ریڈیو پاکستان کیس: انسداد دہشت گردی عدالت پشاور کا توہینِ عدالت کی درخواستیں خارج کرنا حق و انصاف کی فتح ہے، آفتاب عالم

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم نے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے توہینِ عدالت کی درخواستیں خارج کیے جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے حق، انصاف اور قانون کی بالادستی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ الحمدللہ، انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ریڈیو پاکستان کیس میں سپیشل پراسیکیوٹر/ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونحوا نعمان الحق کاکاخیل کے خلاف دائر توہینِ عدالت کی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس قانونی عمل کے دوران اپنے مؤقف اور آئینی و قانونی ذمہ داریوں پر ثابت قدم رہے اور عدالت کے سامنے قانون کے مطابق اپنا دفاع کیا۔آفتاب عالم نے کہا کہ نعمان الحق کاکاخیل ایڈوکیٹ سپریم کورٹ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور پارٹی کی دیگر قیادت کے خلاف 9 مئی کے مقدمات میں انہیں مبینہ طور پر پھنسانے کی کوششوں کے خلاف قانون اور انصاف کا ساتھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جدوجہد کا بنیادی مقصد کسی فرد یا گروہ کو قانون سے بالاتر قرار دینا نہیں بلکہ ثبوت، قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کیس میں عدالت کی تازہ پیش رفت اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ فوجداری مقدمات میں شفاف تفتیش، قابلِ اعتماد شواہد اور قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سچ کو وقتی دباؤ یا سیاسی الزامات سے شکست نہیں دی جا سکتی، بالآخر قانون اور انصاف ہی فیصلہ کرتے ہیں۔آفتاب عالم نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف ایک قانونی معاملے میں پیش رفت نہیں بلکہ حق، انصاف اور اصولی مؤقف کی اہمیت کا مظہر ہے۔ صوبائی وزیر قانون نے اس موقع پر اپنے وکلاء، ساتھیوں، سیاسی قیادت، کارکنوں اور عوام کا بھی شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا میں قانون کی حکمرانی، انصاف کی فراہمی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

مزید پڑھیں