سولہ سو میں لندن کے چند تاجروں نے مل کر “ایسٹ انڈیا کمپنی” قائم کی۔ ملکہ الیزبتھ سے اجازت لینے کے بعد انہوں نے برصغیر پاک و ہند میں تجارت کا آغاز کیا۔ اس وقت کے حکمرانوں نے ان تاجروں پر مہربانیاں کیں اور بے شمار مراعات دیں، جن سے انگریزوں نے خوب ناجائز فائدہ اٹھایا۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد انہوں نے برصغیر کے مختلف علاقوں پر آہستہ آہستہ قبضہ کرنا شروع کر دیا، کیونکہ مغل حکومت زوال کا شکار ہو چکی تھی اور انگریزوں کی جارحیت کو روکنے کے قابل نہ رہی۔
سب سے پہلا حملہ سندھ پر ہوا۔ 1843ء میں میانی کے مقام پر ایک فیصلہ کن جنگ ہوئی جس میں جنرل چارلس نیپئر کو فتح حاصل ہوئی۔ کشمیر پر قبضے کے بعد انگریزوں نے اسے صرف 75 لاکھ روپے کے عوض راجہ گلاب سنگھ کو فروخت کر دیا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے پورا برصغیر انگریزوں کے تسلط میں آ گیا۔
انگریزوں کے اس ناجائز قبضے کے خلاف برصغیر کے مختلف علاقوں میں بغاوتیں شروع ہو گئیں۔ 10 مئی 1857ء کو میرٹھ میں مسلمان اور ہندو سپاہیوں نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کی، مگر یہ جدوجہد ناکام ہو گئی اور انگریزوں نے مزید ظلم و ستم کا سلسلہ شروع کر دیا۔ جگہ جگہ قتل عام ہوا اور چوراہوں پر ہندو اور مسلمان باغیوں کو پھانسیاں دی گئیں۔ چونکہ مسلمان اس جدوجہد میں پیش پیش تھے، اس لیے انہیں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ کئی شہر تباہ ہو گئے اور مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی، ثقافتی اور سماجی حالت انتہائی کمزور ہو گئی۔
ایسے حالات میں سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے مسلمانوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا اور کئی تعلیمی ادارے قائم کیے، جن میں علی گڑھ کالج (بعد میں علی گڑھ یونیورسٹی) ان کی سب سے بڑی کامیابی ثابت ہوئی۔ 1866ء میں اردو-ہندی تنازعہ پیدا ہوا، جب دفاتر میں اردو کی جگہ ہندی نافذ کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے باعث ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔ انگریزوں نے اس موقع پر مذہبی اختلافات کو ہوا دی۔
اس وقت برصغیر میں صرف ایک بڑی سیاسی جماعت، انڈین نیشنل کانگریس، موجود تھی۔ سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو سیاست سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ جب تک مسلمان تعلیمی میدان میں آگے نہیں بڑھتے، انہیں سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندو سیاسی میدان میں اس لیے آگے ہیں کیونکہ وہ زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔
سر سید احمد خان کی وفات کے بعد مسلمانوں کے درمیان کئی رہنما سامنے آئے۔ سیاسی شعور بڑھنے کے بعد 1906ء میں شملہ میں مسلمانوں کے ایک وفد نے وائسرائے سے ملاقات کی اور جداگانہ انتخابات کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے دسمبر 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ قائم کی، جس کے پہلے صدر سر آغا خان بنے۔
