Home Blog Page 122

وزیر بلدیات خیبرپختونخوا مینا خان آفریدی کی زیر صدارت محکمہ بلدیات کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا جائزہ اجلاس

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے بلدیات مینا خان آفریدی کی زیر صدارت محکمہ بلدیات کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کا ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ترقیاتی سکیموں پر عملدرآمد کی رفتار اور مجموعی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری بلدیات اسلم ثاقب رضا سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور وزیر بلدیات کو مختلف منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ کے مطابق محکمہ بلدیات کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں بندوبستی اضلاع کے لیے 53 سکیمیں، ضم اضلاع کے لیے 4 سکیمیں، جبکہ انٹیگریٹڈ ایکسیلیریٹڈ پروگرام کے تحت 12 سکیمیں شامل ہیں۔مزید بتایا گیا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے مجموعی طور پر 2 بلین روپے مختص کیے گئے ہیں، جنہیں صوبے بھر میں بلدیاتی نظام اور عوامی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی سکیموں کے عملدرآمد میں شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرپشن اور سفارش کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے، اور کسی بھی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
مینا خان آفریدی نے ہدایت کی کہ تمام جاری سکیموں کی تکمیل کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ عوامی فلاح کے منصوبوں کے ثمرات جلد عوام تک پہنچ سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ بلدیات صوبے میں خدمات کی فراہمی، شہری ترقی اور مقامی حکومتوں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہا ہے، اور حکومت عوامی مفاد کے ہر منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے 2025-26ء ویمن امپاورمنٹ پالیسی پر کام کا آغاز کر دیا — ڈاکٹر سمیرا شمس کی زیرِ صدارت مشاورتی اجلاس

خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (KPCSW) کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس کی زیرِصدارت خیبر پختونخوا ویمن امپاورمنٹ پالیسی 2017 کے نفاذ اور آئندہ ویمن امپاورمنٹ پالیسی 2025-26 کی تیاری کے حوالے سے مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔
اجلاس میں محکمہ قانون و انسانی حقوق، محکمہ آبادی و بہبود، محکمہ صنعت و مزدور، محکمہ منصوبہ بندی و ترقی، محکمہ سماجی بہبود، محکمہ جنگلات و موسمیاتی تبدیلی، پی ڈی ایم اے، خیبر پختونخوا آئی ٹی بورڈ، نادرا، الیکشن کمیشن آف پاکستان، یو این ڈی پی، یو این ویمن، اسمیڈا، میڈیا نمائندگان، سابق ایم پی اے عائشہ بانو، رخشاندا ناز اور خیبر پختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کے عملے کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اس اجلاس کا مقصد خیبر پختونخوا ویمن امپاورمنٹ پالیسی 2017 کے نفاذ کا تفصیلی جائزہ لینا، مختلف محکموں کی پیش رفت رپورٹوں کا تجزیہ کرنا، صنفی مساوات میں درپیش چیلنجز کی نشاندہی کرنا اور آئندہ 2025-26 پالیسی کے لیے سفارشات مرتب کرنا تھا۔چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا”صوبائی حکومت کا وژن اور PTI کا سیاسی وژن خواتین کے بااختیاری کے لیے ہم آہنگ ہیں، جو سابق وزیر اعظم عمران خان کے وژن کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ آج کی میٹنگ بنیادی طور پر سٹاک ٹیکنگ تھی کیونکہ ویمن امپاورمنٹ پالیسی 2017 بن چکی تھی لیکن اب تک اس کا ٹرو سینس نفاذ نہیں ہو سکا اور تقریباً 10 سال گزر چکے ہیں۔ 2026 میں ہمیں اس پالیسی کو اپڈیٹ کرنا ہے۔ آج ہم نے تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ویمن امپاورمنٹ پالیسی 2017 کو اپگریڈ کیا جائے گا۔اہم مسائل میں متعدد لوپ ہولز، پرانے ڈیٹا میں تبدیلی، اور فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کی شمولیت شامل ہے، جسے یقینی بنانا ضروری ہے۔ صوبائی حکومت کے وژن اور PTI کی ترجیحات کے مطابق آج ویمن امپاورمنٹ پالیسی پر پراپر آغاز ہوا، جس کی قیادت وومن کمیشن نے کی اور سوشل ویلفیئر سمیت دیگر محکمے شامل ہوں گے۔ ہماری کوشش ہوگی کہ 2026 کے مینڈیٹ کے تحت پالیسی کو مارچ تک، جو ویمنز ڈے ہے، تک تیار کر کے صوبائی حکومت کو ایک مکمل اور مفصل دستاویز پیش کی جائے۔”ڈاکٹر سمیرا شمس نے اجلاس میں شریک تمام سرکاری، نجی اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان کا شکریہ ادا کیا اور خواتین کے بااختیاری کے سفر میں ان کے تعاون کو سراہا۔اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ ویمن امپاورمنٹ پالیسی 2017 کے نفاذ سے متعلق مزید مشاورتی اجلاس منعقد کیے جائیں گے، اور اگلا اجلاس 25 نومبر 2025ء کو منعقد ہوگا تاکہ تمام سفارشات کو حتمی شکل دی جا سکے۔

صوبائی حکومت نوجوانوں کی فلاح و بہبود، ہنرمندی کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ سیکرٹری کھیل و امورِ نوجوانان خیبر پختونخوا سعادت حسن

حساس نوجوان پروگرا م کے زیرِ اہتمام جاری تھرڈ پارٹی ایویلیوایشن کے لیے ایک اہم معاہدہ انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز سے کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد پروگرام کے معیار، شفافیت اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے تاکہ نوجوانوں کے لیے شروع کیے گئے اقدامات زیادہ پائیدار اور نتیجہ خیز ثابت ہوں۔اس حوالے سے سیکرٹری کھیل و امورِ نوجوانان خیبر پختونخوا سعادت حسن نے کہا کہ صوبائی حکومت نوجوانوں کی فلاح و بہبود، ہنرمندی کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ترجمان محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ”احساس نوجوان پروگرام“ اس وژن کا مظہر ہے جس کے ذریعے صوبے کے ہزاروں نوجوانوں کو تربیت، رہنمائی اور ترقی کے نئے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھرڈ پارٹی ایویلیوایشن سے پروگرام کی شفافیت میں اضافہ ہوگا اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے مستند ڈیٹا اور تحقیق پر مبنی سفارشات حاصل ہوں گی۔ڈائریکٹر امورِ نوجوانان ڈاکٹر نعمان مجاہد نے کہا کہ اس ادارے کی تحقیقی و تجزیاتی صلاحیت صوبے میں نوجوانوں سے متعلق پالیسی سازی میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی سازی ڈیٹا، تحقیق اور زمینی حقائق پر مبنی ہونی چاہیے تاکہ نتائج مثبت اور دیرپا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ امورِ نوجوانان نوجوانوں کے لیے تعلیم، قیادت، روزگار اور ہنرمندی کے میدان میں مزید مواقع فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ترجمان محکمہ کھیل و امورِ نوجوانان خیبر پختونخوا کے مطابق یہ اقدامات صوبے کے نوجوانوں کو ترقی، تعلیم اور خود اعتمادی کے سفر میں آگے بڑھانے کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہیں۔ محکمہ آئندہ بھی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ اشتراک کے ذریعے نوجوانوں کو تحقیق، تربیت اور جدید علم کے مواقع فراہم کرتا رہے گا۔

ہنگامی صورتحال میں ریلیف سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کوشاں ہیں، صوبائی وزیر ریلیف، بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان

خیبر پختونخوا کے وزیر ریلیف، بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان نے عوامی اعتما د کو مزید فروغ دینے کے لیے اصلاحی ایجنڈہ “باور” پر عملدرآمد کرتے ہوئے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ریسکیو 1122 کے 14 آپریشنل سٹاف کو واپس ان کے متعلقہ اداروں میں خدمات سرانجام دینے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ہنگامی صورتحال میں ریلیف سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ عاقب اللہ خان نے کہا کہ ریسکیو 1122 ایک فعال، منظم اور عوام دوست ادارہ ہے جو ہر قسم کی ایمرجنسی و ناگہانی حالات میں عوام کو فوری امداد اور ریلیف فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ایمرجنسی سروسز اور بروقت ریلیف فراہم کرنے کے لیے اصلاحی اقدامات جاری رہیں گے۔ عاقب اللہ خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت عوام کی خدمت، تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات یقینی بنا رہی ہے۔

