چیئرپرسن کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن ڈاکٹر سمیرا شمس نے “خیبر پختونخوا ایچ آئی وی اور ایڈز (تدارک، کنٹرول، علاج اور تحفظ) ایکٹ” کو صوبے کے ہیلتھ کیئر سسٹم اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم قانونقرار دیا ہے

چیئرپرسن کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن ڈاکٹر سمیرا شمس نے “خیبر پختونخوا ایچ آئی وی اور ایڈز (تدارک، کنٹرول، علاج اور تحفظ) ایکٹ” کو صوبے کے ہیلتھ کیئر سسٹم اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم قانونقرار دیا ہے۔ بدھ کے روز خیبرپختونخوا کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کے زیر اہتمام منعقدہ ایچ آئی وی و ایڈز سے متعلق قانون سازی بابت مشاورتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان قانون کا بنیادی مقصد نہ صرف ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنا اور مریضوں کو مفت علاج فراہم کرنا ہے، بلکہ اس موذی مرض کے شکار افراد کے ساتھ ہونے والے معاشرتی امتیازی سلوک، تعصب اور ناانصافی کا جڑ سے خاتمہ کرنا بھی ہے۔ڈاکٹر سمیرہ شمس نے قوانین کے مختلف پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت صوبہ بھر میں ایچ آئی وی کے مریضوں کے لیے تشخیصی ٹیسٹ، کونسلنگ اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کو تعلیم، روزگار اور صحت سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں برابر کے حقوق دیے گئے ہیں، اور کسی بھی سطح پر ان کے ساتھ امتیازی سلوک کو قانونی جرم قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مریضوں کی شناخت اور ٹیسٹ کے نتائج کو مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ بغیر کسی خوف اور جھجک کے اپنا علاج کروا سکیں۔ ڈاکٹر سمیرہ شمس نے کہا کہ ایڈز صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا سماجی چیلنج ہے، اور ہمیں مریضوں کو تنہا کرنے کے بجائے ان کا سہارا بننا ہوگا۔ انہوں نے محکمہ صحت، سول سوسائٹی اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ قوانین کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے میں اپنا فعال کردار ادا کریں تاکہ خیبر پختونخوا کو ایچ آئی وی سے پاک اور ایک ہمدرد معاشرہ بنایا جا سکے۔

مزید پڑھیں