چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی تمام اضلاع میں اوپن ڈور پالیسی نافذ کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز عوام کے لیے اوپن ڈور پالیسی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عوام اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کو فروغ دینا اور عوام کو اپنی شکایات اور مسائل کے حل کے لیے بغیر کسی رکاوٹ یا تاخیر کے آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔چیف سیکرٹری نے کہا کہ گڈ گورننس کی شروعات عوام کے بنیادی مسائل کے بروقت حل سے ہوتی ہے۔ صوبائی انتظامیہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ شفاف، قابلِ رسائی اور عوام دوست طرزِ حکمرانی ہی مؤثر سروس ڈیلیوری کی بنیاد ہے۔انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ روزانہ مخصوص اوقات عوام سے ملاقات کے لیے مختص کریں، تاکہ شہری اپنے مسائل براہِ راست انتظامیہ کے سامنے رکھ سکیں اور ان کے حل کو یقینی بنایا جا سکے۔چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت عوامی خدمت، شفافیت اور بہتر طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ سیاحت گڈ گورننس اقدامات پر جائزہ اجلاس
چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ سیاحت کے گڈ گورننس اقدامات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری سیاحت اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہصوبائی حکومت گڈ گورننس روڈمیپ کے اہداف کے تحت پائیدار سیاحت کو فروغ دینے اور سیاحوں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔ محکمہ سیاحت کے 16 گڈ گورننس اقدامات پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے۔مقامی معیشت کے فروغ اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے مقامی کمیونٹی کی شمولیت سے گلیات، کاغان، ناران اور کمراٹ کی ماسٹر پلاننگ پر کام جاری ہے۔ ویسٹ مینجمنٹ کے عمل کو جدید اور ماحول دوست بنانے کے لئے 2.5 ارب روپے کی لاگت سے تمام سیاحتی مقامات کی صفائی ستھرائی کیلئے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم صوبائی کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔ ثقافتی ورثے کے حامل سات مقامات پر آڈیو گائیڈ کی سہولت متعارف کرائی جا رہی ہے جبکہ معاشی ترقی کیلئے سیاحتی منصوبوں میں عوامی شراکت داری کیلئے لائحہ عمل بھی تشکیل دیا جارہا ہے۔
صوبائی وزیر سید فخرجہان کی زیرصدارت محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کی محکمانہ کارکردگی اور اہداف کے حوالے سے جائزہ اجلاس
خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان کی زیرصدارت جمعرات کے روز سول سیکریٹریٹ پشاور میں محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں کابینہ کے فیصلوں اور دیگر اہم محکمانہ ٹاسکس پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول خالد الیاس،ڈائریکٹر جنرل ایکسائز عبدلحلیم خان کے علاؤہ ایڈیشنل ڈی جی، ڈائریکٹرز و دیگر متعلقہ افسران اور بذریعہ زوم ریجنل ڈائریکٹرز نے شرکت کی۔اجلاس میں گاڑیوں کی رجسٹریشن اور نمبر پلیٹس کے امور سمیت ٹیکس محصولات کے معاملات، محکمہ کے متعدد قوانین پر غوروخوض کے علاؤہ منشیات کے روک تھام کے حوالے سے حکومتی زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت جاری اقدامات کا سیر حاصل جائزہ لیا گیا۔صوبائی وزیر نے اجلاس میں متعلقہ شعبہ جات کو متعین ٹاسکس اور ذمہ داریوں پر عملدرآمد کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کی تاکہ عوامی مفاد کیلئے محکمہ کی جانب سے گورننس کا نظام پائدار بنیادوں پر تیز کیا جائے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ ایکسائز صوبے میں محصولات کے استحکام، انسدادِ منشیات اور شفاف نظامِ کار کے قیام کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے گا۔انھوں نے کہا کہ منشیات کی روک تھام صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی تاکہ نئی نسل کو اس ناسور سے بچایا جا سکے۔
