وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے محکمہ ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی نے کہا ہے کہ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کی مد میں 88 ہزار سرکاری ملازمین سے درخواستوں کی موصولی خوش آیند ہے،جانج پڑتال کے بعد معیاری درخواست گزاروں کو مختلف ہاوسنگ سکیموں میں پلاٹس دئیے جائینگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز محکمہ ہاوسنگ کی زیر نگرانی جاری منصوبوں کی موجودہ صورتحال اور درکار اقدامات سے متعلق سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقدہ اجلاس کی صدرات کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے،ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے اور ڈائریکٹر ایڈمن کے بشمول دیگر متعلقہ افسران بھی شریک تھے۔ اجلاس میں سی پیک سٹی نوشہرہ, رحمان بابا کمپلیکس, احساس اپنا گھر منصوبہ, ورسک ٹو ہاوسنگ سکیم, جلوزئی, جرما ہاسنگ سکیم کوہاٹ, سول کوارٹر پشاور, پشاور ویلی اور میگا سٹی نوشہرہ جبکہ باجوڑ میں شراکت داری فارمولا کے تحت 3 ہزار کنال پر مشتمل ہاوسنگ سکیم سے متعلق بھی غور و خوض کیا گیا۔ ڈاکٹر امجد علی نے محکمہ ہاؤسنگ کے حکام کو درکار اقدامات میں تیزی لانے کے لئے ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ جاری منصوبوں پر کام کا خود جائزہ لینے کیلے وہاں کے دورے کرے گے۔ ڈاکٹر امجد علی کا کہنا تھا کہ معیار و مقدار پر سمجھوتا نہیں کیا جائیگا جبکہ غفلت برتنے والوں کے خلاف کاروائی کریں گے۔
مخالفین تحریک انصاف کو توڑ نہیں سکتے، ظاہر شاہ طورو
عمران خان کے بغیر کوئی مائی کا لعل خیبرپختونخوا حکومت کو گرا نہیں سکتا،صوبائی وزیر خوراک
وزیر خوراک خیبرپختونخوا ظاہر شاہ طورو نے مخصوص نشستوں کے حالیہ فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ثمرات اب فارم 47 والوں کی جھولی میں گرنے لگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے ذریعے مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کو نوازنا عوامی مینڈیٹ یعنی فارم 45 کے اصل نمائندوں پر کھلا ڈاکہ ہے۔ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ پسِ پردہ خاموش کھلاڑی ایک مرتبہ پھر فارم 47 کی بنائی گئی حکومت کو مضبوط بنانے اور مخصوص نشستوں کے ذریعے قومی اسمبلی میں اپنی مرضی کے اراکین لا کر 27ویں آئینی ترمیم کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ یہ عمل جمہوریت کو روزانہ کی بنیاد پر تختہ دار پر لٹکانے کے مترادف ہے، اور ایسے فیصلے تاریخ کے سیاہ اوراق میں درج کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے خلاف سازشوں کا ایک نیا باب کھول دیا گیا ہے، مگر ہم ان سازشوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ چاہے مخالفین کتنی ہی کوششیں کر لیں، وہ تحریک انصاف کو توڑ نہیں سکتے۔ظاہر شاہ طورو نے خبردار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن ان چیف عمران خان جب چاہیں گے، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت نہیں رہے گی۔ انہوں نے دوٹوک کہا کہ عمران خان کے بغیر کوئی مائی کا لعل خیبرپختونخوا حکومت کو گرا نہیں سکتا
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر
خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت میجر ریٹائرڈ سجاد بارکوال نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی طرف سے کی جانے والی پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر ایسی جنگ لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کو وہ اپنی زندگی میں نہیں جیت سکتے۔ اگر اپوزیشن لیڈر اپنے بھائی کی کارکردگی پر غور کریں تو پتہ چلے گا کہ اصل ایف آئی آر ان کے خلاف ہونی چاہیے۔سوات وقعہ پر وفاقی حکومت کے کردار کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وفاق کا کام صرف اطلاع دینا نہیں بلکہ ایسے حالات میں ضروری اقدامات اٹھانا وفاق اور ریاست کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذہن میں اسلام آباد صرف عیش و عشرت کے لیے جایا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے بھائی اور قائدین کی حرکتیں دیکھ کر ہی دوسروں کے بارے میں رائے قائم کی ہوئی ہے۔ سیلاب کے دوران ہیلی کاپٹر کی فراہمی معاملے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ترجمان صوبائی حکومت پہلے ہی اس کی وضاحت دے چکی لیکن اگر اپوزیشن لیڈرنے پشاور سے ہیلی کاپٹر کی ٹائمنگ نوٹ کی ہے تو اسلام آباد کی ٹائمنگ بھی بتا دیتے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ہمارے قائد ناکردہ گناہوں کی وجہ سے جیل میں ہیں، جبکہ آپ کے قائد عیاشی والی جیل سے پلیٹلیٹس گرا کر پچاس روپے کے سٹامپ پیپر پر لندن بھاگ گئے تھے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو وزیراعلیٰ بننے کا سوچنا بھی نہیں چاہیے کیونکہ تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرین چٹان کی طرح وزیراعلیٰ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ صوبائی حکومت کے لئے اپوزیشن لیڈر کی جانب سے نا مناسب الفاظ استعمال کرنے پر سجاد بارکوال کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ان کی اپنی تربیت کی صحیح عکاسی ہوئی ہے اور صوبے کے عوامی مینڈیٹ کی انہوں نے توہین کی ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ عوام نے اسی بنا پر اپوزیشن لیڈر کی سیاسی ناپختگی کو جانچ کر پارلیمان سے باہر پھینکا ہے۔ البتہ انہوں نے فارم 47 کا سہارا ضرور لیا ہے۔ عوام نے قائد عمران خان پر تیسری مرتبہ اعتماد ہی اس لیے کیا ہے کہ وہ قوم کی صحیح معنوں میں قیادت کر رہے ہیں۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت گورننس امور پر جائزہ اجلاس
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت گورننس امور پر جائزہ اجلاس
چیف سیکر ٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت گورننس امور پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیلابی صورتحال سمیت کسی بھی ایمرجنسی پیش آنیکی صورت میں ریسپانس ٹائم تیز تر بنانے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے۔ اس موقع پرچیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ بارشوں اور سیلاب کی جگہوں پر رسپانس ٹائم تیز تر بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ حکومت خیبرپختونخوا ڈرونز جیسے جدید آلات لینے پر کام کررہی ہے جن سے لائف جیکٹس اور دیگر ضروری اشیاء ایمرجنسی میں پھنسے افرادکو پہنچائی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تجاوزات کے خلاف آپریشن اورپانی کے بہاؤ کے راستے سے تجاوزات ہٹانے کے لیے کاروائیاں جاری رکھی جائیں گی اورغیر قانونی تعمیرات کی دوبارہ تعمیر روکنے کے لئے دریاؤں کے اطراف ڈی مارکیشن بھی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو اہلکاروں کی آپریشنل صلاحیت بہتر بنانے کے لیے ماک ڈرلز جاری رکھی جائیں گی، ایسے علاقے جہاں سیلاب کا خطرہ ہے وہاں حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جارہے ہیں۔ ارلی وارننگ سسٹم پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ لوکل کمیونٹی کو ایمرجنسی ریسپانس کے لئے تیار کرنے اور اسے ٹریننگ سے آراستہ کرنے پر بھی کام کیا جارہا ہے تاکہ ایمرجنسی میں جلد ریسپانس دیا جاسکے۔ ریسپانس کے لئے متعلقہ محکموں کاموقع پر موجود ہونا ضروری ہے اس لئے تمام متعلقہ محکمے ہاٹ سپاٹس پر موجودگی یقینی بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 میں میرٹ پر بھرتیاں یقینی بنائی جائیں گی۔ اس حوالے سے کوئی بھی کوتاہی نہیں برتی جائے گی جبکہ ندی نالوں کی صفائی کا کام بھی جاری رکھا جائے گا۔ چیف سیکرٹری نے مزید کہا کہ تمام کمشنرز باقاعدگی سے فلڈ ریسپانس پلان کا جائزہ لیں گے۔ دریاؤں کے اطراف دفعہ 144 کا اطلاق یقینی بنایا جائے گا۔ عوامی آگاہی مہم کے تحت عوام کو دریاؤں کے قریب جانے سے روکنے کے لئے بھی کام جاری ہے۔ سیاحتی مقامات پر تمام ہوٹلوں کو پابند کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے پاس کشتیاں، رسیاں، لائف جیکٹس جیسے آلات کی دستیابی یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں تیز ریسپانس دیا جاسکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا سیاحوں کو ٹریول ایڈوائزری باقاعدگی سے جاری کرے۔دریاؤں کے اطراف لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بغیر کسی بھی تعمیرات کیلئے این او سی جاری نہ کی جائے۔ لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد این او سی دے گی۔ ریور بیڈز پر تمام این او سیز کا ازسر نو جائزہ لیا جارہا ہے اور غلط این او سی دینے والوں کیخلاف کاروائی کی جائے گی۔ اجلاس میں ایم ڈی آئی ٹی بورڈ کی جانب سے ‘ریلیف pulse’ کے نام سے موبائل ایپ وارننگ سسٹم کے نظام کو ڈیجیٹائز کرنے پر بھی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ایریگیشن کے 147 گیجز کو ڈیش بورڈ پر لایا جارہا ہے، ہائی رسک جگہوں کے ہوٹلوں کی میپنگ کرنے سمیت سوشل میڈیا کو الرٹ میسجز کے لیے فعال طور پر استعمال کیا جائے گا جبکہ سیلاب کی مانیٹرنگ کیلئے ڈیش بورڈ بھی بنایا جارہا ہے اورایس ایم ایس کے ذریعے عوام کو ان علاقوں میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے آگاہ رکھا جائے گا۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف کا دفتر کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں فرسٹ ریسپانس کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ اجلاس کو پرائس کنٹرول اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی اوراشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔اجلاس کوبتایا گیا کہ حکومت خیبرپختونخوا نے سیاحتی علاقوں میں ماحولیاتی تحفظ اور صفائی کی غرض سے مہم کا آغاز کیا تھا جس کے تحت سیاحتی مقامات پر 27 مئی سے اب تک 393 ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں سے 224 نے اپنے سیوریج اور نکاسی آب کا نظام درست کیا ہے جبکہ دیگر پر کاروائی جاری ہے۔ اجلاس کو سالانہ ترقیاتی پروگرام، پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور پروکیورمنٹ اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ہزارہ جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام آباد کے وفد نے
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ہزارہ جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام آباد کے وفد نے صدر لقمان شاہ کی قیادت میں اتوار کے روز اسلام آباد میں ملاقات کی، وفد میں جنرل سیکرٹری عادل خان، سینئرنائب صدر نوید الرحمان، جوائنٹ سیکرٹری شیراز احمد، شیرازی، سینئر صحافی اشتیاق عباسی، سیدنوید جمال، قیصر تنولی، سیکرٹری اطلاعات ارشد تنولی، شکیل پسوال و دیگر شامل تھے . اس موقع پر گورنرخیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سوات