خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی کی زیر صدارت منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں چیئرمین قائمہ کمیٹی و رکن صوبائی اسمبلی مشتاق احمد غنی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر صحت خلیق الزمان، ممبران قائمہ کمیٹی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین اصف مسعود، اکرام اللہ غازی، حامد الرحمٰن، اعجاز،محمد عدنان خان، سریش کمار، بیری لال، عسکر پرویز، محترمہ ثوبیہ شاہد، محترمہ اسماء عالم، محترمہ ریحانہ اسماعیل اور محترمہ جمیلہ پراچہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری صحت بمع متعلقہ افسران اکاؤنٹنٹ جنرل آفس، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ اور صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ کے متعلقہ افسران بھی شریک ہوئے، جہاں صوبے میں صحت کے شعبے سے متعلق مختلف اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران رکن صوبائی اسمبلی اصف مسعود نے ضلع اپر وزیرستان میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) آفس سمیت تمام بنیادی مراکز صحت کو شمسی توانائی (سولرائزیشن) پر منتقل کرنے کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث صحت کی خدمات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ اس پر سیکرٹری صحت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کے تحت صوبے کے بیشتر سرکاری صحت مراکز کو مرحلہ وار شمسی توانائی پر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ اپر وزیرستان کے تمام متعلقہ صحت مراکز کو بھی جلد اس منصوبے میں شامل کر لیا جائے گا تاکہ وہاں بلا تعطل طبی خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔رکن صوبائی اسمبلی حامد الرحمٰن نے محکمہ صحت میں مختلف کیڈرز میں ضرورت سے زائد بھرتیوں اور مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ اٹھایا۔ اس پر چیئرمین قائمہ کمیٹی مشتاق احمد غنی نے حقائق جاننے کے لیے ایک ذیلی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ کمیٹی پندرہ روز کے اندر اپنی رپورٹ قائمہ کمیٹی کو پیش کرے گی، جس میں مختلف کیڈرز میں ہونے والی بھرتیوں، ان کے طریقہ کار، شفافیت اور قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ ضروری اصلاحات کے لیے مؤثر سفارشات مرتب کی جا سکیں۔اجلاس میں اقلیتی اراکین سریش کمار اور عسکر پرویز نے محکمہ صحت میں اقلیتی طالب علموں کے داخلے کے سلسلے میں مختص دو فیصد ایم ایس/او ڈی ایم ایس کوٹے پر عملدرآمد میں تاخیر کا معاملہ بھی اٹھایا۔ سیکرٹری صحت نے بتایا کہ اس حوالے سے محکمہ قانون سے مشاورت جاری ہے اور جلد ایک جامع سمری منظوری کے لیے پیش کی جائے گی تاکہ اس مسئلے کا مستقل اور قانونی حل ممکن بنایا جا سکے۔رکن صوبائی اسمبلی اعجاز محمد نے نحقی ہیلتھ سینٹر میں تعینات ڈی ایم ایس کے خلاف انکوائری مکمل ہونے کے باوجود ان کی تعیناتی برقرار رہنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ سیکرٹری صحت نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں جلد مناسب انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور متعلقہ قواعد کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ کمیٹی نے اس موقع پر محکمہ صحت میں احتساب، شفافیت اور میرٹ کو ہر سطح پر یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہو۔رکن صوبائی اسمبلی عدنان خان نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ایوب میڈیکل کالج کی عمارت زلزلے سے متاثر ہوئی تھی، جسے اب آئرن شیڈ کے ذریعے مضبوط اور محفوظ بنایا جا رہا ہے تاکہ طلبہ، عملے اور مریضوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر چیئرمین قائمہ کمیٹی مشتاق احمد غنی نے ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں ایم آر آئی مشین اور اس سے متعلقہ ریکارڈ کے جائزے کے لیے قائم فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ طلب کی۔ کمیٹی کی چیئرپرسن محترمہ شہلا بانو نے بتایا کہ رپورٹ مکمل ہو چکی ہے اور اسے آئندہ اجلاس میں قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔انہوں نے محکمہ صحت کے حکام کو مزید ہدایت کی کہ صحت کے شعبے سے متعلق تمام معاملات میں شفافیت، میرٹ، مؤثر نگرانی اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، کیونکہ عوامی فلاح اور صحت کی بہتر خدمات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

مزید پڑھیں