خیبر پختونخوا کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ حاجی فضل شکور خان نے ضلع ایبٹ آباد کا دورہ کیا جہاں انہوں نے کوریا کے تعاون سے جاری پینے کے صاف پانی کے ایک بڑے منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وزیر موصوف کے ہمراہ رکن صوبائی اسمبلی افتخار احمد جدون اور رکن قومی اسمبلی علی اصغر بھی موجود تھے، جبکہ متعلقہ افسران اور منصوبے سے وابستہ حکام نے بھی دورے میں شرکت کی۔دورے کے دوران پراجیکٹ ڈائریکٹر نے وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور دیگر معزز نمائندگان کو منصوبے سے متعلق تفصیلی بریفننگ دی، جس میں منصوبے کی مجموعی پیش رفت، تکنیکی پہلوؤں، اہداف اور تکمیل کی مدت سے آگاہ کیا گیا۔ بریفننگ میں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ حویلیاں اور ایبٹ آباد کے عوام کو پینے کے صاف اور معیاری پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے، جس سے علاقے کے لاکھوں شہری مستفید ہوں گے۔پراجیکٹ حکام کے مطابق اس منصوبے پر مجموعی طور پر 4 ارب 64 کروڑ روپے لاگت آئے گی اور یہ منصوبہ اگست 2026 تک پایہ تکمیل تک پہنچا دیا جائے گا۔ منصوبے کی تکمیل سے پانی کی قلت پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ عوام کو صحت بخش اور محفوظ پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی، جس سے مختلف بیماریوں میں نمایاں کمی آئے گی۔اس موقع پر وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ حاجی فضل شکور خان نے منصوبے کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو بنیادی سہولیات، بالخصوص پینے کے صاف پانی کی فراہمی، کو یقینی بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ مدت میں اعلیٰ معیار اور مکمل شفافیت کے ساتھ مکمل کیا جائے۔وزیر موصوف نے مزید کہا کہ کوریا کے تعاون سے جاری یہ منصوبہ بین الاقوامی اشتراک کی ایک اہم مثال ہے جو ایبٹ آباد اور حویلیاں کے عوام کے دیرینہ مسئلے کے حل میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو صحت مند اور بہتر زندگی فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلی تعلیم و بلدیات مینا خان افریدی کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا
اجلاس میں سیکرٹری بلدیات ظفرالاسلام اور ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ سمیت دیگر اعلی حکام کی شرکت
اجلاس میں محکمہ بلدیات کے ملازمین کی پوسٹنگ ٹرانسفر پالیسی اور کارکردگی کو مزید موثر بنانے پر گفتگو ہوئی
ملازمین کے لیے جاب ڈسکرپشن اور کارکردگی پیمانہ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ بریفنگ
ریٹائر ہونے والے ملازم کو اخری چھ ماہ میں ٹرانسفر نہ کرنے کی ہدایت کر دی۔ وزیر بلدیات
پلیسمنٹ کمیٹی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ٹرانسفر شدہ ملازم کے خلاف تادیبی کارروائی کی سفارش کر دی گئی
بلدیاتی ملازمین کی کارکردگی کو متعلقہ پوسٹنگ کے دوران ماتحت ادارے کی ذرائع امدنی بڑھانے سے منسلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا
اب کوئی ملازم کسی کاغذ پر پاوں رکھ کر تاخیری حربوں کا استعمال نہیں کر سکے گا۔ مینا خان افریدی
عوام پر نہ کوئی نئی بلدیاتی ٹیکس لگائیں گے اور نہ کوئی اضافہ کریں گے۔ مینا خان افریدی
بلدیاتی افیسرز ٹیکس نیٹ کو مزید بڑھائیں۔ مینا خان افریدی
صوبے میں پہلی بار بلدیاتی ملازمین کے لئے جاب ڈسکرپشن اور کارکردگی انڈیکیٹرز متعارف کر رہے ہیں۔ مینا خان افریدی
سیکرٹری سے لے کر چوکیدار تک سب کا احتساب کریں گے۔ مینا خان افریدی
