Home Blog Page 82

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے ضلع ایبٹ آباد میں کلاس فور ملازمین کی بھرتیوں میں مبینہ غفلت کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے ضلع ایبٹ آباد میں کلاس فور ملازمین کی بھرتیوں میں مبینہ غفلت کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں ڈسرکٹ ایجوکیشن آفس ایبٹ آباد کے لیٹی گیشن افسر سے بھی انکوائری کی جائے تاکہ صوبائی حکو مت کے عزم کے مطابق شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں نئی بھرتیوں کے لئے شفاف طریقہ کار وضع کر رہے ہیں جس کے تحت اب نئی بھرتیوں کا اختیار ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسرکے پاس نہیں ہوگا اوروہ ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کو منظوری کے لئے سرف ریکامنڈیشن بھیج سکیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پشاور میں ضلع ایبٹ آباد میں محکمہ تعلیم کے سکولوں سے متعلق منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر اراکین صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی اورنذیر احمد عباسی، منیجنگ ڈائریکٹرایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن قیصر عالم،ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم، ڈپٹی چیف پلاننگ آفیسر،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز ایبٹ آباد سمیت دگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔اس موقع پر ضلع ایبٹ آباد میں بند سکولوں اور نئے تعمیر ہونے والے سکولوں کے لئے فنڈز کے اجراء، ایڈیشنل گرانٹ کو استعمال میں لانے، سکولوں کی اپ گریڈیشن اور اس میں فرنیچر کی کمی کو پورا کرنے کے لئے اقدامات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت تعلیم اور صحت کے شعبہ کو اولیت دے رہی ہے اور محکمہ تعلیم کے عدالت کے معاملات کو پیروی کرنے کے لئے ایک قانونی فورم بنایا جا رہا ہے جو ان کیسوں کو صحیح طور پر نمٹائے گا۔انہوں نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ ایبٹ آباد کے ضلع میں سکولوں کی تعمیرو مرمت اورسکولوں میں فرنیچرکی فراہمی کو یقینی بنایاجائے جبکہ فنڈزکی کمی کی وجہ سے کئی سالوں سے التوا کے شکار زیر تعمیر سکول جو مکمل نہ ہو سکے ان کے لئے محکمہ خزانہ سے فنڈز کی فرہمی کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جائیں۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مجوزہ آئینی ترمیمی بل اور اس کے صوبے پر ممکنہ آئینی، مالی اور وفاقی اثرات کے ساتھ ساتھ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے حاصل کی گئی اراضی کی منتقلی اور اس کے تصفیے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون اختر سعید ترک، محکمہ قانون کے حکام، محکمہ خزانہ، بلدیات و دیہی ترقی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، زراعت، اعلیٰ تعلیم، صحت سمیت دیگر متعلقہ محکموں، جامعات اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ بظاہر انتظامی نوعیت کی مجوزہ آئینی قانون سازی درحقیقت سینیٹ میں نمائندگی، قومی مالیاتی کمیشن اور وفاقی اکائیوں کے درمیان آئینی توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، اس لیے اس پر کسی بھی پیش رفت سے قبل تمام صوبوں سے بامعنی اور سنجیدہ مشاورت ناگزیر ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد صوبے کے رقبے میں تقریباً چھتیس فی صد جبکہ آبادی میں سولہ فی صد اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کا حصہ انیس اعشاریہ چھ چار فی صد بنتا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس شرح کے مطابق صوبے کو سالانہ تقریباً تین سو اسی ارب روپے ملنے چاہئیں، تاہم یہ رقم تاحال صوبے کو فراہم نہیں کی جا رہی جو آئینِ پاکستان بالخصوص آرٹیکل 160(3A) کے تحت صوبوں کے مالی حقوق کے تحفظ کے منافی ہے۔اسی اجلاس میں کابینہ کی قائمہ کمیٹی کے ایجنڈے کے تحت مختلف ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری اقدامات کے لیے حاصل کی گئی اراضی سے متعلق زیر التوا کیسز، عدالتی فیصلوں اور ڈیکری کی صورت میں واجب الادا رقوم کے معاملات پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اراضی کے تصفیے میں درپیش قانونی و انتظامی پیچیدگیوں، تاخیر کے اسباب اور ان کے حل کے لیے عملی تجاویز پیش کی گئیں اور اس امر پر زور دیا گیا کہ زمین کے حصول اور اس سے متعلق مالی واجبات کے معاملات کو قانون کے مطابق، شفاف اور بروقت نمٹایا جائے تاکہ حکومت کو غیر ضروری مالی بوجھ اور عدالتی کارروائیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔وزیرِ قانون آفتاب عالم ایڈووکیٹ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی نظام کی مضبوطی صوبائی خودمختاری، منصفانہ وسائل کی تقسیم اور تمام اکائیوں کے درمیان برابری کے اصول سے مشروط ہے، اس لیے کسی بھی آئینی ترمیم یا انتظامی فیصلے میں صوبوں کے حقوق اور مفادات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت صوبے کے آئینی، مالی اور قانونی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی اور اس ضمن میں ہر دستیاب آئینی و قانونی فورم پر اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اراضی کے حصول اور اس سے متعلق تمام زیر التوا کیسز کا جامع جائزہ لے کر قابلِ عمل سفارشات مرتب کی جائیں تاکہ ان معاملات کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جا سکے۔

