Home Blog Page 113

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے سوات واقعہ میں سیاحوں کی جان بچانے والے

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے سوات واقعہ میں سیاحوں کی جان بچانے والے مقامی نوجوانوں محمد ہلال خان اور عصمت علی نے پیرکے روزاسلام آباد میں ملاقات کی۔گورنر خیبرپختونخوا نے محمد ہلال خان اور عصمت علی کو مصنوعی کشتی کے ذریعے سیاحوں کی جان بچانے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا اوردونوں نوجوانوں کی بہادری اور انسانی امداد کے جذبہ کو سراہا۔گورنرنے دونوں نوجوانوں کو اپنی جانب سے عمرہ پر بھیجنے کا اعلان بھی کیااور انکی بہادری اور انسانی خدمت کے جذبہ پر تعارفی شیلڈ پیش کی۔گورنرنے اس موقع پر محمد ہلال خان اور عصمت علی کو سول ایوارڈ دینے کیلئے وزیراعظم کو سفارش بجھوانے کا بھی اعلان کیا اور کہاکہ مقامی بہادر نوجوانوں نے اپنی جان پر کھیل کر مصنوعی کشتی کے ذریعے سیاحوں کی جان بچائی۔انہوں نے کہاکہ مقامی نوجوانوں کی یہ بہادری اور انسانی امداد کا جذبہ قابل تعریف ہے، گورنر خیبر پختونخوا نے چیئرمین ہلال احمر کو سوات آفس کو ایمرجنسی خدمات کی فراہمی کیلئے مزید مستحکم کرنے اور ہلال احمر سوات آفس کو دستیاب ایمبولینسز کیساتھ کشتی لگانے کی بھی ہدایت کی۔گورنرنے کہاکہ ہلال احمر سوات ایمبولینسز کیساتھ کشتی لگا کر ہنگامی صورتحال میں سیلابی صورتحال میں لوگوں کو بروقت ریسیکیو کر سکتے ہیں

انفارمیشن کمیشن خیبر پختونخوا کی چیف انفارمیشن کمشنر فرح حامد خان اپنی 3 سالہ

انفارمیشن کمیشن خیبر پختونخوا کی چیف انفارمیشن کمشنر فرح حامد خان اپنی 3 سالہ آئینی مدت پوری کرکے ریٹائرڈ ہوگئیں۔ اس سلسلے میں خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن میں الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں انفارمیشن کمشنرز، کمیشن کے افسران اور ملازمین نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف انفارمیشن کمشنر فرح حامد خان نے کہا کہ انہوں نے جب کمیشن سنبھالا تو شہریوں کی شکایات کی بڑی تعداد زیر التوا تھی۔ ہم نے چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے شہریوں کی شکایات کا ازالہ کیا اور زیر التوا کیسز میں بہت حد تک کمی لائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے محدود وسائل کے باوجود بڑی حد تک آر ٹی آئی قانون سے متعلق نہ صرف شہریوں کو آگاہی دی بلکہ اداروں میں پبلک انفارمیشن آفیسرز کوبھی اس قانون سے متعلق تربیت دی۔ جس سے اداروں کی جانب سے معلومات کی فراہمی کا سلسلہ کافی حد تک ہموار ہوا۔ تقریب کے موقع پرڈپٹی ڈائریکٹرکمیونیکیشن سید سعادت جہان نے فرح حامد خان کے دور میں کمیشن کیلئے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ جن میں آرٹی آئی ایکٹ میں ترامیم، کمیشن کے ملازمین کیلئے سی پی فنڈ کا اجراء، کمیشن کے بجٹ میں اضافہ، اور ملازمین کی پروموشن قابل ذکر تھیں۔ اس موقع پر انفارمیشن کمشنرز ارشد احمد اور محمد ارشاد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا انہوں نے کمیشن کیلئے فرح حامد خان کی خدمات کو نہ صرف سراہا بلکہ ان کے جذبے اور طریقہ کار کو کمیشن میں آگے جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پروگرام کے آخر میں کمشنر فرح حامد خان کو کمیشن کی جانب سے سونئیر اور گلدستہ پیش کیا گیا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ فرح حامد خان اس سے پہلے سیکرٹری فیڈرل ایجوکیشن، اور اسسٹنٹ کمشنر ایبٹ آباد کے علاوہ کئی اہم عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایاز کا چینی حکومت کی دعوت پر چین کا اہم دورہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر شفقت ایازنے پڑوسی ملک چین کی حکومت کی جانب سے دی گئی دعوت پر چین کا اہم دورہ کیا۔دورے کے دوران حکومتِ خیبر پختونخوا اور چینی اداروں کے درمیان مختلف ایم او یوز MOUs پر دستخط ہوئے۔ اس دورے کا مقصد خیبرپختونخوا میں سائنس، ٹیکنالوجی، تعلیم اور نوجوانوں کی تربیت کے شعبے میں تعاون کو بڑھانا ہے۔ یہ دورہ چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈا پور کے اس وژن کے مطابق کیا گیا ہے جس کے تحت صوبے کو تعلیم، ٹیکنالوجی اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا رہا ہے۔

