Home Blog Page 114

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ، الیکشنز اور دیہی ترقی کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹیریٹ پشاور میں منعقد ہوا

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ، الیکشنز اور دیہی ترقی کا اجلاس بدھ کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹیریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت چیئرمین قائمہ کمیٹی وممبر صوبائی اسمبلی عبدالکبیر خان، نے کی۔ اجلاس میں ممبران قائمہ کمیٹی و اراکین صوبائی اسمبلی افتخار اللہ جان اور ثوبیہ شاہد سمیت سیکرٹری بلدیات و متعلقہ عملہ محکمہ قانون اور صوبائی اسمبلی خیبر پختنخوا کے متعلقہ افسران بی شریک تھے
اجلاس کے دوران محکمہ لوکل گورنمنٹ، الیکشنز اور دیہی ترقی کے اعلیٰ حکام نے کمیٹی کو اپنے فرائض اور تنظیمی ڈھانچے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں محکمہ کی کارکردگی، انتظامی ڈھانچے، جاری ترقیاتی اقدامات اور مقامی حکومتوں کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر کمیٹی کے اراکین نے مختلف امور بارے کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے متعلق اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔چیئرمین قائمہ کمیٹی عبدالکبیر خان نےاس بات پر زور دیا کہ مقامی حکومتوں کا مؤثر نظام عوامی مسائل کے حل اور نچلی سطح پر ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ عوامی خدمت کے معیار کو بہتر بنانے، شفافیت کو فروغ دینے اور بلدیاتی اداروں کو مزید فعال بنانے کے لیے عملی اقدامات یقینی بنائیں۔
اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے محکمہ کی جانب سے فراہم کردہ بریفنگ کا جائزہ لیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے کمیٹی اپنا فعال کردار ادا کرتی رہے گی

مانسہرہ حلقہ پی کے۔37 میں پینےکے صاف پانی کےلیے 30 کروڑ روپے کا میگا منصوبہ منظور

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کی خصوصی کاوشوں کے نتیجے میں ضلع مانسہرہ کے لیے پینے کے صاف پانی کا ایک اہم میگا منصوبہ منظور کر لیا گیا ہے۔ صوبائی کابینہ نے 300 ملین روپے (30 کروڑ روپے) کی لاگت پر مشتمل پینے کے پانی کی فراہمی کی 13سکیموں کی منظوری دے دی ہے، جس سے ضلع کے مختلف علاقوں میں پانی کے دیرینہ مسئلے کے حل میں مدد ملے گی۔اس منصوبے کے تحت واٹر سپلائی سسٹم، پائپ لائنز، پمپنگ مشینری اور دیگر ضروری انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے گا، جس سے 68 ہزار سے زائد افراد کو صاف پینے کے پانی کی سہولت میسر آئے گی۔سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے منصوبے کی منظوری پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی اور صوبائی کابینہ کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے سے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئے گی اور علاقے کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے۔

خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن میں شہریوں کی شکایات کی سماعت۔

خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن پشاور میں کمشنرز محمد ارشاد اور ارشد احمد نے شہریوں کی شکایات کی سماعت کی۔ سماعت میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور، بے نظیر وومن یونیورسٹی، اریگیشن ڈیپارٹمنٹ اور ہیلتھ کئیر کمیشن سمیت کئی اداروں کے پبلک انفارمیشن آفیسرز (پی آئی اوز) کمیشن میں پیش ہوئے۔
اس موقع پرانجینئرنگ یونیورسٹی پشاور اور فشریز ڈیپارٹمنٹ نے معلومات فراہم کیں۔ جن میں دونوں اداروں سے بالترتیب، مردان کے رہائشی محمد آفتاب نے ایک پراجیکٹ اور اس کے تحت بھرتی شدہ ملازمین اور بھرتی کے کے عمل سے متعلق معلومات، جبکہ پشاورکے رہائشی صدام حسین نے 2017 کے سروس رولزاورکلاس فورملازمین کی سینئارٹی لسٹ کے نقول مانگی تھیں۔
اس کے علاوہ بے نظیر وومن یونیورسٹی پشاور، ہیلتھ کئیر کمیشن، ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ اور منرل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے مکمل معلومات کی فراہمی کیلئے پانچ دن کا وقت مانگ لیا۔

خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی کا 8 ہزار کلو خراب قیمہ و کوفتے، 5 ہزار کلو دل و کلیجی اور جعلی مشروبات برآمد

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات پر فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے رمضان المبارک کے دوران غیر معیاری، ملاوٹ شدہ اور مضرِ صحت خوراک کے خلاف صوبہ بھر میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں ناقص اور مضرِ صحت خوراک برآمد کرکے ضبط کی گئی جبکہ متعدد کاروباروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ترجمان فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مردان میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے مختلف کارروائیاں کرتے ہوئے ایک قیمہ پروڈکشن یونٹ پر چھاپہ مارا جہاں سے تقریباً 8 ہزار کلو گرام خراب اور غیر معیاری قیمہ و کوفتے برآمد کرکے ضبط کر لیا گیا، جبکہ ولی انٹرچینج پر ناکہ بندی کے دوران ایک بس سے 5 ہزار کلو گرام دل اور کلیجی بھی برآمد کی گئی۔ اسی طرح ایک کارخانے پر چھاپے کے دوران 70 کارٹن زائد المیعاد انسٹنٹ ڈرنک پاؤڈر، 30 کارٹن مس لیبل مصنوعات، تقریباً 100 کلو گرام زیرے کا چھلکا اور ملاوٹ میں استعمال ہونے والے مختلف کلرز اور سپلیمنٹس بھی قبضے میں لے لیے گئے۔فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے تمام سامان بحقِ سرکار ضبط کرتے ہوئے مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے اور مزید قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔تفصیلات میں بتایا گیا کہ دوسری جانب مانسہرہ میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے کارروائی کے دوران 45 کلو خراب دہی اور 60 کلو غیر معیاری گوشت برآمد کرکے موقع پر تلف کر دیا جبکہ ذمہ داران کو نوٹسز جاری کر دیے گئے۔اسی طرح نوشہرہ کے علاقے امان کوٹ میں ایک فیکٹری پر چھاپے کے دوران 1200 لیٹر کاربونیٹیڈ کولڈ ڈرنکس ضبط کرکے یونٹ کو سیل کر دیا گیا اور مالک پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔ اس کے علاوہ ناقص صفائی کی صورتحال پر ایک بیکری یونٹ پر بھی جرمانہ عائد کیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے رمضان المبارک کے دوران ٹیموں کو مضرِ صحت خوراک کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور ایسے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

نوجوانوں پر مشتمل یوتھ اسمبلی کے وفد نے دولتِ مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا برانچ کے زیر اہتمام خیبرپختونخوا اسمبلی جرگہ ہال میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں شرکت کی

