وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور خیبر پختونخوا ایڈووکیٹ آفتاب عالم نے کہا ہے کہ مؤثر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے اور حکومت دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ قانونی نظام کی تشکیل کے لیے صوبے میں نافذ قوانین کا ازسرِنو جامع جائزہ لے رہی ہے تاکہ انہیں موجودہ حالات اور عوامی ضروریات کے مطابق مزید مؤثر، قابلِ عمل اور جدید بنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت جدید تقاضوں سے ہم آہنگ قانون سازی کے عمل کو تیز، مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر قانونی تحفظ اور انصاف کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پشاور میں کابینہ کی قانون ساز کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں مشیرِ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا برائے خزانہ مزمل اسلم، سیکرٹری محکمہ قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور، سیکرٹری محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول،سیکرٹری محکمہ ہیومن ریسورس مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ،سپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ و قبائلی امور، بورڈ آف ریونیو، محکمہ قانون، ایڈووکیٹ جنرل آفس اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) بل 2026، ضابطۂ فوجداری (ترمیمی) بل 2026، وٹنس پروٹیکشن (ترمیمی) ایکٹ 2026 اور ایکسائز فورس بل 2026 پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکاء نے ان مجوزہ قوانین کے مختلف قانونی، انتظامی اور مالیاتی پہلوؤں کا جائزہ لیا اور اس امر پر اتفاق کیا کہ نئے قوانین یا ترامیم کی مالی ذمہ داری (Financial Implications) کو ہر ممکن حد تک کم رکھتے ہوئے ان کی مؤثریت کو یقینی بنایا جائے۔وزیر قانون آفتاب عالم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت بھی انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) بل، ضابطۂ فوجداری (ترمیمی) بل اور وٹنس پروٹیکشن (ترمیمی) ایکٹ میں ترامیم پر غور کر رہی ہے، لہٰذا صوبائی سطح پر تیار کیے جانے والے مسودات کا وفاقی مسودات کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا جائے تاکہ دونوں سطحوں پر قوانین میں ہم آہنگی پیدا ہو، قانونی تضادات سے بچا جا سکے اور قومی سطح پر یکساں اور مؤثر قانونی نظام کو فروغ دیا جا سکے۔اجلاس میں نارکوٹکس کنٹرول فورس کے مجوزہ قیام سے متعلق امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر فورس کے مجوزہ ڈھانچے، اختیارات اور انتظامی امور پر مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ مجوزہ فورس میں کمانڈنٹ، ڈپٹی کمانڈنٹ، ڈائریکٹر، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسرز، اسسٹنٹ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسرز، انسپکٹرز، سب انسپکٹرز، اسسٹنٹ سب انسپکٹرز، کانسٹیبلز، وائرلیس آپریٹرز اور ڈرائیورز شامل ہوں گے۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ فورس کا قیام جدید تقاضوں کے مطابق مؤثر انسدادِ منشیات کارروائیوں، قانون کے مؤثر نفاذ اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔اجلاس کے اختتام پر مختلف محکموں کو ہدایت کی گئی کہ وہ متعلقہ بلوں پر اپنی سفارشات جلد از جلد مرتب کرکے کابینہ کی قانون ساز کمیٹی کو پیش کریں تاکہ قانون سازی کا عمل بروقت مکمل کیا جا سکے۔