سانحہ پر ہر آنکھ اشکبار ہے، پی ٹی آئی کے بارہ سالہ اقتدار نے پختونخوا کے انتظامی ڈھانچے کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے، یہ صوبائی حکومت کی نا اہلی ہے اگر صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ چاہتی تو آدھے گھنٹے میں ہیلی کاپٹر آسکتا تھا مگر ان کی ترجیحات عوام کے جان و مال کا تحفظ نہیں بلکہ لوٹ مار ہے، صوبے کے عوام نااہل حکومت کیخلاف سڑکوں پر ہیں، گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آزادی اظہار رائے کیلئے آواز بلند کی، صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے ہر طرح کا تعاون کریں گے، اس موقع پر صدر ہزاری جرنلسٹس ایسوسی ایشن اسلام آباد نے ایسوسی ایشن کے اغراض و مقاصد اور صحافیوں کو درپیش مسائل سے گورنر خیبرپختونخوا کو آگاہ کی
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواکے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ سوات کے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواکے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ سوات کے قدرتی آفت پر سیاست کرنے والی مریم نواز پنجاب کے ہسپتالوں پر بھی توجہ دیں جہاں پاکپتن کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں سہولیات کے فقدان کے باعث معصوم جانیں دم توڑ رہی ہیں۔ اب تک 20 معصوم بچے ناقص طبی سہولیات اور بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ یہ ایک دل دہلا دینے والا المیہ ہے جو پنجاب کے صحت کے نظام کی ناکامی کو بے نقاب کرتا ہے۔20 ماؤں کی گودیں اجڑ چکی ہیں، لیکن مریم نوازوزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف سیاسی بیان بازی میں مصروف ہیں۔ٹک ٹاکر وزیراعلیٰ قدرتی سانحات پر سیاست کی بجائے پنجاب کے ہسپتالوں میں سہولیات فراہم کریں۔مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے سوات کے سانحے پر فوری ایکشن لیتے ہوئے چھ افسران کو معطل کیا، جو قابلِ تحسین ہے۔اس کے برعکس، پاکپتن کے اسپتال میں بچوں کی اموات پر کسی ذمہ دار کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جو مجرمانہ غفلت ہے۔پنجاب بھر کے سرکاری اسپتال ادویات، طبی آلات اور پیشہ ورانہ عملے کی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحے سوات پر وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنرز اور ریسکیو کے ضلعی انچارج کو معطل کیا ہے اور ساتھ ہی تحقیقاتی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور ذمہ داروں کے تعین کے بعد انہیں سخت سزا دی جائیگی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تاحال معصوم جانوں کے ذمہ داروں میں سے کسی جونیئر آفیسر کے خلاف بھی کاروائی نہیں کی ہے جو پنجاب حکومت کی غفلت اور لاپرواہی ثابت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز سمیت تمام جعلی حکمران بغض عمران خان میں سوات کے قدرتی آفت کو بھی سیاسی رنگ دے رہے ہیں جو قابل افسوس ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ پنجاب کے ہسپتالوں سے روزانہ افسوسناک خبریں آرہی ہیں، کبھی آکسیجن دستیاب نہیں ہوتا تو کبھی ادویات کی کمی ہوتی ہے۔ مریم نواز دوسروں پر بے جا تنقید کی بجائے پنجاب کے ہسپتالوں پر توجہ دیں اور معصوم جانوں سے کھیلنا بند کریں۔
محرم الحرام کے پرامن انعقاد کے حوالے سے کوہاٹ میں گرینڈ امن جرگہ کا انعقاد
محرم الحرام کے پرامن انعقاد کے حوالے سے کوہاٹ میں گرینڈ امن جرگہ کا انعقاد
