خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات و تعمیرات کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی کی زیر صدارت منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات و تعمیرات کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم،ممبران قائمہ کمیٹی اور اراکین اسمبلی محمد یامین خان، زبیر خان، محترمہ عارفہ بی بی، محترمہ اسماء عالم، محترمہ فرح خان اور محترمہ شاہدہ وحید کے علاوہ سیکرٹری محکمہ مواصلات و تعمیرات بمع متعلقہ عملہ، محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں 21 دسمبر 2024 کو منعقدہ گزشتہ اجلاس میں جاری کردہ ہدایات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران چیئرمین قائمہ کمیٹی مشتاق احمد غنی نے شدید اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ کو اہم معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر نا چاہیے، انہوں نے کہا کہ کافی عرصہ گزرنے کے باوجود اربوں روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبے پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ مذکورہ منصوبے کے تحت ضلع جنوبی وزیرستان، سابقہ فاٹا اور اپر دیر میں سیلاب سے متاثرہ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر و بحالی شامل تھی۔
سیکرٹری محکمہ مواصلات و تعمیرات نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبے سے متعلق اب تک تین انکوائریاں مکمل کی جا چکی ہیں، جن کے نتیجے میں بعض اعلیٰ افسران کی دو، دو درجات تنزلی کی گئی، جبکہ مختلف کنٹریکٹرز سے 82 ملین روپے کی ریکوری بھی تجویز کی گئی ہے۔ تاہم پانچ کنٹریکٹرز نے اس ریکوری کے خلاف ہائی کورٹ سے حکمِ امتناع حاصل کر رکھا ہے، جو اگست 2023 سے برقرار ہے۔ سیکرٹری نے مزید بتایا کہ محکمہ کے پاس مؤثر قانونی پیروی کے لیے مطلوبہ وسائل دستیاب نہیں۔ اس پر چیئرمین قائمہ کمیٹی نے ہدایت جاری کی کہ ہائی کورٹ میں مؤثر پیروی اور حکمِ امتناع کے خاتمے کے لیے اعلیٰ قانونی مشیر کی خدمات حاصل کرنے کی غرض سے فوری طور پر سمری ارسال کی جائے تاکہ ریکوری اور تحقیقی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
اجلاس میں رکن صوبائی اسمبلی محمد یامین خان نے ضلع اپر دیر میں سڑکوں اور پلوں کی خستہ حالی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کئی سال قبل سیلاب سے تباہ ہونے والے متعدد پل اور سڑکیں تاحال تعمیر یا مرمت نہیں کی گئیں، چیئرمین قائمہ کمیٹی نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت جاری کی، جو ضلع اپر دیر کا دورہ کرکے جاری اور مکمل شدہ ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لے گی اور 15 روز کے اندر اپنی رپورٹ قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کرے گی۔
کمیٹی کے اراکین نے ضلع مردان میں مختلف اہم شاہراہوں کی ابتر صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس میں خصوصاً بخشالی روڈ، پلوڈھری روڈ اور کاٹلنگ روڈ کی خستہ حالی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ قائمہ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مذکورہ سڑکوں کی فوری مرمت اور بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا بروقت ازالہ ممکن بنایا جا سکے

مزید پڑھیں