پشاور کے سالڈ ویسٹ سے توانائی پیدا کرنے کے منصوبے پر پیش رفت، وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پشاور کے سالڈ ویسٹ سے توانائی پیدا کرنے کے منصوبے پر پیش رفت اور عملدرآمد کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔اجلاس میں چراٹ سیمنٹ کمپنی کی جانب سے ایڈیشنل جنرل منیجر ظفر علی خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ سیکرٹری بلدیات اسلم ثاقب رضا اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی پشاور (WSSP) یاسر بھی اجلاس میں موجود تھے۔وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے اجلاس کے دوران ہدایت کی کہ چراٹ سیمنٹ کمپنی کے ساتھ سالڈ ویسٹ انرجی پروپوزل کو نومبر کے آخر تک فائنل کرکے عملی کام شروع کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ڈبلیو ایس ایس پی کے ذریعے جمع شدہ کوڑا کرکٹ کو کمپنی کو فروخت کیا جائے گا، جبکہ اگلے مرحلے میں صوبے کے دیگر اضلاع کے سالڈ ویسٹ کو بھی شامل کیا جائے گا۔مینا خان آفریدی نے کہا کہ سالڈ ویسٹ سے توانائی کی پیداوار نہ صرف آمدنی میں اضافے کا ذریعہ ہے بلکہ یہ ایک ماحول دوست اور پائیدار اپروچ بھی ہے، جس سے فضلے کے مؤثر انتظام کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی۔انہوں نے اس موقع پر متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ منصوبے کے تکنیکی، قانونی اور ماحولیاتی پہلوؤں کو جلد از جلد حتمی شکل دے کر اس پر عملدرآمد کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔وزیر بلدیات نے کہا کہ صوبائی حکومت صاف اور سرسبز خیبرپختونخوا کے وژن کے تحت ماحول دوست منصوبوں کی مکمل سرپرستی کر رہی ہے تاکہ شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔
وزیر بلدیات خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی کی زیر صدارت محکمہ بلدیات کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا جائزہ اجلاس
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت محکمہ بلدیات کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کا ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ترقیاتی سکیموں پر عملدرآمد کی رفتار اور مجموعی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری بلدیات اسلم ثاقب رضا سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور وزیر بلدیات کو مختلف منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ کے مطابق محکمہ بلدیات کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں بندوبستی اضلاع کے لیے 53 سکیمیں، ضم اضلاع کے لیے 4 سکیمیں، جبکہ انٹیگریٹڈ ایکسیلیریٹڈ پروگرام کے تحت 12 سکیمیں شامل ہیں۔مزید بتایا گیا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 2 بلین روپے مختص کیے گئے ہیں، جنہیں صوبے بھر میں بلدیاتی نظام اور عوامی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی سکیموں کے عملدرآمد میں شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرپشن اور سفارش کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے، اور کسی بھی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
مینا خان آفریدی نے ہدایت کی کہ تمام جاری سکیموں کی تکمیل کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ عوامی فلاح کے منصوبوں کے ثمرات جلد عوام تک پہنچ سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ بلدیات صوبے میں خدمات کی فراہمی، شہری ترقی اور مقامی حکومتوں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے، اور حکومت عوامی مفاد کے ہر منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت نے 2025-26ء ویمن امپاورمنٹ پالیسی پر کام کا آغاز کر دیا — ڈاکٹر سمیرا شمس کی زیرِ صدارت مشاورتی اجلاس
خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (KPCSW) کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس کی زیرِصدارت خیبر پختونخوا ویمن امپاورمنٹ پالیسی 2017 کے نفاذ اور آئندہ ویمن امپاورمنٹ پالیسی 2025-26 کی تیاری کے حوالے سے مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔
اجلاس میں محکمہ قانون و انسانی حقوق، محکمہ آبادی و بہبود، محکمہ صنعت و مزدور، محکمہ منصوبہ بندی و ترقی، محکمہ سماجی بہبود، محکمہ جنگلات و موسمیاتی تبدیلی، پی ڈی ایم اے، خیبر پختونخوا آئی ٹی بورڈ، نادرا، الیکشن کمیشن آف پاکستان، یو این ڈی پی، یو این ویمن، اسمیڈا، میڈیا نمائندگان، سابق ایم پی اے عائشہ بانو، رخشاندا ناز اور خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کے عملے کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اس اجلاس کا مقصد خیبر پختونخوا ویمن امپاورمنٹ پالیسی 2017 کے نفاذ کا تفصیلی جائزہ لینا، مختلف محکموں کی پیش رفت رپورٹوں کا تجزیہ کرنا، صنفی مساوات میں درپیش چیلنجز کی نشاندہی کرنا اور آئندہ 2025-26 پالیسی کے لیے سفارشات مرتب کرنا تھا۔چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا”صوبائی حکومت کا وژن اور PTI کا سیاسی وژن خواتین کے بااختیاری کے لیے ہم آہنگ ہیں، جو سابق وزیر اعظم عمران خان کے وژن کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ آج کی میٹنگ بنیادی طور پر سٹاک ٹیکنگ تھی کیونکہ ویمن امپاورمنٹ پالیسی 2017 بن چکی تھی لیکن اب تک اس کا ٹرو سینس نفاذ نہیں ہو سکا اور تقریباً 10 سال گزر چکے ہیں۔ 