خیبرپختونخوا حکومت کو صحت کے شعبے میں بھی دوسرے صوبوں پر سبقت حاصل ہے رواں مالی سال کے پہلے چار میں صحت کارڈ ریزرو فنڈز کے502.2 ملین روپے عوام پر خرچ کیے گئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا صحت کارڈ ریزرو فنڈز استعمال بارے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کو صحت کے شعبے میں بھی دوسرے صوبوں پر سبقت حاصل ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے چار میں صحت کارڈ ریزرو فنڈز کے502.2ملین روپے عوام پر خرچ کیے گئے۔ ان خیالات کا اظہار مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز اپنے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ صحت کارڈ ریزرو فنڈز سے مہلک مہنگی بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے اور جولائی سے اکتوبر تک صحت کارڈ ریزرو فنڈز سے کارڈیالوجی سروسز پر 135.3ملین روپے خرچ کیے گئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ریزرو فنڈز سے کینسر کے علاج پر 31.4 ملین روپے کے فنڈز استعمال کیے گئے جبکہ جگر پیوندکاری پر 80.6ملین روپے خرچ کیے گئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ جولائی سے اکتوبر تک صحت کارڈ ریزرو فنڈز سے گردے پیوندکاری پر 88 ملین روپے خرچ کیے گئے ان چار ماہ میں کو کلئیر ایمپلانٹ پر 165.5ن روپے خرچ کیے گئے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ آئی سی یو، ڈائیلسز اور دیگر بیماریوں پر صحت کارڈ ریزرو فنڈز سے1.3ملین روپے خرچ کیے گئے جبکہ پچھلے مالی سال میں بھی صحت کارڈ ریزرو فنڈز کے 824.4ملین روپے خرچ کیے گئے تھے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ رواں سال محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا نے صحت کارڈ کیلئے9.65 ارب روپے جاری کر چکے ہیں جو ریزرو فنڈز سے الگ ہیں۔

خیبر پختونخوا کابینہ کی جانب سے صحت کے مراکز میں فارمیسی خدمات کے انضمام سے متعلق پہلی جامع پالیسی کی منظوری صحت کے نظام میں بہتری اور محفوظ، معیاری ادویات کی فراہمی کے لیے تاریخی اصلاحاتی اقدام

حکومت خیبر پختونخوا نے صوبے میں پہلی بار “صحت مراکز میں فارمیسی خدمات کے انضمامِ کی پالیسی کی منظوردی ہے، جو صحت عامہ کے نظام میں بہتری اور سروس ڈیلیوری کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، یہ پالیسی صوبائی کابینہ نے خیبر پختونخوا گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985ء کے قاعدہ 25(3) کے تحت باقاعدہ طور پر منظور کی۔یہ انقلابی پالیسی ہسپتالوں اور کلینیکل فارمیسی خدمات کو بہتر بنانے، منشیات کے انتظامی کنٹرول کو مضبوط کرنے اور ادویات سے متعلق قوانین و ضوابط کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔ اس کے تحت ایک یکساں نظام برائے معیارِ کی ضمانت متعارف کرایا جائے گا تاکہ تمام سرکاری صحت مراکز میں محفوظ، مؤثر اور معیاری ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔پالیسی کا ایک اہم پہلو فارمیسی عملے اور انسانی وسائل کے مؤثر استعمال سے متعلق ہے، تاکہ فارماسسٹ حضرات مریضوں کی نگہداشت اور ہسپتالوں کے انتظامی امور میں ایک پیشہ ورانہ اور فعال کردار ادا کر سکیں۔ اس اقدام سے بہتر علاج کے نتائج کے ذریعے عوام براہ راست مستفید ہوں گے۔ حکومت خیبر پختونخوا اور صوبائی وزیر صحت نے اپنے سرکاری بیان میں اس پالیسی کی منظوری کو صوبے میں جاری صحت عامہ کے اصلاحاتی عمل کا ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔ حکومت نے صحت کی خدمات کے معیار، مؤثریت اور شفافیت میں مزید بہتری لانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔اس پالیسی کے تحت صوبے بھر کے ہسپتالوں اور بنیادی صحت مراکز میں معیاری، مؤثر اور سستی ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس اقدام سے مریضوں کے ہسپتال میں قیام کا دورانیہ کم ہوگا، منشیات کے کنٹرول اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے گا، اور اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس (AMR) کے خلاف مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے گی تاکہ ادویات کا استعمال سائنسی شواہد کی بنیاد پر کیا جا سکے۔تفصیلی پالیسی دستاویز عوامی معلومات کے لیے محکمہ صحت حکومت خیبر پختونخوا کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔یہ اقدام حکومت خیبر پختونخوا کے اس پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، مریضوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور صوبے کے ہر شہری کو محفوظ، معیاری اور مؤثر ادویات کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI)کے زیرِ اہتمام خسرہ و روبیلا سے بچاؤ کی مہم کو کامیاب بنانے سے متعلق سیمینار کا انعقاد

