صوبائی وزیر تعلیم ارشَد ایوب خان نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں نئے تعینات ہونے والے 156 اے ایس ڈی ای اوز کو فریش اپوائنٹمنٹ/ایڈجسٹمنٹ آرڈرز تقسیم کئے۔ اس موقع پر سیکرٹری ایجوکیشن محمد خالد خان اور ڈائریکٹر ایجوکیشن نغمانہ سردار بھی موجود تھے۔محکمہ تعلیم کے کمیٹی روم میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم ارشد ایوب خان نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی کارکردگی مزید بہتر بنانے،سکولوں کی سطح پر انتظامی امور میں شفافیت لانے اور ریفارمز کو عملی سطح پر مؤثر بنانے کے لئے یہ تعیناتیاں انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام تقرریاں میرٹ اور شفاف طریقہ کار کے تحت عمل میں لائی گئی ہیں۔ جس کیلئے صوبائی پبلک سروس کمیشن کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی کیڈر کے یہ نو تعینات افسران محکمہ تعلیم میں جاری ریفارمز ایجنڈا پر من و عن عمل کریں گے اور ان کے آنے سے سسٹم میں مزید بہتری آئے گی اور انتظامی کیڈر آفسران کی کمی پوری ہو جائے گی۔ وزیر تعلیم نے ایجوکیشن حکام کو ہدایات جاری کیں کہ نئے تعینات ہونے والے اے ایس ڈی ای اوز کے لئے آئندہ ہفتے سے 6 ہفتوں پر مشتمل خصوصی تربیتی پروگرام شروع کیا جائے، جس میں تعلیمی نظم و نسق، سکول مانیٹرنگ، ریفارمز ایجنڈے کے نفاذ، اور سروس ڈیلیوری ماڈلز پر جامع تربیت دی جائے۔انہوں نے نو تعینات انتظامی کیڈر آفسران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ تعلیم میں میرٹ پر آپ لوگوں کے انتخاب کے بعد آپ لوگوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ تعلیم ایک مقدس پیشہ ہے اور آپ لوگوں نے ہی تعلیمی نظام میں مزید بہتری لانے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ آخر میں وزیر تعلیم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات کی روشنی میں تعلیمی شعبے میں بہتری اور اصلاحات کے سفر کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔
محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا نے سیزن 2026-2025 کیلئے پارٹریج شوٹنگ پالیسی کا اعلان کر دیا
خیبر پختونخوا وائلڈلائف ڈیپارٹمنٹ نے سیزن 2026-2025 کیلئے پارٹریج شوٹنگ پالیسی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں چیف کنزرویٹر وائلڈلائف خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق سی سی، بلیک، گریے اور چکور پارٹریج کی شوٹنگ صرف اتوار کے روز 16 نومبر 2025 سے 11 جنوری 2026 تک صرف اُن پبلک، کمیونٹی اور نجی گیم ریزروز میں کی جا سکے گی جنہیں اس سیزن کے لئے“اوپن”یعنی کھلاقرار دیا گیا ہے۔ جبکہ اُن گیم ریزروز میں جنہیں“کلوزڈ” بندقرار دیا گیا ہے، شکار بالکل ممنوع ہو گا۔اس سلسلے میں خصوصی پرمٹس متعلقہ قوانین کے تحت جاری کئے جائیں گے اور کسی بھی پرمٹ ہولڈر کو مقرر کردہ بیگ لمٹ سے تجاوز کی ہرگز اجازت نہیں ہو گی۔ خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کہ چیف کنزرویٹر نے کہا کہ جنگلی حیات کے تحفظ اور گیم انواع کے سائنسی و منظم طریقے سے انتظام کو اولین ترجیح حاصل ہے، لہٰذا تمام شکاری حضرات سے استدعا ہے کہ وہ اعلامیہ میں درج شرائط و ضوابط اور دیگر متعلقہ قوانین و قواعد کی مکمل پابندی کرتے ہوئے ذمہ دارانہ شکار کو یقینی بنائیں۔مزید معلومات اور پرمٹ کے حصول کیلئے شکار کی خواہش مند حضرات دفتر اوقات کار کے دوران متعلقہ کنزرویٹر وائلڈلائف دفاتر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
صوبائی وزیر صحت کی زیر صدارت مہم کو کامیاب بنانے سے متعلق جائزہ اجلاس کا انعقاد
