محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے ادویات اور طبی آلات کی خریداری کے عمل میں شفافیت، مسابقتی نرخوں اور سرکاری وسائل کے دانشمندانہ استعمال کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔محکمہ صحت نے پنجاب حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے لیے تقریباً 18 ارب 94 کروڑ روپے مالیت کی ادویات اور طبی آلات کی منظور شدہ خریداری فہرست پر نظرثانی اور اسے منسوخ کیے جانے سے متعلق سامنے آنے والی رپورٹس کا نوٹس لیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق بعض ادویات اور طبی آلات کی قیمتوں میں خیبر پختونخوا کی میڈیکل کوارڈینیشن سیل (MCC) کے حاصل کردہ نرخوں کے مقابلے میں نمایاں فرق سامنے آیا۔رپورٹس کے مطابق تین اشیاء، جن کی خصوصیات اور مطلوبہ معیار یکساں تھے، کی قیمتوں میں مجموعی طور پر تقریباً 1 ارب 60 کروڑ روپے کا فرق سامنے آیا، جس کے بعد معاملے کا جائزہ لیا گیا اور پنجاب حکومت کی جانب سے متعلقہ خریداری فہرست پر نظرثانی کا فیصلہ کیا گیا۔محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق یہ پیش رفت صوبے میں ادویات اور طبی آلات کی خریداری کے لیے اختیار کیے گئے شفاف اور مسابقتی نظام کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ MCC خیبر پختونخوا کے ذریعے مسابقتی بولی، معیاری اسپیسفکیشنز اور شفاف خریداری کے طریقہ کار کو یقینی بناتے ہوئے معیاری ادویات اور طبی آلات کو مسابقتی نرخوں پر حاصل کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ سرکاری خریداری کا مقصد صرف ادویات کی فراہمی نہیں بلکہ عوام کے ہر روپے سے زیادہ سے زیادہ طبی سہولیات اور فوائد حاصل کرنا ہے۔ ادویات کی مسابقتی قیمتوں پر خریداری سے نہ صرف سرکاری خزانے پر بوجھ کم ہوتا ہے بلکہ دستیاب وسائل سے مزید مریضوں کو ضروری ادویات اور طبی سہولیات فراہم کرنے کے مواقع بھی بڑھتے ہیں۔یمحکمہ صحت خیبر پختونخوا نے واضح کیا کہ خریداری کے نظام میں شفافیت، مسابقت، معیاری ادویات، مالیاتی نظم و ضبط اور مؤثر نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ عوامی وسائل کا بہترین استعمال یقینی بنایا جا سکے۔محکمہ صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شفافیت، جوابدہی، مسابقتی خریداری اور عوامی ہوسائل کا مؤثر استعمال خیبر پختونخوا حکومت کے صحت کے شعبے میں اصلاحات کے بنیادی اصول ہیں اور مریضوں کو معیاری ادویات کی بروقت فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
