Home Blog Page 12

صوبہ بھر کے ضلعی زکوٰۃ چیئرمینوں اور زکوٰۃ افسران کا تعارفی و ایک سالہ کارکردگی جائزہ اجلاس

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کی زیرِ صدارت صوبہ بھر کے ضلعی زکوٰۃ چیئرمینوں اور زکوٰۃ افسران کا تعارفی و ایک سالہ کارکردگی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں سیٹلڈ اور ضم شدہ اضلاع کے ضلعی زکوٰۃ چیئرمینوں اور افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں گزشتہ ایک سال کے دوران زکوٰۃ نظام کی کارکردگی، مستحق افراد کو فراہم کی جانے والی معاونت، فنڈز کے استعمال، جاری فلاحی اقدامات اور درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر زکوٰۃ نظام کو مزید مؤثر بنانے اور مستحقین تک امداد کی بروقت فراہمی کے لیے مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین، صوبائی چیئرمین زکوٰۃ ایڈووکیٹ امتیاز خان، ایڈیشنل سیکرٹری زکوٰۃ حبیب اللہ سمیت محکمہ سماجی بہبود و زکوٰۃ کے دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔اس موقع پر ضلعی زکوٰۃ چیئرمینوں نے اپنے اضلاع کے مسائل اور نظام میں بہتری کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔ ملک لیاقت علی خان نے مسائل کے حل کے لیے ہر ڈویژن سے ایک ضلعی زکوٰۃ چیئرمین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ کمیٹی محکمہ سماجی بہبود و زکوٰۃ کے حکام کے ساتھ مل کر مسائل کا جائزہ لے گی اور ان کے حل کے لیے قابلِ عمل اقدامات تجویز کرے گی، جن پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ زکوٰۃ کا نظام مستحق اور کمزور طبقات کی معاونت کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے اسے مزید شفاف، فعال اور عوام دوست بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ زکوٰۃ فنڈز حقیقی مستحقین تک بروقت پہنچانے اور ضلعی سطح پر مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض ذمہ داری اور خلوص کے ساتھ انجام دیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سیٹلڈ اضلاع کے ساتھ ساتھ ضم شدہ اضلاع میں بھی زکوٰۃ نظام کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور مستحق افراد کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

محکمہ بہبودِ آبادی کے نظام کو ڈیجیٹائز کیا جائے تا کہ یہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے،محکمہ میں مانیٹرنگ کا مؤثر اور فعال نظام یقینی بنایا جائے: طفیل انجم

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے بہبودِ آبادی طفیل انجم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ محکمے کو دورِ حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اس کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا جائے، مؤثر مانیٹرنگ سسٹم فعال بنایا جائے اور صوبے کے تمام اضلاع میں ملازمین کی روزمرہ حاضری یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔یہ ہدایات انہوں نے منگل کے روز پشاور میں محکمہ بہبودِ آبادی کے تمام ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر افسران کی ماہانہ کارکردگی کے جائزے سے متعلق منعقدہ آن لائن اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ اجلاس میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن نوشیروان، ڈائریکٹر پلاننگ سید عرفان شاہ، ڈائریکٹر ایڈمن سلیمان سلیمان، ڈائریکٹر ٹیکنیکل فرینہ باسط اور تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر افسران نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران تمام ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر افسران نے اپنے اپنے اضلاع میں جاری سرگرمیوں، محکمہ کی کارکردگی اور مقررہ اہداف کے حصول کے حوالے سے معاونِ خصوصی کو تفصیلی بریفنگ دی۔اس موقع پر معاونِ خصوصی نے کہا کہ محکمہ بہبودِ آبادی کو جدید خطوط پر استوار کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اس مقصد کے لیے محکمے کے انتظامی و دفتری امور میں جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام اضلاع کی کارکردگی کی مؤثر نگرانی کے لیے مانیٹرنگ کے نظام کو مزید فعال اور مربوط بنایا جائے تاکہ فیلڈ میں جاری سرگرمیوں اور ملازمین کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ تمام افسران اپنے فرائض ذمہ داری اور جانفشانی سے انجام دیتے ہوئے محکمہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔طفیل انجم نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے محکمہ بہبودِ آبادی کے لیے مقرر کردہ اہداف کے حصول کو ہر صورت یقینی بنایا جائے نیز بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ مسلسل ناقص یا مایوس کن کارکردگی دکھانے والے افسران کے خلاف محکمانہ سطح پر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔معاونِ خصوصی نے افسران پر زور دیا کہ وہ عوام کو محکمہ بہبودِ آبادی کی خدمات کی فراہمی میں مزید بہتری لانے، فیلڈ سرگرمیوں کو مؤثر بنانے اور مقررہ اہداف کے بروقت حصول کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔

