
وزیر صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمن کی زیر صدارت صوبہ بھر کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس (ایم ایس) کی کانفرنس محکمہ صحت سیکرٹریٹ پشاور کے کمیٹی روم میں منعقد ہوئی، جس میں سرکاری ہسپتالوں کی مجموعی کارکردگی، صحت کی سہولیات کی فراہمی اور ہسپتالوں کے انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پرسیکرٹری صحت فیاض علی شاہ بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں گزشتہ کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں پر پیش رفت، ماہانہ آئی ایم یو کارکردگی رپورٹ، ادویات کی دستیابی اور خریداری، افرادی قوت کے انتظام، ایچ ایم سی فنڈز کے استعمال اور غیر تدریسی ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔تفصیلی جائزے کے دوران صوبائی وزیر صحت نے ڈاکٹروں، نرسز، پیرا میڈیکس اور دیگر طبی عملے کی حاضری اور بروقت ڈیوٹی پر موجودگی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی کہ منظور شدہ ڈیوٹی روسٹر کے مطابق تمام عملے کی موجودگی یقینی بنائی جائے اور ہسپتالوں میں مؤثر نگرانی اور احتساب کا نظام مزید مضبوط کیا جائے۔صوبائی وزیر نے ہسپتال انتظامیہ کو ضروری ادویات اور طبی سامان کی مسلسل دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ادویات کی بروقت خریداری، مناسب منصوبہ بندی، سٹاک مینجمنٹ اور منصفانہ تقسیم پر خصوصی توجہ دی جائے، جبکہ خریداری، دستیابی، استعمال اور موجودہ سٹاک سے متعلق مکمل اور تازہ ریکارڈ بھی برقرار رکھا جائے۔اجلاس میں ہسپتالوں میں صفائی، حفظانِ صحت اور محفوظ و صاف ماحول کی فراہمی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی گئی کہ وارڈز، او پی ڈیز، ایمرجنسی، واش رومز اور مریضوں کے دیگر مقامات پر صفائی کے مؤثر انتظامات یقینی بنائے جائیں، جبکہ ہسپتالوں میں طبی فضلے کے مناسب انتظام اور انفیکشن سے بچاؤ کے اصولوں پر بھی سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔اجلاس میں ڈاکٹروں، نرسز، پیرا میڈیکس اور دیگر طبی عملے کی دستیابی اور کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہر ہسپتال میں افرادی قوت کی ضروریات اور کمی کی نشاندہی کی جائے اور دستیاب عملے کو متعلقہ ادارے کی ضروریات کے مطابق مؤثر انداز میں تعینات اور استعمال کیا جائے۔صوبائی وزیر صحت نے تمام سطحوں پر ریکارڈ کی درستگی اور دستاویزات کی مناسب دیکھ بھال کی اہمیت پر زور دیا۔ ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ عملے کی حاضری، ادویات، آلات، مالی امور، مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات اور دیگر انتظامی معاملات کا درست ریکارڈ برقرار رکھا جائے تاکہ کارکردگی کی مؤثر نگرانی اور مسائل کی بروقت نشاندہی و حل ممکن بنایا جا سکے۔اجلاس میں ایچ ایم سی فنڈز اور دستیاب وسائل کے استعمال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ صوبائی وزیر نے فنڈز کے شفاف، مؤثر اور ضرورت کی بنیاد پر استعمال پر زور دیتے ہوئے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت کی کہ دستیاب وسائل کو مریضوں کی بہتر نگہداشت اور ہسپتالوں کی کارکردگی میں بہتری کے لیے مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے۔کانفرنس میں وسائل کو متحرک کرنے اور ادارہ جاتی انتظام کو مزید بہتر بنانے پر بھی غور کیا گیا۔ صوبائی وزیر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ دستیاب وسائل کی نشاندہی، انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے اور ہسپتالوں و محکمہ صحت کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو یقینی بنایا جائے تاکہ مسائل کا بروقت حل ممکن ہو۔غیر تدریسی ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے صوبائی وزیر نے ہسپتال انتظامیہ کو مینجمنٹ، ادویات اور طبی عملے کی دستیابی، صفائی، انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال اور ضروری طبی خدمات کی بلا تعطل فراہمی کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ صوبے بھر میں بنیادی اور ثانوی سطح کی صحت کی سہولیات کو بہتر رابطہ کاری کے ذریعے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بی ایچ یوز، آر ایچ سیز، ٹی ایچ کیوز اور ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کے درمیان روابط اور ریفرل نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ مریضوں کو ممکنہ حد تک قریب ترین مرکز صحت میں مناسب طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔سیکرٹری صحت فیاض علی شاہ نے محکمہ صحت کے فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد، ہسپتالوں کی کارکردگی کی باقاعدہ نگرانی اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹس، ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز، آئی ایم یو اور محکمہ صحت کے دیگر متعلقہ شعبوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری پر زور دیا۔صوبائی وزیر صحت نے تمام میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اجلاس کے فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد، بروقت اصلاحی اقدامات اور پیش رفت کی باقاعدہ رپورٹنگ یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہسپتال انتظامیہ کی بنیادی توجہ عملے کی دستیابی، ادویات کی فراہمی، صفائی، مریضوں کی نگہداشت، ریکارڈ کی درستگی اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال پر مرکوز ہونی چاہیے تاکہ خیبر پختونخوا میں صحت کی خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