نوجوانوں پر مشتمل یوتھ اسمبلی کے وفد نے دولتِ مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا برانچ کے زیر اہتمام خیبرپختونخوا اسمبلی جرگہ ہال میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں شرکت کی۔ یہ تقریب اسپیکر بابر سلیم سواتی کے وژن اور ہدایات کے مطابق منعقد کردہ اس تقریب کا مقصد نوجوانوں کو جمہوری اقدار، پارلیمانی روایات اور عالمی تعاون کے اصولوں سے آگاہ کرنا تھا۔تقریب کے دوران سیکرٹری صوبائی اسمبلی و سیکرٹری دولتِ مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا برانچ سید وقار شاہ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے دولتِ مشترکہ کی مشترکہ اقدار جیسے جمہوریت، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق اور باہمی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی اور دولتِ مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن کے درمیان مضبوط شراکت داری موجود ہے اور اسی سلسلے میں CPA ہیلپ ڈیسک کے قیام سمیت مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ نوجوانوں کو پارلیمانی نظام سے جوڑا جا سکے۔تقریب کے دوران شرکاء کے لیے معلوماتی اور دلچسپ سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا جن میں“پوائنٹ اِن دی میپ”اور“میچ دیم اَپ”جیسے انٹرایکٹو کوئز شامل تھے۔ نوجوانوں نے ان سرگرمیوں میں بھرپور دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا اور دولتِ مشترکہ ممالک اور ان کی تاریخ کے بارے میں اپنی معلومات کا اظہار کیا۔تقریب کے اختتام پر شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں اور یادگاری گروپ تصویر بھی بنائی گئی۔ اس موقع پر نوجوانوں کی پارلیمانی امور میں دلچسپی کو سراہا گیا اور دولتِ مشترکہ کی مشترکہ اقدار کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کی منشیات کے خلاف دو بڑی کارروائیاں، 21 کلو 600 گرام چرس اور 735 گرام آئس برآمد،ایک ملزم گرفتار

خیبرپختونخوا حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول نے پشاور میں دو الگ الگ کارروائیوں کے دوران بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر کے سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی۔ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 21 کلو 600 گرام چرس اور 735 گرام آئس برآمد کر کے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ مزید قانونی کارروائی کے لیے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔اس حوالے سے محکمہ سے موصولہ تفصیلات کے مطابق تھانہ ایکسائز پشاور ریجن نے ایک بڑی کارروائی کے دوران سروس روڈ موٹروے، اکبرپورہ کی جانب گاڑی نمبر NG-399 سے بھاری مقدار میں چرس برآمد کر لی۔ کارروائی ماجد خان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (کاؤنٹر نارکوٹکس آپریشنز) اور حمیداللہ سرکل آفیسر کی نگرانی میں عماد خان ایس ایچ او تھانہ ایکسائز پشاور ریجن کی سربراہی میں عمل میں لائی گئی جس میں ضیاء انور خان سب انسپکٹر اور صائم خان اے ایس آئی بھی شامل تھے۔ دوران تلاشی گاڑی سے 21 ہزار 600 گرام چرس برآمد کر کے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔دوسری کارروائی میں ایکسائز انٹیلیجنس سکواڈ نے خفیہ اطلاع پر پیر زکوڑی پل کے قریب کارروائی کرتے ہوئے آئس سمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی۔ کارروائی سعود خان گنڈاپور، پراونشل انچارج ایکسائز انٹیلیجنس اور ماجد خان ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (کاؤنٹر نارکوٹکس آپریشنز) کی نگرانی میں معظم جان خان انسپکٹر ایکسائز انٹیلیجنس سکواڈ نے دیگر نفری کے ہمراہ کی۔ کارروائی کے دوران ملزم محمد عمران ولد پردل سکنہ مردان سے 735 گرام آئس برآمد کر کے اسے موقع پر گرفتار کر لیا گیا اور اس کے خلاف تھانہ ایکسائز پشاور ریجن میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کا اہم اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت کمیٹی کے کنوینر و رکن صوبائی اسمبلی نذیر احمد عباسی نے کی