وقت کے ساتھ ساتھ ہندو مسلم فسادات میں شدت آتی گئی۔ 1913ء میں محمد علی جناح کانگریس کو چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور ہندو مسلم اتحاد کے حامی بن کر سامنے آئے۔ ان کی کوششوں سے 1916ء میں معاہدہ لکھنؤ ہوا، جس میں کانگریس نے جداگانہ انتخابات کو تسلیم کیا۔ اسی دوران پہلی جنگ عظیم اختتام کو پہنچی اور خلافتِ عثمانیہ کو شکست ہوئی۔ اس کے بعد برصغیر کے مسلمانوں نے تحریک خلافت شروع کی، جو بہت بڑی عوامی تحریک بن گئی۔ مہاتما گاندھی نے اس تحریک کا ساتھ دیا، مگر بعد میں اچانک اس سے الگ ہو گئے۔ اس تحریک کے نتیجے میں مسلمانوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑا۔
1919ء میں انگریزوں نے “رولیٹ ایکٹ” نافذ کیا، جس کے تحت بغیر مقدمہ افراد کو گرفتار یا قتل کیا جا سکتا تھا۔ اس کے خلاف مزاحمت ہوئی، اور اپریل 1919ء میں امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں انگریزوں نے پرامن مظاہرین پر فائرنگ کر کے 1200 افراد کو شہید کر دیا۔
1920 سے 1922 تک تحریک عدم تعاون چلی۔ 1928ء میں قائد اعظم نے اپنے مشہور 14 نکات پیش کیے، جن میں مسلمانوں کے سیاسی و مذہبی حقوق کا تحفظ مانگا گیا۔ 1930ء میں علامہ محمد اقبال نے اپنے خطبہ الہٰ آباد میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ ریاست کا تصور پیش کیا۔ 1931ء میں انہوں نے گول میز کانفرنس میں بھی یہی مطالبہ دہرایا۔ 1933ء میں چوہدری رحمت علی نے “اب یا کبھی نہیں” کے نام سے پمفلٹ شائع کیا، جس میں پہلی بار پاکستان کا نام تجویز کیا گیا۔
قائد اعظم اس وقت لندن میں تھے، لیکن علامہ اقبال کے اصرار پر 1934ء میں وطن واپس آ گئے اور مسلمانوں کی آزادی کی تحریک کی قیادت سنبھالی۔ 1937ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ کو صرف چند نشستیں ملیں جبکہ کانگریس نے بھاری اکثریت حاصل کر کے حکومت بنائی۔ اس پر مسلمانوں کو شدید مایوسی ہوئی۔ 1939ء میں کانگریس وزارتوں کے استعفے کے بعد مسلم لیگ نے “یومِ نجات” منایا۔
23 مارچ 1940ء کو لاہور میں مسلم لیگ کا تاریخی اجلاس ہوا، جس میں مولوی فضل الحق نے قرارداد پاکستان پیش کی، جو متفقہ طور پر منظور ہو گئی۔ قائداعظم نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، اس لیے ان کے لیے الگ ریاست ضروری ہے۔ اسی نظریے کو “دو قومی نظریہ” کہا جاتا ہے۔
اس کے بعد تحریکِ پاکستان میں شدت آ گئی۔ ہندو اور سکھ اس کی شدید مخالفت کرنے لگے۔ 1942ء میں کرپس مشن آیا، جسے قائد اعظم اور گاندھی دونوں نے مسترد کر دیا۔ 1944ء میں راجہ گوپال اچاریہ نے مسلمانوں کے الگ وطن کے مطالبے کو تسلیم کیا، لیکن کانگریس اب بھی متحدہ ہندوستان کی حامی رہی۔
1945-46 کے انتخابات میں مسلم لیگ نے تمام مسلم نشستیں جیت کر قائداعظم کے موقف کو مضبوط کر دیا۔ 1946ء میں کیبنٹ مشن آیا، جس پر مسلم لیگ نے پہلے رضامندی ظاہر کی، لیکن کانگریس نے اسے جزوی طور پر قبول کیا، جس پر قائداعظم نے بھی اعتراض کیا۔ انگریزوں نے مشن کو نافذ کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد 16 اگست 1946ء کو مسلم لیگ نے “یومِ ڈائریکٹ ایکشن” منایا۔
صورتحال بگڑنے پر برطانیہ نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو نیا وائسرائے مقرر کیا۔ 20 فروری 1947ء کو برطانوی وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ جون 1948ء تک برصغیر سے برطانوی راج ختم کر دیا جائے گا۔ فرقہ وارانہ فسادات زور پکڑ گئے۔ آخرکار 3 جون 1947ء کو تقسیم ہند کا اعلان ہوا۔ ریڈکلف کمیشن نے پنجاب اور بنگال کی سرحدوں کا تعین کیا۔
14 اگست 1947ء کو مسلمانوں کی 90 سالہ جدوجہد کامیاب ہوئی، اور دنیا کے نقشے پر ایک نئی آزاد مسلم ریاست “پاکستان” کے نام سے وجود میں آئی۔
