وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے نظرثانی اپیل بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو طبی سہولیات کی فراہمی میں تاخیری حربہ تھا۔ عمران خان کو بروقت اور مناسب طبی علاج کی فراہمی ان کا آئینی، قانونی اور بنیادی حق ہے، جس سے انہیں محروم نہیں کیا جا سکتا،اس لیے عدالتی احکامات کی روشنی میں انھیں فوری طور پر علاج کے لئے شفا ہسپتال منتقل کیا جائے یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے قانونی راستہ اختیار کیا اور سپریم کورٹ نے اس حوالے سے واضح احکامات جاری کیے ہیں لیکن بدقسمتی سے سپریم کورٹ کے احکامات پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا جو افسوسناک امر ہے، سپریم کورٹ احکامات پر مقررہ وقت میں عملدرآمد یقینی نہیں بنایا گیا تو توہین عدالت درخواست دائر کی جائے گی،شفیع جان نے واضح کیا کہ عمران خان کو سپریم کورٹ احکامات پر ہسپتال منتقلی اور طبی علاج کی فراہمی میں جو بھی رکاوٹ بنے گا، اسے اس کا حساب دینا ہوگا، وفاقی حکومت اس معاملے پر منفی سیاست سے گریز کرے اور قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے احکامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنائے،انہوں نے کہا کہ آئین و قانون کی بالادستی کا تقاضا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے اور انہیں مطلوبہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ کسی بھی شہری، خصوصاً ملک کے سابق وزیراعظم اور مقبول ترین سیاسی جماعت کے لیڈر کے بنیادی اور قانونی حقوق کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔صوبائی وزیر اطلاعات نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت سپریم کورٹ کے واضح احکامات پر عملدرآمد میں مزید تاخیر سے گریز کرے انھوں نے مزید کہا کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کی قیادت میں اسٹریٹ موومنٹ کا سلسلہ جاری ہے ، وزیراعلی سہیل آفریدی ہفتہ اور اتوار کو اسٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں ہنگو اور بونیر کا دورہ کرینگے،
