وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت سے ضلع لکی کے مروت قومی جرگہ کی کور کمیٹی کے اراکین کے ایک وفد نے بدھ کے روز پشاور میں ملاقات کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اکرام اللہ خان بھی موجود تھے۔وفد کی قیادت سابق وفاقی وزیر سلیم سیف اللہ خان اور سابق رکن قومی اسمبلی نصیر محمد خان میدادخیل نے کی، جبکہ وفد میں سابق سیکرٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان اختر منیر مروت سمیت مروت قومی جرگہ کے دیگر مشران شامل تھے۔ملاقات کے دوران ضلع لکی مروت میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، پولیس فورس کو جدید آلات سمیت گاڑیوں اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی اور امن و امان کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد نے مطالبہ کیا کہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اضافی اہلکار تعینات کیے جائیں تاکہ قیامِ امن کی کوششوں کو مؤثر بنایا جا سکے۔اس موقع پرمعاونِ خصوصی برائے داخلہ طارق سعید مروت نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ضلع لکی کی امن و امان کی صورتحال کے مسائل کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے علم میں لائیں گے اور ان کے حل کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت لکی مروت میں امن و امان کے قیام کے حوالے سے سنجیدہ ہے اور اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی بجٹ میں پولیس فورس کی استعداد کار بڑھانے اور اسے جدید سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جن کی بدولت پائیدار امن کے قیام میں مدد ملے گی۔وفد نے مسائل کے حل کی یقینی دہانی پر معاونِ خصوصی طارق سعید مروت اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری اکرام اللہ خان کا شکریہ ادا کیا۔