ریجنل میونسپل افیسرز کی کارکردگی فقط خانہ پری تک محدود ہے۔ مینا خان افریدی
ریجنل میونسپل افیسرز کی کارکردگی بہتر کرنے بنانے کے لیے ذمہ داریاں دی جائیں۔ مینا خان افریدی کی ہدایت
ینٹی کرپشن خیبرپختونخوا/ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں کمرشل اراضی / دوکانات ریکور / مالیت ایک کڑور گیارہ لاکھ سے زائد
ینٹی کرپشن خیبرپختونخوا/ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں کمرشل اراضی / دوکانات ریکور / مالیت ایک کڑور گیارہ لاکھ سے زائد
ٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان کی کمرشل اراضی پر قبضے و تعمیرات کے حوالے سے شکایات – اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا
شکایات پر تفصیلی انکوائری ، انکوائری میں کمرشل اراضی / دو عدد دوکان ٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان ملکیت قرار – اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا
دو دوکانات کی مالیت ایک کڑور گیارہ لاکھ روپے بنتی ہیں۔ اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا
اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کی ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ کاروائی ، دوکانات ریکور کرکے ٹی ایم اے ڈیرہ اسماعیل خان کے حوالے کردی
وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کو فنڈز ریلیز کے اعداد و شمار پر معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا بیان
وفاقی حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار مکمل تصویر پیش نہیں کرتے،واجب الادا رقوم ابھی بقایا ہیں، شفیع جان
وفاق پر خیبر پختونخوا کے تقریباً 4 کھرب روپے کے واجبات تاخیر کا شکار ہیں، شفیع جان
پن بجلی منافع کی ادائیگیاں ابھی مکمل نہیں ہوئی،اسٹریٹ ٹرانسفرز میں ونڈ فال لیوی شامل نہیں کی گئی، شفیع جان
وفاق پیٹرولیم اور گیس پر عائد ایکسائز ڈیوٹیز صوبے کے حصے میں منتقل نہیں کررہی، شفیع جان
وفاق بدستور تمباکو پر ایکسائز ڈیوٹی وصول کر رہا ہے، یہ شعبہ پہلے ہی صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے،شفیع جان
سابق فاٹا انضمام کے باوجود ساتواں این ایف سی ایوارڈ اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا، شفیع جان
این ایف سی اپ ڈیٹ نہ ہونے سے 2018-19 سے اب تک خیبرپختونخوا کو تقریباً 1,375 ارب روپے کم ملے، شفیع جان
وفاق نے اے آئی پی کے تحت ضم اضلاع کے لیے وعدہ کردہ 700 ارب روپے کے مقابلے میں صرف 168 ارب روپے جاری کئے، شفیع جان
سال 2025 میں ضم شدہ اضلاع کے جاری و ترقیاتی اخراجات میں 50 ارب روپے سے زائد کمی ہوئی، شفیع جان
وفاق نے بے گھر افراد کے لیے اعلان کردہ 17 ارب روپے تاحال جاری نہیں کیے، شفیع جان
صوبائی حکومت نے آئی ڈی پیز کی بحالی پر اپنے وسائل سے 11 ارب روپے سے زائد خرچ کیے، شفیع جان
ضم شدہ اضلاع کو دی جانے والی خصوصی گرانٹس دیگر خصوصی علاقوں کے مقابلے میں کم ہیں، شفیع جان
وفاق تمام صوبوں کے لیے پی ایس ڈی پی، این ایچ اے منصوبوں اور سبسڈیز کی تفصیلات پبلک کریں، شفیع جان کا مطالبہ
شفافیت کے بغیر مالی وفاقیت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن نہیں، شفیع جان