خسرہ و روبیلا ٹاسک فورس کاجائزہ اجلاس وزیر صحت خلیق الرحمن کی زیرِ صدارت پشاور میں منعقد ہوا، جس میں 17 سے 29 نومبر 2025 کے دوران جاری رہنے والی خسرہ و روبیلا ویکسینیشن مہم کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس مہم کا مقصد خیبر پختونخوا کے 37 اضلاع میں 6 ماہ سے 5 سال تک کے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانا ہے۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری (پلاننگ)، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے، اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے، جبکہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، اور ضلعی پولیس افسران نے آن لائن شرکت کی۔اجلاس میں مہم کی مجموعی تیاریوں، خاص کر انتظامی و رابطہ کاری کے امور، ویکسین کی ترسیل، عملے کی تربیت، اور مائیکرو پلاننگ پر غور کیا گیااور اب تک متعلقہ محکموں کی جانب سے پیش کردہ تیاریوں اور پیشرفت پروزیر صحت نے اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیر صحت نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ویکسینیشن مہم کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ رواں سال خیبر پختونخوا میں خسرہ سے 25 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ان اضلاع میں جہاں اموات زیادہ رپورٹ ہوئی ہیں، وہاں مہم کے معیار اور مائیکرو پلاننگ پر خصوصی توجہ دی جائے۔یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ مہم سے قبل عوامی آگاہی مہمات کو مؤثر بنایا جائے تاکہ عوام میں خسرہ و روبیلا ویکسینیشن کی اہمیت کے بارے میں شعور پیدا ہو اور زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے اضلاع میں تیاریوں کا اندرونی جائزہ لیں۔ مہم کے حوالے سے عوامی آگاہی کو فروغ دینے کے لیے مختلف سٹیک ہولڈرز، سول سوسائٹی تنظیمیں، تعلیمی حکام، ماہرِ اطفال کی انجمنیں، صحافی، اور سوشل میڈیا ہولڈر کے ساتھ تعارفی و آگاہی اجلاسوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔وزیر صحت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بچوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے، اور تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ خسرہ و روبیلا ویکسینیشن مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے اپنے اپنے طورپر بھرپور کوشش کریں۔
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ صحافی برادری نے گزشتہ چالیس سالوں میں امن و امان کے چیلنجز کے باوجود جرات، ہمت اور قربانی کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے کہا ہے کہ صحافی برادری نے گزشتہ چالیس سالوں میں امن و امان کے چیلنجز کے باوجود جرات، ہمت اور قربانی کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں جو قابل ستائش ہیں۔ صوبے کے مشکل حالات میں صحافیوں نے عوامی مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا اور خیبرپختونخوا کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا، جو لائق تحسین ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے پشاور پریس کلب میں صحافیوں کی کرکٹ لیگ کے دسویں ایڈیشن کے افتتاح کے موقع پر کیا، اس موقع پر صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی، پریس کلب کے صدر ایم ریاض، رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے منیجر مارکیٹنگ اینڈ آپریشنز، سپورٹس کمیٹی کے چیئرمین سمیت کثیر تعداد میں صحافی بھی موجود تھے۔ کرکٹ لیگ رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ (RMI) اسپانسر کر رہا ہے۔افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں شفیع جان نے کہا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز نے معلومات کے بہاؤ کو تیز تر کر دیا ہے ایسے وقت میں صحافیوں کی ذمہ داریاں بھی کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔ آج کے دور میں صحافت ایک مسلسل دباؤ والا پیشہ بن چکا ہے، جہاں 24 گھنٹے خبری مسابقت کا سامنا رہتا ہے۔ تاہم، خیبرپختونخوا کے صحافی اس دباؤ کے باوجود نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں بلکہ عوامی خدمت کے میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومتِ خیبرپختونخوا صحافیوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور وزیرِاعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر صحافیوں کے لیے ایک جامع سوشل سپورٹ پیکج تیار کیا جا رہا ہے، جس کا اعلان بہت جلد کیا جائے گا۔