پنجاب حکومت کی ناقص کارکردگی کی سزا پنجاب سمیت پورے پاکستان کو مل رہی ہے۔ پنجاب حکومت کا دعوہ ہے کہ گندم 3000 روپے من کے حساب سے ریلیز کر رہے ہیں مگر گندم مارکیٹ میں 4600 من پر بھی دستیاب نہیں ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گندم نرخ کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی ناقص کارکردگی کی سزا پنجاب سمیت پورے پاکستان کو مل رہی ہے پنجاب حکومت کا دعوہ ہے کہ گندم 3000 روپے من کے حساب سے ریلیز کر رہے ہیں مگر گندم مارکیٹ میں 4600 من پر بھی دستیاب نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت بتائیں گندم کس کو ریلیز کی جارہی ہے؟ پہلے حساب دیا جائے کہ غریب کسان سے 2200 کی گندم کس نے خریدی؟ پھر گندم کو کس نے سٹور کیا تھا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اگر پنجاب حکومت 3000 فی من کے حساب سے دے رہی ہے تو مارکیٹ میں دستیاب کیوں نہیں ہے۔ ن لیگ حکومت میں دراصل چینی اور آٹا مافیا کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ پنجاب حکومت کھوکھلا دعویٰ دس کلو 900 روپے کا تھیلا بتائیں کس جگہ میں دستیاب ہے؟ مزمل اسلم نے کہا کہ آٹے مارکیٹ کا ریٹ پنجاب سے کھلتا ہے۔ پنڈی، اسلام آباد، اٹک اور پشاور میں 20 کلو تھیلے کا ریٹ 2800 تک پہنچ گیا ہے۔ آٹے کی بلیک مارکیٹ کی ذمہ داری وفاقی اور پنجاب حکومت کی بنتی ہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹوریٹ آف آرکائیوز و لائبریریز کے حکام نے صوبے کی عوامی لائبریریز کو ڈیجیٹلائز کرنے کے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پشاور میں منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹوریٹ آف آرکائیوز و لائبریریز کے حکام نے صوبے کی عوامی لائبریریز کو ڈیجیٹلائز کرنے کے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت خیبرپختونخوا کے 16 اضلاع میں 18 عوامی لائبریریز فعال ہیں، جہاں مجموعی طور پر 43 ہزار 200 سے زائد کتب اور سیریل پبلیکیشنز دستیاب ہیں۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ صوبائی آرکائیوز میں 90 ہزار سے زائد تاریخی و قیمتی آرکائیول مواد محفوظ ہے جو صوبے کے علمی و ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔حکام نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ شہداء آرمی پبلک سکول پبلک لائبریری پشاور کا روزانہ اوسطاً 1500 افراد دورہ کرتے ہیں، جبکہ اس لائبریری کے ساتھ رجسٹرڈ قارئین کی تعداد تقریباً 3000 ہے، جو عوامی لائبریریز میں بڑھتی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عوامی لائبریریز کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جامع اور قابلِ عمل تجاویز پیش کی جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ لائبریریز کو ڈیجیٹل سہولیات، جدید انفراسٹرکچر اور جدید سروسز سے آراستہ کیا جائے تاکہ نئی نسل کو تحقیق اور مطالعے کی طرف راغب کیا جا سکے۔مینا خان آفریدی نے کہا کہ عوامی لائبریریز کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور حکومت انہیں جدید خطوط پر استوار کر کے ہی دم لے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے میں علمی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ اور مطالعے کے کلچر کو مضبوط بنانے کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے بدھ کے روز ضلع سوات کے پرائمری، سیکنڈری اور ٹرشری کیئر ہسپتالوں کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی

خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت خلیق الرحمان نے بدھ کے روز ضلع سوات کے پرائمری، سیکنڈری اور ٹرشری کیئر ہسپتالوں کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی سمیت اراکین صوبائی اسمبلی فضلِ حکیم خان اور میاں شرافت علی،سیکرٹری صحت شاہد اللہ خان، متعلقہ سٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس بھی موجود تھے۔ اجلاس میں وزیر صحت کو دستیاب سہولیات سمیت مقامی ضروریات اور مسائل سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس کے دوران وزیرِ صحت، سیکرٹری صحت اور تمام متعلقہ اراکینِ اسمبلی نے متفقہ طور پر سیدو میڈیکل ٹیچنگ ہسپتال کو میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن (ایم ٹی آئی) کا درجہ دینے کے فیصلے کی توثیق کی۔ اس فیصلے کا مقصد صوبے کے اس اہم خطے میں ٹرشری سطح کی صحت کی سہولیات کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ ایم ٹی آئی سٹیٹس کے تحت ایک خودمختار انتظامی نظام، بشمول بورڈ آف گورنرز (BoG)، قائم ہوگا جس سے بروقت فیصلوں اور انتظامی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور ٹرشری ہسپتالوں پر انتظامی دباؤ کم ہوگا۔صوبائی وزیرِ صحت نے اراکینِ اسمبلی کو یقین دلایا کہ نئی ہیلتھ پالیسی کے تحت صحت کے تمام اداروں میں ڈاکٹرز، نرسز اور معاون طبی عملے کی کمی کو جلد پورا کیا جائے گا۔اجلاس میں بتایا گیا کہ محکمہ صحت نے درکار ڈاکٹروں، نرسز اور طبی آلات سے متعلق جامع ڈیٹا اکٹھا کر لیا ہے اور ہر ہسپتال کو اس کی اصل ضرورت کے مطابق عملہ اور وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر ریفارم پروجیکٹ محکمہ صحت کو ڈاکٹروں، ٹیکنیشنز، نرسز، لیڈی ہیلتھ وزیٹرز (LHVs) اور لیڈی ہیلتھ ورکرز (LHWs) کی کمی پوری کرنے میں بھرپور معاونت فراہم کر رہا ہے۔صوبائی وزیرِ صحت نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی کہ سوات کے صحت کے اداروں کو اراکینِ اسمبلی کی تجاویز اور مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔ انہوں نے اراکینِ اسمبلی اور ضلعی صحت حکام پر بھی زور دیا کہ وہ ہیلتھ مانیٹرنگ ٹیموں کے ساتھ مل کر ہسپتالوں کے دورے کریں اور سہولیات کی کڑی نگرانی کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو بہتر طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔اجلاس میں وزیرِ صحت نے سی ڈی رنگ محلہ کو سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے تحت آر ایچ سی کی سطح پر اپ گریڈ کرنے کا مطالبہ بھی منظور کیا، جس سے علاقے کے غریب اور مستحق مریضوں کو بہتر صحت کی سہولیات میسر آئیں گی۔صوبائی وزیرِ صحت نے کہا کہ محکمہ صحت نے صوبے بھر کے ہسپتالوں کے باقاعدہ دوروں اور نگرانی کے لیے ایک ہیلتھ ٹاسک فورس تشکیل دے دی ہے۔ یہ ٹاسک فورس مسائل کی نشاندہی، پالیسیوں کے سخت نفاذ اور صحت کے اداروں کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کی کہ ان شاء اللہ خیبر پختونخوا کے عوام جلد مجموعی نظامِ صحت میں مثبت اور نمایاں بہتری کا مشاہدہ کریں گے۔

UNFPA Country Director Visits KP Women Commission, Pledges Continued Support

Country Director of the United Nations Population Fund (UNFPA), Dr. Luay Shabaneh, visited the office of the Khyber Pakhtunkhwa Commission on the Status of Women (KPCSW), where he met Chairperson Dr. Sumera Shams and discussed matters of mutual interest, with a focus on women’s rights and gender equality.
During the visit, an important consultative meeting was held to deliberate on challenges in the implementation of laws related to women’s rights, gender equality, and reproductive health and rights, as well as to outline a future joint course of action.