خیبر پختونخوا اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی کا اہم اجلاس منگل کے روز صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت کمیٹی کے کنوینر و رکن صوبائی اسمبلی نذیر احمد عباسی نے کی۔ اجلاس میں سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بھی شرکت کی۔
یاد رہے کہ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بلدیاتی نمائندوں سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کے لیے 6 مارچ 2026 کو اس پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل دی تھی۔اجلاس میں کمیٹی کے اراکینِ وممبران اسمبلی محمد سجاد، اکبر ایوب خان، طارق سعید، میان شرافت علی، احتشام علی، محمد انعام اللہ خان، آصف خان، احمد کنڈی، سجاد اللہ، ملک طارق اعوان، ارباب محمد وسیم اور محمد نثار نے شرکت کی۔اجلاس میں مقامی حکومتوں سے متعلق امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس موقع پر مقامی حکومتوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے جن میں صدر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا و میئر ضلع مردان حمایت اللہ خان مایار، چیئرمین تحصیل کونسل سرائے نورنگ و ترجمان لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا عزیز اللہ خان مروت، چیئرمین تحصیل لوکل گورنمنٹ حسن خیل پشاور حافظ الرحمن اور کوآرڈینیٹر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبر پختونخوا انتظار علی خلیل شامل تھے۔کمیٹی نے معاملے پر تفصیلی بحث کے بعد متفقہ طور پر سفارشات مرتب کیں۔ کمیٹی نے آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان اور خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے متعلقہ قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارش کی کہ چونکہ آئین اور مذکورہ ایکٹ میں منتخب بلدیاتی نمائندوں کی چار سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد ان کی مدت میں توسیع یا تسلسل کے حوالے سے کوئی واضح قانونی گنجائش موجود نہیں، اس لیے ان کی مدت میں توسیع قانونی طور پر ممکن نہیں۔
کمیٹی نے مزید واضح کیا کہ چونکہ بلدیاتی نمائندے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں، اس لیے حکومت کی جانب سے کسی ترمیم کے ذریعے ان کی مدت میں توسیع بھی قانونی طور پر قابلِ عمل نہیں۔کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ ضلع کونسلوں کی بحالی کے حوالے سے موجودہ خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 پر نظرثانی کی جائے تاکہ قانون کو زیادہ مؤثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے کمیٹی نے تجویز دی کہ یا تو اس ایکٹ میں مناسب ترامیم کی جائیں یا ضرورت کے مطابق نئی قانون سازی کی جائے۔کمیٹی نے یہ بھی قرار دیا کہ مذکورہ سفارشات کے باوجود صوبائی حکومت مناسب سمجھے تو اس حوالے سے اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کرنے کی مجاز ہوگی۔

جنگ، محبت اور امن

تحریر: انجینئر ڈاکٹر محمد اطہر سوری

فضا میں بارود کی بو رچی ہوئی ہے، پہاڑوں کی چوٹیوں پر دھواں لہرا رہا ہے اور سرحدی بستیوں میں خوف کی ایک دبیز چادر تنی ہوئی ہے۔ پاک افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب حکام کے مطابق سرحد پار سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں پاکستان نے اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت سخت کارروائی کی۔ یہ صورتحال وقتی طور پر شدت اختیار کر گئی، مگر اس کے پیچھے برسوں پر محیط پیچیدہ مسائل، عدم اعتماد اور سرحد پار دہشت گردی جیسے عوامل کارفرما ہیں۔

جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں رہی۔ تاریخ گواہ ہے کہ بندوق کی نالی سے صرف وقتی خاموشی جنم لیتی ہے پائیدار امن نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جو دو ہمسایہ مذہبی و ثقافتی طور پر جڑے ہوئے ممالک کو آمنے سامنے لے آتی ہیں؟ جب سرحدوں کی خاموشی کو سازشوں سے توڑا جائے جب چند شرپسند عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لیے پڑوسی ملک کی زمین استعمال کر کے دہشت گردی کی آگ بھڑکائیں تو ردِعمل ناگزیر ہو جاتا ہے۔ دفاعِ وطن ہر ریاست کا بنیادی حق ہے اور پاکستان نے بھی ہمیشہ اسی اصول کے تحت اپنی سرحدوں کی حفاظت کی ہے۔

پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجو افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں حملے کر رہے ہیں، جس سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ ریاستی اداروں کے مطابق حالیہ آپریشنز کا مقصد کسی ملک کے خلاف اعلانِ جنگ نہیں بلکہ اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا، غیر قانونی آمد و رفت کو روکنا اور ان ٹھکانوں کا خاتمہ کرنا ہے جو خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ اس تناظر میں کارروائیاں دہشت گرد عناصر کے خلاف ہیں، کسی قوم یا عام شہری کے خلاف نہیں۔