خیبرپختونخوا کے تقریباً 4 کھرب روپے وفاقی حکومت کے ذمہ واجب الادا ہیں جس میں این ایچ پی، اسٹریٹ ٹرانسفرز اور ضم شدہ اضلاع کے واجبات شامل ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا فنڈز ریلیز سے متعلق پریس ریلیز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی اعداد و شمار سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا، تاہم انہوں نے واجب الادا حصے سے کم ادائیگی کی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تقریباً 4 کھرب روپے وفاقی حکومت کے ذمہ واجب الادا ہیں جس میں این ایچ پی، اسٹریٹ ٹرانسفرز اور ضم شدہ اضلاع کے واجبات شامل ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں این ایچ پی (NHP) کی ادائیگیاں تاخیر کا شکار ہیں جبکہ اسٹریٹ ٹرانسفرز میں ونڈ فال لیوی ابھی تک شامل نہیں کی گئی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا پیٹرولیم پر وفاقی ایکسائز ڈیوٹی شامل نہیں کی گئی اور گیس پر عائد ایکسائز ڈیوٹی پر کبھی نظرِ ثانی نہیں کی گئی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ تمباکو پر ایکسائز ڈیوٹی اب بھی وفاقی حکومت وصول کر رہی ہے، حالانکہ زراعت صوبوں کو منتقل (ڈیوالو) کی جا چکی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے بعد بھی ساتواں این ایف سی ایوارڈ اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا ضم شدہ اضلاع کو اب بھی خصوصی گرانٹ دی جا رہی ہے جو دیگر خصوصی علاقوں گلگت بلتستان اور کشمیر کے مقابلے میں کم ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع مختص بجٹ میں سے بھی، سال 2024-25 کے علاوہ، مکمل ادائیگی موصول نہیں ہوئی اور 2018 میں وعدہ کیے گئے 3 فیصد اضافی حصے یا 100 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز آدھے بھی نہیں ملے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اے آئی پی (AIP) میں اب تک 700 ارب روپے کے مقابلے میں صرف 168 ارب روپے موصول ہوئے ہیں صرف اس سال ضم شدہ اضلاع کے جاری اخراجات کی مد میں 50 ارب روپے سے زائد کم مختص کیے گئے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ ساتویں این ایف سی کے نافذ نہ ہونے کی وجہ سے 2018-19 سے اب تک اندازاً 1,375 ارب روپے کم موصول ہوئے ہیں۔ اور بے گھر افراد (IDPs) کے لیے وعدہ کیے گئے 17 ارب روپے میں سے ایک روپیہ بھی خیبر پختونخوا کو جاری نہیں کیا گیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اپنی بجٹ سے آئی ڈی پیز پر 11 ارب روپے سے زائد خرچ کیے امید ہے یہ تفصیل وفاقی حکومت کو مددگار ثابت ہوگی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ شکر گزار ہوں کہ خیبر پختونخوا کو جاری کیے گئے فنڈز ریکارڈ پر لائے گئے۔ بہتر ہوگا کہ وزارتِ خزانہ دیگر صوبوں کا بھی مکمل ڈیٹا فراہم کرے تاکہ تمام صوبے آپس میں موازنہ کر سکیں کہ کس صوبے کو کیا ملا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت بتائیں این ایچ اے کے ذریعے ہر صوبے میں کتنے کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں اور صوبوں کو فراہم کی جانے والی بجلی، گیس سبسڈی کی تفصیل بھی بتائیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے 2010 سے اب تک ہر صوبے کے لیے پی ایس ڈی پی کے تحت کتنی رقم مختص کی
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا وفاقی حکومت کا خیبرپختونخوا فنڈز ریلیز سے متعلق پریس ریلیز پر ردعمل
وفاقی اعداد و شمار سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا، تاہم انہوں نے واجب الادا حصے سے کم ادائیگی کی ہے۔ مزمل اسلم
خیبرپختونخوا کے تقریباً 4 کھرب روپے وفاقی حکومت کے ذمہ واجب الادا ہیں۔ مزمل اسلم
جس میں این ایچ پی، اسٹریٹ ٹرانسفرز اور ضم شدہ اضلاع کے واجبات شامل ہیں۔ مزمل اسلم
خیبرپختونخوا میں این ایچ پی (NHP) کی ادائیگیاں تاخیر کا شکار ہیں۔ مزمل اسلم
اسٹریٹ ٹرانسفرز میں ونڈ فال لیوی ابھی تک شامل نہیں کی گئی۔ مزمل اسلم
خیبرپختونخوا پیٹرولیم پر وفاقی ایکسائز ڈیوٹی شامل نہیں کی گئی۔ مزمل اسلم
