مینجمنٹ پالیسی کے نفاذ اور بچوں کے لیے نرسری/چائلڈ فرینڈلی سہولت قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔اگرچہ ڈی ایچ کیو کرک کو خطے کی بہترین عمارتوں میں سے ایک قرار دیا گیا، تاہم وزیرِ صحت نے واضح کیا کہ انتظامی اور مینجمنٹ کے مسائل کو ایک مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے کے تحت حل کرنا ہوگا۔ انہوں نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ ہسپتال کا جامع معائنہ کر کے تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ قلیل المدتی اصلاحاتی منصوبہ جلد تیار کیا جائے گا جبکہ پیتھالوجی کے تمام بنیادی ٹیسٹوں کی سہولت جلد دستیاب ہوگی۔ ریجنل ڈائریکٹر جنرلز (آر ڈی جیز) کو علاقائی سطح پر نگرانی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دی گئی۔ وزیرِ صحت نے فکسڈ پے پر ڈاکٹروں کی بھرتی کے لیے ڈویژنل کمیٹیاں قائم کرنے کی منظوری دی تاکہ بھرتی کے عمل کو تیز کیا جا سکے، اور اس امر کا اعادہ کیا کہ ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ بالخصوص امن و امان کے مسائل سے دوچار علاقوں میں ایک کامیاب ماڈل ثابت ہوئی ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے ضلع کرک میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات، انسانی وسائل کی بہتری، تشخیصی سہولیات کے فروغ اور شفاف ادویات کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا۔

فضائی آلودگی پر قابو پانے اور شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ خیبر پختونخوا کا سیکرٹری اور ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ کی خصوصی ہدایات پر صوبہ بھر میں زہریلا دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھرپور اور سخت کارروائی کا عمل جاری

فضائی آلودگی پر قابو پانے اور شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ خیبر پختونخوا کا سیکرٹری اور ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ کی خصوصی ہدایات پر صوبہ بھر میں زہریلا دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھرپور اور سخت کارروائی کا عمل جاری ہے۔ اس عمل کا مقصد ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لانا ہے۔منیجر ویٹس پشاور پیر زبیر کے مطابق گزشتہ ایک ماہ سے جاری اس خصوصی مہم کے دوران صوبہ بھر میں 15 ہزار سے زائد گاڑیوں کا باقاعدہ معائنہ کیا گیا۔ معائنے کے بعد 10 ہزار گاڑیاں مقررہ معیار پر پورا اترنے کے باعث پاس، جبکہ 5 ہزار گاڑیاں ماحولیاتی معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث فیل قرار دی گئیں۔ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے مالکان پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ متعدد کیسز میں گاڑیوں کے قانونی کاغذات بھی ضبط کیے گئے۔ موٹر وہیکل ایگزامینر (ایم وی ای) پشاور انضمام عالم کے مطابق خصوصی طور پر نجی سکولوں کی گاڑیوں کے اخراجی دھونئے کی جانچ پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں پشاور کے نجی سکولوں کے مالکان کو باقاعدہ وضاحت جاری کر دی گئی ہیں جن میں انہیں تین دن کے اندر اندر سکولوں کی تمام گاڑیوں کا دھواں اور ایم وی فٹنس چیک کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایم وی ای نے مزید بتایا کہ پشاور کے کئی نامور نجی سکولوں کے مالکان نے اپنی گاڑیوں کا دھواں چیک کروانے کے لیے چالان جمع کرا دیے ہیں، جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ تاہم جن سکولوں یا گاڑیوں کے مالکان کی جانب سے ہدایات پر عمل نہیں کیا جائے گا، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔مینیجر ویٹس نے واضح کیا ہے کہ محکمہ کی طرف سے یہ مہم بلا تفریق جاری رہے گی اور ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی کسی بھی گاڑی کو سڑکوں پر چلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی بروقت جانچ کروائیں اور صاف ماحول کے قیام میں حکومت کا ساتھ دیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا میں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن میں آسانی لائیں اور فروغ تعلیم کے لئے پرائیوٹ اداروں کے ساتھ بھر پور تعاون کیا جائے