Participants emphasized the revitalization of the Women Commission after a hiatus of more than four years, strengthening institutional mechanisms, and ensuring effective oversight of legislation concerning women’s rights—particularly laws addressing gender-based violence and reproductive health rights. Special attention was also given to addressing issues faced by women in rural and marginalized areas on a priority basis.

Chairperson Dr. Sumera Shams highlighted the need to improve facilities at Dar-ul-Aman shelter homes to ensure safe accommodation and enhanced support services for women, enabling them to live with dignity and security.

The meeting also featured detailed discussions on the bill against child marriage, with a view to making measures more effective for the protection of women’s and children’s rights and the promotion of a dignified life.

Dr. Sumera Shams said that Women’s empowerment remains a priority of the provincial government. Over the past decade, sustained measures have been undertaken to empower women socially and economically through education, health, economic opportunities, and legal protection. Efforts by the Women Commission and allied institutions continue to promote women’s rights and gender equality across the province.

The meeting concluded with consensus on evidence-based policymaking, strengthening gender-related data and reporting systems, and enhancing implementation and accountability mechanisms at the district level. Dr. Luay Shabaneh reaffirmed UNFPA’s commitment to continued institutional collaboration with the Government of Khyber Pakhtunkhwa to advance women’s rights and gender equality in the province.

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی سٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں جمعہ کو سندھ کا دورہ کرینگے، شفیع جان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمدسہیل آفریدی سٹریٹ موومنٹ میں مزید تیزی لانے کے لیے جمعہ کے روز پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے ہمراہ سندھ کا دورہ کریں گے،اپنے ایک بیان میں شفیع جان نے کہا کہ دورہ سندھ کے دوران وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی پارٹی اسیران جیل، وکلا، صحافیوں، پارٹی قیادت و کارکنان اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے،وزیراعلیٰ، سندھ بار ایسوسی ایشن سے خطاب کریں گے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سے باضابطہ ملاقات بھی ان کے دورے کا حصہ ہوگی،معاون خصوصی نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان، پارٹی قیادت اور کارکنوں کو جعلی، بے بنیاد اور سیاسی انتقام پر مبنی مقدمات میں قید کرنا دراصل پاکستان تحریک انصاف کو دبانے کی ایک ناکام کوشش ہے، جس کا ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سٹریٹ موومنٹ پوری قوت کے ساتھ جاری ہے، جس کی قیادت خود وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کر رہے ہیں اور پارٹی کارکنان کو منظم، متحرک اور پرامن سیاسی جدوجہد کے لیے تیار کیا جا رہا ہے،شفیع جان نے کہا کہ پنجاب حکومت کے غیر جمہوری اور آمرانہ طرز عمل کے برعکس سندھ حکومت کے وزراء کے بیانات مثبت ہیں، پاکستان کے کسی بھی حصے میں کسی منتخب وزیراعلیٰ کا دورہ کرنا اس کا سیاسی اور جمہوری حق ہے، جسے کسی صورت سلب نہیں کیا جا سکتا،انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان اور دیگر اسیر قیادت کی رہائی کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر آواز بلند کی جاتی رہے گی۔ پنجاب حکومت کے غیر جمہوری رویے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ آج بھی اڈیالہ جیل کے باہر قرآن خوانی کے لیے بیٹھی خواتین پر واٹر کینن کا استعمال کیا گیا جو انتہائی قابل مذمت اور شرمناک اقدام ہے۔ پنجاب حکومت سیاسی انتقام میں خواتین کے احترام کو بھی فراموش کر چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں کا واحد مطالبہ عدالتی احکامات کے مطابق اپنے بھائی سے ملاقات ہے، مگر اس کے باوجود طاقت کا بے جا استعمال کیا جا رہا ہے۔ شفیع جان نے کہا کہ ایسے ہتھکنڈوں سے پاکستان تحریک انصاف ڈرنے والی نہیں۔ جو حکومت زبردستی مسلط کی گئی ہو، وہ جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی اہمیت کو کیسے سمجھ سکتی ہے۔

KP Excise, Taxation & Narcotics Control Department thwarts multiple narcotics smuggling attempts; several accused arrested and large quantity of hashish recovered

In line with the Khyber Pakhtunkhwa Government’s zero-tolerance policy against narcotics and under the directions of Provincial Minister for Excise, Taxation and Narcotics Control, Syed Fakhar Jehan, the Excise, Taxation & Narcotics Control Department has intensified its ongoing operations across the province against drug dealers and smugglers.

