Home Blog Page 128

وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے معیشت مزید تباہی کی طرف جا رہی ہے ایک طرف 27 ویں آئینی ترمیم کا شوشہ چھوڑا گیا ہے جبکہ دوسری جانب این ایف سی اجلاس نہیں بلایا جا رہا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے گزشتہ روز خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس بریفننگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ حکومت نے 27 ویں آئینی ترمیم کا شوشہ چھوڑا ہے جبکہ گیار واں این ایف سی کا اجلاس اگست میں بلایا گیا تھا بعض صوبوں نے سیلابی صورتحال کی وجہ سے تاریخ آگے کرنے کی تجویز دی تھی جبکہ خیبرپختونخوا بار بار این ایف سی اجلاس بلانے کا کہہ رہا ہے۔ ابھی تک این ایف سی اجلاس بلانے کا ٹائم نہیں بتایا گیا ہے۔ ایک طرف این ایف سی اجلاس بلانے کی باتیں کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف 27 ویں ترمیم کی باتیں کر رہے ہیں۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کی بجائے صوبوں کا فنڈز کم کر رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ 5147 ارب روپے نان ٹیکس ریونیو بھی وفاقی حکومت کو جاتا ہے وفاقی حکومت نے 19238 ارب روپے آمدنی کا تخمینہ لگایا ہے اور تخمینہ کھبی پورا نہیں ہوتا اس میں سے صوبوں کو 8200 ارب روپے دینے ہیں تو وفاق کے پاس 11072 ارب روپے بچیں گے وفاقی حکومت این ایف سی میں جو 41.5 فیصد کا کہتی ہے وہ مکمل بے ایمانی اور جھوٹ ہے کیونکہ وفاق کے پاس نان ٹیکس ریونیو کا 5147 ارب روپے پورے جاتے ہیں جو صوبوں کو نہیں ملتے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وفاق کا خرچہ رواں سال 17593 ارب روپے ہے جس میں سے اصولی طور پر ترقیاتی اخراجات 15 سے 20 فیصد ہونے چاہیے جو نہیں ہیں بلکہ صرف 1000 ارب روپے ترقیاتی فنڈز کیلئے مختص کیے ہیں۔ جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس فنڈز نہیں ہیں اسلئے ترقیاتی فنڈز 300 ارب روپے کم کرکے 700 ارب روپے کر دئیے جائیں گے۔ اس سے معیشت بہتری کا اندازہ لگائیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کے 8207 ارب روپے سود کی ادائیگی میں جا رہے ہیں پاکستان میں شرح سود 22 سے 11 فیصد پر آگیا ہے لیکن پھر بھی حکومت کے فنڈز ناقص پالیسیوں کی وجہ سود کی ادائیگیوں میں جا رہے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ صوبوں کے مقابلے میں وفاق کے پاس سب سے کم ملازمین ہے پھر بھی انکا اس سال پنشن کا بل 1055 ارب روپے ہیں اس کے علاؤہ وفاق کے 1928 ارب روپے کے گرانٹس بھی دے رھا ہے جب پیسے نہیں ہیں تو گرانٹس کیوں دے رہے ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سبسڈی کے مد میں 1186 ارب روپے دے رہے ہیں اور سول حکومت چلانے کیلئے 975 ارب انکے اپنے اخراجات ہیں۔ ایمرجنسی کیلئے 390 ارب روپے رکھے گئے ہیں جو بانٹے جاتے ہیں۔ وفاقی حکومت کا مکمل خسارہ 6 ہزار ارب روپے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کے فنڈز کم کرنا چاہتی ہے کہ انکے اخراجات زیادہ ہیں جبکہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے انکا سسٹم تو ٹھیک ہونا ہی نہیں ہے۔ مزمل اسلم نے کہا آئی پی پیز کی ایک غلط فیصلے کی وجہ سے ملک 5100 ارب روپے کی ادائیگی کر چکا ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیوں کا خسارہ صوبوں اور عوام پر کیوں آئے جو وفاقی حکومت کرنا چاہتی ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ایل این جی کے 45 جہاز حکومت واپس کر رہی ہے اسکا نقصان پاکستان اُٹھائے گا۔ اگر حکومت ایسے معاہدے کرے گی تو وفاقی حکومت کھبی ٹھیک سمت میں نہیں ہو سکتی۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ پچھلے چار سالوں میں 35 ہزار روپے روپے کا قرض لیا گیا اس میں چار ہزار ارب روپے بھی ترقیاتی اخراجات میں نہیں لگائے گئے۔ سود کی ادائیگی کیلئے قرض لے رہے ہیں کیا اس سے معیشت بہتر ہو جائے گی۔ مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا پر 78 سالوں میں 775 ارب روپے کا قرض ہے جبکہ پچھلے 18 مہینوں میں خیبرپختونخوا نے 300 ارب روپے کی بچت کر لی ہے اگر ان 300 ارب روپے کو قرض سے منفی کرتے ہیں تو خیبرپختونخوا کا 40 فیصد قرض کم ہوسکتا ہے۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ پاکستان کا کل قرض 78 ہزار ارب روپے ہیں اگر بقایاجات ملا لیں تو 94 ہزار روپے روپے بنتے ہیں۔ مزمل اسلم نے کہا کہ پچھلے تین مہینوں میں فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ 447 ملین ڈالر کی آئی ہے جبکہ منافع 751 ملین ڈالر کا باہر گیا ہے ایک طرف سرمایہ کاری آتی نہیں ہے اگر آتی ہے تو منافع باہر جاتا ہے۔ ملک سے مختلف کمپنیاں باہر جا رہی ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ کل جو وفاقی حکومت کے جو سات وزراء پریس کانفرنس کر رہے تھے وہ بتا رہا تھے کہ آئی ایم ایف کی سٹاف لیول معاہدہ نشاندہی کر رہا ہے کہ حکومت صحیح سمت میں جا رہی ہے جبکہ چار ہفتے ہوگئے بورڈ میٹنگ کا اعلان نہیں ہوا۔ مزمل اسلم نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کہہ رہا ہے کہ شرح سود 11 فیصد ہے جبکہ مہنگائی 6.2 فیصد ہے جبکہ اشیاء کی قیمتیں 40 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔

صوبائی وزیر ایکسائز سید فخر جہان سے آل پاکستان کار ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

خیبرپختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سید فخر جہان سے انکے دفتر میں آل پاکستان کار ڈیلرز ایسوسی ایشن آف سمال ٹریڈرز کے وفد نے مرکزی چیئرمین حاجی بخت میر جان درانی کی سربراہی میں ملاقات کی۔وفد میں صوبائی صدر حاجی محمد اسلام اور صوبائی جنرل سیکریٹری معزاللہ خان بھی شامل تھے۔ ملاقات میں صوبے میں چھوٹی گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ افراد کو درپیش مسائل، محکم? ایکسائز و ٹیکسیشن کے امور اور محصولات سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفد کے شرکائ نے صوبائی وزیر کو کابینہ میں دوبارہ شمولیت اور اہم محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول کی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر انہوں نے محکمے کی کارکردگی میں بہتری، کاروباری طبقے کو سہولیات کی فراہمی اور محصولات میں اضافے سے متعلق متعدد تجاویز بھی پیش کیں۔صوبائی وزیر سید فخر جہان نے وفد کی مفید آرائ کو سراہتے ہوئے کہا کہ محکمے کی تیز رفتار ترقی اور شفاف نظام کے قیام کیلئے واضح حکمتِ عملی طے کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے ذریعے گڈ گورننس کو فروغ، عوام کو سہولیات کی فراہمی اور محکمانہ شفافیت یقینی بنائی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن میں عملے اور افسران کی جانب سے عوامی خدمت میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہماری کوشش ہے کہ صوبے کو بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں ترقی و خوشحالی کے سفر پر گامزن رکھا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں غلط طرزِ عمل کا خاتمہ اور عوام کو زیادہ سے زیادہ آسانیاں فراہم کرنے کا عمل یقینی بنایا جائے گا۔

