وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور طارق سعید مروت کی زیرِ صدارت محکمہ داخلہ و قبائلی امور کے کانفرنس روم میں صوبے کے حساس علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔یہ اجلاس اگست وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیرِ صدارت حساس علاقوں میں مجموعی امن و امان کی صورتحال سے متعلق ہونے والےاجلاس کی تیاری کے سلسلے میں منعقد کیا گیا، اجلاس میں صوبے کی سیکیورٹی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سینئر پولیس افسران، متعلقہ ایڈیشنل انسپکٹرز جنرل پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) اور اسپیشل برانچ کے نمائندگان نے شرکت کی، جبکہ آر پی او مالاکنڈ، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو صوبے بھر میں موجودہ امن و امان کی صورتحال، بالخصوص مالاکنڈ ڈویژن، نئے ضم اضلاع اور جنوبی اضلاع میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس دوران مجموعی سیکیورٹی پلان، درپیش چیلنجز، پولیس کی تیاری، آپریشنل ضروریات اور سیکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔بریفنگ کے دوران آر پی او مالاکنڈ نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ علاقے میں دہشت گرد عناصر کے خلاف مشترکہ آپریشنز جاری ہیں، جن کا مقصد دہشت گرد عناصر کا خاتمہ اور علاقے میں امن و سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے طارق سعید مروت نے کہا کہ موجودہ سیکیورٹی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے پولیس، متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی اور مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ انٹیلی جنس بیسڈ اقدامات، بین الادارہ جاتی رابطہ کاری اور پیشگی سیکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔معاونِ خصوصی نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ، امن و امان کا قیام اور شہریوں کو محفوظ ماحول کی فراہمی صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو مکمل چوکس رہنے اور سیکیورٹی خطرات کے خلاف بروقت اور مربوط اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔طارق سعید مروت نے حساس اور کمزور علاقوں کے لیے جامع سیکیورٹی پلانز کی تیاری اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال پر بھی زور دیا تاکہ عوامی تحفظ کو مزید یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف اقدامات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعدادِ کار میں اضافے اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی، تاکہ خیبرپختونخوا میں پائیدار امن، استحکام اور عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