محرم الحرام 2025 کے پرامن انعقاد کے حوالے سے اتوار کے روز کمشنر ہاؤس کوہاٹ میں ڈویژنل سطح پر گرینڈ امن جرگہ منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراء سمیت کوہاٹ ڈویژن کے تمام اضلاع کی منتخب سیاسی قیادت، اہل سنت و اہلِ تشیع کے علماء و اکابرین اور عمائدین کے علاوہ کمشنر کوہاٹ، ڈی آئی جی کوہاٹ، متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اور لائن ڈیپارٹمنٹس کے حکام نے بھی شرکت کی۔جرگہ سے وزیر قانون آفتاب عالم ایڈوکیٹ، وزیر زراعت میجر (ر) محمد سجاد بارکوال، اراکین قومی اسمبلی شہر یار آفریدی، شاہد خان خٹک، اراکین صوبائی اسمبلی شفیع جان، اورنگزیب اورکزئی، داؤد آفریدی اور شاہ تراب خان، سابق چیف جسٹس سید ابن علی اور اہل سنت و اہل تشیع کے اکابرین نے خطاب کیا اورمحرم الحرام کے پرامن انعقاد کیلئے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔کمشنر کوہاٹ ڈویژن نے جرگہ کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ بھارتی جارحیت کے تناظر میں یہ محرم الحرام مخصوص حالات میں منعقد ہونے جارہا ہے اور خدانخواستہ مکار دشمن کوئی ایسا حرکت نہ کرے جس سے انتشار پھیلے، لہذا ہم نے ہوشیار رہنا ہے اور دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنانا ہے۔خاص طور پر سوشل میڈیا جو بیرونی کنٹرول میں ہے پر خصوصی دھیان رکھنا ہے اور اس پر پھیلنے والی ہر خبر، پوسٹ اور ویڈیو کی پوری تحقیق کرنی ہے۔مقررین کا کہنا تھا کہ محرم الحرام کی حرمت قرآن پاک سے صاف واضح ہے لہذا محرم الحرام اہل سنت اور اہل تشیع، سب کیلئے برابر قابل احترام ہے۔جرگہ کے شرکاء نے اس عزم کا ارادہ کیا کہ ہم نے ہر موقع پر چاہے محرم الحرام ہو یا کوئی اور مذہبی تہوار، باہمی اتفاق و اتحاد سے دشمن کی ہر سازش اور چال کو ناکام بنانا ہے۔ہم سب مسلمان ہیں اورہماری شناخت صرف پاکستان ہے۔مقررین کا مزید کہناتھا کہ دشمن اندرونی سطح پر ہمیں تقسیم کرکے اور ہمارا اتحاد پارہ پارہ کرکے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل چاہتاہے لیکن انشاء اللہ ہم اسے کبھی بھی اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ہم سب نے مل کر نئی نسل کو دشمن کی ہر سازش سے بچاناہے۔آخر میں ملک کی بقاء و سلامتی اور ترقی و خوشحالی کیلئے دعاکی گئی۔ ملک کیلئے جام شہادت نوش کرنے والے شہداء اور سانحہ سوات شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے بھی خصوصی دعا کی گئی
صحت کے شعبے کی اصلاحات گورننس روڈ میپ کے تحت اولین ترجیح: چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کو اساتذہ بھرتی کے حوالے سے ایجوکیشن ٹیسٹنگ ایجنسی ایٹا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر
صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کو اساتذہ بھرتی کے حوالے سے ایجوکیشن ٹیسٹنگ ایجنسی ایٹا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عادل صافی کی بریفنگ۔ اساتزہ کے جاری بھرتی کے عمل بارے بریفنگ۔صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم میں اساتزہ بھرتی کا عمل خالصتاً میرٹ پر ہو رہا ہے۔ قابل اور ذہین امیدواروں کو میرٹ پر منتخب کر کے ان کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت کیمبرج یونیورسٹی کے تکنیکی معاونت سے فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی خالی 16454 آسامیوں کے لیے 8 لاکھ 68 ہزار 519 امیدواروں نے اپلائی کی ہے جن میں سی ٹی کی 2083 آسامیوں کے لیے 2 لاکھ 34 ہزار 901, ڈرائنگ ماسٹر کی 760 اسامیوں کے لیے ایک لاکھ 27 ہزار 509 جبکہ دیگر آسامیوں کے لیے بھی لاکھوں کی تعداد میں امیدواروں نے اپلائی کی ہے۔ انہوں نے ایٹا حکام کو ہدایت کی کہ امیدواروں کی مختلف مراحل پیپر بیسڈ، کمپیوٹر بیسڈ ٹسٹس اور ڈاکومنٹس ویریفیکیشن کے تکنیکی مراحل سے گزار کر منتخب شدہ امیدواروں کو محکمہ تعلیم کے حوالے کریں۔ وزیر تعلیم نے یہ بھی ہدایت کی کہ ٹیسٹنگ کے عمل میں تیزی لائی جائے تاکہ چھٹیوں کے بعد اساتذہ طلباء و طالبات کو سکولوں میں میسر ہو۔