The Special Assistant to Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa for Information and Public Relations, Shafiullah Jan, formally assumed charge of his office

The Special Assistant to Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa for Information and Public Relations, Shafiullah Jan, formally assumed charge of his office yesterday. Officers of the Information and Public Relations Department and distinguished individuals from various walks of life welcomed the Special Assistant on this occasion.
While speaking on the occasion Special Assistant Shafiullah Jan expressed gratitude to his leader Imran Khan and Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Suhaib Afridi for reposing their trust in him and assigning him this important responsibility.
He stated that he would make every possible effort to ensure a visible and effective transformation within the Information Department and to project the government’s narrative across all media platforms through a modern and strategic communication approach.
He further emphasized that the stance of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), the vision of the provincial government, and the priorities and interests of the people of Khyber Pakhtunkhwa would be articulated and represented strongly at every forum.
“Our narrative is strong, clear, and rooted in the public. It will now be communicated confidently and with a well-organized strategy,” he added.

Referring to the journalist community, Shafiullah Jan acknowledged the sacrifices made by journalists in Khyber Pakhtunkhwa, who have served on the frontline and contributed to peace efforts over the past four decades.
He announced that social support initiatives would be launched for journalists to ensure their welfare and protection.
The Special Assistant further informed that the Chief Minister has approved the establishment of a Journalism University named after the martyred journalist Arshad Sharif, which will strengthen academic advancement and research in the field of journalism.
Shafiullah Jan stated unequivocally that this time, the Information and Public Relations Department will witness a real and measurable transformation, which will be reflected through performance and results.

صوبے میں کھیلوں کا فروغ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے، تاج محمد ترند

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر تاج محمد خان ترند نے محکمہ کھیل و امور نوجوانان کا چارج سنبھالنے کے بعد بدھ کے روز نظامت کھیل کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ایک اہم بریفنگ اجلاس کی صدارت کی، جس میں سیکرٹری کھیل سعادت حسن، ڈائریکٹر جنرل کھیل تاشفین حیدر، ڈائریکٹر ضم اضلاع، ڈائریکٹر آپریشن اور دیگر متعلقہ افسران شریک تھے۔اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے مشیر کھیل کو محکمانہ امور، صوبے اور ضم اضلاع میں کھیلوں کی سہولیات کی تعمیر و بحالی، تحصیل سطح پر کھیلوں کے میدانوں کے قیام، خواتین کے لیے انڈور جمنازیم کی تعمیر، عمران خان کرکٹ سٹیڈیم میں لائٹس کی تنصیب، سالانہ ترقیاتی پروگرام اور اے آئی پی سکیموں کے تحت جاری و نئے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔مشیر کھیل کو بتایا گیا کہ ضم اضلاع بالخصوص شمالی و جنوبی وزیرستان میں کھیلوں کی سہولیات تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں، جبکہ ضم اضلاع میں فٹسال گراؤنڈز تعمیر کیے جائیں گے۔ صوبے بھر میں انٹر اور انٹرا ڈسٹرکٹ سطح پر کھیلوں کے مقابلوں کے ساتھ ساتھ خواتین، اقلیتوں اور دینی مدارس کے طلباء کے لیے بھی مختلف کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں تحصیل سطح کے 85 کھیلوں کے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ 10 مزید تحصیلوں میں کام جاری ہے۔ علاوہ ازیں، صوبے میں بائیو مکینکس لیبارٹری کے قیام کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی مکمل کرلی گئی ہے، جہاں کھلاڑیوں کی انجریز ٹھیک کرنے اور سرجریز کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔اس موقع پر مشیر کھیل تاج محمد ترند نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے وزیراعلی کی قیادت میں نوجوانوں کو کھیلوں کی معیاری سہولیات فراہم کرنا اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صوبے کی تمام تحصیلوں میں کھیلوں کے گراؤنڈز کا قیام یقینی بنایا جائے اور کھلاڑیوں کے انتخاب میں میرٹ پر سختی سے عمل کیا جائے تاکہ بہترین ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آئے۔انہوں نے کھیلوں کی سہولیات کی مقررہ مدت میں تکمیل اور معیاری کام کو یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ
محکمہ کھیل کے امور کو بطور ٹیم ورک چلایا جائے، انہوں نے کھیلوں کے میدانوں میں صفائی ستھرائی برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی۔مشیر کھیل تاج محمد ترند نے کہا کہ صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کی ترقی ہمارے منشور کا اہم اور بنیادی حصہ ہے اس لئے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔مشیر کھیل نے متعلقہ افسران کو سختی سے ہدایت کی کہ کھیلوں کے منصوبوں کی تعمیر میں کنٹریکٹرز کو پیشگی ادائیگی بالکل بھی نہ کریں انہوں نے محکمہ کھیل کے حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کی سکیموں میں جہاں مسائل و مشکلات درپیش ہوں اس حوالے سے کیسز تیار کرکے پیش کریں تاکہ متعلقہ فورمز پر ان مسائل و مشکلات کو دور کیا جاسکے

