وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب جہاز بھر کر چین میں ڈیٹا سنٹرز بنانے کیلئے نمائشی اجلاس کر رہے ہیں۔ نمائشی اجلاسوں کے برعکس خیبرپختونخوا ڈیٹا سنٹرز کے قیام کیلئے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے بیان میں کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں جدید ڈیٹا سینٹر کے قیام پر ورلڈ بینک سے اہم مذاکرات ہوئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں جدید ڈیٹا سینٹر، اے آئی اور ڈیجیٹل گورننس کے فروغ پر ورلڈ بینک کے تعاون سے کام شروع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا سینٹر کے لیے سستی پن بجلی اور ٹرانسمیشن لائن کی فراہمی پر مذاکرات ہوئے ہیں۔ ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر کے طریقہ کار کا فیصلہ ورلڈ بینک کی ٹیم کے ستمبر کے دورے کے بعد ہوگا۔ ٹرانسمیشن لائن ورلڈ بینک تعاون، پی پی پی موڈ یا صوبائی وسائل سے تعمیر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ دو سال میں خیبرپختونخوا کی 201 سرکاری خدمات ڈیجیٹلائزڈ ہوچکے ہیں، جبکہ 2024 میں خیبرپختونخوا کی صرف 3 سرکاری خدمات ڈیجیٹل تھیں۔ خیبرپختونخوا ڈیجیٹل گورننس کے میدان میں باقی صوبوں سے آگے ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ نے عالمی ایوارڈ حاصل کرکے پاکستان کا نام روشن کیا۔ اب خیبرپختونخوا میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ڈیٹا سینٹر کی ضرورت ہے۔ عالمی معیار کا ڈیٹا سینٹر بنانے کیلئے ورلڈ بینک کے تجربے سے استفادہ کریں گے۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی وژن اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایات پر سستی بجلی عالمی کمپنیوں کو پیش کرکے سرمایہ کاری لائی جائے گی۔ خیبرپختونخوا کی سستی بجلی عالمی ڈیجیٹل کمپنیوں کیلئے بڑا سرمایہ کاری کا موقع بن سکتی ہے۔ ڈیجیٹل صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے ورلڈ بینک سے تعاون طلب کیا ہے۔
ورلڈ بینک اور آئی ایف سی کی اعلیٰ قیادت اور بین الاقوامی ماہرین نے اجلاس میں شرکت کی۔ اس اہم اجلاس میں چیف سیکریٹری، ایڈیشنل چیف سیکریٹری پی اینڈ ڈی، آئی ٹی بورڈ اور سیکریٹری توانائی نے شرکت کی۔
