سپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت خیبر پختونخوا ریگولیٹری فورس بل 2026 پر سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس، بل پر جن اراکین کے تحفظات ہیں انھیں تحریری نقطہ اعتراض کمیٹی کو جمع کرنے کی ہدایت

سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت خیبر پختونخوا ریگولیٹری فورس بل 2026 کا جائزہ لینے کے لیے سلیکٹ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد بل کو ایوان میں پیش کیے جانے سے قبل اس کی مختلف شقوں اور پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینا تھا۔اجلاس میں چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری عابد مجید، اکرام اللہ خان،ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل عتمانزئی، سیکرٹری خیبرپختونخوا اسمبلی سید وقار شاہ سمیت صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے چیف وہپ اکبر ایوب خان، وزیر قانون آفتاب عالم، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی طارق سعید، صوبائی وزیر نذیر عباسی، ایم پی ایز سجاد اللہ باقی، احمد کریم کنڈی اور نثار باز سمیت دیگر اراکین بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران چیف سیکریٹری اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے خیبر پختونخوا ریگولیٹری فورس بل 2026 کے مختلف پہلوؤں، مجوزہ نظام، اختیارات اور دائرہ کار کے حوالے سے اراکین کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اراکین اسمبلی نے بل کی مختلف شقوں پر اپنی آرائ اور تحفظات کا اظہار کیا۔اجلاس میں بعض اراکین اسمبلی کی جانب سے بل کی حمایت کی گئی، تاہم اکثریتی اراکین نے بل پر مزید تفصیلی غور و خوض اور بحث کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ اس کے ممکنہ اثرات، اختیارات کے دائر? کار اور موجودہ اداروں کے ساتھ ممکنہ اوورلیپ کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔اس موقع پر اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے ریگولیٹری فورس بل کی اصولی و مشروط حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں مؤثر ریگولیشن اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے اصلاحات ضروری ہیں، تاہم یہ امر یقینی بنانا ہوگا کہ نئے ادارے کے قیام سے اختیارات کا غیر ضروری ٹکراؤ، ادارہ جاتی اوورلیپ، عوام کے لیے مشکلات یا کرپشن اور رشوت کے نئے مواقع پیدا نہ ہوں۔سپیکر نے کہا کہ کسی بھی نئے ادارے کا بنیادی مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بل کی منظوری سے قبل اس کے دائرہ اختیار، اختیارات اور موجودہ محکموں کے ساتھ تعلق کو واضح کرنا ضروری ہے۔سپیکر بابر سلیم سواتی نے ان اراکین اسمبلی جنہیں بل کی مختلف شقوں پر تحفظات ہیں، کو ہدایت کی کہ وہ اپنے تحفظات تحریری طور پر جمع کروائیں تاکہ ان کا شق وار اور تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سلیکٹ کمیٹی کا مقصد بل کو محض منظور یا مسترد کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا مؤثر، واضح اور عوام دوست قانونی فریم ورک تشکیل دینا ہے جو صوبے میں بہتر ریگولیشن کے ساتھ ساتھ عوام کے حقوق اور سہولتوں کا بھی تحفظ کرے۔

مزید پڑھیں