لیکن یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جنگوں کے فیصلے ایوانوں میں ہوتے ہیں اور ان کا بوجھ عام لوگ اٹھاتے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں بسنے والے معصوم شہری، بچے، بوڑھے اور خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ جب گولیاں چلتی ہیں اور دھماکوں کی آوازیں فضا کو چیرتی ہیں تو خوف صرف سرحد تک محدود نہیں رہتا بلکہ گھروں کے اندر تک اتر جاتا ہے۔ ایسے میں انسانیت کا اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔

حیرت انگیز طور پر جب حالات بگڑتے ہیں تو کئی افغان شہری اپنی جان بچانے کے لیے پاکستان کا رخ کرتے ہیں۔ یہ ایک غیر اعلانیہ اعتماد ہے، ایک خاموش اعتراف کہ یہاں انہیں پناہ، عزت اور کم از کم وقتی سکون میسر آئے گا۔ پاکستان کی سرزمین نے ماضی میں بھی لاکھوں افغان مہاجرین کو گلے لگایا۔ دہائیوں تک انہیں رہائش، روزگار اور تعلیم کے مواقع فراہم کیے گئے۔ یہ سب کسی سیاسی مفاد کے تحت نہیں بلکہ ایک اسلامی اور انسانی فریضے کے طور پر کیا گیا۔ یہی وہ رشتہ ہے جو دونوں اقوام کو محض سرحدی لکیر سے نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت اور مشترکہ دکھ سکھ سے جوڑتا ہے۔

تاہم ریاستی نظم و ضبط اور قومی سلامتی کے تقاضے بھی اپنی جگہ اہم ہیں۔ پاکستان میں عرصہ دراز سے مقیم غیر قانونی افغان مہاجرین کے حوالے سے حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ ملک کے وسیع تر امن و امان اور استحکام کے لیے ان کی مرحلہ وار واپسی ضروری ہے۔ اس پالیسی کا مقصد کسی کی تذلیل نہیں بلکہ قانونی طریقہ کار کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ واپسی پر کوئی مستقل پابندی عائد نہیں کی جا رہی بلکہ خواہش یہ ہے کہ حالات بہتر ہونے پر قانونی ویزا کے ذریعے آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہے۔ جب دونوں ممالک میں قانون کی حکمرانی مضبوط ہوگی تو سرحد کے دونوں اطراف بسنے والے عوام پہلے سے زیادہ احترام اور بھائی چارے کے ساتھ رہ سکیں گے۔

پاکستان کی مسلح افواج کا کردار بھی اس تناظر میں قابلِ ذکر ہے۔ پیشہ ورانہ مہارت اور احتیاط کے ساتھ کارروائیاں کرنا ایک مشکل ترین کام ہوتا ہے خصوصاً جب دشمن عام آبادی میں چھپ کر حملے کرے۔ اس کے باوجود کوشش یہی کی جاتی ہے کہ عام شہری محفوظ رہیں اور کارروائیاں صرف ان عناصر تک محدود ہوں جو ریاست کی سلامتی کو چیلنج کرتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ دہشت گردی کے خلاف ہے، نہ کہ کسی ہمسایہ قوم کے خلاف۔

بدقسمتی سے جنگ کے ساتھ ایک اور محاذ بھی کھل جاتا ہے اور وہ ہے افواہوں اور پروپیگنڈے کا محاذ۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جھوٹی خبریں بارود سے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔ دشمن قوتیں یہی چاہتی ہیں کہ عوام کے درمیان بداعتمادی پیدا ہو، ریاست اور شہریوں کے درمیان خلیج بڑھے اور نفرت کی دیواریں اونچی ہوں۔ ایسے میں دانشمندی کا تقاضا ہے کہ ہر خبر کو پرکھا جائے مصدقہ ذرائع پر اعتماد کیا جائے اور جذباتی نعروں کے بجائے حقیقت پسندانہ سوچ اپنائی جائے۔