وزیرِ صحت خیبر پختونخوا خلیق الرحمان اور سیکرٹری صحت شاہداللہ خان کی ہدایات پرمحکمہ صحت خیبر پختونخوا کے توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI)کے زیرِ اہتمام خسرہ و روبیلا سے بچاؤ کی مہم کو کامیاب بنانے سے متعلق ایک سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں مذہبی طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علماء، خطیب حضرات،و مذہبی رہنماؤں اورسکالرز، ڈائریکٹر ای پی آئی خیبر پختونخوا ڈاکٹر اصغر خان، ڈاکٹر انعام اللہ (یونیسف)، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر بوار شاہ، پروفیسر عقیل، ڈاکٹر گوہر امین، اور ڈاکٹر کامران قریشی (یونیسف) بھی شریک ہوئے۔شرکاء نے خسرہ و روبیلا مہم کی کامیابی کے لیے مذہبی طبقے کے کردار کو انتہائی مؤثر، مثبت اور ناگزیر قرار دیا۔ علما کرام، مذہبی سکالرز اوردیگر مقررین نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی صحت اور زندگی کا تحفظ دینِ اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے، اور عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوا ئیں اور بیماریوں سے محفوظ رکھیں۔علمائے کرام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ جمعہ کے خطبات، دروس، مساجد، مدارس اور عوامی اجتماعات میں خسرہ و روبیلا سے بچاؤ کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گے اور والدین کو مہم میں شرکت کی ترغیب دیں گے۔وزیرِ صحت خیبر پختونخوا نے خلیق الرحمان نے علمائے کرام کی شمولیت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ”حفاظتی ٹیکہ جات مہم ایک قومی فریضہ ہے۔ علماء کرام کا تعاون نہ صرف عوام میں اعتماد پیدا کرے گا بلکہ یہ مہم گھر گھر تک کامیابی سے پہنچانے میں مدد ملے گی، انہوں نے کہا کہ حکومت اور مذہبی قیادت کا اشتراک بچوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔“سیکرٹری صحت شاہداللہ خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ”محکمہ صحت تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتا ہے،علماء کرام کی رہنمائی اور عوامی اعتماد اس مہم کو کامیابی کی نئی بلندیوں تک پہنچائے گا۔“ اس موقع پر مہم کی تفصیلات سے متعلق ڈائریکٹر ای پی آئی ڈاکٹر اصغر خان نے بتایا کہ صوبہ بھر میں 17 سے 29 نومبر تک جاری خسرہ و روبیلا مہم میں لاکھوں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی رہنماؤں کے تعاون سے والدین تک درست پیغام پہنچے گا، جس سے مہم کی کامیابی مزید یقینی بنے گی۔اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے خسرہ و روبیلا مہم کی بھرپور کامیابی کے لیے مشترکہ عزمِ نو کا اظہار کیا اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے صحت عامہ کے اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی ذیلی کمیٹی نمبر 4 کی چیئرپرسن محترمہ شہلا بانو کی زیرِ صدارت ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں ایم آر آئی مشین سے متعلق فرانزک آڈٹ کے حوالے سے ایک اہم اجلاس

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی ذیلی کمیٹی نمبر 4 کی چیئرپرسن محترمہ شہلا بانو کی زیرِ صدارت ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں ایم آر آئی مشین سے متعلق فرانزک آڈٹ کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین ایم پی اے اکرام غازی، ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی انعام اللہ، محکمہ صحت کے نمائندگان، ہسپتال انتظامیہ اور فنی ماہرین نے شرکت کی۔اجلاس میں چیئرپرسن محترمہ شہلا بانو نے واضح ہدایت دی کہ ایم آر آئی مشین کے مسئلے کو ہر صورت میں حل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایم آر آئی مشین کی گمشدگی کے معاملے اور اس سے متعلق پیدا ہونے والے کنفیوژن کو دور کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ آیا ایم آر آئی مشین نئی خریدی گئی ہے یا پرانی مشین کو دے کر نئی حاصل کی گئی ہے۔محترمہ شہلا بانو نے اس سلسلے میں تکنیکی ماہرین پر مشتمل ایک نئی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی، جو مکمل جانچ پڑتال کے بعد پندرہ (15) دنوں کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اس کمیٹی میں بائیومیڈیکل انجینئرز، فنانس آفیسرز اور دیگر متعلقہ ماہرین شامل ہوں گے، تاکہ رپورٹ ہر پہلو سے شفاف اور جامع ہو۔چیئرپرسن نے مزید کہا کہ ہمارا مقصد کسی فرد یا ادارے کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ ایوب میڈیکل کمپلیکس سے منسلک منفی تاثر کو ختم کرنا اور ادارے کی ساکھ بحال کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں مستقبل کے لیے ایسا نظام وضع کیا جائے گا جس سے اس نوعیت کے معاملات دوبارہ جنم نہ لیں۔محترمہ شہلا بانو نے یقین دلایا کہ حکومت اور کمیٹی دونوں اس بات کے لیے پرعزم ہیں کہ عوام کو صحت کے شعبے میں شفافیت، معیاری سہولیات اور اعتماد کی فضا فراہم کی جائے۔ ذیلی کمیٹی کی چیئرپرسن شہلا بانو اور کمیٹی کے ممبران نے ایم آر آئی مشین اور اس کے میگنٹ کا بھی معائنہ کیا اور محکمہ صحت کے متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں ضروری ہدایات بھی دیں

کمشنر ہزارہ کی زیر صدارت این اے۔18 ہری پور کے ضمنی الیکشن کے انتظامات سے متعلق اہم اجلاس

کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیر صدارت آج ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں 23 نومبر کو حلقہ این اے۔18 ہری پور میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے انتظامات اور سکیورٹی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ریجنل پولیس آفیسر ہزارہ، ڈپٹی کمشنر ہری پور، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ہری پور، ایس پی اسپیشل برانچ، ریجنل الیکشن کمشنر ہزارہ، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر ہری پور، ریٹرننگ آفیسر ہری پور اور مانیٹرنگ آفیسر ہری پور نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضمنی الیکشن کے سلسلے میں انتظامی تیاریوں اور سکیورٹی پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کمشنر ہزارہ نے اس موقع پر کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک آئینی ادارہ ہے اور تمام سرکاری محکموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو مکمل انتظامی معاونت فراہم کریں تاکہ انتخابات شفاف، پُرامن اور منظم انداز میں منعقد ہوں۔کمشنر ہزارہ نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری ملازمین اپنی ڈیوٹی پر موجود رہیں اور تمام منظور شدہ چھٹیاں الیکشن کے عمل کے مکمل ہونے تک منسوخ کی جائیں۔ انہوں نے مزید ہدایت دی کہ بی ایچ یوز (BHUs) میں ڈاکٹرز اور عملے کی حاضری یقینی بنائی جائے جبکہ فائر بریگیڈ اور ایمبولینس سروسز کو مکمل طور پر فعال اور ہمہ وقت تیار رکھا جائے۔ریجنل الیکشن کمشنر ہزارہ نے انتظامی اور سکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ہری پور کے بھرپور تعاون کو سراہا۔آخر میں کمشنر ہزارہ اور ریجنل پولیس آفیسر ہزارہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ الیکشن کمیشن کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی اور این اے۔18 ہری پور کا ضمنی الیکشن پُرامن، منصفانہ اور شفاف انداز میں منعقد کرانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے

کمشنر ہزارہ فیاض علی شاہ سے ڈبلیو ایچ او خیبر پختونخوا کی ٹیم کی ملاقات — پولیو کی صورتحال اور جاری اقدامات پر تبادلہ خیال

کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) خیبر پختونخوا کے صوبائی ٹیم لیڈ ڈاکٹر خالد عبدالرحیم نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ملاقات کی۔ ملاقات میں پولیو کی مجموعی صورتحال، جاری انسداد پولیو مہم اور مستقبل کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈاکٹر خالد عبدالرحیم نے کمشنر ہزارہ کی جانب سے پولیو کے خاتمے کے لیے فراہم کی جانے والی بھرپور معاونت اور فعال قیادت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کمشنر ہزارہ کی رہنمائی اور انتظامی تعاون سے فیلڈ کارکردگی میں نمایاں بہتری اور مانیٹرنگ نظام میں استحکام پیدا ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈبلیو ایچ او تمام سطحوں پر تکنیکی معاونت اور قریبی ہم آہنگی جاری رکھے گا تاکہ خطے کو پولیو سے مکمل طور پر پاک رکھنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اس موقع پر ڈاکٹر جہانگیر خان، فوکل پرسن ڈبلیو ایچ او پی ای او سی ہزارہ، ڈاکٹر طیّبہ ممتاز، ایریا کوآرڈینیٹر ڈبلیو ایچ او ہزارہ ڈویژن، اور ڈاکٹر اسامہ شبیر، ڈویژنل ای پی آئی آفیسر ڈبلیو ایچ او بھی موجود تھے۔کمشنر ہزارہ فیاض علی شاہ نے ڈبلیو ایچ او ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ انسداد پولیو مہم کو مزید مضبوط بنانے اور پولیو کے خاتمے کے ہدف کے حصول کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرتی رہے گی