حکومت خیبرپختونخوا نے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں طلبہ میں سکالرشپ چیکس

حکومت خیبرپختونخوا نے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں طلبہ میں سکالرشپ چیکس تقسیم کر کے تعلیمی شمولیت اور سماجی بااختیاری کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ڈسٹرکٹ کونسل ہال پشاور میں منعقدہ ”مائنارٹی اسٹوڈنٹس اسکالرشپ ڈسٹری بیوشن پروگرام” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ، بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اس اقدام کو پاکستان تحریکِ انصاف کے دیرینہ عزم برائے انصاف، مساوات اور انسانی ترقی کی عملی مثال قرار دیا۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ یہ اسکالرشپ پروگرام اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور شمولیت کے لیے پی ٹی آئی حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے جو بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیرِاعظم عمران خان کے وژن کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ ایک ایسے پاکستان کے حامی رہے ہیں جہاں ہر شہری، خواہ اس کا مذہب کچھ بھی ہو، قومی ترقی میں یکساں کردار ادا کرے اور برابری کے مواقع سے مستفید ہو۔ انہوں نے عمران خان کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران اقلیتوں کے مذہبی ورثے کے تحفظ اور بحالی کے لیے اٹھائے گئے عملی اقدامات کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کرتارپور راہداری کا قیام اور مختلف علاقوں میں سکھ اور ہندو عبادت گاہوں کی بحالی، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے عمران خان کے وعدوں کی عملی تعبیر ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور کو اس تقریب کے کامیاب انعقاد پر خصوصی طور پر سراہا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کے فوکل پرسن برائے اقلیتی امور، وزیر زادہ کو بھی ان کی انتھک محنت، ثابت قدمی اور سیاسی و ذاتی مشکلات کے باوجود اقلیتی برادری کی خدمت کے جذبے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔تفصیلات کے مطابق ضلع پشاور میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے تقریباً 300 طلبہ میں اسکالرشپ چیکس تقسیم کیے گئے۔ پی ایچ ڈی کے طلبہ کو 10 لاکھ روپے، ایم فل کے طلبہ کو 2 لاکھ روپے، پروفیشنل ڈگری پروگرامز میں زیرِتعلیم طلبہ کو ایک لاکھ روپے، ماسٹرز کے طلبہ کو 70 ہزار روپے، بیچلرز کے طلبہ کو 60 ہزار روپے اور انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کو 50 ہزار روپے فی کس دیے گئے۔ مجموعی طور پر خیبرپختونخوا بھر میں 800 اقلیتی طلبہ اس اسکالرشپ پروگرام سے مستفید ہوں گے اور مجموعی رقم 6 کروڑ 10 لاکھ روپے تقسیم کی جائے گی۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے ریاست کی اخلاقی اور آئینی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی وسائل پاکستان کے تمام شہریوں کا حق ہیں اور ان کی منصفانہ تقسیم اچھی طرزِ حکمرانی کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کا تصور کبھی بھی سماجی یا معاشی محرومی کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے اسلامی سیاسی فلسفہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام تمام شہریوں کی فلاح اور تحفظ کا علمبردار ہے، خواہ ان کا مذہب کچھ بھی ہو۔طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ تعلیم کو صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے شعوری بیداری، سماجی ذمہ داری اور فکری بالیدگی کا وسیلہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی تعلیم وہی ہے جو انسان کے اندر سوچنے، سمجھنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔انہوں نے طلبہ کو یاد دلایا کہ ان کی اصل کامیابی صرف ذاتی مفادات کے حصول میں نہیں بلکہ دوسروں کی خدمت اور معاشرے کی بہتری میں مضمر ہے۔اپنے خطاب کے اختتام پر بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اقلیتی حقوق اور تعلیمی خودمختاری کے حوالے سے پی ٹی آئی کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت، عمران خان کی قیادت، رہنمائی اور وژن کے تحت، پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق اور وقار کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ محض مادی خواہشات کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ اپنی زندگیوں کو اعلیٰ اخلاقی اور سماجی مقاصد کے لیے وقف کریں۔ انہوں نے کہا کہ محنت، اخلاص اور انسانیت کی خدمت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

