خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ہاؤسنگ، ڈاکٹر امجد علی نے وفاقی بجٹ میں ملاکنڈ ڈویژن اور سابقہ ضم اضلاع میں ٹیکس کے نفاذ کے اعلان کی صوبائی اسمبلی کے فلور پر بھرپور مخالفت کرتے ہوئے اسے عوام کے ساتھ ناانصافی قرار دیا۔
صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن اور سابقہ پاٹا و فاٹا میں ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ وہاں کے عوام کے ساتھ کیے گئے تاریخی معاہدوں اور وعدوں کے منافی ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر تفصیلی اور مدلل انداز میں عوامی مقدمہ ایوان کے سامنے پیش کرتے ہوئے تاریخی حقائق کی جانب توجہ مبذول کرائی۔
انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور سوات کے عوام کو تاریخی معاہدوں کے تحت سو سال تک ٹیکس سے استثنیٰ حاصل تھا۔ یہ استثنیٰ 2024ء میں ختم ہوا، جس کے بعد ایک سال کے لیے مزید توسیع دی گئی، تاہم اس تمام عمل میں صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ڈاکٹر امجد علی نے کہا کہ سوات، ملاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی، قدرتی آفات اور دیگر غیر معمولی حالات سے شدید متاثر رہے ہیں۔ ایسے متاثرہ علاقوں پر نئے ٹیکسوں کا نفاذ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کا نفاذ وہاں کے عوام کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور اس کے منتخب نمائندے اس معاملے پر عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور جمہوری فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔
