خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کی پشاور، نوشہرہ، ملاکنڈ اور سوات میں بڑی کارروائیاں

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبے کے مختلف اضلاع میں بڑی کارروائیاں کرتے ہوئے مضر صحت اور غیر معیاری خوراک کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے پشاور، نوشہرہ، ملاکنڈ اور سوات میں کارروائیاں کی جسکے دوران مجموعی طور پر 4 ہزار کلوگرام سے زائد ناقص اشیاء ضبط کر کے تلف کی گئیں جبکہ متعدد یونٹس سیل اور مالکان پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے۔
ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مشترکہ آپریشن کے دوران دیر کالونی میں قائم ایک غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی یونٹ پر چھاپہ مارا، جہاں مضر صحت مارجرین اور ڈیری کریم کی ری پیکنگ کی جا رہی تھی۔ کارروائی کے دوران 1500 کلوگرام بدبودار اور آلودہ مارجرین ضبط کر کے تلف کیا گیا جبکہ کیمیکل ڈرمز اور فریزر بھی تحویل میں لے لیے گئے۔ یونٹ مالکان پر بھاری جرمانہ عائد کرتے ہوئے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔اسی طرح نوشہرہ میں امانگڑ کے علاقے میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مختلف کاروباروں کا معائنہ کیا۔ حفظان صحت کے اصولوں کی خلاف ورزی، میڈیکل سرٹیفکیٹ کی عدم دستیابی اور ایکسپائر کیمیکلز کے استعمال پر ایک گھی مل کو جرمانہ کیا گیا۔ امانکوٹ اور پبی میں آئس کریم یونٹس کی چیکنگ کے دوران 847 کلوگرام مس لیبل آئس کینڈیز ضبط کر کے تلف کی گئیں اور ایک یونٹ کو سیل کر دیا گیا جبکہ مزید کارروائی کا بھی آغاز کر دیا گیا۔ترجمان نے مزید بتایا کہ ضلع ملاکنڈ کے علاقے درگئی میں بھی فوڈ سیفٹی ٹیم نے آئس کریم یونٹ پر چھاپہ مارا جہاں برانڈڈ ریپرز میں مقامی تیار کردہ آئس کریم کی پیکنگ کا انکشاف ہوا۔ کارروائی کے دوران ریپرز ضبط کر لیے گئے اور 1500 کلوگرام مضر صحت اور غیر معیاری آئس کریم تلف کر دی گئی جبکہ مالک پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔مزید تفصیلات کیمطابق سوات میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ خوازہ خیلہ بازار میں کارروائیاں کرتے ہوئے میٹ، کباب، کریانہ اور سبزی فروشوں کا معائنہ کیا۔کارروائی کے دوران 80 کلوگرام مضر صحت قیمہ اور 6 کلو چائنہ سالٹ ضبط کر کے تلف کیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے کامیاب کارروائیوں پر متعلقہ ٹیموں کو سراہا اور کہا کہ صوبہ بھر میں غیر معیاری اور مضر صحت خوراک کے خلاف بلا تعطل کارروائیاں جاری رہیں گی اور عوام کی صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں