وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت ضم اضلاع کی پائیدار ترقی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور عوامی فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ اسی وژن کے تحت صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کی نگرانی میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ضم شدہ اضلاع میں پینے کے صأف پانی، سینیٹیشن، نکاسی آب اور ماحولیاتی بہتری کے شعبوں میں تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری پر عملدرآمدہو رہا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں بلکہ ان کا مقصد ان علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنا اور دہائیوں سے موجود بنیادی سہولیات کے فقدان کا خاتمہ بھی ہے۔ سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو کافی وقت گزرچکا ہے، تاہم ان علاقوں میں بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج تھی، خصوصاً صاف پینے کے پانی، سینیٹیشن، نکاسی آب اور گندے پانی کے مؤثر انتظام کے شعبوں میں طویل عرصے تک سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث عوام کو متعدد مشکلات کا سامنا رہا۔ انہی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت خیبر پختونخوا نے عالمی بینک کے مالی تعاون سے ”خیبر پختونخوا رورل انویسٹمنٹ اینڈ انسٹی ٹیوشنل سپورٹ پراجیکٹ” (KP-RIISP) کے تحت ضم شدہ اضلاع اور قبائلی سب ڈویژنز میں ایک جامع اور تاریخی ترقیاتی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔مذکورہ منصوبہ محض چند ترقیاتی سکیموں تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع البنیاد اور طویل المدتی پروگرام ہے جس کا مقصد عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا، ادارہ جاتی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا، انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانا اور ضم شدہ اضلاع میں موجود ترقیاتی خلا کو پر کرنا ہے۔آر آئی آئی ایس پی۔کے پی منصوبہ دراصل حکومت خیبر پختونخوا کے اس جامع انضمامی وژن کا حصہ ہے جس کے ذریعے ضم شدہ اضلاع کو صوبے کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لایا جا رہا ہے۔سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے ضم شدہ اضلاع میں پانی اور سینیٹیشن کی ضروریات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک جامع ماسٹر پلان تیار کیا۔ اس منصوبہ بندی میں موجودہ آبادی، مستقبل کی ضروریات، پانی کے دستیاب ذرائع، انفراسٹرکچر کی صورتحال، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا۔جس سے یہ واضح ہوگیا کہ محفوظ پینے کے پانی، سینیٹیشن، نکاسی آب اور ویسٹ واٹر مینجمنٹ کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔اسی ماسٹر پلان کی بنیاد پر آر آئی آئی ایس پی۔کے پی کے تحت محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے تقریباً 25.8 ارب روپے صاف پینے کے پانی کی فراہمی جبکہ تقریباً 7 ارب روپے سینیٹیشن کے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 32 ارب روپے سے زائد کی یہ سرمایہ کاری ضم شدہ اضلاع کی تاریخ میں پانی اور سینیٹیشن کے شعبے کی سب سے بڑی سرمایہ کاریوں میں شمار کی جا رہی ہے۔صاف پانی کے شعبے میں مختلف اضلاع میں 12 نئی میگا واٹر سپلائی سکیموں پر کام جاری ہے جن سے لاکھوں افراد مستفید ہوں گے۔ ان منصوبوں میں ضلع کرم کی صدہ، ستین اور شلوزان/پاڑا چنار واٹر سپلائی سکیمیں، جنوبی وزیرستان کی بنگی والا، لدھا اور شامن خیل میگا سکیمیں، ضلع اورکزئی کی سپوہ، عیسیٰ خیل، مشتی میلہ، کنڈی مشتی تا غلجو اور سما ماموزئی سکیمیں، ضلع باجوڑ کی ارنگ اتمان خیل سکیم، ضلع خیبر کی شلمان تا لنڈی کوتل گریٹر واٹر سپلائی سکیم اور ضلع مہمند کی خوئی زئی اور بائزئی میگا واٹر سپلائی سکیمیں شامل ہیں۔اس کے ساتھ منصوبے کا ایک انتہائی اہم جزو 320 سے زائد موجودہ واٹر سپلائی سکیموں کی بحالی اور سولرائزیشن ہے۔ ان سکیموں میں سے متعدد بجلی کی عدم دستیابی، پرانے آلات، تکنیکی خرابیوں اور محدود وسائل کی وجہ سے غیر فعال ہو چکی تھیں۔ خیبر پختونخوا حکومت ان سکیموں کی بحالی، اپ گریڈیشن اور شمسی توانائی پر منتقلی کے ذریعے انہیں مستقل بنیادوں پر فعال بنا رہی ہے، جس سے آپریشنل اخراجات میں کمی اور خدمات کی پائیداری میں اضافہ ہوگا۔سینیٹیشن کے شعبے میں بھی پہلی مرتبہ اس پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ منصوبے کے تحت 18 بڑے سینیٹیشن پراجیکٹس، سیوریج نیٹ ورکس، نکاسی آب کے نظام، پی سی سی گلیوں کی تعمیر، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، بارش کے پانی کے مؤثر اخراج اور ماحولیاتی بہتری کے اقدامات شامل ہیں۔ ان منصوبوں کے نتیجے میں عوامی صحت میں بہتری، آبی آلودگی میں کمی اور شہری و دیہی ماحول کی بہتری متوقع ہے۔