گیس پر عائد ایکسائز ڈیوٹی پر کبھی نظرِ ثانی نہیں کی گئی۔ مزمل اسلم
تمباکو پر ایکسائز ڈیوٹی اب بھی وفاقی حکومت وصول کر رہی ہے، حالانکہ زراعت صوبوں کو منتقل (ڈیوالو) کی جا چکی ہے۔ مزمل اسلم
فاٹا کے انضمام کے بعد بھی ساتواں این ایف سی ایوارڈ اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا۔ مزمل اسلم
ضم شدہ اضلاع کو اب بھی خصوصی گرانٹ دی جا رہی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا
جو دیگر خصوصی علاقوں گلگت بلتستان اور کشمیر کے مقابلے میں کم ہے۔ مزمل اسلم
ضم شدہ اضلاع مختص بجٹ میں سے بھی، سال 2024-25 کے علاوہ، مکمل ادائیگی موصول نہیں ہوئی۔ مزمل اسلم
2018 میں وعدہ کیے گئے 3 فیصد اضافی حصے یا 100 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز آدھے بھی نہیں ملے ہیں۔ مزمل اسلم
اے آئی پی (AIP) میں اب تک 700 ارب روپے کے مقابلے میں صرف 168 ارب روپے موصول ہوئے ہیں۔ مزمل اسلم
صرف اس سال ضم شدہ اضلاع کے جاری اور ترقیاتی اخراجات کی مد میں 50 ارب روپے سے زائد کم مختص کیے گئے۔ مزمل اسلم
ساتویں این ایف سی کے نافذ نہ ہونے کی وجہ سے 2018-19 سے اب تک اندازاً 1,375 ارب روپے کم موصول ہوئے۔ مزمل اسلم
بے گھر افراد (IDPs) کے لیے وعدہ کیے گئے 17 ارب روپے میں سے ایک روپیہ بھی خیبر پختونخوا کو جاری نہیں کیا گیا۔ مزمل اسلم
خیبر پختونخوا حکومت نے اپنی بجٹ سے آئی ڈی پیز پر 11 ارب روپے سے زائد خرچ کیے۔ مزمل اسلم
امید ہے یہ تفصیل وفاقی حکومت کو مددگار ثابت ہوگی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا
شکر گزار ہوں کہ خیبر پختونخوا کو جاری کیے گئے فنڈز ریکارڈ پر لائے گئے۔ مزمل اسلم
بہتر ہوگا کہ وزارتِ خزانہ دیگر صوبوں کا بھی مکمل ڈیٹا فراہم کرے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا
تاکہ تمام صوبے آپس میں موازنہ کر سکیں کہ کس صوبے کو کیا ملا۔ مزمل اسلم
حکومت بتائیں این ایچ اے کے ذریعے ہر صوبے میں کتنے کلومیٹر سڑکیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ مزمل اسلم
صوبوں کو فراہم کی جانے والی بجلی، گیس سبسڈی کی تفصیل بھی بتائیں۔ مزمل اسلم
وفاقی حکومت نے 2010 سے اب تک ہر صوبے کے لیے پی ایس ڈی پی (PSDP) کے تحت کتنی رقم مختص کی۔ مزمل اسلم
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلی تعلیم و بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا
نوتعینات سیکرٹری اعلی تعلیم ڈاکٹر اسرار نے اجلاس کو محکمہ اعلی تعلیم کے حوالے سے جائزہ بریفنگ دی
انصاف فیمیل و آرپن ایجوکیشن کارڈ کے لیے 325 ملین روپے فنڈ محکمہ فنانس ریلیز کر چکے ہیں۔ بریفنگ
انصاف فیمیل و آرپن ایجوکیشن کے تحت اب تک 55 ہزار طلبہ مستفید ہوچکے ہیں۔ بریفنگ
انصاف فیمیل و آرپن ایجوکیشن کارڈ کے ذریعے طلبہ فیس کی مد میں رعایت دی گئی۔ بریفنگ
ڈگری کالجز کے لیے 2110 پوزیشنز مشتہر ہو چکے ہیں جس کے لیے 36585 درخواستیں موصول ہوئیں۔ بریفنگ
جامعات کے لیے مجموعی طور 10 بلین روپے کا فنڈ رکھا گیا ہے۔ بریفنگ
دو مراحل میں ابھی تک 6.5 بلین فنڈز جامعات کو جاری کئے جا چکے ہیں۔ بریفنگ
محکمہ اعلی تعلیم کی ہدایت پر جامعات میں 4 روزگار میلے منعقد ہوئے۔ بریفنگ
مختلف کمپنیوں نے 1 ہزار سے زائد طلبہ کو روزگار کے لیے انٹرویو کیا۔ بریفنگ
سائنس ٹیکنالوجی انجینئرنگ اور میتھس ایجوکیشن پر ٹیچرز کی استعداد بڑھانے کے لیے 341.58 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ بریفنگ
سٹیم ایجوکیشن پر 2250 ماسٹر ٹزینرز کو تربیت دی جائے گی۔ بریفنگ
وزیر برائے اعلی تعلیم نے صوبے میں قائم لائبریریز کو ماڈرانائز کرنے کی ہدایت کر دی
