صوبے میں امن و امان کو خراب کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا، شفیع جان

خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے جمعرات کے روز رکن صوبائی اسمبلی و پارلیمانی سیکرٹری برائے محکمہ جنگلات شیر علی آفریدی کے ہمراہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے گزشتہ روز ہنگو میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی عیادت کی، ان کی خیریت دریافت کی اور جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔اس موقع پر وزیر اطلاعات نے زخمی اہلکاروں کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی اور انہیں صوبائی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون اور مکمل معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ سے زخمی اہلکاروں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور علاج معالجے سے متعلق تفصیلی بریفنگ لی اور ہدایت کی کہ زخمی پولیس اہلکاروں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت نہ برتی جائے اور انہیں بہترین طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شفیع جان نے ہنگو میں دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بزدلانہ حملے حکومت اور خیبرپختونخوا پولیس اور عوام کے حوصلے ہرگز پست نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کو خراب کرنے والے عناصر کے ساتھ بھرپور طریقے سے نمٹا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہنگو دہشت گرد حملے میں 10 پولیس اہلکار شہید جبکہ 32 اہلکار زخمی ہوئے ہیں،وزیراعلی سہیل آفریدی
اور معاون خصوصی برائے داخلہ طارق سعید مروت بھی ہنگو گئے اور شہدا کے لواحقین سے ملے،شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے افسران اور جوان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر بے مثال جرات اور بہادری کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام اور پولیس گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کے خلاف لازوال قربانیاں دے رہے ہیں، جبکہ صوبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملک کی پہلی دفاعی لائن کا کردار ادا کر رہا ہے،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت پولیس کی استعداد کار میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ پولیس کو جدید اسلحہ، آلات اور ضروری وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191 ارب روپے کر دیا گیا ہے تاکہ فورس کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ دہشت گردی کے باعث خیبرپختونخوا کو شدید معاشی نقصان پہنچا ہے، یہاں کے کاروبار تباہ ہوئے،ضم اضلاع میں امن و امان کی صورت حال بہتر نہیں ہے، بلوجستان میں بھی امن وامان کی صورت حال انتہائی خراب ہے،انہوں نے کہا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے قابل قبول نہیں۔ وفاقی حکومت تمام صوبوں اور اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے اور دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کا ازسرنو جامع جائزہ لے، نیا ایکشن پلان مرتب کیا جائے، خیبرپختونخوا اسمبلی میں ہم نے امن جرگہ منعقد کیا تھا، جس میں تمام جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، امن جرگے کے متفقہ طور پر 13 نکاتی ڈرافٹ منظور کیا گیا تھا جس میں صوبائی ایکشن پلان بھی شامل تھا،

مزید پڑھیں