During a series of successful intelligence-based operations conducted by Excise Intelligence and Excise Police Station Peshawar, multiple attempts at narcotics smuggling were thwarted, significant quantities of hashish were recovered and several accused persons were arrested with cases registered against them.

In one operation conducted by Excise Intelligence on Service Road Peshawar, 3,600 grams of hashish were recovered from an accused, who was arrested on the spot.

Similarly, during another operation near Motorway Chaman Park, 18,000 grams of hashish were recovered from a motor car bearing registration number ACS-277, and two accused were apprehended.

In a separate operation, Excise Intelligence intercepted a vehicle bearing registration number LET-3903 near H-Gol Chowk, recovering 12,000 grams of hashish. An attempt to smuggle narcotics was thwarted and two accused were arrested.

In another action by Excise Police Station Peshawar, an attempt to smuggle narcotics on a motorcycle via Motorway Service Road was thwarted, resulting in the recovery of 3,600 grams of hashish and arrest of the alleged smuggler.

These operations were carried out under the supervision of Saud Khan Gandapur, Provincial In-charge, Bureau of Intelligence and Investigation, and Majid Khan, Excise and Taxation Officer (Counter Narcotics Operations), with the assistance of concerned inspectors, SHOs and other staff. FIRs have been registered against the arrested accused and further investigation is in progress.

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبائی وزیرِ صحت کی ہدایات پر میڈیکل ڈائریکٹر، میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن حیات آباد میڈیکل کمپلیکس محمد شاہ نے بچوں کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر پیڈیاٹرک وارڈ میں 30 بستروں کی فوری توسیع کی منظوری دی گئی ہے

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبائی وزیرِ صحت کی ہدایات پر میڈیکل ڈائریکٹر، میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشن حیات آباد میڈیکل کمپلیکس محمد شاہ نے بچوں کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیشِ نظر پیڈیاٹرک وارڈ میں 30 بستروں کی فوری توسیع کی منظوری دی گئی ہے، میڈیکل ڈائریکٹر نے گزشتہ روز اس نئے توسیع شدہ پیڈیاٹرک وارڈ کا باضابطہ افتتاح کیا اور کہا کہ اس اقدام کا مقصد بچوں کو بروقت اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے وارڈ میں دستیاب طبی سہولیات، علاج معالجے اور انتظامی امور کا اس موقع پرتفصیلی جائزہ بھی لیا اور زیرِ علاج بچوں کی عیادت کی۔مریضوں، ان کے لواحقین اور عملے سے گفتگو کے دوران میڈیکل ڈائریکٹر نے پیڈیاٹرک ٹیم کی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں معیاری طبی خدمات کی فراہمی کا یہ سلسلہ اسی جذبے اور تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ادارہ بچوں کے لیے ہر ممکن طبی سہولت اور معیاری علاج کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے اور مریضوں کی دیکھ بھال کو مزید مؤثر بنانے کے لیے انتظامی سطح پر مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا۔اس موقع پر چیئرپرسن پیڈیاٹرک یونٹ ڈاکٹر امبرین، سربراہ شعبہ ڈاکٹر عقیل، کلینیکل کوآرڈینیٹر ڈاکٹر عمران، نرسنگ ڈائریکٹر اول خان کے علاوہ فیکلٹی ممبران اور انتظامی افسران بھی موجود تھے۔

محکمہ تعلیم کی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جائے۔ وزیر تعلیم ارشد ایوب خان کی متعلقہ حکام کو ہدایت

