معاون خصوصی برائے بہبود آبادی طفیل انجم کی زیر صدارت محکمہ بہبود آبادی کا اجلاس

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی طفیل انجم کی زیر صدارت محکمہ بہبود آبادی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری بہبود آبادی انیلہ محفوظ درانی ، ڈائریکٹر جنرل بہبود آبادی، محکمہ کے سینئر افسران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران معاون خصوصی کو محکمہ بہبود آبادی کے پروگرامز، جاری سرگرمیوں، سروس ڈلیوری میکانزم، اہداف اور مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ متعلقہ افسران نے بتایا کہ محکمہ بہبود آبادی صوبے بھر میں خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کی سہولیات فراہم کر رہا ہے تاکہ ماں اور بچے کی صحت کو بہتر بنایا جا سکے اور آبادی کو پائیدار سطح پر لانے کے قومی اہداف کے حصول میں پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ شادی شدہ جوڑوں کو بچوں کے درمیان صحت مند وقفے کو فروغ دینے کے لیے مانع حمل سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں تاکہ زچہ و بچہ کی صحت بہتر ہو اور خاندانوں کی سماجی و معاشی حالت میں بہتری آئے۔حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ محکمہ بہبود آبادی اس وقت عوام کو مفت مانع حمل ادویات، عمومی ادویات اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق دیگر خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ان خدمات کا مقصد غیر منصوبہ بند حمل، زچگی سے متعلق پیچیدگیوں اور ماں و بچے کی صحت کو درپیش خطرات میں کمی لانا ہے۔بریفنگ میں محکمہ کے آئندہ اہداف سے متعلق بتایا گیا کہ سال 2030 تک مانع حمل استعمال کی شرح کو 30 فیصد سے بڑھا کر 56 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی شرح پیدائش کو 4.1 سے کم کر کے 2.8 تک لانے اور آبادی میں اضافے کی شرح کو 2.8 فیصد سے کم کر کے 1.4 فیصد تک لانے کے لیے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اس موقع پر معاون خصوصی برائے بہبود آبادی طفیل انجم نے محکمہ کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، عوامی آگاہی مہمات کو وسعت دینے اور خدمات کی رسائی کو نچلی سطح تک بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آبادی اور وسائل میں توازن، ماں اور بچے کی صحت کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے محکمہ بہبود آبادی کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔طفیل انجم نے ہدایت کی کہ خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت سے متعلق آگاہی کو مزید مؤثر بنایا جائے، دیہی اور دور افتادہ علاقوں تک خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو جدید سہولیات سے مستفید کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ صوبے میں صحت مند اور متوازن معاشرے کے قیام کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔انھوں نے گھوسٹ ملازمین کی نشاندھی، محکمہ بہبود آبادی سے دیگر محکموں کو ڈیپوٹیشن پر جانے والے افسران اور عملے کو واپس لانے ، محکمہ کے اندر افسران اور ملازمین کے تبادلوں پر پابندی لگانے کی بھی ہدایات جاری کیں

مزید پڑھیں