یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر ہم خیبر پختونخوا پولیس کے ان عظیم شہداء کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطنِ عزیز میں امن و امان کے قیام، قانون کی بالادستی، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ خیبر پختونخوا پولیس کے یہ بہادر شہداء ہماری قوم کے حقیقی ہیرو ہیں، جن کی لازوال قربانیاں امن، استحکام، قومی وقار اور روشن مستقبل کی مضبوط بنیاد ہیں۔ پوری قوم ان کے جذبۂ ایثار کو سلام پیش کرتی ہے اور ان کی خدمات کو ہمیشہ عزت، احترام اور فخر کے ساتھ یاد رکھے گی۔شہداء کے اہلِ خانہ کی کفالت، عزت و تکریم اور فلاح و بہبود حکومت اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت پولیس شہداء کے خاندانوں کی معاونت کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔ اسی عزم کے تحت شہداء پیکج کے ذریعے مالی معاونت، سرکاری ملازمتوں، تعلیمی سہولیات اور دیگر مراعات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ شہداء کے اہلِ خانہ کو ہر ممکن سہولت، تحفظ اور سہارا میسر آ سکے۔دہشت گردی کا ناسور خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم صوبائی حکومت اس خطرے کے مؤثر سدباب کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔صوبائی حکومت نے رواں مالی سال پولیس کا بجٹ 191 ارب روپے تک بڑھا دیا ، وزیراعلی سہیل آفریدی نے اپنے پہلے کابینہ اجلاس میں بھی پولیس اور سی ٹی ڈی کے استعداد کار کو بڑھانے کےلئے 31 ارب روپے پیکج کی منظوری دی تھی ،دہشت گردی کے نئے خطرات سے نمٹنے کے لئے جدید اسلحہ، اینٹی ڈرون جیمنگ سسٹم، ڈرون سرویلنس، آرمرڈ گاڑیاں اور دیگر جدید آلات کی خریداری کی گئیں، اس موقع پر ہم خیبر پختونخوا پولیس کے ان غازیوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر غیر معمولی بہادری، استقامت اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود اپنے فرائض سے پیچھے نہ ہٹنے والے یہ جری سپوت ہمارے لیے عزم، حوصلے، ایثار اور حب الوطنی کی روشن مثال ہیں۔ انہی بہادر جوانوں کی قربانیوں اور ثابت قدمی کی بدولت صوبے میں امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی کوششیں مزید مضبوط ہوئی ہیں۔