خاندانی منصوبہ بندی کے ا صولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ معاون خصوصی برائے بہبود آبادی ملک لیاقت خان

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی، ملک لیاقت خان نے خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اپنی ایک پیغام میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ خاندانی منصوبہ بندی پر عملدرآمد کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں، بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ رکھیں اور صوبہ بھر میں قائم بہبود آبادی مراکز سے بھرپور استفادہ حاصل کریں۔ملک لیاقت خان نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی نہ صرف ایک صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے ماں اور بچے کی صحت کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا عوام کی سہولت کے لیے بہبود آبادی کے مراکز میں مفت اور معیاری سہولیات فراہم کر رہی ہے، اور شہریوں کو چاہیے کہ وہ ان سہولیات سے فائدہ اٹھا کر اپنی زندگیوں کو بہتر بنائیں۔معاون خصوصی نے مزید کہا کہ ایک مستحکم اور خوشحال معاشرہ اس وقت ہی ممکن ہے جب ہر خاندان اپنے وسائل کے مطابق بچوں کی پرورش کرے۔ انہوں نے علما، اساتذہ، اور سول سوسائٹی سے بھی اپیل کی کہ وہ عوامی آگاہی میں حکومت کا ساتھ دیں تاکہ خاندانی منصوبہ بندی کے پیغام کو گھر گھر تک پہنچایا جا سکے۔

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو اسٹاک، فشریز و کوآپریٹیو، فضل حکیم خان کی زیر صدارت محکمہ

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو اسٹاک، فشریز و کوآپریٹیو، فضل حکیم خان کی زیر صدارت محکمہ فشریز سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل سیکرٹری نیاز محمد خان، ڈائریکٹر جنرل فشریز محمد ارشد عزیز، ڈائریکٹر زبیر علی سمیت دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو فشریز کے موجودہ امور، بریڈنگ سیزن، فشنگ پر پابندی اور محکمہ کی مجموعی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی اور کہا گیا کہ 70لاکھ روپے سے زائد کی چھوٹی مچھلیوں کو 40 ڈیموں کے ساتھ دریاوں میں چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ ان کی افزائش نسل ہو سکے۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے بریڈنگ سیزن کے دوران فشنگ پر مکمل پابندی کا عندیہ دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس دوران کسی بھی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے۔ ڈائریکٹر جنرل فشریز کے مطابق گرم پانی والے علاقوں میں جون تا اگست، جبکہ ٹراؤٹ فش کے لئے ستمبر تا مارچ بریڈنگ سیزن تصور کیا جاتا ہے۔ ان مہینوں میں جال کے ذریعے فشنگ پر مکمل پابندی عائد ہے جبکہ ہک کے استعمال کی قانون کے مطابق محدود اجازت ہوتی ہے۔ ٹراؤٹ فشنگ کے لیے 500 روپے میں پرمٹ جاری کئے جاتے ہیں جس کے ذریعے پانچ مچھلیاں پکڑی جا سکتی ہیں، اس سے زائد پر دوبارہ پرمٹ درکار ہوتا ہے صوبائی وزیر نے تمام اہلکاروں کو فیلڈ میں متحرک رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ غیر حاضر یا کام میں غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے ڈی جی فشریز کو 15 جولائی تک خلاف ورزیوں اور اس پر دی جانے والی سزاؤں کی مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ صوبائی وزیر نے فشریز اہلکاروں کے لیے یونیفارم کی سمری تیار کرنے، دریاؤں میں مائننگ کے لیے فشریز ڈیپارٹمنٹ سے این او سی لازمی قرار دینے، اور پلوشن کے انسداد کے لیے ٹی ایم ایز کو واضح ہدایات جاری کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دریاؤں میں گندگی پھینکنے اور ہائیڈرو پاور پراجیکٹس سے ماحولیاتی نظام اور آبی حیات شدید متاثر ہوتی ہے۔ صوبائی وزیر فضل حکیم خان نے فشریز سے متعلقہ قانون سازی پر بھی توجہ دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ایک نیا ایکٹ تیار کر کے کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ موجودہ قوانین، جن میں 1977 کا ایکٹ شامل ہے، کو موجودہ حالات کے مطابق جدید بنایا جا سکے۔

