پشاور: ریونیو اینڈ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت خیبرپختونخوا کا دوسرا پالیسی اجلاس پشاور میں ریونیو ورکنگ گروپ کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمد عاطف خان کی زیر سرپرستی جبکہ وزیر برائے ریونیو اینڈ اسٹیٹ طارق محمود آریانی کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں رکن قومی اسمبلی ارباب شیر علی، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ظاہر شاہ خان، رکن صوبائی اسمبلی محمد نعیم خان، ڈیجیٹلائزیشن ایکسپرٹ خالد سعید، ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ یاسر حسن سمیت محکمہ ریونیو اینڈ اسٹیٹ اور بورڈ آف ریونیو کے متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں گزشتہ پالیسی اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ورکنگ گروپ کو اب تک کی پیش رفت پر بریفنگ دی گئی جبکہ ریونیو اصلاحات کے عمل کو مزید تیز، مؤثر اور عوام دوست بنانے کے لیے متعدد اہم فیصلے بھی کیے گئے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بورڈ آف ریونیو ڈیش بورڈ اور سروس ڈیلیوری سینٹرز میں انتقال، فرد کے اجراء یا نام کی درستگی جیسے معاملات میں غیر ضروری تاخیر اور غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف ضابطے کے مطابق شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں گے تاکہ جوابدہی کا مؤثر نظام قائم کیا جا سکے۔
اجلاس نے صوبہ بھر میں خانہ کاشت کے دیرینہ مسئلے کے فوری حل کی ہدایت کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ تمام سروس ڈیلیوری سینٹرز میں خانہ کاشت سے متعلق امور کے لیے علیحدہ کاؤنٹرز قائم کیے جائیں گے تاکہ عوام کو بروقت سہولت فراہم کی جا سکے۔
شہریوں کی شکایات کے فوری ازالے اور سروسز کی مانیٹرنگ کے لیے جلد آؤٹ باؤنڈ شکایات کال سینٹر قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، جسے براہِ راست ریونیو ڈیش بورڈ سے منسلک کیا جائے گا تاکہ شہریوں سے موصول ہونے والے فیڈبیک کی بنیاد پر خدمات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
اجلاس میں ای-رجسٹری نظام کو جلد از جلد پورے صوبے میں نافذ کرنے کی منظوری دی گئی۔ اس نظام کے ذریعے رجسٹری اور انتقالات کا عمل مکمل طور پر آن لائن ہوگا، دوہرے اور جعلی انتقالات کا خاتمہ ممکن ہوگا اور صرف وہی زمین منتقل کی جا سکے گی جو متعلقہ مالک کے نام پر رجسٹرڈ ہوگی، جس سے غیر قانونی اور فرضی انتقالات کی مکمل روک تھام ممکن ہوگی۔
اجلاس نے صوبہ بھر کی سرکاری اراضی کی جی آئی ایس میپنگ کرانے اور تجاوزات الرٹ سسٹم متعارف کرانے کا بھی فیصلہ کیا۔ اس نظام کے ذریعے سرکاری اراضی پر ہونے والی تجاوزات کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگی جبکہ جس افسر کے دورِ تعیناتی میں تجاوزات ہوں گی، اس کی ذمہ داری بھی اسی افسر پر عائد ہوگی۔
عوام کو مزید سہولت فراہم کرنے کے لیے فرد کے اجراء کے نظام کو آؤٹ سورس اور آن لائن کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ اس سہولت کے تحت شہری نادرا ای-سہولت مراکز، ریونیو ڈیش بورڈ اور متعلقہ پٹوار خانوں سے آسانی کے ساتھ فرد حاصل کر سکیں گے۔
اجلاس میں پائلٹ بنیادوں پر کم از کم ایک ضلع کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر کے اسے “ماڈل ڈیجیٹل ڈسٹرکٹ” قرار دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جہاں تمام ریونیو ریکارڈ جدید ڈیجیٹل نظام کے تحت محفوظ اور قابلِ رسائی ہوگا۔
مزید برآں کمپیوٹرائزڈ لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انٹیگریشن سسٹم کی جلد تکمیل کی ہدایت جاری کی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس جدید نظام کے نفاذ سے ریونیو کے تمام مراحل مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ ہوں گے جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی دنیا کے کسی بھی حصے سے خیبرپختونخوا میں اپنی جائیداد کی خرید و فروخت اور منتقلی کے عمل کو قانونی طریقے سے مکمل کر سکیں گے۔
وزیر برائے ریونیو اینڈ اسٹیٹ طارق محمود آریانی نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ظاہر شاہ خان کو ہدایت کی کہ صوبے کے تمام سروس ڈیلیوری سینٹرز میں دستیاب سہولیات اور درپیش مسائل کی جامع رپورٹ فوری طور پر تمام ڈپٹی کمشنرز سے طلب کی جائے، جس میں سولر سسٹمز، عملے کی کمی، انفراسٹرکچر اور ریونیو کمپوننٹس سے متعلق تمام ضروری معلومات شامل ہوں تاکہ ان مسائل کے حل کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں۔
اجلاس کے اختتام پر ریونیو ورکنگ گروپ کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمد عاطف خان نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو ظاہر شاہ خان اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریونیو اصلاحات کے ایجنڈے پر تیز رفتار عملدرآمد حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جدید ٹیکنالوجی، شفافیت، مؤثر احتساب اور عوامی سہولت کو یقینی بنا کر محکمہ ریونیو اینڈ اسٹیٹ کو ایک جدید، فعال اور عوام دوست ادارہ بنایا جائے گا۔