امن دراصل کمزوری نہیں بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ جو قومیں جنگ کے باوجود امن کا راستہ تلاش کرتی ہیں وہی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوتی ہیں۔ پاکستان کی خواہش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ خطے میں استحکام ہو، تجارت بڑھے عوام کو روزگار ملے اور نوجوان نسل کو کتاب اور قلم میسر ہوں، بندوق نہیں۔ اگر دونوں ممالک باہمی احترام، سفارتی روابط اور قانونی تقاضوں کے تحت مسائل حل کریں تو کشیدگی کی یہ فضا ختم ہو سکتی ہے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ بین الاقوامی اصول اور ہمسائیگی کے آداب اسی بات کا تقاضا کرتے ہیں۔ اعتماد کی بحالی اسی وقت ممکن ہے جب عملی اقدامات کیے جائیں اور دہشت گردی کے ہر نیٹ ورک کا خاتمہ کیا جائے۔ اگر یہ بنیادی شرط پوری ہو جائے تو مذاکرات اور سفارت کاری کے دروازے کھل سکتے ہیں، اور بارود کی جگہ مکالمہ لے سکتا ہے۔

جنگ کی تاریکی میں بھی امید کی ایک کرن موجود ہوتی ہے۔ وہ کرن ہے عوام کے درمیان موجود محبت اور بھائی چارے کا جذبہ۔ جب پاکستانی شہری مہاجر خاندانوں کو کھانا فراہم کرتے ہیں جب فلاحی تنظیمیں خیمے اور ادویات مہیا کرتی ہیں تو یہ سب اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ نفرت کا بیج یہاں پنپ نہیں سکتا۔ یہی جذبہ خطے کے مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔
آخرکار امن ہی وہ واحد راستہ ہے جو خوشحالی، استحکام اور باہمی ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔ اگر ہم ماضی کی تلخیوں سے سبق سیکھ کر مستقبل کی تعمیر پر توجہ دیں تو سرحدیں نفرت کی علامت کی بجائے تعاون کی علامت بن سکتی ہیں۔ ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ بارود کی بو کو محبت کی خوشبو سے بدلیں گے نفرت کے شعلوں کو برداشت کے پانی سے بجھائیں گے اور اس خطے کو ایک بار پھر امن کا گہوارہ بنائیں گے۔ یہی وہ خواب ہے جو ہر ماں اپنے بیٹے کے لیے دیکھتی ہے، اور یہی وہ منزل ہے جس تک پہنچنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Commuter woes

“Before getting on the bus, I recite the Ayat-ul-Kursi,” says Azmatullah with a faint smile. “There is always some risk in while traveling by it, but since the fare is low, it’s still the best option for commuting from Charsadda to Peshawar.”

Azmatullah works for a government department in Peshawar. He has to commute to work on a regular basis. Ayat-ul-Kursi, is one of the most well-known and frequently recited verses of the Quran. It is traditionally recited to seek protection from harm, evil and unseen danger.

Every Monday, Azmatullah leaves his village near Mandani, a small town in Tangi tehsil of Charsadda district and boards the same aging bus to reach the provincial capital. Daily commute is neither affordable nor practical. On Fridays, have finished his workweek, he returns home on board the same bus to spend the weekend with his family.

For decades, these inter-district buses have been a lifeline for thousands like him. However, their numbers are dwindling. What was once a fleet of more than 20 buses connecting Charsadda and Peshawar has now shrunk to just six. As the transport sector modernises and shifts toward faster, privately operated vans and high-roof Hiace coaches, the old buses are slowly disappearing.

Yet for many low- and middle-income commuters, they remain indispensable.