مینا خان آفریدی نے ایک اور وعدہ نبھایا، طلبہ کے لیے اعلیٰ کوالٹی انٹرنشپ کا راستہ ہموار کر لیا

خیبرپختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک تاریخی پیشرفت کے تحت محکمہ اعلیٰ تعلیم نے سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، کوڈ فار پاکستان اور انڈسٹریز ایسوسی ایشن پشاور کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کر دئیے۔ اس موقع پر ایک باوقار مگر سادہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز، مینا خان آفریدی، سیکرٹری اعلی تعلیم اور متعلقہ تنظیموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔صوبائی وزیر مینا خان نے تقریب سے اپنی خطاب میں کہا کہ آج ہم نے انڈسٹری اور اکیڈیمیا کے درمیان خلیج پر کرنے کی جانب پہلا مؤثر اور ٹھوس قدم اٹھایا ہے، جس سے خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کو عملی دنیا کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں 30 مختلف بی ایس پروگرامز میں 1,20,000 طلبہ انرولڈ ہیں، جنہیں نہ صرف معیاری تعلیم دی جا رہی ہے بلکہ انہیں عملی مہارتوں سے بھی آراستہ کیا جا رہا ہے۔مینا خان آفریدی نے واضح کیا کہ نئی ہائیر ایجوکیشن پالیسی کے مطابق ہر طالبعلم کے لیے لازمی ہے کہ وہ انٹرن شپ کے تین کریڈٹ آورز مکمل کرے، تاکہ وہ گریجویشن کے بعد محض ایک سند یافتہ فرد نہ ہو بلکہ ایک ہنرمند اور قابلِ روزگار شہری بن کر مارکیٹ میں جائے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہم خیبرپختونخوا میں فرسٹ ایئر اور سیکنڈ ایئر کی طالبات کو مکمل مفت تعلیم فراہم کر رہے ہیں تاکہ معاشرتی ترقی میں خواتین کا کردار بھی مؤثر انداز میں بڑھایا جا سکے۔وزیر موصوف نے اپنے خطاب میں نوجوانوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں ضروری ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو صرف ڈگری نہیں بلکہ ہنر کا زیور بھی پہنائیں تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں مسابقت کر سکیں۔مینا خان آفریدی نے کہا کہ مذکورہ مفاہمتی یادداشت، اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت حکومت خیبرپختونخوا ایک باصلاحیت، ہنر مند اور باشعور افرادی قوت تیار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس اشتراک سے نہ صرف تعلیم اور صنعت کے درمیان تعلق مضبوط ہوگا بلکہ طلبہ کو ملازمتوں اور کاروباری مواقع تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اینٹی کرپشن مصدّق عباسی نے کہا ہے کہ سابق صوبائی وزیر