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ  ڈیپارٹمنٹ میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا

خیبر پختونخوا کے وزیر قانون و پارلیمانی امور آفتاب عالم ایڈووکیٹ کی زیر صدارت پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ  ڈیپارٹمنٹ میں کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر بلدیات و دیہی ترقی مینا خان سمیت محکمہ ترقی و منصوبہ بندی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ضم شدہ اضلاع کے ملازمین کی خدمات کی ریگولرائزیشن اور پروونشل پلاننگ سروسز (PPS) کیڈر کو شیڈول ون میں شامل کرنے سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا جا سکے۔ اجلاس میں سابقہ فاٹا کے ضم شدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان ملازمین کی خدمات کی باقاعدہ حیثیت سے متعلق ورکنگ پیپر زیر بحث آیا جنہیں Khyber Pakhtunkhwa Regularization of Services of Employees of Erstwhile Federally Administered Tribal Areas Act, 2021 کے تحت ریگولرائز کیا گیا ہے۔ ورکنگ پیپر کے مطابق محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے 15 پروجیکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ کیا گیا ہے، جن میں 226 ملازمین شامل ہیں، جن میں سے 44 افسران (بی ایس-17 اور اس سے اوپر) کو PPS کیڈر اور 182 ملازمین (بی ایس-16 اور اس سے کم) کو وزارتی عملے کے پول میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی اجلاس میں PPS کیڈر کو شیڈول ون میں شامل کرنے اور منسٹریل اسٹاف کی ریگولرائزیشن کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ متعلقہ محکموں کی منظوری کے بعد کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی میں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ کمیٹی P&D کی جانب سے PPS پندرہ مستقل شدہ پراجیکٹس جن میں ڈائریکٹوریٹ آف پراجیکٹس، ڈائریکٹوریٹ آف مانیٹرنگ اینڈ ایوالوایشن ان فاٹا سیکریٹریٹ، سمیت دیگر پراجیکٹس کے کیڈر کے آسامیوں کو کے شیڈول ون میں شامل کرنے سے متعلق سفارشات کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی حتمی سفارشات مرتب کرے گی، جس کے بعد اسے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ مذکورہ پیش رفت ضم شدہ اضلاع کے ملازمین کی صوبائی ترقیاتی اداروں میں PPS کیڈر کو مستحکم کرنے کی سمت حکومت خیبر پختونخوا کے ایک اہم اور دوررس اقدام کی عکاسی ہے۔

صوبائی وزیر عاقب اللہ خان نے باضابطہ طور پر محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری کی وزارت کا چارج سنبھال لیا