یہ ہدایات انہوں نے اساتذہ بھرتی کے حوالے سے ایٹا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ان کی ٹیم کی طرف سے بریفنگ لیتے وقت جاری کی۔ اجلاس میں سیکرٹری ایجوکیشن مسعود احمد، سپیشل سیکرٹری عبدالباسط، ایڈیشنل سیکرٹری مقبول حسین اور ڈائریکٹر ایجوکیشن ناہید انجم کے علاوہ دیگر حکام نے بھی شرکت کی۔
بریفنگ دیتے وقت وزیر تعلیم کو بتایا گیا کہ اس ہفتے 8 ہزار پوزیشنز کے لیئے ٹیسٹ کا عمل مکمل کیا جائے گا جبکہ مردان ریجن کے ٹیسٹ بھی 8 اور 9 جولائی کو منعقد کیے جائیں گے۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ ٹیٹس ٹیسٹس میں نیگیٹو مارکنگ متعارف کرانے کا مقصد قابل اور ذہین لوگوں کو مواقع فراہم کرنا اور سکروٹنی کے عمل کو آسان بنانا تھا انہوں نے کہا کہ امتحانات میں جس بھی سوال پر امیدوار کو اعتراض ہو وہ ایٹا حکام اور محکمہ تعلیم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ درس و تدریس ایک مقدس پیشہ ہے اور اس تمام پراسس کا مقصد میرٹ کی سربلندی اور طلباء وطالبات کو تدریس کے عمل کے لیے قابل اور ذہین اساتذہ منتخب کرنا ہے جنہوں نے اس صوبے کے بچوں کو بہترین تعلیمی ماحول اور مواقع فراہم کرنے ہیں
وزیر تعلیم نے ایجوکیشن ٹیسٹنگ ایجنسی ایٹا کےفعال کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایٹا کے ساتھ ایم او یو کرنے سے پہلے ان کے استعداد کار اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے خود ایٹا کا دورہ بھی کیا تھا۔
ٹیکس کا نفاذ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے، کسی صورت قبول نہیں کریں گے: صوبائی وزیر فضل حکیم خان
خیبرپختونخوا کے وزیر برائے لائیو سٹاک، فشریز و کوآپریٹو فضل حکیم خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کو یکسر مسترد کرتے ہیں، یہ فیصلہ نہ صرف یہاں کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ مقامی صنعت، کاروبار اور روزگار کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے پشاور میں مختلف وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ فضل حکیم خان نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن خصوصی حیثیت کا حامل علاقہ ہے اور اس کے ساتھ یہ ڈویژن مختلف اوقات میں بدامنی، قدرتی آفات اور پسماندگی کا شکار ہو چکا ہے۔ اب ٹیکس کے نفاذ سے نہ صرف مقامی صنعت کار متاثر ہوں گے بلکہ ہزاروں افراد کا روزگار بھی خطرے میں پڑ جائے گا انہوں نے کہا کہ یہاں بیرونی علاقوں سے لوگ آ کر انڈسٹری لگا چکے ہیں جن میں مقامی افراد روزگار حاصل کر رہے ہیں لیکن اگر ٹیکس لاگو کیا گیا تو بیرونی سرمایہ کار مجبوراً یہاں سے چلے جائیں گے اور صنعتیں بند ہو جائیں گی، جو یہاں کے عوام کا معاشی قتل کے مترادف ہوگا۔ صوبائی وزیر نے وفاقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس کے فیصلے کو واپس لیا جائے اور یہاں کے لوگوں کو مزید معاشی ریلیف فراہم کرے نہ کہ ان پر مزید بوجھ ڈالے۔ فضل حکیم خان نے وزیرستان میں ڈرون حملوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے بند کیے جائیں کیونکہ یہ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ امن و امان کے قیام میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ہر فورم پر عوامی حقوق کا دفاع کرے گی اور کسی کو یہاں کے عوام کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
