
خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات، سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا دورہ کیا جہاں انھوں نے فن ٹیک یونٹ سمیت مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور جاری منصوبوں کا جائزہ لیا،اس موقع پر منیجنگ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ڈاکٹر عاکف خان نے صوبائی وزیر کو ڈیجیٹل گورننس، کیش لیس حکومتی ادائیگیوں، نوجوانوں کی ڈیجیٹل تربیت، آئی ٹی سیکٹر میں روزگار کے مواقع، ڈیجیٹل عوامی خدمات اور مختلف جاری منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر صوبائی وزیر شفیع جان نے آئی ٹی بورڈ کو دو عالمی ایوارڈز سمیت ملکی سطح پر متعدد اعزازات حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا فروغ خیبرپختونخوا کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا،انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبے کو ڈیجیٹل وژن 2030 دیا گیا ہے،خیبرپختونخوا کو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کا مرکز بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔شفیع جان نے کہا کہ عوامی خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکروں سے بچایا جا سکے اور سرکاری خدمات گھر کی دہلیز تک پہنچائی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال 48 سرکاری نظام ڈیجیٹلائز کیے گئے ہیں جبکہ دسمبر 2026 تک مزید400سرکاری خدمات کو ڈیجیٹائز ڈ کیا جائے گا، صوبائی وزیر کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ دستک ایپ کے ذریعے شہریوں کو گھر بیٹھے ڈرائیونگ اور اسلحہ لائسنس سمیت مختلف سرکاری خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ دستک ایپ کا نیا ورژن بھی لانچ کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے شہریوں کو 146 سرکاری خدمات تک رسائی حاصل ہوگی۔صوبائی وزیر نے کیش لیس حکومتی ادائیگیوں کے نظام کو مزید مستحکم اور وسیع کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ جدید ڈیجیٹل ادائیگیوں سے سرکاری امور میں شفافیت اور بہتری آئے گی۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پامیر کے ذریعے 34 محکموں کی 319 سرکاری خدمات کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت فراہم کی گئی ہے اور خیبرپختونخوا سرکاری ادائیگیوں کی ڈیجیٹلائزیشن میں ملک کے دیگر صوبوں سے آگے ہے۔شفیع جان نے کہا کہ بانی چئیر مین عمران خان کے ویژن کے مطابق نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل اسکلز سے آراستہ کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ روزگار پر مبنی ہنرمندی کے پروگرام کے تحت 27 ہزار 500 نوجوانوں کی تربیت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ اب تک 16 ہزار 300 نوجوانوں کو ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو عالمی آئی ٹی مارکیٹ سے جوڑنے اور انہیں روزگار و کاروبار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ خیبر پاس لانچ کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے شہریوں کو ایک ہی ڈیجیٹل شناخت کے تحت مختلف سرکاری خدمات تک آسان اور محفوظ رسائی حاصل ہوگی۔صوبائی وزیر کو صوبے میں آئی ٹی انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے جاری منصوبوں سے بھی اگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈی آئی خان سمیت صوبے میں تین آئی ٹی پارکس قائم کیے گئے ہیں جبکہ پشاور اور مردان میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس مکمل کیے جا چکے ہیں۔جبکہ ایک ارب 60 کروڑ روپے کی لاگت سے ڈیجیٹل سٹی ہری پور پر کام تیزی سے جاری ہے، جبکہ درشل انوویشن نیٹ ورک کے تحت 199 اسٹارٹ اپس کو انکیوبیشن سپورٹ فراہم کی جا چکی ہے۔شفیع جان نے کہا کہ ای گورننس کے فروغ سے سرکاری نظام میں شفافیت، جوابدہی اور عوامی سہولت میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری محکموں کی ڈیجیٹائزیشن کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے اور سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل تمام جاری اور نئے منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے منصوبے صوبے میں نوجوانوں کے لیے روزگار، کاروبار اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا عزم ہے کہ خیبرپختونخوا کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل گورننس اور ڈیجیٹل معیشت کے میدان میں ملک کا صف اول کا صوبہ بنایا جائے۔