خیبرپختونخوا کے وزیر برائے محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری عاقب اللہ خان نے گزشتہ روز باضابطہ طور پر اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ ریلیف، بحالی و آبادکاری، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے، ڈی جی ریسکیو 1122، ڈائریکٹر سول ڈیفنس اور دیگر اعلی حکام موجود تھے۔ صوبائی وزیر عاقب اللہ خان کو محکمہ کے اغراض و مقاصد سمیت اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔ صوبائی وزیر عاقب اللہ خان نے مفصل پریزنٹیشن اور تعارفی اجلاس بلانے کے لیے بھی ہدایات جاری کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ ریلیف بحالی و آبادکاری قدرتی آفات اور ہنگامی صورتحال میں زندگی اور معمولات بحال کرنے میں ایک ناگزیر کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت اور عوامی مفادات کے لیے درکار محکمانہ اصلات یقینی بنائیں گے۔

وزیر بلدیات مینا خان آفریدی کی ہدایت پر صفائی مہم کے لیے 1414.628 ملین روپے کے فنڈز جاری

خیبرپختونخوا کے عوام کو پاک صاف ماحول فراہمی کی جانب وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے عملی اقدام اٹھاتے ہوئے فنڈز کا اجراء یقینی بنا دیا۔ اس سلسلے میں،محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا نے صوبائی کابینہ کے فیصلے کے مطابق صفائی مہم کے لیے1414.628ملین روپے کی خطیر رقم بطور اضافی بجٹ گرانٹ جاری کردئے۔اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں وزیر بلدیات مینا خان آفریدی نے کہا کہ صوبائی کابینہ کے 12 اگست 2025 کے 36ویں اجلاس میں دیے گئے تاریخی فیصلے کے بعد جاری ہونے والے ان فنڈز کا بنیادی مقصد صوبے کے تمام 28 بندوبستی اضلاع کی ویلج کونسلوں میں اکتوبر تا دسمبر 2025 کے دوران جامع صفائی مہم چلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صفائی ستھرائی کے عمل کو ویلج کونسل سطح پر لے آئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے 28 بندوبستی اضلاع کے ویلج کونسلز میں صفائی مہم جاری ہے۔ عوام بھی ویلج کونسلز کی سطح پر صفائی کے عمل میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں۔محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کی گئی اعلامیہ کے مطابق، ویلج کونسلوں میں تعینات خاکروبوں کی تنخواہیں اور صفائی کے لیے استعمال ہونے والے لوڈر رکشوں کے ایندھن اور مرمت کے اخراجات مذکورہ جاری شدہ فنڈز سے ادا کئے جائیں گے۔ جس میں صوبائی دارالحکومت پشاور کے لیے 127.113 ملین روپے سب سے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ تمام رقم متعلقہ ویلج کونسلوں کے مخصوص بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جائے گی۔ اعلامیے میں مزید ہدایت کی گئی ہے کہ محکمہ خزانہ ہر تین ماہ بعد باقاعدہ طور پر رپورٹ پیش کرنے پر ہی اگلے مرحلے کے فنڈز جاری کرے گا، جس سے شفافیت اور ذمہ داری کو یقینی بنایا جائے گا۔

وزیر آبپاشی خیبرپختونخوا ریاض خان نے کہا ہے کہ صوبے میں بہترین نظام آبپاشی کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں گے