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اینٹی کرپشن مصدّق عباسی نے کہا ہے کہ سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا نے عدالت کے ذریعے اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا سے اپنے خلاف مقدمہ یا شکایت کی تفصیلات طلب کیں۔ اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا نے عدالت میں شہریوں کی جانب سے جمع کرائی گئی دو شکایات کی تفصیلات پیش کر دی ہیں۔ مصدّق عباسی نے زور دیا کہ قانون کے مطابق اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا کسی بھی شہری کی شکایت قبول کرنے سے انکار نہیں کر سکتا، ورنہ اسے عدالتی نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے۔ مشیر وزیراعلیٰ نے بتایا کہ محکمہ انسدادِ بدعنوانی نے اب تک ان شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان شکایات کی باقاعدہ تصدیق کی جائے گی اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا شکایت کو مزید آگے بڑھانا ہے یا مسترد کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ اس سے قبل اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا نے سابقہ صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا کے خلاف میرٹ پر تین مقدمات ختم کیے تھے۔ عباسی نے کہا کہ تیمور سلیم جھگڑا کی خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت ہے وہ آزادی سے کوئی بھی سوال پوچھ سکتے ہیں نہ کہ اسے سوشل میڈیا پر جاری کریں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ تیمور سلیم جھگڑا کو چاہیے کہ معاملات کو پارٹی کے اندر مختلف فورم پر زیر بحث لائیں نا کہ سوشل میڈیا پر –

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کا عالمی یومِ پارلیمانی نظام کے موقع پر پیغام

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے عالمی یومِ پارلیمانی نظام کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پارلیمان کسی بھی جمہوری ریاست کا بنیادی ستون ہے، جو عوامی اُمنگوں کی ترجمانی، قانون سازی، احتساب اور شفاف طرزِ حکمرانی کا ضامن ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے ہمیشہ اس عزم کے ساتھ کام کیا ہے کہ پارلیمانی نظام کو صرف ایوانوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عام شہری، خصوصاً نوجوان نسل، کو اس نظام سے جوڑا جائے۔ اسی مقصد کے لیے اسمبلی میں باقاعدہ طور پر طلبہ کے مطالعاتی دورے کروائے جاتے ہیں، جن میں انہیں پارلیمانی کارروائی کا براہِ راست مشاہدہ، معلوماتی لیکچرز اور ارکان اسمبلی سے گفتگو کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، تاکہ نوجوانوں میں آئینی شعور اور جمہوری سوچ پروان چڑھے۔اسپیکر نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی نے پارلیمانی شفافیت کو فروغ دینے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ قائمہ کمیٹیوں کی کارروائیاں کے اہم نکات، سفارشات اور کارروائی کو ویڈیو پیکجز اور پریس ریلیز کے ذریعے عوام تک پہنچایا جاتا ہے، تاکہ شہری باخبر رہیں کہ ان کے مسائل پر ایوان سے باہر بھی سنجیدہ گفتگو جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ابھی حال ہی میں ہم نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی کارروائیوں کو براہِ راست نشر کیا، جو کہ صوبے میں مالی احتساب کے عمل کو عوام کے سامنے لانے کی ایک اہم کاوش ہے۔ اسی طرح اسمبلی سیشنز کی کارروائی بھی براہِ راست نشر کی جاتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام قانون سازی کے عمل سے براہِ راست جڑ سکیں۔یہ تمام اقدامات اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف (SDG 16.7) کے مطابق ہیں، جس میں شفاف، شراکتی اور نمائندہ طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔بابر سلیم سواتی نے اپنی پیغام کے اختتام میں کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی جمہوریت کے فروغ، عوامی شمولیت اور پارلیمانی شفافیت کے لیے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھے گی، تاکہ پارلیمان صرف قانون سازی کا ادارہ نہ رہے، بلکہ ایک زندہ، فعال اور عوامی ادارہ بن کر سامنے آئے۔

قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی نوشہرہ کی انتظامیہ کو المروان ویلفیئر فاؤنڈیشن

اضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی نوشہرہ کی انتظامیہ کو المروان ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جانب سے 10 ویل چیئرز بطور عطیہ کی گئیں۔المروان ویلفیئر فاؤنڈیشن کے وفد کی سربرائی میں ہسپتال ڈائریکٹر ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر کامران حکیم خان کو ہسپتال کے لیے ویل چیئرز عطیہ کی گئیں۔ہسپتال ڈائریکٹر ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر کامران حکیم خان نے المروان ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ایثار کو شاندار الفاظ میں سراہا۔اس موقع پر قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس ایم ٹی آئی نوشہرہ کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سردار سہیل افسر اور ایڈمنسٹریشن عملہ بھی موجود تھا۔