Peshawar, the provincial capital of Khyber Pakhtunkhwa, is a major business and administrative hub. Government offices, private institutions, schools, colleges and markets draw workers from nearby districts. For those living in Charsadda and its surrounding towns—Hari Chand, Mandani, Umarzai, Tangi and Utmanzai, the bus offers a rare intersection of affordability and reliability.

This scribe travelled last week on both a Hiace van and one of the remaining buses to compare fares and conditions. The distance from Hari Chand to Peshawar’s Saddar area is approximately 62 kilometers. In moderate traffic, the bus takes about two hours to complete the journey; a private car can cover the distance in around 90 minutes.

The cost difference, however, is striking. A one-way ticket on the bus costs Rs 150.

Traveling by a private car costs roughly Rs 1,200 in fuel and related expenses. A Hiace charges Rs 230 besides the additional cost of reaching one’s workplace from the terminal by rickshaw or Bus Rapid Transit.

“If these buses were not there,” says Mushtaq Khan, another daily commuter, also a government employee, “our entire salary would be spent on Hiace and rickshaw fares. These buses get us to the office on time and at a price we can afford.”

The buses follow a fixed and familiar route: from Hari Chand through Mandani, Umarzai, Tangi, Utmanzai and Charsadda’s main bazaar; then onto the M-1 Motorway toward Peshawar Saddar. In the, they retrace the same path, picking up passengers and returning home before dark. It is a congested and bustling corridor, requiring considerable driving skill.

Despite their worn appearance, punctuality is one of their strengths. They depart on time and rarely delay arrival. That reliability, combined with low fares, keeps loyal passengers returning.

But affordability comes with risks. Many passengers, especially low-income labourers, travel on the roof to save even more money. Those riding on top are charged half the fare. Although travelling on the roof of the vehicle is strictly prohibited on the motorway, enforcement is inconsistent.

When asked about this, Azmatullah laughs. “Passengers lie flat on the bus roof to avoid being visible to the police,” he says. “They endure strong winds and cold weather to save a few rupees.”

Inside the bus, the atmosphere is markedly different from the impersonal environment of modern vans. The ride feels communal, almost familial. Drivers, conductors and regular passengers share a bond formed over years of daily travel. There is banter throughout the journey. Jokes and friendly teasing make the long ride bearable.

Commuter woes

One such driver is Abdul Manan, whose facial features resemble a retired Japanese actor, according to his regular passengers. They affectionately call him Shang Feng. He drives with a perpetual smile and does not mind the nickname. His friendly demeanor has earned him loyalty among commuters.

He is in the habit of excessive honking. Throughout the journey, he frequently blasts the horn, sometimes so persistently that it feels as if a train is passing through town. Whether it is to clear traffic or simply announce his presence, the sound becomes part of the bus’s identity.

The conductor, though not formally educated, possesses remarkable marketing instincts. Throughout the trip, he shouts, “The bus is empty, hurry up and get on,” even when standing room is scarce. His salesmanship keeps the bus jam-packed.

There are some unwritten rules. Regular passengers have unofficially reserved seats. Conductors sometimes charge new passengers Rs 200 – Rs 50 more than the rate for daily commuters. Regular riders often save seats for colleagues boarding later along the route.

Beyond transportation, the bus serves as a social network on wheels. The passengers discuss office politics; T20 world cup matches and gossip. It is a moving microcosm of Charsadda’s working class.

There is also an undercurrent of unease. Between 2009 and 2013, Khyber Pakhtunkhwa endured a particularly violent period of militancy. Bomb blasts targeted mosques, schools, colleges, universities, markets and buses.

In 2012, an explosion struck a passenger bus traveling from Peshawar to Charsadda, killing and injuring numerous people. The memory still lingers among commuters.

After arriving at Peshawar, a young man boards the bus carrying a black handbag. The driver greets him warmly. He stands confidently and begins speaking in a persuasive tone. Such salesmen are common on inter-provincial buses, but seeing one on this commuter route surprises some passengers.