وزیر آبپاشی خیبرپختونخوا ریاض خان نے کہا ہے کہ صوبے میں بہترین نظام آبپاشی کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں گے آبپاشی کے تمام منصوبوں میں عوام کی بہتری اور ترقی اولین ترجیح ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ترقی، انصاف اور شفافیت پر یقین رکھتی ہے اور قائد عمران خان کے ویژن کے مطابق صوبے میں کرپشن کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالیرنس پالیسی پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی عمران خان کے اعتماد سے منصب پر فائز ہیں اور وہ صوبے کی ترقی کے لیے بہترین اقدامات کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے ورسک ڈیم کے دورہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ آبپاشی محمد آیاز، چیف انجینئر اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر نے صوبائی وزیر کو ”ری ماڈلنگ آف ورسک کینال سسٹم“ منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ منصوبے پر تقریباً 78 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ صوبائی وزیر نے زیر تعمیر تقریباً 5 کلومیٹر طویل آگزیلری ٹنل اور پمپ ہاؤس کا معائنہ کیا، جبکہ انہیں منصوبے کے تعمیراتی کام، ترقیاتی امور، افادیت، لاگت، اخراجات اور درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا گیا۔صوبائی وزیر آبپاشی ریاض خان نے کہا کہ ”ری ماڈلنگ آف ورسک کینال“ منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف پشاور اور نوشہرہ کی ہزاروں ایکڑ اراضی سیراب ہوگی بلکہ پانی کے بہاؤ میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور کاشتکاروں کے پانی کی کمی کے مسائل بھی حل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈیموں اور آبپاشی کے منصوبوں کی تعمیر سے نہ صرف پانی کے مسائل حل ہوں گے بلکہ اس سے زراعت، توانائی، سیاحت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جس سے صوبے کی معیشت مضبوط ہوگی۔آخر میں صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ تعمیراتی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے اور درپیش مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے سختی سے تاکید کی کہ عام عوام کو ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے حوالے سے کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے۔ دورے کے موقع پر صوبائی وزیر ریاض خان نے پودا بھی لگایا۔

کمشنر ہزارہ کی زیر صدارت موسمِ سرما کی تیاریوں سے متعلق اجلاس

کمشنر ہزارہ ڈویژن فیاض علی شاہ کی زیر صدارت موسمِ سرما کی آمد کے پیشِ نظر ونٹر کنٹی جنسی پلان سے متعلق ایک اہم اجلاس کمشنر آفس ایبٹ آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام ڈپٹی کمشنرز نے اپنے اضلاع میں ممکنہ برفباری اور بارشوں کے دوران انتظامات اور پلان پیش کیے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر ہزارہ نے کہا کہ موسمِ سرما کے دوران عوام کی سہولت اور بروقت ریسکیو کارروائیوں کے لیے تمام اضلاع اپنے انتظامات مکمل رکھیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پلانز میں تمام متعلقہ محکموں کے ساتھ قریبی کوآرڈینیشن یقینی بنائی جائے، حساس علاقوں کی نشاندہی کر کے وہاں مشینری اور دیگر ضروری سہولیات پیشگی مہیا کی جائیں۔کمشنر نے مزید کہا کہ ہر ضلع میں کنٹرول رومز قائم کیے جائیں اور ان کے رابطہ نمبرز تمام متعلقہ محکموں سے شیئر کیے جائیں۔ کنٹرول رومز کو فعال رکھا جائے اور عملے کی موجودگی یقینی بنائی جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی ممکن ہو۔انہوں نے ہدایت دی کہ برفباری والے علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سینٹرز ایسے مقامات پر بنائے جائیں جہاں سے کم سے کم وقت میں مدد پہنچائی جا سکے۔کمشنر ہزارہ نے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (GDA) اور کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (KDA) کو ہدایت دی کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر موسم کی تازہ ترین صورتحال میڈیا اور سوشل میڈیا پر جاری کریں تاکہ سیاح گلیات یا ناران کا رخ کرنے سے پہلے موسم کے بارے میں آگاہی حاصل کر سکیں۔انہوں نے ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ برفباری والے علاقوں میں اسپتالوں اور ہیلتھ سینٹرز کا دورہ کریں، ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنائیں۔ اگر کسی جگہ کوئی کمی ہو تو فوری طور پر رپورٹ کی جائے۔کمشنر ہزارہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کنٹی جنسی پلان پر عملدرآمد ہر حال میں یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ آخر میں انہوں نے ہدایت دی کہ اگر کسی ضلع کو ریلیف سامان یا مالی معاونت کی ضرورت ہو تو باضابطہ طور پر کمشنر آفس کو آگاہ کیا جائے تاکہ معاملہ صوبائی حکومت کو ارسال کیا جا سکے

