مختلف قانونی مسودات میں ترامیم کے حوالے سے قانون ساز کمیٹی کا اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیر صدارت مختلف قانونی مسودات میں ترامیم کے حوالے سے قانون ساز کمیٹی کا اجلاس منگل کے روز پشاور میں منعقد ہوا، جس میں خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل اور خیبر پختونخوا سٹامپ ترمیمی بل میں مجوزہ ترامیم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو، سیکرٹری محکمہ قانون، سیکرٹری محکمہ بلدیات و دیہی ترقی، محکمہ ریونیو و اسٹیٹ، محکمہ قانون اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل کے حوالے سے بتایا گیا کہ موجودہ علاقوں اور انتظامی حدود کی تقسیم و تبدیلی کے نتیجے میں نئے تشکیل پانے والے اضلاع کو مقامی حکومت کے قانونی ڈھانچے میں شامل کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔مجوزہ ترمیم کے ذریعے خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے نویں شیڈول میں ترمیم کرتے ہوئے سابقہ اضلاع کی تبدیل شدہ حدود کو قانونی طور پر منظم کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے کونسلوں کی مجموعی حد میں اضافہ کیے بغیر نئی حدود کی حدبندی (Delimitation) کے لیے ضروری انتظام کیا جائے گا۔مجوزہ بل میں ہنگو اور کرک اضلاع میں ویلج کونسلز اور نیبرہڈ کونسلز کی تعداد میں انتظامی ایڈجسٹمنٹ کا بھی جائزہ لیا گیا، تاکہ مقامی حکومتوں کے نظام کو موجودہ انتظامی حدود اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔اجلاس میں خیبر پختونخوا سٹامپ ترمیمی بل کے حوالے سے بتایا گیا کہ سٹامپ ایکٹ 1899 میں غیر منقولہ جائیداد میں حقوق، ملکیت یا مفاد کی منتقلی کے لیے الگ قانونی طریقہ کار موجود نہیں، جس کے باعث اس نوعیت کے معاملات موجودہ سٹامپ ڈیوٹی نظام کے تحت یکساں طور پر منظم نہیں ہیں۔مجوزہ ترمیم کے ذریعے شیڈول-I میں نیا آرٹیکل 11-AA شامل کرتے ہوئے ’’Assignable Deed‘‘ کو دستاویزات کی ایک الگ اور باقاعدہ قسم کے طور پر متعارف کرایا جائے گا اور اس پر قابل اطلاق سٹامپ ڈیوٹی مقرر کی جائے گی۔ مجوزہ ترمیم کا مقصد حقوق، ملکیت یا مفاد کی منتقلی سے متعلق معاملات میں قانونی وضاحت پیدا کرنا، ایسی منتقلیوں کی باضابطہ دستاویز بندی کو فروغ دینا اور سٹامپ قوانین پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانا ہے۔اجلاس میں دونوں قانونی مسودات میں مجوزہ ترامیم کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ محکموں سے بریفنگ لی گئی۔

مزید پڑھیں