In a single breath, he launches into a pitch about stomach ailments, acidity, indigestion, nausea, sour belching – problems nearly everyone could relate to. With impressive interpersonal communication skills, he then describes the benefits of his herbal remedy, claiming it reduces uric acid levels and relieves joint pain. Within minutes, he distributes sample sachets into outstretched palms and offers a limited-time discount.

The performance lasts less than five minutes, but the man manages to sell dozens of sachets. His sales skills are as striking as his confidence. For a brief moment, the bus is transformed into a marketplace.

As the bus speeds along the motorway, some passengers chat, others doze off and a few quietly scroll on their phones. For many, this daily commute is not merely about reaching work; it is also about survival in an economy where rising transport costs threaten already tight budgets.

The transformation of the transport sector looms large. Modern vans, ride-hailing services and improved road networks promise speed and convenience but often at a higher cost. As competition intensifies and regulations tighten, the remaining six buses may soon cease operations. If that happens, an entire culture of commuting may vanish with them.

For Azmatullah and hundreds of others, the bus represents more than just a cheap ride. It is a space of shared resilience, a daily ritual framed by prayer, shaped by economic necessity and sustained by community bonds.

جعلی برانڈڈ مشروبات کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب، 71 ہزار لیٹر سے زائد مشروبات ضبط؛ پشاور میں خراب چکن تلف، مردان میں پھپھوندی زدہ اچار برآمد

خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں کارروائیاں کرتے ہوئے جعلی اور غیر معیاری مشروبات کے ایک بڑے نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا، جبکہ مردان میں سینکڑوں کلوگرام غیر معیاری و مضر صحت اچار اور پشاور میں باسی چکن پارٹس بھی برآمد کر لیے گئے۔ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا کہ خفیہ اطلاع موصول ہونے پرکوہاٹ فوڈ سیفٹی ٹیم نے رات گئے انڈس ہائی وے پر ناکہ بندی کرتے ہوئے شمالی وزیرستان جانے والی ایک گاڑی کو روک لیا۔ گاڑی کی تلاشی کے دوران تقریباً 11 ہزار 700 لیٹر جعلی اور غیر معیاری مشروبات برآمد کرکے ضبط کر لیے گئے جبکہ ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا۔تفتیش اور سراغ رسانی کے دوران کوہاٹ، پشاور اور نوشہرہ کی مشترکہ فوڈ سیفٹی ٹیم نوشہرہ کے علاقے بانڈہ نبی، تحصیل پبی میں واقع ایک گودام تک کی گئی۔ گودام پر چھاپے کے دوران تقریباً 60 ہزار لیٹر برانڈڈ جعلی اور غیر معیاری مشروبات برآمد کرکے قبضے میں لے لی گئیں۔ فوڈ اتھارٹی نے گودام کو موقع پر سیل کرتے ہوئے مالکان کے خلاف فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔دوسری جانب پشاور میں فوڈ اتھارٹی نے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ صبح سویرے ایک چکن شاپ پر چھاپہ مار کر تقریباً 250 کلوگرام خراب اور بدبودار چکن پارٹس برآمد کرکے موقع پر تلف کر دیے۔ کارروائی کے دوران ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے ملزمان کو گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا۔ترجمان فوڈ اتھارٹی کا مزید کہنا تھا کہ مردان میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے اچار تیار کرنے والے ایک یونٹ پر کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 1000 کلوگرام پھپھوندی زدہ اور بوسیدہ اچار برآمد کرکے تلف کر دیا۔ یونٹ مالک پر بھاری جرمانہ عائد کرتے ہوئے ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی۔ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کاشف اقبال جیلانی نے فوڈ سیفٹی ٹیموں کو کامیاب کاروائیوں پر سراہا اورکہا کہ جعلی اور غیر معیاری خوردونوش اشیاء کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور عوام کی صحت سے کھیلنے والوں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