250 ملین روپے سے 18 عوامی لائبریریز کو ری انوویٹ کیا جائے گا۔ مینا خان افریدی
ایڈورڈز کالج پرنسپل ایشو کے حل کے لیے بی او جی اجلاس کے لیے درخواست دی جائے۔ مینا خان افریدی کی ہدایت
سوات کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کا فیصلہ عوامی امنگوں کی ترجمانی ہے،صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی
خیبرپختونخوا کے وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے ضلع سوات کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کے صوبائی کابینہ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے سوات کے عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے،انہوں نے کہا کہ سوات کو دو اضلاع سوات اور بر سوات میں تقسیم کرنا وہاں کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا جسے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت نے عملی جامہ پہنا دیا ہے،اپنے دفتر سے جاری ایک ویڈیو پیغام میں صوبائی وزیر نے کہا کہ ضلع سوات کی آبادی اس وقت 27 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث بر سوات کے عوامی نمائندوں اور شہریوں کو سرکاری امور اور بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے مینگورہ کا رخ کرنا پڑتا تھا جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا تھا،آبادی میں اضافے کی وجہ سے مینگورہ میں ہسپتالوں اور دیگر سرکاری اداروں پر بھی بوجھ تھا،ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ صوبائی کابینہ کے اس فیصلے سے بر سوات کے عوام کو اب گھر کی دہلیز پر تمام سرکاری خدمات اور سہولیات میسر ہوں گی جس سے نہ صرف عوام کی مشکلات کم ہوں گی بلکہ انتظامی نظام بھی مزید مؤثر ہوگا،انہوں نے کہا کہ سوات کے منتخب اراکین اسمبلی نے ضلع کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے بھرپور جدوجہد کی جبکہ کابینہ نے بعض امور پر ابہام دور کرنے کے لیے اراکین اسمبلی اور متعلقہ سرکاری افسران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنی جامع رپورٹ آج کابینہ کے سامنے پیش کی،صوبائی وزیر نے کہا کہ عوامی نمائندوں کی آرائ اور تجاویز کی روشنی میں تحصیل چارباغ کو سوات کے ساتھ ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ بر سوات کے لیے نل کے مقام پر مزید سرکاری دفاتر قائم کیے جائیں گے جبکہ مٹہ میں موجود دفاتر وہیں سے عوام کو سرکاری خدمات فراہم کرتے رہیں گے،ڈاکٹر امجد علی نے وزیر اعلی محمدسہیل آفریدی اور کابینہ اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ سوات کی ترقی اور عوامی سہولت کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا
خیبر پختونخوا کی صوبائی کابینہ کا 43 واں اجلاس
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ این ایف سی کے تحت صوبے کے حصے کے وعدہ شدہ فنڈز، جو سہ ماہی بنیادوں پر جاری ہونے تھے، تاحال مالی سال 2025-26 کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ریلیز نہیں کیے گئے۔ فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث ضم اضلاع میں ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس صورتحال کے باوجود صوبائی حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ ضم اضلاع کے عوام کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو اور دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے ترقیاتی اور فلاحی کام جاری رکھے جائیں۔ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کی جانب سے عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور ان کی بہنوں کے ساتھ مسلسل غیر انسانی اور غیر جمہوری سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منگل کے روز واٹر کینن کا استعمال کیا گیا جس میں زہریلا کیمیکل شامل تھا، جس کے باعث وہاں موجود پرامن سیاسی کارکنان، پارلیمنٹیرینز، پارٹی قیادت اور عمران خان کی بہنوں کی طبیعت خراب ہوئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس نوعیت کے غیر انسانی اور غیر جمہوری اقدامات جمہوری روایات کے منافی ہیں جن کی صوبائی حکومت بھرپور مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو سیاسی انتقام کی بجائے ملکی معیشت پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ پاکستان کی معیشت تباہ حال ہے اور دن بدن مزید کمزور ہو رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جی ڈی پی گروتھ، زرعی پیداوار، صنعتی ترقی اور دیگر تمام معاشی اشاریے مسلسل نیچے جا رہے ہیں، مگر وفاقی حکومت عوامی فلاح کی بجائے صرف عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کو نشانہ بنانے میں مصروف ہے۔ گورننس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے خود فیلڈ وزٹس کا آغاز کر دیا ہے اور تمام صوبائی وزراء اور ان کے سیکرٹریز کو ہدایت کرتاہوں کہ وہ ہر پندرہ دن میں لازمی طور پر اپنے تفویض کردہ اضلاع اور متعلقہ محکموں کے فیلڈ وزٹس کریں۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ وزٹس سے عوام کا اعتماد بحال ہوتا ہے اور مؤثر چیک اینڈ بیلنس قائم رہتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے تیار کیے گئے گڈ گورننس روڈ میپ پر آئندہ کابینہ اجلاس میں چیف سیکرٹری سے تفصیلی بریفنگ لی جائے گی اور کابینہ کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے گا۔صوبائی کابینہ کے اجلاس کے فیصلوں سے متعلق معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ شفیع جان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے کی سماجی و معاشی ترقی، امن و امان اور گورننس سے متعلق اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے احساس ریڑھی بان (اسٹریٹ وینڈرز) لائیولی ہُڈ پروٹیکشن ایکٹ 2025 کی منظوری دے دی ہے، جسے جلد صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اس قانون کا مقصد ریڑھی بانوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ قانون کے تحت ہر شہر میں ریڑھی بانوں کے لیے جگہیں متعین ہوں گی جہا ں وہ بہتر ماحول میں ریڑھی بانی کر سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد ریڑھی بانی سے وابستہ ہیں اور قانونی تحفظ ملنے سے ریڑھی بانی ایک باقاعدہ کاروباری حیثیت اختیار کرے گی، جس کے ذریعے آسان روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ احساس ریڑھی بان قانون کے نفاذ کے بعد ریڑھی بان اپنے کاروبار
کے لیے مختلف حکومتی قرضہ سکیموں سے بھی مستفید ہو سکیں گے۔معاون خصوصی اطلاعات کے مطابق کابینہ نے “بر سوات” کے نام سے نئے ضلع کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کا ہیڈ کوارٹر مٹہ ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ پشاور میں سموگ کی روک تھام کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو صورتحال کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے گی جس کے بعد مستقل حل کے لئے اقدامات کا سلسلہ شروع کیا جائے گا جن میں الیکٹر رکشے متعارف کروانا، درختوں اور سبزا میں اضافہ کرنا اور دیگر انتظامی اقدامات اٹھانا شامل ہوں گے۔شفیع جان نے کہا کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کابینہ نے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)اور سپیشل برانچ کی استعدادِ کار بڑھانے کے اقدامات کی منظوری دی۔اس سلسلے میں سی ٹی ڈی کے لیے 17 ارب روپے کے پیکیج کی منظوری دی گئی ہے، جس میں سے سات ارب روپے فوری طور پر جاری کیے جائیں گے، جبکہ سپیشل برانچ کے لیے 14 ارب روپے منظور کیے گئے ہیں۔ ان فنڈز سے اسلحہ، بکتر بند گاڑیوں کی خریداری، نئی بھرتیاں اور دفاتر کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا پروموشن آف ڈیجیٹل پیمنٹ بل 2025کی بھی منظوری دی، جس کے تحت دو سال کے دوران 170 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل ادائیگیوں پر منتقل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں 21 خدمات کو ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کے تحت لایا جائے گا۔معاون خصوصی اطلاعات کے مطابق کابینہ نے ڈی آئی خان میں سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے ملازمین کے لیے 20 بستروں پر مشتمل پولی کلینک ہسپتال کے قیام کے لیے اراضی محکمہ محنت کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔ اسی طرح مانسہرہ میں قبرستان کی زمین کے لیے نان اے ڈی پی سکیم کی منظوری دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے چیف سیکرٹری سروس ڈیلیوری یونٹ کے قیام، ہری پور میں ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال کی اپ گریڈیشن اور تعمیر کے منصوبے کے لیے اضافی لاگت، اور پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی کی بھی منظوری دی۔صوبائی کابینہ کا 43 واں اجلاس جمعہ کے روز پشاور میں منعقد ہوا جس کی صدارت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کی۔ اجلاس میں کابینہ کے اراکین، چیف سیکر ٹری خیبر پختونخوا، ایڈیشنل چیف سیکر ٹری ہوم، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈوکیٹ جنرل نے شرکت کی۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس جمعرات کو صوبائی اسمبلی کے سیکرٹیریٹ میں منعقد ہوا
خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس جمعرات کو صوبائی اسمبلی کے سیکرٹیریٹ میں منعقد ہوا.اجلاس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین اور رکن صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی نےکی. اجلاس میں کمیٹی کے اراکین و ممبران صوبائی اسمبلی صوبیہ شاہد, سریش کمار, اورنگزیب خان, عسکر پرویز, اعجاز خان, اکرام غازی, ریحانہ اسماعیل, شیر علی افریدی, حامد الرحمن, عدنان خان کے علاوہ سیکرٹری صحت سمیت محکمہ صحت کے اعلی حکام, ڈی سی اپر چترال, ڈی ایچ او اپر چترال, محکمہ قانون, خزانہ, پی ایچ ایس اے, کے ایم یو اور صوبائی اسمبلی کے افسران نے شرکت کی۔ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی محترمہ ثریا بی بی کے سوموٹو ایکشن کا کمیٹی نے جائزہ لیتے ہوئے الائیڈ سٹاف کی خالی اسامیوں کو پر نہ کرنے پر ایڈیشنل ڈی جی ہیلتھ اور ڈی ایچ او نے بتایا کہ ان خالی اسامیوں کو عنقریب پر کرلیا جایگا. کیٹگری سی ہسپتال بونی میںگاینا کالوجسٹ کی تقرری پر سپیشل سیکرٹری ہیلتھ نے بتایا ماہ دسمبر میں ہی گائنی ڈاکٹر کی تعیناتی کی جایگی۔کیٹگری سی ہسپتال بونی میں دوائیوں اور آلات کی دستیابی پر ڈی ایچ او اپر چترال نے کمیٹی کو بتایا کہ ہسپتال میں ضرورت کے مطابق آلات و ادویات دستیاب ہیں۔کیٹگری سی ہسپتال بونی کی اپگریڈیشن پر سپیشل سیکرٹری ہیلتھ نے اس معاملے کو سی پی او کے ساتھ اٹھانے اور رپورٹ کمیٹی کے اگلے اجلاس اور ڈپٹی سپیکر آفس جمع کرانے کا وعدہ کیا۔آر ایچ سی شاگرام کے حوالے سے سپیشل سیکرٹری ہیلتھ نے اگلے اجلاس میں حتمی رپورٹ جمع کرانے کا وعدہ کیا.
