خیبرپختونخوا حکومت کارکردگی کے میدان میں دیگر صوبوں سے آگے ہے،وزیر اطلاعات شفیع جان

وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا شفیع جان نے صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے 2013 سے اب تک آبپاشی کے نظام کو مضبوط بنانے، نئے ڈیموں کی تعمیر، سیلاب سے تحفظ اور آبی وسائل کے مؤثر انتظام کے لیے تاریخی اقدامات کیے ہیں۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایت پر صوبائی حکومت ہر محکمے کی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کر رہی ہے،وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا کہ یہی فارم 45 کی حکومت کی خوبصورتی ہے کہ ہم خود کو عوام کے سامنے جوابدہ اور قابل احتساب سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں خیبرپختونخوا کارکردگی کے میدان میں دیگر صوبوں سے آگے ہے اور حکومت اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ہر فورم پر دیگر صوبوں کے ساتھ مناظرے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت نے ہمیشہ خیبرپختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا ہے۔ گیس اور بجلی پیدا کرنے والے صوبے میں بدترین گیس اور بجلی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گیس اور دیگر مسائل پر گورنر سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں بھی گیس ، لوڈشیڈنگ اور دیگر مسائل پر بھرپور انداز میں آواز اٹھائی،صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے آٹے کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈالنے کے لیے قائم ناکے اب بھی ختم نہیں کیے گئے، انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت مسلسل آئین کے آرٹیکل 151 کی خلاف ورزی کر رہی ہے جس پر وفاقی حکومت بھی مکمل طور پر خاموش ہے،اس موقع پر وزیر آبپاشی ریاض خان نے محکمہ آبپاشی کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2013 میں محکمہ آبپاشی کا سالانہ ترقیاتی بجٹ 4.08 ارب روپے تھا جو 2025 تک بڑھ کر 23.6 ارب روپے ہو گیا۔ 2013 سے 2025 کے دوران 352,216 ایکڑ نئی کمانڈ ایریا زمین آبپاشی نظام میں شامل کی گئی جبکہ 2013 سے 2026 تک 26 ڈیم مکمل کیے گئے جن کی مجموعی ذخیرہ گنجائش 176,200 ایکڑ فٹ ہے۔ مزید 16 ڈیم تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں جن کی مجموعی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 573,300 ایکڑ فٹ ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ ورسک کینال ریموڈلنگ منصوبہ تکمیل کے پہلے مرحلے میں ہے جس پر مجموعی طور پر 23 ارب روپے لاگت آئے گی۔ منصوبے میں ورسک کینال سسٹم کی تشکیل اور 5.20 کلومیٹر طویل ٹنل کی تعمیر شامل ہے، جس کے ذریعے 300 کیوسک پینے کا پانی اور 400 کیوسک آبپاشی کے لیے فراہم کیا جائے گا جبکہ اس منصوبے سے سالانہ زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ریاض خان نے کہا کہ 2013 سے 2025 کے دوران 105 کلومیٹر طویل سیلاب سے بچاؤ کے منصوبے مکمل کیے گئے جن میں دریائے کابل کے دونوں کناروں پر پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ میں 85 کلومیٹر حفاظتی پشتے تعمیر کیے گئے، جن پر 14 ارب روپے لاگت آئی۔ انہوں نے کہا کہ یہی حفاظتی منصوبے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران ان اضلاع کو بڑے نقصان سے بچانے میں مؤثر ثابت ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب میں سی آر بی سی مین کینال اور منڈا ہیڈورکس کو شدید نقصان پہنچا تھا تاہم سی آر بی سی کینال مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے اور 360,000 ایکڑ اراضی کو مسلسل آبپاشی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ منڈا ہیڈورکس میں عارضی انتظامات کے ذریعے 170,000 ایکڑ اراضی کی آبپاشی برقرار رکھی گئی ہے۔وزیر آبپاشی نے کہا کہ نیشنل واٹر پالیسی 2018 کے مطابق خیبرپختونخوا واٹر ایکٹ 2020 نافذ کیا گیا، جس کے تحت زمینی اور سطحی پانی کے تحفظ، مؤثر استعمال اور ریگولیشن کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا واٹر ریسورس ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کے لیے قواعد تیار ہو چکے ہیں جبکہ محکمہ خزانہ اور کابینہ کی منظوری کے بعد اتھارٹی کو فعال کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 22 ٹیلی میٹری گیجز نصب کیے جا چکے ہیں اور ورلڈ بینک کے تعاون سے مزید 60 ٹیلی میٹری گیجز نصب کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں زیم ڈیم کی فزیبلٹی اور تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن جاری ہے، جس کی تکمیل کے بعد 145,000 ایکڑ اراضی آبپاشی نظام میں شامل ہوگی۔ لفٹ کم گریویٹی سی آر بی سی منصوبے کا 189 ارب روپے کا پی سی ون منظور ہو چکا ہے، منصوبہ 297,000 ایکڑ اراضی کو سیراب کرے گا اور آئندہ تین ماہ میں اس پر عملی کام شروع ہوگا۔ریاض خان نے کہا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک مزید 543,044 ایکڑ قابلِ کاشت اراضی کو آبپاشی نظام میں شامل کیا جائے۔ ضم شدہ اضلاع میں عالمی بینک کے تعاون سے مربوط آبی وسائل کا ماسٹر پلان تیار ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ باڑہ ڈیم کی فزیبلٹی اور تفصیلی ڈیزائن جلد مکمل کیا جائے گا، جس سے 48,000 ایکڑ اراضی سیراب ہوگی، 6 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی جبکہ پشاور کنٹونمنٹ، تحصیل باڑہ اور ملحقہ صنعتی علاقوں کو 16 کیوسک پینے کا پانی فراہم کیا جائے گا۔ اسی طرح جبہ ڈیم کا تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن مکمل ہو چکا ہے، 9 ارب روپے کا پی سی ون منظور ہو چکا ہے اور منصوبے پر عملی کام جاری ہے، جس سے حیات آباد اور جمرود کو 50 کیوسک پینے کا پانی فراہم ہوگا جبکہ 450 ایکڑ اراضی بھی سیراب ہوگی۔

مزید پڑھیں