
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد فخرِ عالم عرفان نے پولیو کے خاتمے کو قومی اہمیت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ صوبے بھر میں قابلِ تصدیق اور معیاری انسدادِ پولیو مہم کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں پاکستان کا مقام ملک سے پولیو کے خاتمے سے وابستہ ہے، کیونکہ پاکستان ایک صحت مند اور پولیو سے پاک دنیا کے لیے پُرعزم ہے۔ پاکستان ان دو ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو آج بھی عالمی صحت کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ “ہم آخری مرحلے میں کھڑے ہیں اور آخری مرحلہ ہمیشہ سب سے مشکل ہوتا ہے، تاہم اس منزل کے حصول کے لیے ہر کسی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔”انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک وائرس کا صوبے سے مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، تمام اضلاع خطرے کی زد میں ہیں۔ بعض علاقوں سے ماحولیاتی نمونوں کا مثبت آنا اس بات کی نشاندہی ہے کہ تمام اضلاع کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے تمام اضلاع پر زور دیا کہ وہ معیاری مہم چلائیں اور کہا کہ یہی مناسب وقت ہے اور چند معیاری مہمات بڑی تبدیلی لا سکتی ہیں۔چیف سیکرٹری نے دشوار گزار اور حساس علاقوں میں کام کرنے والی پولیو ٹیموں کی محنت اور لگن کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ چیلنجز کے باوجود ٹیموں نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور صوبہ دو سے تین مرتبہ خاتمے کے آخری مرحلے تک پہنچ چکا ہے۔وہ بدھ کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں صوبائی انسدادِ پولیو ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔اجلاس کو نومبر 2026 میں صوبہ بھر میں انسدادِ پولیو مہم کی تیاریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔صوبائی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (ای او سی) کی کوآرڈینیٹر سارہ رحمان نے اجلاس کو بتایا کہ تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور تمام اضلاع میں جامع مہم کے لیے فیلڈ ٹیموں کی تربیت جاری ہے۔