اپر چترال میں نرسنگ کالج کے قیام اور اس حوالے سے پیش رفت پر ڈی سی اپر چترال نے بتایا کہ وہ متعلقہ محکمہ, ایس ایم بی آر کے ساتھ فالو اپ کررہے ہیں۔نرسنگ کالح کے لیے کرایے کی عمارت کے حوالے سے ڈی جی پی ایچ ایس اے, سی پی او پیلتھ نے بتایا کہ عمارت کے جلد از جلد انتظام کے حوالے سے سی پی او آفس ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے. اور عنقریب اس معاملے کو نمٹا لیا جایگا۔ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی کے سوموٹو پر چئیرمین قائمہ کمیٹی مشتاق احمد غنی نے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کی کہ اگلے اجلاس میں تمام بیان شدہ نکات پر پیش رفت سے کمیٹی اور ڈپٹی سپیکر آفس کو آگاہ کریں تاکہ اپر چترال کے عوام کی اس حوالے سے تکلیفات کا ازالہ ہو اور انکے تحفظات دور ہوسکیں.. اجلاس میں سابقہ فاٹا اضلاع میں صحت کے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ، پیرامیڈیکل اسٹاف کی خالی اسامیوں، اقلیتی کوٹہ اور مختلف توجہ دلاؤ نوٹسز پر تفصیلی غور کیا گیا۔ محکمہ صحت نے وضاحت دی کہ پیرامیڈیکل اسٹاف کی خالی اسامیوں کو جلد ترقی دے کر پُر کیا جائے گا، جبکہ اقلیتی برادری کے لیے دو فیصد کوٹہ پہلے ہی صوبائی کابینہ سے منظور شدہ ہے۔اجلاس میں رکن اسمبلی اورنگزیب خان کے توجہ دلاؤ نوٹس پر
متعلقہ ڈی پی او کے خلاف انکوائری کا حکم دیا گیا اور موقف اختیار کیا گیا کہ ملک سے باہر موجود فرد کے خلاف بلاجواز ایف آئی آر درج کرنا ناانصافی ہے، جس پر ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی جو 15 دن میں رپورٹ پیش کرے گی۔ سیٹلائٹ ہسپتال نقی کے معطل ایم ایس کے معاملے پر سیکرٹری صحت نے بتایا کہ ان کا تبادلہ جلد کیا جائے گا اور محکمانہ انکوائری جاری ہے۔ ریحانہ اسماعیل کے توجہ دلاؤ نوٹس پر محکمہ صحت نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ الٹراساونڈ فی میل سپیشلسٹ کی کمی کی وجہ سے رات کو ڈیوٹی میں میل الٹراساؤنڈ سپیشلسٹ کام کر رہے ہیں اس بابت میں فی میل سپیشلسٹ کے لیے اشتہار شائع کیا گیاہے اور فی میل الٹراساؤنڈ سپیشلسٹ کے کمی کا مسئلہ جلد حل ہو جائے گا-چیئرمین قائمہ کمیٹی نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایت کی کہ تیمرگرا میڈیکل کالج کے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) سے الحاق کے مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کی جانب سے تین سال کے لیے الحاق پر عائد پابندی کے باعث سرکاری خزانے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، کیونکہ مذکورہ میڈیکل کالج کے تدریسی و انتظامی عملے کی تنخواہیں باقاعدگی سے ادا کی جا رہی ہیں جبکہ کالج الحاق سے محروم ہے۔اجلاس کے دوران قائمہ کمیٹی نے ڈاکٹر وردہ کے بہیمانہ قتل کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ڈاکٹر وردہ کے لواحقین کے لیے معقول اور مناسب مالی معاوضے (کمپنسیشن) کا اعلان کریں۔