معاون خصوصی نے کہا کہ یہ کرکٹ لیگ صحافی برادری کے لیے ایک صحت مند اور مثبت سرگرمی ہے جو ان کے ذہنی و جسمانی سکون کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحافت ایک ہیکٹک پیشہ ہے، اس لیے ایسی سرگرمیاں تازگی، باہمی ہم آہنگی اور یکجہتی کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ وہ خود، وزیرِ بلدیات مینا خان آفریدی اور دیگر کابینہ اراکین لیگ کے میچز میں شریک ہوں گے تاکہ صحافیوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔آخر میں شفیع جان نے تمام صحافیوں، تنظیمی نمائندوں اور لیگ کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صحافی برادری کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے اور ان کے فلاحی مفادات کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات جاری رہیں گے۔
خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ر یاض خان نے کڑاکڑ ٹنل بونیر کا تفصیلی دورہ کیا
خیبرپختونخوا کے وزیر آبپاشی ر یاض خان نے کڑاکڑ ٹنل بونیر کا تفصیلی دورہ کیا اور منصوبے سے متعلق اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے بھائی احمد خان، محکمہ پی کے ایچ اے، محکمہ آبپاشی اور متعلقہ اداروں کے افسران بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران صوبائی وزیر کو متعلقہ افسران نے کڑاکڑ ٹنل بونیر سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی اور اب تک کی پیش رفت سے انہیں آگاہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ریاض خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کڑاکڑ ٹنل کی تکمیل سے سوات اور بونیر کے درمیان سفر میں نمایاں آسانی پیدا ہوگی جس سے نہ صرف مقامی عوام کو آمدورفت میں سہولت ملے گی بلکہ سیاحت اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں صوبائی حکومت صوبے میں مواصلات، سیاحت اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف اور سہولت فراہم کی جا سکے۔ ریاض خان نے کہا کہ یہ منصوبہ قائد عمران خان کے وژن کے عین مطابق ہے جنہوں نے ہمیشہ صوبے کے پسماندہ علاقوں کی ترقی اور سیاحت کے فروغ کو ترجیح دی ہے۔صوبائی وزیر ریاض خان نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اس اہم منصوبے پر جلد از جلد کام مکمل کیا جائے تاکہ عوام اس منصوبے کے ثمرات سے پوری طرح مستفید ہو سکیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے محکمہ آبپاشی کے متعلقہ افسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سوات سے کڑاکڑ ٹنل کے راستے بونیر تک پائپ لائن کے ذریعے پانی کی فراہمی کے منصوبے کی فیزیبلٹی رپورٹ تین دن کے اندر مکمل کی جائے تاکہ اس اہم منصوبے پر جلد از جلد عملی کام کا آغاز کیا جا سکے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبہ علاقے کی زرعی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے بونیر کے عوام کو پانی کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی اور زرعی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی چیف انجینئر کی نگرانی میں سروے ٹیم پوری لگن، دیانتداری اور شفافیت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
یومِ اقبال قومی شعور اور فکری بیداری کا روشن باب
تحریر: ڈاکٹر انجینئر محمد اطہر سوری
9 نومبر 2025 کو پاکستان کے عظیم مفکر اور شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی سالگرہ کے موقع پر پختونخوا ریڈیو کوہاٹ FM 92.4 MHz نے ایک تاریخی اور فکری لحاظ سے وزنی براہِ راست پروگرام نشر کیا جس نے نہ صرف کوہاٹ بلکہ اس کے گرد و نواح میں بھی ایک نئی قومی اور فکری لہر دوڑائی۔ اس پروگرام نے سامعین کو علامہ اقبال کے اصل پیغام سے دوبارہ جوڑا اور ریڈیو کے کردار کو ایک فکری رہنما کے طور پر اجاگر کیا۔
پختونخوا ریڈیو کوہاٹ کے اس پروگرام کی سب سے نمایاں اور قابلِ فخر بات یہ تھی کہ یومِ اقبال کی عام تعطیل کے باوجود پختونخوا ریڈیو کوہاٹ کا پورا عملہ اور سٹاف حب الوطنی اور پیشہ ورانہ لگن کے جذبے سے دفتر میں موجود رہا۔ یہ عملی مثال ہے کہ جب قومی نظریات اور اقدار کے فروغ کی بات آئے تو حقیقی محنت اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے اور پختونخوا ریڈیو کوہاٹ کے عملے نے اسے عملی شکل میں ثابت کیا۔
