خیبر پختونخوا کے وزیرِ قانون انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم نے کہا ہے کہ موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ مؤثر قانون سازی صوبائی حکومت کی اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوانین میں ترامیم کرتے وقت عوامی مفاد، عدالتی تقاضوں اور عملی مشکلات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز پشاور کابینہ کی قانون ساز کمیٹی (CCL) کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون انسانی حقوق و پارلیمانی امور، محکمہ داخلہ، محکمہ بورڈ آف ریونیو، محکمہ قانون و دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے ایجنڈے میں ضابطہ فوجداری (Code of Criminal Procedure—CrPC) میں مجوزہ ترامیم اور خیبر پختونخوا انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی رائٹس ایکٹ، 2019 سے متعلق امور شامل تھے۔اجلاس میں CrPC میں مجوزہ ترامیم کا تقابلی بیان (Comparative Statement) کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا۔ کمیٹی نے مجوزہ ترامیم اور موجودہ قانونی دفعات کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے مختلف شقوں کے قانونی و عملی پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا۔کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ ضابطہ فوجداری میں مجوزہ ترامیم موجودہ عدالتی اور انتظامی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونی چاہئیں تاکہ فوجداری نظامِ انصاف کو مزید مؤثر، شفاف اور تیز رفتار بنایا جا سکے۔اجلاس میں خیبر پختونخوا انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی رائٹس ایکٹ، 2019 کے مؤثر نفاذ سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ خواتین کے ملکیتی اور وراثتی حقوق کے تحفظ اور انہیں ان کے جائز حقوق کی فراہمی کے حوالے سے قانونی و انتظامی پہلوؤں پر غور کیا گیا۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مجوزہ ترامیم کا جامع قانونی جائزہ یقینی بنایا جائے اور ایسے اقدامات تجویز کیے جائیں جو نظامِ انصاف کو مزید مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہوں۔
