ڈی اے پی کھاد کی دستیابی، درآمدات اور کسانوں کو سبسڈی کی فراہمی کے حوالے سے جلاس کا انعقاد، خیبر پختونخوا کے مشیر زراعت میاں محمد عمر کی زوم کے ذریعے شرکت۔

ڈی اے پی کھاد کی دستیابی، درآمدات اور کسانوں کو سبسڈی کی فراہمی کے حوالے سے وفاقی سطح کا ایک اہم اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں چاروں صوبوں کے وزرا و مشیرانِ زراعت نے شرکت کی۔ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر نے اجلاس میں بذریعہ ویڈ لنکشرکت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت ڈاکٹر محمد بختیار خان بھی انکے ہمراہ تھے۔اجلاس میں کسانوںکے لئےڈی اے پی معیاری کھاد کی بروقت دستیابی اور فراہمی یقینی بنانے سمیت درآمدات اور مجوزہ سبسڈی سے متعلق اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے تبادلہ خیال کیاگیا اور بتایا گیا کہ ڈی اے پی کھاد کی طلب پوری کرنے کے لیے درآمدات کا عمل جاری ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت خیبر پختونخوا میںتقریباً 11ہزار میٹرک ٹن ڈی اے پی کھاد دستیاب ہے، جبکہ مجموعی ضرورت تقریباً 16 ہزار 500 میٹرک ٹن ہے۔ باقی طلب درآمدات کے ذریعے پوری کی جائے گی تاکہ کاشتکاروں کو کھاد کی کسی قسم کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اجلاس میں ڈی اے پی کھاد کی بلند قیمت کے پیش نظر کسانوں کو سبسڈی فراہم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا اور بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ڈی اے پی پر سبسڈی فراہم نہیں کی جائے گی، تاہم صوبائی حکومتیں اپنی مالی گنجائش اور وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس حوالے سے فیصلہ کریں گی۔شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ڈی اے پی کھاد کی قیمت پورے ملک میں یکساں ہونی چاہیے تاکہ صوبوں میں قیمتوں کے فرق سے پیدا ہونے والی مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے اور تمام کاشتکاروں کو مساوی سہولیات میسر آئیں۔اجلاس میں سبسڈی کی شفاف، مؤثر اور بروقت فراہمی کے لیے تمام صوبوں کی مشاورت سے متفقہ طریقہ کار وضع کرنے پربھی اتفاق کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے ایک ذیلی کمیٹی (سب کمیٹی) تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی، جو صوبوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے سبسڈی کی تقسیم کا جامع، شفاف اور قابلِ عمل نظام مرتب کرے گی تاکہ حکومتی ریلیف براہِ راست مستحق کسانوں تک پہنچ سکے۔خیبر پختونخوا کے مشیر برائے زراعت میاں محمد عمر نے کہا کہ کاشتکاروں کی ضروریات کو پورا کرنا اور مسائل حل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے ذریعے کسانوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور غذائی تحفظ کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ کسانوں کے مفادات کا ہر ممکن تحفظ کیا جائے گا اور زرعی شعبے کی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کرنے کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

مزید پڑھیں