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی وثانوی تعلیم ارشد ایوب خان نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ محکمہ تعلیم میں ڈیجیٹائزیشن نظام کی تکمیل کو یقینی بنائیں تاکہ معیار تعلیم سمیت دیگر امور میں بہتری پیدا ہواور شفافیت کو بھی یقینی بنایا جا سکے،انہوں نے ڈسٹرکٹس اور ڈائریکٹوریٹ کی سطح پر کار کردگی میں اضافے کے لئے موثر اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ صوبے کے عوام کو محکمہ میں واضح طور پر بہتری کی جانب پیش رفت نظر آ نی چاہئے۔ یہ ہدایات انہوں نے منگل کے روز پشاور میں ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں منعقدہ بریفنگ اجلاس کے دوران دیں۔ اجلاس میں سیکرٹری ابتدائی وثانوی تعلیم محمد خالد خان چیف پلاننگ آفیسرذین اللہ، ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نغمانہ سردار، محکمہ تعلیم کے ضلعی افسران اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر ابتدائی وثانوی تعلیم نے صوبائی وزیر کو محکمہ کے مختلف امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے اہداف کے حصول سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات، تعلیمی منصوبوں پر پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبے کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسروں کو ہدایت کی کہ وہ اضلاع کی سطح پر ڈسٹرکٹ سروس ڈلیوری کو مزید بہتر بنائیں اور جہاں کہیں سہولیات میں کمی ہو تو نشاندہی کرکے فوری طور پر ان کا ازالہ کریں۔انہوں نے تمام سرکل ایجوکیشن آفیسروں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں محکم تعلیم سے وابستہ مسائل بروقت حل کریں۔ اگر اساتذہ یا محکمہ کے اہلکار اگر ان کے دفتر مسائل کے حل کیلئے آئے تواس بارے متعلقہ ا فسر سے پوچھا جائے گا۔ انہوں نے بچوں کے لیے بیگز اور سٹیشنری کی خریداری کے عمل کی فوری طور پر معطلی کا احکامات جاری کئے اور آئندہ کے لیے ٹینڈرنگ ای بیڈ کے ذریعے کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈائریکٹویٹ میں عوامی کمپلینٹ سیل کے پورٹل کو فعال کریں اور اس میں قانون کے مطابق عوام کے جائز مسائل حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ریٹائرمنٹ کے معاملات ا ضلاع کی سطح پر سات دن کے اندر اندر نمٹائے جائیں اور اس میں بھی ڈیجیٹل سسٹم کے تحت ای۔ریٹائرمنٹ کا نظام متعارف کیاجائے۔ انہوں نے افسران سے کہا کہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ ونگ پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے صوبے میں کنسٹرکشن کے کام اور دیگر امور کی خود نگرانی اور دیکھ بھال کریں اور ایک ٹیم کی طرح مل کر کام کریں۔اسی طرح محکمہ تعلیم کے لیٹی گیشن کے کیسوں کو میرٹ پر نمٹایا جائے اور تمام معاملات میں شفافیت لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان لائن ایکشن مینجمنٹ، ایٹا سکالرشپ،پی ٹی سی ا ساتذہ کی تعیناتی اور کلاس فور کی بھرتیوں کو بروقت یقینی بنائیں اور اس میں آسانی لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سمر زون کے علاقوں میں پانچ مہینوں کے لیے تقریبا 6000 ہزار ا ساتذہ بھرتی کیے جائیں گے۔ صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ ضلع کی سطح پر میل اور فیمیل آفیسر ز کے لئے رہائش کی سہولیات فراہم کریں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے اضلاح کے عوام سے روزانہ کی بنیاد پر دو بجے سے لے کر تین بجے تک فیس بک پرآن لائین ان کے مسائل سنیں اور انہیں حل کریں انہوں نے متعلق افسروں سے کہا کہ وہ عوام کے لئے اپنا رویہ میں نرمی لائیں اور عوام کے جائز کاموں کو فوری طور پر حل کریں کیونکہ ہمیں سفارش کے کلچر سے نکلنا ہوگا انہوں نے کہا کہ درس و تدریس ایک معزز اور اہم پیشہ ہے اور اس کی عزت اور وقار میں اضافہ کرنا ہے تاکہ عوام کا اس پر بھروسہ بحال ہو۔ انہوں نے کہا کہ سات ارب روپے کی خطیر رقم سے صوبے کے سکولوں کو فرنیچر فراہم کیا جائے گا