منشیات کے تدارک اور ڈرگ فری اقدامات کے حوالے سے ملک لیاقت علی خان کو بریفنگ

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم و ویمن ایمپاورمنٹ ملک لیاقت علی خان کو صوبے میں منشیات کے تدارک، بحالی مراکز کی کارکردگی اور ڈرگ فری اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین اور ڈائریکٹر سماجی بہبود محمد صالح نے بریفنگ میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی، بحالی مراکز میں فراہم کی جانے والی سہولیات، جاری اقدامات اور مستقبل کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔بریفنگ کے دوران منشیات کے استعمال کی روک تھام، نوجوانوں کو محفوظ رکھنے، متاثرہ افراد کی بحالی اور انہیں معاشرے میں دوبارہ فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کے حوالے سے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ملک لیاقت علی خان نے کہا کہ منشیات کا تدارک ایک اہم سماجی ذمہ داری ہے، جس کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور مربوط اقدامات ضروری ہیں۔ نوجوان نسل کو منشیات سے محفوظ رکھنا اور متاثرہ افراد کی بحالی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ بحالی مراکز میں علاج کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کو فنی تربیت اور مختلف ہنر بھی فراہم کیے جائیں تاکہ وہ باعزت طریقے سے دوبارہ معاشرے کا فعال حصہ بن سکیں۔ملک لیاقت علی خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منشیات کے تدارک اور بحالی کے لیے جاری اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے، بحالی مراکز کی سہولیات بہتر کی جائیں اور ڈرگ فری معاشرے کے قیام کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت عملی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

ڈائریکٹر جنرل محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخواہ محمد انصار خلجی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اخبارات کے مالکان اور صحافیوں کے مسائل حل کرنے میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہے


ڈائریکٹر جنرل محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخواہ محمد انصار خلجی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اخبارات کے مالکان اور صحافیوں کے مسائل حل کرنے میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہے اور اسکے خاتمے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز اپنے دفتر میں پشاور پریس کلب کے سینئر نائب صدر ضیاء الحق مردان پریس کلب کے سابق صدر مسرت خان عاصی سوات پریس کلب کے سابق چیرمین رشید اقبال اور سوات یونین آف جرنلسٹ کے صدر شہزاد عالم سینیر صحافیوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ضیاء الحق نے پشاور پریس کلب مسرت خان عاصی نے مردان اور شہزاد عالم نے سوات پریس کلب کے حوالے سے ان کو تفصیل سے آگاہ کیا انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت صحافیوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور انکے حل کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے جبکہ اخبارات کے مالکان کیلئے کروڑوں روپے جاری کر دہے ہیں انہوں نے کہا کہ بیمار صحافیوں کی مالی مدد کیلئے رواں ماہ انڈومنٹ کمیٹی کا اجلاس کرینگے جس میں انکے لئے بھر پور مالی مدد لی جائیگی انہوں نے کہا کہ بہت جلد صحافیوں کی مشکلات کے خاتمے کیلئے صوبہ بھر کے پریس کلبوں کے دورے کئے جائینگے جس میں انکے مشکلات کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھائنگے

پرتشدد انتہاپسندی کے تدارک کے مرکزِ امتیاز ( سنٹر آف ایکسی لینس فار کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم) کی ادارہ جاتی منتقلی کا معاملہ پر قانون ساز کمیٹی کا اجلاس

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون، انسانی حقوق و پارلیمانی امور آفتاب عالم کی زیر صدارت پیر کے روز پشاور میں کابینہ کی تشکیل کردہ قانون ساز کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پرتشدد انتہاپسندی کے تدارک کے مرکزِ امتیاز کو محکمہ اعلیٰ تعلیم سے محکمہ داخلہ و قبائلی امور کو منتقل کرنے کے معاملے پر غور کیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری محکمہ قانون، محکمہ داخلہ، اے جی آفس و دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی

اجلاس میں متعلقہ محکموں کی جانب سے مرکزِ امتیاز کی موجودہ حیثیت، انتظامی امور اور منتقلی سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے مرکز کو مؤثر انداز میں فعال رکھنے، اس کے انتظامی ڈھانچے اور متعلقہ محکموں کے کردار کو واضح کرنے کے حوالے سے تجاویز پر غور کیا۔

وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ پرتشدد انتہاپسندی کے تدارک کے لیے ادارہ جاتی سطح پر مؤثر اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مرکز کی منتقلی کے تمام قانونی و انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لے کر واضح اور قابلِ عمل تجاویز پیش کی جائیں تاکہ اس ادارے کے مقاصد مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔

خیبر پختونخوا حکومت کا بونیر میں عوامی خدمت و سہولت کیلئے بڑا اقدام، خواتین کے تحفظ، فلاح و بہبود اور سماجی انصاف کیلئے اہم منصوبہ شروع

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان نے پیر کے روز تحصیل گا گرہ، پی کے 26،ضلع بونیر میں سماجی شعبے کی ترقی و تحفظ کیلئے صوبائی حکومت کے اہم ترقیاتی منصوبے ”دارالامان” کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ یہ منصوبہ معاشرے کے کمزورطبقات بالخصوص بے سہارا، مظلوم اور مشکلات کے شکار خواتین کو باعزت،محفوظ، اور بنیادی سہولیات سے اراستہ شیلٹر اور قانونی معاونت و سماجی بحالی کیلئے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔دارالامان کے منصوبے کا قیام محکمہ سماجی بہبود وترقی خواتین کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل قیصر کنڈی،اسسٹنٹ کمشنر گاگرہ بن یامین، ڈسٹرکٹ افیسر محکمہ سوشل ویلفیئر سریر خان،تحصیل میونسپل افیسر گاگرہ امیر عالم خان، عمائدین علاقہ، پاکستان تحریک انصاف کے مقامی عہدیداروں اور کارکنان سمیت مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔صوبائی وزیر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوامی فلاح، سماجی تحفظ اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ بانی چئیرمین عمران خان کے عوام دوست وژن اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں صوبے میں ایسے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے جو عام آدمی کی زندگی میں مثبت تبدیلی لائیں اور محروم طبقات کو سہارا فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ دارالامان کا قیام صرف ایک عمارت کی تعمیر نہیں بلکہ یہ ایک محفوظ، باوقار اور باعزت زندگی کی جانب ایک اہم قدم ہے اور حکومت کا مقصد اپنے عوام اور معاشرے کے تمام طبقات کا سماجی تحفظ یقینی بنانا ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایسے اداروں کو مضبوط بنانا ہے جہاں ضرورت مند اور بے سہاراخواتین کو تحفظ، عزت اور معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔سید فخر جہان نے کہا کہ خواتین معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ، انہیں محفوظ ماحول کی فراہمی اور ضروری سہولیات تک رسائی یقینی بنانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔دارالامان میں رہائش کے ساتھ ساتھ بے سہاراخواتین کو ہر ممکن خدمات، رہنمائی، نفسیاتی معاونت اور بحالی کے اقدامات بھی فراہم کیے جائیں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بونیر میں ترقیاتی منصوبوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات میسر آسکیں۔انھوں نے کہا کہ حکومت تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور سماجی ترقی کے دیگر تمام شعبوں میں دیرپا منصوبوں کے ذریعے ضلع بونیر اور خصوصی طور پر پی کے 26 بونیر کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کر رہیہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ترجیح عوامی مسائل کا حل، اداروں کی بہتری اور ایسے منصوبوں کا فروغ ہے جو معاشرے میں انصاف، تحفظ اور پائیدار ترقی کے زریعے عوام کی خوشحالی و اسودگی کو یقینی بنائیں۔انھوں نے کہا کہ ایک مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں کمزور طبقوں کو تحفظ، عزت اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں اور دارالامان جیسے منصوبے حکومت کے اسی عوامی خدمت کے وژن کی عملی تصویر ہیں۔بعد ازاں صوبائی وزیر نے دارالامان کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور وہاں پردستیاب سہولیات کا جائزہ لیکر متعلقہ حکام کو ادارے کے مؤثر انتظام اور بہترین خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

 

آر ٹی ایس کمیشن میں چار شہریوں کی شکایات کی شنوائی، ہنگو اورکوہاٹ کے متعلقہ افسران کو احکامات جاری

رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوامیں دو رکنی بینچ نے چار شہریوں کی شکایات سنیں۔ کوہاٹ سے محمد جنید نے زمین کے قبضے کے معاملے پر ایف آئی آر کے اندراج کے لیے کمیشن کو درخواست دی تھی۔ کمیشن نے متعلقہ آفیسر کو شہری کو بذات خود سننے اور مسئلہ حل کرنے کے ہدایت
دی۔ ہنگو سے عارف اللہ نے شکایت کی کہ رشتہ دار زمین بیچنے نہیں دے رہے۔ جبکہ پولیس بھی ایف آئی آر درج نہیں کررہی۔ کمیش نے فوری مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کی۔ شمالی وزیرستان سے شہاب الدین نے کچہرا ہٹانے کے لئے کمیشن کودرخواست دی کمیشن نے متعلقہ محکمے کو احکامات جاری کیے۔ کمیشن نے اپنے اعلامیہ میں کہا ہے کہ صوبہ بھر میں عوامی آگاہی، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کاوشیں جاری رکھی جائیں گی۔

یو این او پی ایس (UNOPS)، کوائیکا(KOICA) اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے اشتراک سے واٹر کوالٹی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم پر افسران کی استعداد کار بڑھانے کے لیے تربیتی سیشن کا انعقاد

خیبر پختونخوا میں پینے کے صاف اور معیاری پانی کی فراہمی اور پانی کے معیار کی مؤثر نگرانی کے نظام کو مزید مستحکم بنانے کے لیے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے افسران کے لیے اپ گریڈ شدہ واٹر کوالٹی مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (WQMIS) سے متعلق استعداد کار بڑھانے کا خصوصی تربیتی سیشن منعقد کیا گیا۔ تربیتی سیشن KOICA Pakistan کے تعاون سے جاری منصوبے“Enhancing Functionality and Capacity of the Water Quality MIS”کے تحت UNOPS Pakistan کی جانب سے منعقد کی گئی، جس کا مقصد محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی پانی کے معیار سے متعلق ڈیٹا کی نگرانی، تجزیہ اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانا ہے۔تربیتی سیشن میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے چیف انجینئرز اور سپرنٹنڈنگ انجینئرز سمیت 20 سینئر افسران نے شرکت کی جن کو اپ گریڈ شدہ WQMIS کے مختلف فیچرز اور عملی استعمال کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔تربیتی سیشن کے شرکاء کو لائیو ڈیش بورڈ، ڈیٹا مانیٹرنگ سمیت مختلف اہم پہلوؤں کا عملی مظاہرہ کرایا گیا۔ افسران کو سسٹم کے ذریعے پانی کے معیار سے متعلق معلومات کو بروقت دیکھنے، منظم کرنے، تجزیہ کرنے اور فیصلہ سازی کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا گیا۔سیشن کے اختتامی تقریب میں یواین او پی ایس پاکستان کے پروگرام مینیجر سمیرا زیب جبکہ سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ مسعود یونس نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ جدید ڈیجیٹل نظام محکمہ کی کارکردگی، شفافیت اور پانی کے معیار کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے تربیتی سیشن مکمل کرنے والے افسران میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے

صوبائی کابینہ کا 58 واں اجلاس

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے 58ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کی طرف سے پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ انتہائی افسوسناک ہے، جس کا بوجھ غریب عوام پر پڑ رہا ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں جس طرح بڑھ رہی ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس کوئی پالیسی نہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر مسلط ہونے والوں کا وطیرہ صرف اپنی جیبیں بھرنا ہے، جبکہ عوامی ریلیف ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ ایک طرف پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف قرضے لے کر ملک چلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 74 سال میں پاکستان کا قرضہ 43 ہزار ارب روپے تک پہنچا تھا، جبکہ موجودہ جعلی حکومت نے پانچ سال میں اسے 97 ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا۔ 74 سال میں لیے گئے قرضے سے زیادہ قرضہ موجودہ حکومت نے پانچ سال میں پاکستان پر چڑھا دیا ہے، جس کا بوجھ بالآخر غریب عوام کو اٹھانا پڑے گا۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ غریب، مڈل کلاس اور سفید پوش طبقہ پس رہا ہے، یہاں تک کہ دو وقت کا کھانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ پاکستان میں مس ایڈونچرز کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ ملک اور عوام کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب کی جعلی وزیر اعلیٰ کے حالیہ بیان کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی مفادات کی خاطر قومی مفادات کو نقصان پہنچانا ان کا وطیرہ ہے۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ کا بیان صرف ایک صوبے نہیں بلکہ ریاست پاکستان کے بیانیے کے خلاف ہے، جبکہ ایسے بیانات کی وجہ سے پاکستان مخالف بھارتی بیانیے کو دنیا میں پذیرائی ملتی ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا کے خلاف بعض وفاقی وزراء کے بیانات کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اور حکومت میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ ہمارے ساتھ کیا کرنے جا رہے ہیں اور آیا یہ خیبرپختونخوا کو پاکستان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک ادارے کا ڈی جی خیبرپختونخوا کے چیف ایگزیکٹو کے خلاف ویڈیوز چلا کر پریس کانفرنسز کرتا ہے، جبکہ دوسری طرف عدلیہ کا جج کمنٹس پاس کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ پاکستان کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں یا پاکستان کو کس طرف لے کر جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہم سب کا ہے۔ چھوٹے صوبوں کے خلاف تعصب بھرا رویہ نفرتیں بڑھائے گا، جو پاکستان اور اداروں کے لیے اچھا نہیں۔ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت عوامی مفادات میں بہترین سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ صوبائی حکومت نے گزشتہ مالی سال 130 ارب روپے کے ریونیو ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے سے زائد جمع کیے، جبکہ رواں مالی سال 180 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نیا ٹیکس عائد کیے بغیر 200 ارب روپے سے زائد ریونیو جمع کرے گی۔ یہی حقیقی عوامی خدمت اور عوامی مفادات کا تقاضا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بعض غیر متعلقہ لوگ حکومتی اور محکمانہ امور میں مسلسل مداخلت کر رہے ہیں اور افسران کو ڈرا دھمکا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ افسران کو دھمکانے یا ان کے کام میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ این ایل سی کے سی اینڈ ڈبلیو منصوبوں میں ناقص کارکردگی اور کام نہ کرنے پر بطور اسپیشل اسسٹنٹ کچھ کنٹریکٹس منسوخ کیے تھے۔ اے ڈی بی منصوبوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے منصوبوں کے لیے بھرپور سکروٹنی کی گئی اور میرٹ اور مکمل کاغذات رکھنے والی کمپنیاں ہی کوالیفائی ہوئیں۔ نامکمل کاغذات، جعلی بینک گارنٹی اور سفارشوں کی بنیاد پر آنے والی کمپنیاں ڈس کوالیفائی ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے، اس میں غلط کام اور میرٹ کے خلاف جانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ میرٹ اور شفافیت پر پورا اترنے والی کمپنی کو کنٹریکٹ ملنے پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم غلط طریقے سے کنٹریکٹ لینے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے افسران میرٹ، شفافیت، گڈ گورننس اور سروس ڈلیوری کے لیے بہترین کام کر رہے ہیں۔ میں اپنی کابینہ اور افسران کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہوں اور افسران کو ڈرانے یا دھمکانے والوں کے خلاف آخری حد تک کھڑا رہوں گا۔

بعد ازاں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ، سائنس، ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی شفیع جان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کابینہ نے اجلاس میں جیل خانہ جات، تحفظ گواہان، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور دیگر ترقیاتی امور سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دی ہے۔

وزیر اطلاعات شفیع جان نے بتایا کہ کابینہ نے خیبر پختونخوا وٹنس پروٹیکشن ایکٹ 2021 کے تحت خیبر پختونخوا وٹنس پروٹیکشن بورڈ اور اس کے ماتحت دو یونٹس کے قیام کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ کے فرائض میں پالیسی رہنما اصولوں کی تشکیل، ان پر عملدرآمد کی نگرانی، اور یونٹس کی نگرانی شامل ہوگی۔

وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ نے کہا کہ یہ ایکٹ صوبائی حکومت کی جانب سے حساس نوعیت کے فوجداری مقدمات بشمول دہشت گردی کے مقدمات کی تفتیش، پیروی اور سماعت سے منسلک گواہان اور دیگر افراد کے تحفظ کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایکٹ کی دفعہ 3، 5 اور قاعدہ 3 کے تحت وٹنس پروٹیکشن بورڈ کے علاوہ یونٹ اول اور یونٹ دوم کا قیام لازم ہے۔