ضلع خیبر کے علاقے باڑہ، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، کرم اور اورکزئی کو اس پروگرام میں خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ جنوبی وزیرستان میں متعدد میگا واٹر سپلائی سکیمیں زیر تکمیل ہیں جبکہ شمالی وزیرستان کے میران شاہ اور میرعلی میں سینیٹیشن اور شہری خدمات کی بہتری کے منصوبے منصوبہ بندی اور ڈیزائننگ کے مراحل میں ہیں۔ اسی طرح باڑہ میں جدید سیوریج سسٹم، نکاسی آب، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ اور شہری ماحولیات کی بہتری کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا مربوط اور پائیدار نقطہ نظر ہے۔ صاف پانی، سینیٹیشن، نکاسی آب، ویسٹ واٹر مینجمنٹ، ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی لچک، شمسی توانائی کے استعمال، سماجی شمولیت اور آپریشن و مینٹیننس کو ایک جامع فریم ورک کے تحت یکجا کیا گیا ہے تاکہ منصوبوں کے فوائد طویل عرصے تک برقرار رہ سکیں۔مزید برآں، منصوبے کے تحت صرف انفراسٹرکچر کی تعمیر پر توجہ نہیں دی جا رہی بلکہ محکمہ جاتی صلاحیتوں میں اضافہ، جدید تکنیکی معاونت، عملے کی تربیت، ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز، کمیونٹی انگیجمنٹ اور آپریشن و مینٹیننس کے مؤثر نظام کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ منصوبوں کی تکمیل کے بعد بھی خدمات کا معیار برقرار رہے۔حکومت خیبر پختونخوا نے منصوبے پر عملدرآمد کے لیے فاسٹ ٹریک حکمت عملی اختیار کی ہے۔ سروے، ڈیزائننگ، ماحولیاتی جائزوں، خریداری کے مراحل اور تعمیراتی سرگرمیوں کو بیک وقت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ بعض منصوبوں پر عملی کام شروع ہو چکا ہے جبکہ دیگر مختلف مراحل میں ہیں۔یہ منصوبہ تقریباً 50 لاکھ افراد کی زندگیوں پر براہ راست اثر انداز ہوگا۔ صاف پانی کی فراہمی، بہتر سینیٹیشن، بیماریوں میں کمی، ماحولیاتی تحفظ، موسمیاتی لچک اور بہتر معیارِ زندگی جیسے اہداف ضم شدہ اضلاع کی سماجی اور معاشی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوں گے۔اس منصوبے کے تحت صاف پینے کے پانی کی فراہمی، جدید سینیٹیشن نظام، نکاسی آب، گندے پانی کے محفوظ انتظام، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے اور مقامی آبادی کو پائیدار سہولیات کی فراہمی کے لیے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ضم شدہ اضلاع میں رہنے والے لاکھوں شہریوں کو صحت مند ماحول، معیاری بنیادی سہولیات اور بہتر معیارِ زندگی فراہم کرنا ہے۔صوبائی وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ فضل شکور خان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت قبائلی اضلاع کی پائیدار ترقی کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور آر آئی آئی ایس پی۔کے پی اسی وژن کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں نظر انداز کیے گئے ان علاقوں میں صاف پانی اور سینیٹیشن کی بنیادی سہولیات کی فراہمی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، جسے ہر صورت پورا کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ”صاف پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اور ہماری حکومت اس حق کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔آر آئی آئی ایس پی۔کے پی صرف انفراسٹرکچر کی تعمیر کا منصوبہ نہیں بلکہ یہ عوام کی صحت، خوشحالی اور باوقار زندگی میں سرمایہ کاری ہے۔”فضل شکور خان نے کہا کہ منصوبے کے تحت تعمیر ہونے والی تمام سکیمیں بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کی جائیں گی تاکہ ان کی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ منصوبوں کی شفافیت، معیار اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائیگا اور عوامی مفاد کو ہر فیصلے میں مقدم رکھا جائیگا۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صاف پانی، سینیٹیشن اور نکاسی آب کی بہتر سہولیات نہ صرف عوامی صحت میں نمایاں بہتری لائیں گی بلکہ ماحولیاتی تحفظ، خواتین اور بچوں کی زندگی میں آسانی، اور مقامی معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت عالمی بینک اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے ایسے منصوبوں کو مزید وسعت دے گی تاکہ قبائلی علاقوں کے عوام بھی
صوبے کے دیگر علاقوں کی طرح جدید اور معیاری بنیادی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ آر آئی آئی ایس پی۔کے پی
ضم اضلاع میں ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔بلاشبہ آر آئی آئی ایس پی۔کے پی صرف ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ ضم شدہ اضلاع کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ خیبر پختونخواحکومت کے اس عزم کا عملی اظہار ہے کہ ضم شدہ اضلاع کے عوام کو بھی وہی بنیادی سہولیات، ترقیاتی مواقع اور معیارِ زندگی فراہم کیا جائے جو صوبے کے دیگر علاقوں کے شہریوں کو حاصل ہیں۔
