اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جائے، ڈاکٹر عامر عبداللہ

ممبر ایڈوائزری کونسل برائے تعلیم ڈاکٹر عامر عبداللہ کو بدھ کے روز محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا کے ذیلی ادارے نظامتِ پیشہ ورانہ ترقی کے امور کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر انہیں ادارے کی جانب سے سرکاری اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور تدریسی مہارتوں میں بہتری، نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کے لیے تربیتی پروگراموں اور پیشہ ورانہ ترقی کے سلسلے میں ادارے کی دیگر ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹریز ابتدائی و ثانوی تعلیم پیر محمد اور محمد حیات شاہ، ڈائریکٹر پروفیشنل ڈویلپمنٹ عارف علی خان اور ادارے کے دیگر افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر ممبر ایڈوائزری کونسل نے نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کے انڈکشن پروگرام کے لیے ادارے کے لرننگ مینجمنٹ سسٹم پورٹل کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پورٹل میں اساتذہ سے رابطے، تربیتی سرگرمیوں کی نگرانی اور دیگر ضروری سہولیات شامل کی جائیں۔ اس مقصد کے لیے لوکل گورنمنٹ ٹریننگ اسکول حیات آباد کے ایل ایم ایس کا جائزہ لے کر اس کے تجربات سے استفادہ کیا جائے اور ادارے کے اپنے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ نہوں نے اس ضمن میں تین دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے اور تین ہفتوں کے اندر اپنے پورٹل کو ازسرِنو بہتر بنانےکی ہدایت کی۔ڈاکٹر عامر عبداللہ نے ہدایت کی کہ ادارے کے پورٹل میں خودکار رپورٹنگ کا نظام بھی متعارف کرایا جائے جس کے تحت تربیت حاصل کرنے والے اساتذہ کی غیر حاضری کی صورت میں ان کے متعلقہ نگران حکام کو بروقت اطلاع فراہم کرنے کی سہولت موجود ہو۔انہوں نے ادارے کے سالانہ تربیتی کیلنڈر کو جدید تقاضوں کے مطابق مؤثر اور فعال بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تربیتی پروگراموں کا شیڈول، ٹائم لائن اور دورانیہ واضح طور پر درج ہونا چاہیے تاکہ اساتذہ کو اپنی تربیت کے مقررہ شیڈول سے پیشگی آگاہی حاصل ہو۔ انہوں نے تربیتی کیلنڈر کو ایجوکیشن مانیٹرنگ انفارمیشن سسٹم سے منسلک کرنے اور متعلقہ معیاری عملی ضابط? کارکا حصہ بنانے کی بھی ہدایت کی۔ممبر ایڈوائزری کونسل نے اساتذہ کے تربیتی پروگراموں کے معیار کو بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پیشہ ورانہ تربیت کے حوالے سے ادارے کی کارکردگی میں بہتری لائی جائے اور تربیتی پروگراموں کے معیار کو اس انداز میں یقینی بنایا جائے کہ کسی قسم کی شکایت کی گنجائش نہ رہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے نجی شعبے سے تکنیکی معاونت حاصل کرنے کی غرض سے مفاہمت کے عمل کو خوش آئند قرار دیا۔انہوں نے اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کے مخصوص اشاریوں کو ان کی ملازمتی ترقی کے ساتھ منسلک کرنے کی تجویز بھی پیش کی اور اس سلسلے میں ایڈیشنل سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم کو ایک تصوراتی نوٹ تیار کرکے فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ڈاکٹر عامر عبداللہ نے اساتذہ کی بھرتی کے عمل میں موزوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل امیدواروں کو ترجیح دینے کے حوالے سے پالیسی میں ضروری ساختی تبدیلی یا پیشہ ورانہ تربیت اور متعلقہ کورسز میں حاصل کردہ نمبروں کو بھرتی کے عمل میں ترجیح دینے کے امکان پر بھی غور کرنے کی ہدایت کی۔ اس ضمن میں سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم کی مشاورت سے ایک ہفتے کے اندر تجاویز مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ممبر ایڈوائزری کونسل نے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے اداروں میں ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے انکلوسیو سکول منصوبے کی طرز پر ریسورس رومز قائم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے درکار تمام ضروری سہولیات اور لوازمات پر مشتمل تصوراتی دستاویز پندرہ دن کے اندر تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو نوشہرہ میں فاؤنڈیشن کے انکلوسیو اسکول کا تجرباتی دورہ کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ وہاں رائج طریق? کار اور دستیاب سہولیات کا جائزہ لے کر ان سے استفادہ کیا جا سکے۔بعد ازاں ممبر ایڈوائزری کونسل برائے تعلیم نے محکمہ اعلی تعلیم کے تحت پر تشدد انتہا پسندی کے روک تھام کیلئے قائم ادارے کی ذمہ داریوں، کارکردگی اور خدمات کے حوالے سے تعارفی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں سیکریٹری اعلی تعلیم عابداللہ کاکا خیل، ممتاز ماہر ڈاکٹر حسن الامین اور ادارے کے افسران نے شرکت کی۔ انھوں نے مرکز کو تشدد پسندانہ خیالات کے حامل دستیاب افرادی اعداد وشمار کے انڈکس مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ ڈاکٹر عامر عبداللہ نے کہا کہ مرکز کے وقتی سرانجام دینے والے خدمات جامعات کی سطح پر بھی موجود ہیں لہذا اس مرکز کو ان جامعات کیلئے ایک ماڈل بنا دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ان پر عمل پیرا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ مرکز اردو اور پاکستان سٹڈیز کے تعلیمی نصاب میں بھی تعاون فراہم کرے۔ ممبر ایڈوائزری کونسل نے انسداد پر تشدد انتہا پسندی مرکز کے حکام کو تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ پر بھی زور دیا۔

مزید پڑھیں