پروگرام کا آغاز علامہ اقبال کے مشہور اور انقلابی اشعار کے ترنم سے ہوا جن کے بول سامعین کے دل و دماغ میں اتریں
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
یہ اشعار علامہ اقبال کے فلسفہ خودی کی اصل روح کو اجاگر کرتے ہیں اور سامعین کو اپنے اندر خوداعتمادی، حوصلہ اور قومی فخر پیدا کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اس ترنم نے پروگرام کے آغاز ہی میں ایک بلند فکری معیار قائم کر دیا جس نے پورے نشریاتی سلسلے کو متاثر کیا۔
اس پروگرام میں ریڈیو کے دو اہم ستون اسٹیشن مینیجر ڈاکٹر انجینئر محمد اطہر سوری اور انجینئر صادق نے نہایت نمایاں کردار ادا کیا۔ دونوں نے اپنی گہری فکری بصیرت اور فنی مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے علامہ اقبال کی زندگی، ان کی لازوال شاعری اور فلسفہ خودی پر جامع اور بامعنی روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمانوں کی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے خود احتسابی اور عملِ پیہم ناگزیر ہیں۔
یہ خصوصی براہِ راست نشریات نہ صرف ریڈیو کے روایتی سامعین بلکہ عوام کی بڑی تعداد کے لیے بھی ایک نیا تجربہ تھا۔ پروگرام کے دوران ٹیلی فون کالز، پیغامات اور سامعین کی بھرپور شرکت نے اس بات کا عملی ثبوت دیا کہ علامہ اقبال کا کلام آج بھی ہمارے اجتماعی شعور کا ایک اہم جزو ہے اور اس سے نوجوان نسل کی فکری تربیت میں مدد ملتی ہے۔
یومِ اقبال کے موقع پر اس پروگرام کی فکری اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں صرف شاعری یا ترنم پر زور نہیں دیا گیا بلکہ علامہ اقبال کے فلسفہ خودی، ان کے نظریاتِ پاکستان اور مسلمانوں کے لیے عملی رہنمائی پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اس فکری جہت نے پروگرام کو نہایت وزنی اور معتبر بنا دیا اور سامعین میں فکری بحث و مباحثے کی راہ ہموار کی۔
پروگرام کے دوران ملک کی موجودہ صورتحال اور نوجوانوں کے چیلنجز کو بھی اجاگر کیا گیا۔ اسٹیشن مینیجر نے کہا کہ آج کے دور میں نوجوانوں کے لیے علامہ اقبال کے پیغام کی اہمیت پہلے سے زیادہ ہے۔ خودی کا فلسفہ، قومی اتحاد اور مقصدِ زندگی کی وضاحت آج کے نوجوانوں کو راہِ راست دکھانے کے لیے لازمی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان معاشرتی، اقتصادی اور علمی ترقی میں حصہ لے کر نہ صرف اپنے ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں بلکہ اپنی ذاتی زندگی میں بھی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔
نشریاتی پروگرام میں شریک دیگر ماہرین اور ریڈیو کے عملے نے بھی علامہ اقبال کے نظریات اور خیالات کو عملی مثالوں سے جوڑ کر پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے معاشرتی بیداری، قومی یکجہتی اور خود اعتمادی کے اصول نوجوانوں کو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی مضبوط کر سکتے ہیں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ نوجوان اگر اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور محنت و لگن سے کام کریں تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے معاشرے کے لیے بھی روشن مستقبل تخلیق کر سکتے ہیں۔
پروگرام میں علامہ اقبال کے اشعار اور ان کے فلسفہ خودی کے اثرات کو معاشرتی مسائل، تعلیم اور نوجوانوں کی تربیت سے جوڑ کر پیش کیا گیا تاکہ سامعین یہ سمجھ سکیں کہ اقبال کا پیغام صرف شاعری یا فلسفہ تک محدود نہیں بلکہ عملی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ریڈیو کے یہ فکری اقدامات اس بات کا مظہر ہیں کہ عوام کو قومی اور فکری تربیت دینے کے لیے جدید نشریاتی وسائل کو کس طرح موثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ براہِ راست نشریات صرف معلومات تک محدود نہیں رہیں بلکہ سامعین کے درمیان بات چیت، سوالات اور جوابات کے ذریعے ایک فعال اور بامعنی فورم کی شکل اختیار کر گیا۔ ٹیلی فون کالز، ایس ایم ایس اور سوشل میڈیا کے ذریعے سامعین نے بھرپور شرکت کی جس نے پروگرام کو ایک عوامی سطح پر حقیقی فکری تبادلہ خیال میں بدل دیا۔ اس فورم نے یہ واضح کیا کہ ریڈیو آج بھی عوام کی سوچ اور شعور کو متاثر کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