2026 میں ہمیں اس پالیسی کو اپڈیٹ کرنا ہے۔ آج ہم نے تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ویمن امپاورمنٹ پالیسی 2017 کو اپگریڈ کیا جائے گا۔اہم مسائل میں متعدد لوپ ہولز، پرانے ڈیٹا میں تبدیلی، اور فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کی شمولیت شامل ہے، جسے یقینی بنانا ضروری ہے۔ صوبائی حکومت کے وژن اور PTI کی ترجیحات کے مطابق آج ویمن امپاورمنٹ پالیسی پر پراپر آغاز ہوا، جس کی قیادت وومن کمیشن نے کی اور سوشل ویلفیئر سمیت دیگر محکمے شامل ہوں گے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ 2026 کے مینڈیٹ کے تحت پالیسی کو مارچ تک، جو ویمنز ڈے ہے، تک تیار کر کے صوبائی حکومت کو ایک مکمل اور مفصل دستاویز پیش کی جائے۔”ڈاکٹر سمیرا شمس نے اجلاس میں شریک تمام سرکاری، نجی اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان کا شکریہ ادا کیا اور خواتین کے بااختیاری کے سفر میں ان کے تعاون کو سراہا۔اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ ویمن امپاورمنٹ پالیسی 2017 کے نفاذ سے متعلق مزید مشاورتی اجلاس منعقد کیے جائیں گے، اور اگلا اجلاس 25 نومبر 2025ء کو منعقد ہوگا تاکہ تمام سفارشات کو حتمی شکل دی جا سکے۔
صوبائی حکومت نوجوانوں کی فلاح و بہبود، ہنرمندی کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ سیکرٹری کھیل و امورِ نوجوانان خیبر پختونخوا سعادت حسن
حساس نوجوان پروگرا م کے زیرِ اہتمام جاری تھرڈ پارٹی ایویلیوایشن کے لیے ایک اہم معاہدہ انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز سے کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد پروگرام کے معیار، شفافیت اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے تاکہ نوجوانوں کے لیے شروع کیے گئے اقدامات زیادہ پائیدار اور نتیجہ خیز ثابت ہوں۔اس حوالے سے سیکرٹری کھیل و امورِ نوجوانان خیبر پختونخوا سعادت حسن نے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کی فلاح و بہبود، ہنرمندی کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ترجمان محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ”احساس نوجوان پروگرام“ اس وژن کا مظہر ہے جس کے ذریعے صوبے کے ہزاروں نوجوانوں کو تربیت، رہنمائی اور ترقی کے نئے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھرڈ پارٹی ایویلیوایشن سے پروگرام کی شفافیت میں اضافہ ہوگا اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے مستند ڈیٹا اور تحقیق پر مبنی سفارشات حاصل ہوں گی۔ڈائریکٹر امورِ نوجوانان ڈاکٹر نعمان مجاہد نے کہا کہ اس ادارے کی تحقیقی و تجزیاتی صلاحیت صوبے میں نوجوانوں سے متعلق پالیسی سازی میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی سازی ڈیٹا، تحقیق اور زمینی حقائق پر مبنی ہونی چاہیے تاکہ نتائج مثبت اور دیرپا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ امورِ نوجوانان نوجوانوں کے لیے تعلیم، قیادت، روزگار اور ہنرمندی کے میدان میں مزید مواقع فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ترجمان محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان خیبر پختونخوا کے مطابق یہ اقدامات صوبے کے نوجوانوں کو ترقی، تعلیم اور خود اعتمادی کے سفر میں آگے بڑھانے کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہیں۔ محکمہ آئندہ بھی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے نوجوانوں کو تحقیق، تربیت اور جدید علم کے مواقع فراہم کرتا رہے گا۔
ہنگامی صورتحال میں ریلیف سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کوشاں ہیں، صوبائی وزیر ریلیف، بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان
خیبر پختونخوا کے وزیر ریلیف، بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان نے عوامی اعتما د کو مزید فروغ دینے کے لیے اصلاحی ایجنڈہ “باور” پر عملدرآمد کرتے ہوئے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ریسکیو 1122 کے 14 آپریشنل سٹاف کو واپس ان کے متعلقہ اداروں میں خدمات سرانجام دینے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ہنگامی صورتحال میں ریلیف سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ عاقب اللہ خان نے کہا کہ ریسکیو 1122 ایک فعال، منظم اور عوام دوست ادارہ ہے جو ہر قسم کی ایمرجنسی و ناگہانی حالات میں عوام کو فوری امداد اور ریلیف فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ایمرجنسی سروسز اور بروقت ریلیف فراہم کرنے کے لیے اصلاحی اقدامات جاری رہیں گے۔ عاقب اللہ خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت عوام کی خدمت، تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنا رہی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کو صحت کے شعبے میں بھی دوسرے صوبوں پر سبقت حاصل ہے رواں مالی سال کے پہلے چار میں صحت کارڈ ریزرو فنڈز کے502.2 ملین روپے عوام پر خرچ کیے گئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا صحت کارڈ ریزرو فنڈز استعمال بارے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کو صحت کے شعبے میں بھی دوسرے صوبوں پر سبقت حاصل ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے چار میں صحت کارڈ ریزرو فنڈز کے502.2ملین روپے عوام پر خرچ کیے گئے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ صحت کارڈ ریزرو فنڈز سے مہلک مہنگی بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے اور جولائی سے اکتوبر تک صحت کارڈ ریزرو فنڈز سے کارڈیالوجی سروسز پر 135.3ملین روپے خرچ کیے گئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ریزرو فنڈز سے کینسر کے علاج پر 31.4 ملین روپے کے فنڈز استعمال کیے گئے جبکہ جگر پیوندکاری پر 80.6ملین روپے خرچ کیے گئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ جولائی سے اکتوبر تک صحت کارڈ ریزرو فنڈز سے گردے پیوندکاری پر 88 ملین روپے خرچ کیے گئے ان چار ماہ میں کو کلئیر ایمپلانٹ پر 165.5ن روپے خرچ کیے گئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ آئی سی یو، ڈائیلسز اور دیگر بیماریوں پر صحت کارڈ ریزرو فنڈز سے1.3ملین روپے خرچ کیے گئے جبکہ پچھلے مالی سال میں بھی صحت کارڈ ریزرو فنڈز کے 824.4ملین روپے خرچ کیے گئے تھے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ رواں سال محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا نے صحت کارڈ کیلئے9.65 ارب روپے جاری کر چکے ہیں جو ریزرو فنڈز سے الگ ہیں۔
خیبر پختونخوا کابینہ کی جانب سے صحت کے مراکز میں فارمیسی خدمات کے انضمام سے متعلق پہلی جامع پالیسی کی منظوری صحت کے نظام میں بہتری اور محفوظ، معیاری ادویات کی فراہمی کے لیے تاریخی اصلاحاتی اقدام
حکومت خیبر پختونخوا نے صوبے میں پہلی بار “صحت مراکز میں فارمیسی خدمات کے انضمامِ کی پالیسی کی منظوردی ہے، جو صحت عامہ کے نظام میں بہتری اور سروس ڈیلیوری کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، یہ پالیسی صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985ء کے قاعدہ 25(3) کے تحت باقاعدہ طور پر منظور کی۔یہ انقلابی پالیسی ہسپتالوں اور کلینیکل فارمیسی خدمات کو بہتر بنانے، منشیات کے انتظامی کنٹرول کو مضبوط کرنے اور ادویات سے متعلق قوانین و ضوابط کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔ اس کے تحت ایک یکساں نظام برائے معیارِ کی ضمانت متعارف کرایا جائے گا تاکہ تمام سرکاری صحت مراکز میں محفوظ، مؤثر اور معیاری ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔پالیسی کا ایک اہم پہلو فارمیسی عملے اور انسانی وسائل کے مؤثر استعمال سے متعلق ہے، تاکہ فارماسسٹ حضرات مریضوں کی نگہداشت اور ہسپتالوں کے انتظامی امور میں ایک پیشہ ورانہ اور فعال کردار ادا کر سکیں۔ اس اقدام سے بہتر علاج کے نتائج کے ذریعے عوام براہ راست مستفید ہوں گے۔ حکومت خیبر پختونخوا اور صوبائی وزیر صحت نے اپنے سرکاری بیان میں اس پالیسی کی منظوری کو صوبے میں جاری صحت عامہ کے اصلاحاتی عمل کا ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔ حکومت نے صحت کی خدمات کے معیار، مؤثریت اور شفافیت میں مزید بہتری لانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔اس پالیسی کے تحت صوبے بھر کے ہسپتالوں اور بنیادی صحت مراکز میں معیاری، مؤثر اور سستی ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس اقدام سے مریضوں کے ہسپتال میں قیام کا دورانیہ کم ہوگا، منشیات کے کنٹرول اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا، اور اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس (AMR) کے خلاف مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے گی تاکہ ادویات کا استعمال سائنسی شواہد کی بنیاد پر کیا جا سکے۔تفصیلی پالیسی دستاویز عوامی معلومات کے لیے محکمہ صحت حکومت خیبر پختونخوا کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔یہ اقدام حکومت خیبر پختونخوا کے اس پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور صوبے کے ہر شہری کو محفوظ، معیاری اور مؤثر ادویات کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