صوبائی دارالحکومت پشاور کو نشے کے عادی افراد سے مکمل پاک کرنے کے لیے نشے سے پاک پشاور مہم کا پانچواں مرحلہ جلد شروع کرنے کا فیصلہ۔

صوبائی دارالحکومت پشاور کو نشے کے عادی افراد سے مکمل پاک کرنے کے لیے نشے سے پاک پشاور مہم کا پانچواں مرحلہ جلد شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اورمحکمہ خزانہ کو نشے سے پاک پشاور مہم کی مختص بقیہ رقم محکمہ سماجی بہبود کو فراہم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں، شہر کو نشے کے عادی افراد سے مکمل پاک کرنے کے لیے محکمہ سماجی بہبود کو میکنزم تیار کرنے کی ہدایات کی گئی ہے۔ اسی طرح پشاور اپ لفٹ پروگرام فیز ٹو کے تحت اہم سرکاری عمارتوں کی تزئین و آرائش اور دیواروں کو خوبصورت بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، شہر کے بڑے فلائی اوورز پر بھی نقش و نگار کرکے شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کیا جائے گا، یونیورسٹی روڈ کے دونوں اطراف بجلی کے تاروں کو پشاور کینٹ کی طرز پر زیر زمین بچھایا جائے گا۔ اس حوالے سے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا سید شہاب علی شاہ کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے۔ اجلاس میں چیف اکانومسٹ، سیکرٹری سوشل ویلفئیر، سیکرٹری خزانہ اور کمشنر پشاور ڈویژن سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو نشے سے پاک پشاور مہم کے چاروں ادوار میں 4700 نشے کے عادی افراد کے کامیاب علاج اور پشاور اپ لفٹ پروگرام فیز ٹو کے تحت مکمل ہونے والے اور جاری منصوبوں، حیات آباد جاگنگ اور سائیکل ٹریک کی تعمیر، تاریخی ایگریکلچر انسٹی ٹیوٹ کی تزئین و آرائش اور تاریخی حیثیت کی بحالی، محکمہ مال کے محافظ خانہ کی تزئین و آرائش، تاریخی قصہ خوانی بازار کی تزئین و آرائش اور تاریخی حیثیت کی بحالی، پشاور زو روڈ کی مرمت اور تزئین و آرائش، یونیورسٹی روڈ، ڈی ٹور روڈ، رنگ روڈ کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے شجر کاری اور اہم مقامات،چوراہوں کی خوبصورتی، فیچر وال اور موونمٹ کی تعمیر، جامعہ پشاور کی تزئین و آرائش روڈوں کی تعمیر و مرمت، جدید فرش بندی، پارکنگ سٹینڈ زکی تعمیر، گورنمنٹ حسنین شریف ہائیر سیکنڈری سکول نمبر ون پشاور سٹی کی تزئین و آرائش اور تاریخی حیثیت کی بحالی کے حوالے سے تفصیلی آگاہی دی گئی جس کے تناظر میں اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹر ی خیبر پختونخوا نے صوبائی دارالحکومت پشاور کو نشے کے عادی افراد سے مکمل پاک کرنے کے لیے محکمہ سماجی بہبود کو باقاعدہ میکنزم تیار کرنے اور ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کی ہدایات کرتے ہوئے محکمہ خزانہ کو نشے سے پاک پشاور مہم کے پانچویں مرحلے کے لیے فنڈز کی فراہمی کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے پشاور اپ لفٹ پروگرام فیز ٹو کے تحت جاری منصوبوں کے تحت شہر کی اہم تاریخی عمارتوں کی تزئین و آرائش اور تاریخی حیثیت کی بحالی کے بھی احکامات جاری کیے۔ اس سلسلے میں انہوں نے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو حیات آباد تاتارا پارک کی حالت زار بہتر بنانے کے لیے پشاور اپ لفٹ پروگرام کے پراجیکٹ ڈائریکٹر سے رجوع کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے اہم مقامات پر فلائی اوورز پر بھی نقش و نگار کرکے شہر کی خوبصورتی میں اضافے کی تاکید کی۔