وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے کھیل و امورِ نوجوانان تاج محمد خان ترند نے نیشنل گیمز 2026 میں میڈلز جیتنے والے کھلاڑیوں میں مجموعی طور پر 26.6 ملین روپے (دو کروڑ 66 لاکھ روپے) کے نقد انعامات تقسیم کیے۔اس سلسلے میں پشاور سپورٹس کمپلیکس میں خیبرپختونخوا کے میڈل یافتہ کھلاڑیوں کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی تاج محمد خان ترند تھے، جنہوں نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے
تقریب میں خیبرپختونخوا اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر ہارون ظفر، سیکرٹری سپورٹس آصف خان، ڈائریکٹر جنرل سپورٹس تاشفین حیدر، ڈائریکٹر سپورٹس جمشید بلوچ، مختلف کھیلوں کی ایسوسی ایشنز کے عہدیداران اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔اس موقع پر انڈر 23 گیمز کی ٹرافی ریجنل سپورٹس آفیسر کاشف فرحان کے حوالے کی گئی۔ یہ ٹرافی پشاور ریجن نے اپنے نام کی۔تقریب میں گولڈ میڈل جیتنے والے ہر کھلاڑی کو 6 لاکھ روپے، سلور میڈل جیتنے والے کو 4 لاکھ روپے جبکہ برونز میڈل حاصل کرنے والے کھلاڑی کو 3 لاکھ روپے کانقد انعام دیا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تاج محمد خان ترند نے کہا کہ یہ خوشی اور فخر کا موقع ہے کہ ہم اپنے ان ہیروز کے ساتھ موجود ہیں جنہوں نے نیشنل گیمز میں خیبرپختونخوا کا نام روشن کیا۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے پہلے گولڈ میڈلسٹ کے لیے 3 لاکھ، سلور کے لیے 2 لاکھ اور برونز کے لیے ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا، تاہم اب ان انعامات کی رقم دگنی کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کوچز کے لیے بھی ایک، ایک لاکھ روپے نقد انعام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کی کامیابی میں کوچز کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔مشیر کھیل نے کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق صوبے میں کھیلوں کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ سہولیات کی بہتری کے لیے سوئمنگ پول سمیت متعدد منصوبے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے گئے ہیں، جبکہ آئندہ تمام اضلاع میں کھیلوں کی بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان صلاحیتوں کو مزید نکھارا جائے اور انہیں بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عید کے بعد نیشنل جونیئر چیمپئن شپ کا انعقاد کیا جائے گا، جبکہ آئندہ برس مزید بڑے پیمانے پر کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جائیں گے۔
تاج محمد خان ترند نے انعامی رقم کی شفاف تقسیم کے لیے جاز کیش کے ساتھ معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے کھلاڑیوں کو ادائیگیوں میں مزید سہولت اور شفافیت میسر آئے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کھلاڑیوں کی ہر ممکن سرپرستی اور حوصلہ افزائی جاری رکھے گی۔
گولڈ میڈلز حاصل کرنے والوں میں سیلنگ کی حجاب اجمل، جوڈو کے سید فیصل شاہ، باڈی بلڈنگ کے شاہد خان، کراٹے کے مراد خان، ٹیبل ٹینس کے فہد خواجہ اور عثمان خلیل شامل تھے۔
سلور میڈلز جیتنے والوں میں سیلنگ کی مریم سجاد، تحریم فاطمہ، رحیم داد خان، کاشف سعید، عاطف رزاق، عبدالہادی اور امینہ اجمل، جوڈو کے محمد عباس اور آصفہ نور، باڈی بلڈنگ کے الیاس خالد، تائیکوانڈو کے محمد احسن، طارق خان، سندس خان، اریبہ جاوید اور میمونہ نصیر، فنسنگ کے بریال خان، اویس خان، اویس احمد اور اقراش زمان، سکواش کی ماہ نور علی، سحرش علی، علیشبہ اور رانیہ علی، ووشو کی نور الایمان، باکسنگ کی عائشہ اور گالف کی سائرہ امین شامل تھیں۔اسی طرح برونز میڈلز حاصل کرنے والی ٹیموں اور کھلاڑیوں میں خواتین کبڈی، خواتین ٹیبل ٹینس، مرد ٹیبل ٹینس، تائیکوانڈو کی وریشہ، بیڈمنٹن کے مراد علی، ووشو کے صمد علی، باکسنگ کے محمد عامر اور منال، گالف کی زینب مر، ٹینس کے برکت اللہ اور مردوں کی ٹینس ٹیم شامل تھے۔
کوچز کامران علی، ہدایت اللہ خلیل، ذوالفقار بٹ، اکرم اور ابصار علی کو بھی نقد انعامات سے نوازا گیا۔
تقریب کے دوران پاک افغان ٹی ٹونٹی وہیل چیئر کرکٹ سیریز جیتنے والی ٹیم کے کھلاڑیوں گوہر علی آفریدی، ایاز خان، زوار نور، مثل خان، زوار خان، ساجد علی، شاہ فیصل اور محمد سعید کو بھی نقد انعامات دئے گئے