پروگرام کا اختتام وطن سے محبت، قومی اتحاد اور اتفاق کی دعاؤں کے ساتھ ہوا۔ علامہ اقبال کے درجات کی بلندی اور ان کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔ اختتام پر پیش کیا گیا یہ شعر امید افزا اور دل کو چھو لینے والا تھا
نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
یہ شعر نہ صرف علامہ اقبال کے فکر و فلسفہ کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ آج کے معاشرتی حالات میں بھی ایک پیغام دیتا ہے کہ مثبت سوچ، جذبہ اور عمل کے ذریعے ہر بحران اور چیلنج کو ممکنات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
یومِ اقبال کا یہ شاندار پروگرام پختونخوا ریڈیو کوہاٹ کی نشریاتی تاریخ کا ایک درخشاں باب بن گیا ہے۔ اس پروگرام نے نہ صرف قومی وقار کو اجاگر کیا بلکہ فکری پختگی، معاشرتی شعور اور نوجوانوں کی تربیت کے لیے ایک مثالی کردار ادا کیا۔ پروگرام کے ذریعے یہ واضح ہوا کہ ریڈیو صرف خبروں یا تفریح تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسا فکری اور تعلیمی فورم بھی ہے جو عوام کو شعور، آگاہی اور عمل کے لیے متحرک کر سکتا ہے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ اس پروگرام نے یہ بھی ثابت کیا کہ قومی اور فکری بیداری کے لیے جدت اور روایت کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔ پختونخوا ریڈیو کوہاٹ نے نہ صرف علامہ اقبال کے پیغام کو زندہ رکھا بلکہ اس کے اثرات کو عوام تک پہنچانے میں اپنی مکمل کامیابی بھی حاصل کی۔ ایسے پروگرام نوجوانوں کو قومی شعور، خودی کے فلسفہ اور حب الوطنی کے اصولوں سے روشناس کرانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور یہ یقین دلانے میں مدد دیتے ہیں کہ پاکستان کی ترقی اور فکری نشوونما کا دارومدار نوجوانوں کی تربیت اور قومی اقدار کی مضبوطی پر ہے۔
یومِ اقبال کے موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع اللہ جان کا پیغام
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات وتعلقات عامہ شفیع اللہ جان نے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے یوم ولادت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ علامہ اقبال برصغیر کے عظیم شاعر، مفکر اور فلسفی تھے، جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں میں خودی، ایمان اور حریت فکر کا شعور بیدار کیا۔علامہ محمد اقبال کے افکار نوجوان نسل کے لیے واضح رہنمائی فراہم کرتے ہیں، ان کی شاعری میں عمل اور خود اعتمادی کا پیغام پوشیدہ ہے۔شفیع اللہ جان نے کہا کہ شاعر مشرق نے ایک خوشحال، ترقی یافتہ اور آزاد مملکت کا خواب دیکھا جس کی تعبیر پاکستان کی صورت میں سامنے آئی۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان نے ہمیشہ نوجوانوں کو علامہ اقبال کی شاعری پڑھنے اور اُن کے افکار سے رہنمائی حاصل کرنے کی تلقین کی ہے۔شفیع اللہ جان نے اس موقع پر نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ علامہ اقبال کے خواب کی تکمیل کے لیے محنت، دیانت اور اتحاد کو اپنا شعار بنائیں تاکہ ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے
خیبرپختونخوا کے وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت لوکل کونسل بورڈ اور ڈائریکٹوریٹ جنرل بلدیات کا جائزہ اجلاس
خیبرپختونخوا کے وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت لوکل کونسل بورڈ خیبرپختونخوا اور ڈائریکٹوریٹ جنرل بلدیات کا ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ بلدیات کے مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری بلدیات اسلم ثاقب رضا، سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ اور ڈائریکٹر جنرل بلدیات سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تحصیل میونسپل انتظامیہ اور ڈائریکٹوریٹ جنرل بلدیات کے جملہ امور پر متعلقہ افسران نے وزیر بلدیات کو تفصیلی بریفنگ دی۔وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے اس موقع پر کہا کہ محکمہ بلدیات عوامی خدمات کا ایک اہم ادارہ ہے، اس لیے اس کے تمام امور میں شفافیت، کارکردگی اور عوامی اعتماد کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بلدیاتی اداروں کے مالی، انتظامی اور ترقیاتی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے جامع اصلاحاتی حکمت عملی تیار کی جائے۔وزیر بلدیات نے کہا کہ تحصیل میونسپل انتظامیہ کے کردار کو مضبوط بنا کر عوامی سہولیات کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام بلدیاتی ادارے اپنی کارکردگی رپورٹ باقاعدگی سے پیش کریں تاکہ بہتری کے عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔مینا خان آفریدی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے بھر میں بلدیاتی اداروں کو فعال، خودمختار اور عوام دوست بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ بلدیات کے افسران اور اہلکار اپنی ذمہ داریاں قومی خدمت اور شفافیت کے جذبے کے ساتھ انجام دیں۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان کا محکمہ اطلاعات کا دورہ
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے جمعہ کے روز محکمہ اطلاعات کا دورہ کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات محمد بختیار خان ڈی جی انفارمیشن محمد عمران نے انہیں محکمے کی کارکردگی، انتظامی ڈھانچے، جاری منصوبوں اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ کے دوران معاون خصوصی کو محکمے کے مختلف شعبہ جات بشمول پریس رجسٹرار، ریڈیو، پروڈکشن، پبلک ریلیشنز اور دیگر اٹیچیڈ فارمیشنز کی کارکردگی اور فیلڈ سرگرمیوں سے آگاہ کیا گیا۔معاون خصوصی شفیع جان نے محکمہ اطلاعات کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ محکمہ صوبائی حکومت اور عوام کے درمیان ایک مضبوط رابطہ پل کا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ محکمہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کے مؤثر استعمال سے صوبائی حکومت کے عوامی فلاحی منصوبوں، اصلاحاتی اقدامات اور قیامِ امن کے لیے جاری کوششوں کو عوام تک زیادہ مؤثر انداز میں پہنچائے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ اطلاعات صوبائی حکومت کا نہایت اہم ادارہ ہے اور اس کے وسائل و استعداد کار کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ یہ ادارہ جدید تقاضوں کے مطابق اپنی خدمات انجام دے سکے۔شفیع جان کا کہنا تھا کہ ادارے کو درپیش مسائل اور چیلنجز کے حل کے لیے سب کو ایک ٹیم کی طرح مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت محکمہ اطلاعات کو درکار وسائل کی فراہمی اور فیلڈ دفاتر کی استعداد بڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گے اس موقع پر ایڈیشن اور ڈپٹی سیکرٹریز پریس رجسٹرار اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا دورہ شفیع جان نے بنوں بم دھماکے میں زخمی پولیس اہلکار کی عیادت کی
زیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے جمعہ کے روز لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بنوں بم دھماکے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکار کی عیادت کی، اس موقع پر ہسپتال ڈائریکٹر طارق برکی بھی موجود تھے، معاون خصوصی شفیع جان نے زخمی اہلکار کی خیریت دریافت کی اور انکے خاندان کے افراد سے ملاقات کی۔ انہوں نے ڈاکٹروں سے زخمی اہلکار کی صحت اور علاج کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔اس موقع پر معاون خصوصی شفیع جان نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمی اہلکار کو علاج معالجے کی بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے بہادر جوان صوبے کا فخر ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہادری اور قربانی کی لازوال مثالیں قائم کیں۔شفیع جان نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا پولیس کی استعدادِ کار میں اضافے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے،بعد ازاں ہاسپٹل ڈائریکٹر طارق برکی نے معاونِ خصوصی کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی طبی خدمات، سہولیات بارے بریفنگ بھی دی۔