صوبائی وزیر شفیع جان نے مزید بتایا کہ کابینہ نے موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 کے تحت گاڑیوں کی رجسٹریشن دستاویزات (پولی کاربونیٹ سمارٹ کارڈز، رجسٹریشن بکس اور ایڈہیسو اسٹیکرز) کی چھپائی و فراہمی کے لیے نئے جی ٹو جی معاہدے اور نظرثانی شدہ نرخوں کی منظوری دی ہے۔

وزیر اطلاعات کے مطابق کابینہ نے معمولی نوعیت کے سزا یافتہ قیدیوں کو دو ماہ کی خصوصی معافی دینے کی منظوری بھی دی، جس کے بعد قواعد و ضوابط اور سابقہ روایات کے مطابق باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ گلیات سے مری کو پانی کی تقسیم اور فراہمی کے طریقہ کار، بشمول نرخ، واجبات اور فراہمی کے حجم سے متعلق معاملہ کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا، جسے کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) میں پیش کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔ کابینہ نے اس معاملے کو سی سی آئی کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی منظوری دی۔

وزیر اطلاعات شفیع جان نے مزید کہا کہ کابینہ کو صوبائی محتسب کے دفتر کی سالانہ کارکردگی رپورٹ برائے سال 2025 پیش کی گئی جسے صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔

خیبر پختونخوا حکومت نے چار اضلاع میں غیر قانونی کان کنی پر پابندی میں توسیع کردی

خیبر پختونخوا حکومت نے دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر صوابی، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک کے اضلاع کی حدود اور ملحقہ متاثرہ علاقوں میں غیر مجاز کان کنی اور پلیسر گولڈ (دریائی سونے) کی غیر قانونی کھدائی و نکاسی پر عائد پابندی میں مزید توسیع کردی ہے۔محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت جاری کردہ حکم نامے کے مطابق مذکورہ پابندی میں 19 اگست 2026 سے 60 روز کے لیے توسیع کی گئی ہے۔حکم نامے کے مطابق متعلقہ محکموں، ضلعی انتظامیہ اور دیگر اداروں سے موصول ہونے والی رپورٹس میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر پلیسر گولڈ کی غیر مجاز کھدائی اور نکاسی کی کوششوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ محکمہ معدنی ترقی نے بھی عوامی مفاد میں پابندی میں مزید توسیع کی درخواست کی تھی۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ غیر منظم اور غیر قانونی کان کنی سے دریائی کناروں کو شدید نقصان پہنچنے، آبی وسائل کے آلودہ ہونے، مقامی ماحول اور قدرتی منظرنامے کو نقصان پہنچنے کے علاوہ صحتِ عامہ اور عوامی سلامتی کو بھی سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
حکم نامے میں مزید خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایسی سرگرمیوں کے نتیجے میں امن و امان کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، جن میں مقامی گروہوں کے درمیان تنازعات، کان کنی کے مواد کی غیر قانونی نقل و حمل، کھدائی کی مشینری کے لیے ایندھن کی اسمگلنگ اور امن و سکون کو متاثر کرنے والی دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔حکم نامے کے مطابق غیر قانونی کان کنی میں ملوث بعض عناصر منظم انداز میں سرگرم ہیں، ان کے پاس خاطر خواہ مالی وسائل موجود ہیں اور وہ کارروائی کے دوران مزاحمت بھی کرسکتے ہیں، جس سے عام شہریوں، انتظامیہ اور پولیس اہلکاروں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔صوبائی کابینہ نے محکمہ معدنی ترقی کو ہدایت کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے تعاون سے مربوط کارروائی کی قیادت کرے، جبکہ ضرورت پڑنے پر اضافی نفری بھی تعینات کی جاسکتی ہے۔ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو حکم نامے پر عمل درآمد کے لیے تمام قانونی اقدامات اٹھانے کا اختیار دیا گیا ہے، جس میں پابندی کی خلاف ورزی میں استعمال ہونے والی مشینری، گاڑیوں، آلات، اوزار، سامان اور دیگر مواد کو قبضے میں لینا اور ضبط کرنا بھی شامل ہے۔
حکم نامے کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
یہ حکم نامہ اکرام اللہ خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، محکمہ داخلہ و قبائلی امور، حکومت خیبر پختونخوا نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے جاری کیا ہے۔