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا میں پرائیوٹ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن میں آسانی لائیں اور فروغ تعلیم کے لئے پرائیوٹ اداروں کے ساتھ بھر پور تعاون کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ ادارے رجسٹریشن حاصل کر سکیں اور وہ تعلیمی شعبے میں اپنی خدمات سر انجام دے سکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز پشاور میں خیبر پختونخوا پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی کے حوالے سے منعقدہ بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن محمد خالد خان، سپیشل سیکرٹری محمد مسعود، منیجنگ ڈائریکٹر پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی افتخار احمد اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹر پی۔ ایس۔ آر۔ اے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پرائیوٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی نے صوبے کے پرائیویٹ اداروں کی آن لائین رجسٹریشن اور ان کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لئے ایک طریقہ کار وضع کر رکھا ہے اور شکایات ڈش بورڈ پر باقاعدہ کمپلینٹ ٹریکنگ سسٹم موجودہے جس کے ذریعے یہ شکایات حل ہوتی ہیں۔ اسی طرح ادارے کی اپنی ویب سائیڈ بھی ہے اور سکولوں کے طلبہ کے سکول چھوڑنے کے سرٹیفیکیٹ اور مائی گریشن جیسے مسائل بھی ڈیجیٹائزڈ کیئے گئے ہیں اور ان کا باقاعدہ طور پر اتھارٹی کے پاس ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کے ماتحت پرائیویٹ ادارے تجد یدی طریقہ کار میں آن لائین بینکنگ اور ایزی پیسہ کے ذریعے آسانی سے اپنے واجبات ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جی۔ آئی۔ ایس بیسڈ میپنگ آف رجسٹریشن سسٹم، فائن منیجمنٹ سسٹم اور موبائل ایپلیکیشنز جیسی سہولیات بھی موجود ہیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم نے کہاکہ صوبے کے تمام پرائیویٹ اداروں میں موجود بچوں کی تعداد کے ساتھ ان اداروں کے لئے متعین طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے اور مسنگ سکولوں کی رجسٹریشن بھی کرائی جائے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ صوبے کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے لئے دور حاضر کی ایسی اصلاحات متعارف کریں جن کی بدولت صوبے کے بچوں کو اعلیٰ اور معیاری تعلیم میسر ہو سکے اورایس۔ایل۔ او بیسڈ امتحانات اورٹریننگ کے ساتھ ساتھ کلسٹر سسٹم کے امتحانات کو مزید فعال بنایا جائے۔

وفاقی حکومت کا دہشت گردی جیسے سنگین قومی مسئلے پر سیاست کرنا افسوسناک اور قابل مذمت ہے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے وفاقی وزیر خواجہ آصف کے بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف مسلسل بیان بازی جعلی وفاقی وزراء کی شدید بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا نتیجہ ہے، وفاقی حکومت کا دہشت گردی جیسے سنگین قومی مسئلے پر سیاست کرنا نہایت افسوسناک اور قابل مذمت ہے،شفیع جان نے کہا کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی پہلے دن سے واضح، دو ٹوک اور پوری قوم کے سامنے ہے، اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کا دہشت گردی اور شہداء کے جنازوں پر سیاست کرنا وفاق پر مسلط کرپٹ ٹولے کا پرانا وطیرہ ہے۔ وفاق پر مسلط جعلی حکومت کے وزراء دہشت گردی جیسے حساس معاملے کو اپنی مردہ سیاست میں جان ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں تاہم وہ ہمیشہ کی طرح اس میں ناکام ہوں گے کیونکہ قوم نے اصل مینڈیٹ بانی چیئرمین عمران خان کو دیا ہے،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور قیام امن کے لیے صوبائی حکومت بھرپور اور سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک جامع امن جرگہ منعقد کیا جس میں متفقہ طور پر 15 نکات کی منظوری دی گئی جن پر اپوزیشن لیڈر سمیت تمام سیاسی قیادت کے دستخط موجود ہیں،شفیع جان نے خواجہ آصف کو مشورہ دیا کہ وہ بیانات دینے سے قبل امن جرگے کے منظور شدہ نکات کا مطالعہ کر لیں،معاون خصوصی نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں بہتر طرز حکمرانی اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اور مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت گورننس کے میدان میں سب سے آگے ہے، خیبر پختونخوا حکومت کی ڈیجیٹل گورننس کو بھی عالمی سطح پر سراہا گیا ہے جبکہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت کرپشن میں سرفہرست ہے،شفیع جان نے خواجہ آصف پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے سندھ کے دورے پر خواجہ آصف کی تکلیف ان کے غیر جمہوری اور تنگ نظر رویے کا واضح ثبوت ہے۔ فارم 47 پر منتخب جعلی وزیر خواجہ آصف الزام تراشی چھوڑ کر اپنا فارم 45 قوم کے سامنے پیش کریں،فارم 47 والے جعلی وزیر عوام کو کیسے یقین دلائیں گے کہ وہ ان کے منتخب نمائندے ہیں؟انہوں نے کہا کہ پوری قوم جانتی ہے کہ خواجہ آصف ریحانہ ڈار سے الیکشن ہار چکے ہیں وہ ایک شکست خوردہ شخص ہیں،ایسے شخص کو چاہیے کہ الزام تراشی کی سیاست کی بجائے اپنی کارکردگی قوم کے سامنے پیش کریں۔

وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے کھیل اور امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند نے بدھ کے روز اپر چترال کا دورہ کیا اورپولو کھیلاڑیوں میں نقد انعامات کی رقم کی چیک تقسیم کئے

مشیر برائے کھیل و امور نوجوانان تاج محمد خان ترند اپر چترال میں پولو کھلاڑیوں کے درمیان تقد رقم تقسیم کرنے کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب میں خصوصی طور پر شرکت کی۔ ان کے ہمراہ سیکریٹری کھیل خیبرپختونخواہ محمد آصف، ڈائریکٹر جنرل کھیل خیبرپختونخواہ تاشفین حیدر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔اس موقع پر چترال کے چون پولو کھلاڑیوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے نقد انعامات کے چیک تقسیم کئے گئے۔ اپر چترال پہنچنے پر ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان نے مشیر کھیل اور وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر چترال لیویز کے چاق و چوبند دستے نے مہمانانِ گرامی کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔مشیر برائے کھیل اور سیکریٹری کھیل کے دورے کا مقصد گزشتہ سال شندور پولو ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اپر چترال کے پولو کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور ان میں انعامات تقسیم کرنا تھا۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر اپر چترال کے آفس لان میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ضلع میں کھیلوں کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔اس موقع پر صدر پاکستان تحریک انصاف اپر چترال جناب سکندر الملک نے ایڈوائزر برائے کھیل کو اپر چترال میں پولو گراؤنڈز کی خستہ حالی، ان کی مرمت و بحالی، نئے اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر اور پولو گراؤنڈز کی حفاظت کے لیے چوکیداروں کی تعیناتی سے متعلق تفصیلی سپاسنامہ پیش کیا۔
مشیر برائے کھیل تاج محمد خان ترند نے اپر چترال میں پولو گراؤنڈز کی مرمت، آرائش و زیبائش، ریشن پولو گراؤنڈ میں پانی کی فراہمی، تحصیل سطح پر نئے پولو گراؤنڈز کی تعمیر کا اعلان کیا۔ علاوہ ازیں قاقلشٹ فیسٹیول کو باضابطہ طور پر اپنا کر آئندہ اسے محکمہ کھیل کے تحت منعقد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔انہوں نے پیرا گلائیڈنگ سمیت دیگر کھیلوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ تقریب سے سیکریٹری کھیل خیبرپختونخواہ نے بھی خطاب کیا اور ضلع بھر میں کھیلوں کے فروغ کے لیے بھرپور حکومتی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔تقریب کے اختتام پر مشیر برائے کھیل اور دیگر معزز مہمانوں نے چترال بی ٹیم، چترال سی ٹیم، چترال ڈی ٹیم، سب ڈویژن مستوج پولو ٹیم، لاسپور اے ٹیم اور لاسپور بی ٹیم کے پولو کھلاڑیوں میں فی کس پانچ، پانچ لاکھ روپے کے چیک تقسیم کیے۔

A meeting of the Standing Committee of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly on Elementary and Secondary Education was held on Wednesday at the Provincial Assembly Secretariat, Peshawar

A meeting of the Standing Committee of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly on Elementary and Secondary Education was held on Wednesday at the Provincial Assembly Secretariat, Peshawar. The meeting was chaired by the Chairman of the Standing Committee and Member of the Provincial Assembly, Iftikhar Ali Mashwani. Members of the Standing Committee and MPAs Muhammad Abdul Salam Afridi, Ahmed Kundi, Sharafat Ali, Askar Parvez, Ms. Asma Alam, Ms. Shala Bano, and Ms. Sobia Shahid attended the meeting. In addition, the Secretary for Elementary and Secondary Education along with the relevant staff, representatives of the Law Department, the Finance Department, and officers of the Provincial Assembly were also present.
In light of the directives issued in the previous meeting held on 16 September 2025, the Elementary and Secondary Education Department gave a detailed briefing regarding 2,914 vacant posts of watchmen. It was informed that the Finance Department has issued the NOC for recruitment against 2,802 posts, while the NOC for 112 posts related to the merged districts has not yet been issued. The Committee directed that these posts be filled at the earliest. As these are Class-IV positions, priority should be given to local residents in all districts, and landowners who have provided land for schools should also be included. The Committee further directed that a progress report be presented in the next meeting.
During the meeting, Committee members and MPAs presented details regarding the deteriorating condition of government schools in their respective constituencies and directed the Education Department to give special attention to the matter to safeguard the future of coming generations. The Committee reviewed the Education Department’s e-transfer formula and emphasized its full implementation. The Secretary for Elementary and Secondary Education informed the Committee that headmasters of schools with results below forty percent have been issued warnings, and conferences in this regard were held in Peshawar, Abbottabad, and Mardan. Various members also raised concerns regarding the condition of schools in Swat, Swabi, and other districts, as well as issues related to quotas for government employees, which the Committee decided to place on record.