ڈیرہ جات 2025 کی سرگرمیوں کے سلسلے میں ہاکی اور ٹیبل ٹینس کے مختلف مقابلے ڈیرہ اسماعیل خان میں منعقد ہوئے۔اس ضمن میں ہاکی کا پہلا میچ ڈیرہ ہاکی کلب اوربلال شہید ہاکی کلب کے درمیان کھیلا گیا جو ڈیرہ ہاکی کلب نے 2 گول سے جیت لیا۔میچ کے مہمان خصوصی تحصیل مئیر ڈیرہ اسماعیل خان عمر امین خان گنڈاپور تھے جبکہ ریجنل سپورٹس آفیسر رضی اللہ بیٹنی،ڈائریکٹر آپریشنز سپورٹس نعمت اللہ مروت،ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز جمشید بلوچ ودیگر مہان بھی اس موقع پر موجود تھے۔دونوں ٹیموں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا جبکہ نتیجے میں دوسرے ہالف میں ڈیرہ ہاکی کلب نے کامیابی حاصل کی۔اس موقع پر مہمان خصوصی عمر امین خان گنڈاپور نے شاندار کھیل پر ٹیموں کو مبارکباد دی اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔اس طرح ٹیبل ٹینس مقابلے احمد نواز ملازئی ٹیبل ٹینس اکیڈمی میں کھیلے گئے جن میں تین کیٹیگریز، جونئیر،سینئر اور مکسڈ مقابلے ہوئے اور مجموعی طور پر حافظ وقاص نے اس میں کامیابی حاصل کی۔اس ایونٹ کے آرگنائزنگ سیکریٹری جنرل سیکرٹری خیبر پختونخوا ٹیبل ٹینس ایسوسی ایشن احمد نواز ملازئی تھے جبکہ مہمانانِ خصوصی ڈائریکٹر آپریشنز نعمت اللہ مروت،ڈائریکٹرز سپورٹس اعظم بلوچ و عدنان سہیل اورڈپٹی ڈائریکٹر جمشید بلوچ تھے۔مزید برآں جمشید پہلوان اور محمد رضوان بھی اس موقع پر موجود تھے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی جانب سے وفاق کو ضم شدہ اضلاع کے فنڈز کی منتقلی کے حوالے سے لکھے گئے خط کا تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع باقاعدہ طور پر خیبر پختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں، اس لیے ان اضلاع کے ترقیاتی فنڈز کا صوبے کو منتقل ہونا آئینی اور قانونی تقاضا ہے۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ وفاق کی خاموشی افسوسناک اور آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضم شدہ اضلاع کی ترقی اور معاشی استحکام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ دہشت گردی صرف ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کی بجائے فنڈز روک رہی ہے، جو ان علاقوں کے عوام کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے پرعزم ہے، اور تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے مزید کہا کہ وفاق صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کرے اور تمام فنڈز فوری منتقل کرے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع کو صوبے کے دیگر اضلاع کے برابر لانے کے لئے خیبر پختونخوا حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہی ہے وفاق بھی اس ضمن میں خیبر پختونخوا کی مدد کرے ناکہ فنڈز روکے۔ بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے قبائلی اضلاع محرومیوں کے شکار ہیں اب وقت آگیا کہ قبائلی اضلاع کی تمام محرومیوں کا ازالہ کرکے وہاں ترقی کا سفر شروع کریں.
خیبر پختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی کا ایک اور اہم اقدام
فوڈ اتھارٹی کی غیر رجسٹرڈ خوراکی یونٹس و مصنوعات کے خلاف کارروائی سے قبل خصوصی رجسٹریشن مہم کا فیصلہ
خیبرپختونخوا فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی نے صوبہ بھر میں خوراکی اشیاء تیار کرنے والے تمام غیر رجسٹرڈ یونٹس، کارخانوں اور خوراکی مصنوعات سے وابستہ کاروباری حضرات کے لیے ایک اہم اقدام کا آغاز کرتے ہوئے اج 14 اپریل سے 27 اپریل 2025 تک ایک خصوصی رجسٹریشن مہم شروع کرنے جا رہی ہے۔
فوڈ اتھارٹی ترجمان نے تفصیلات جاری کی اور کہا کہ اس مہم کا مقصد صوبے میں موجود ایسے تمام خوردونوش اشیاء تیار کرنے والی یونٹس اور مصنوعات کو قانونی دائرہ کار میں لانا ہے جو تاحال فوڈ اتھارٹی کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہیں، تاکہ عوام کو محفوظ، معیاری اور حلال خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی واصف سعید نے تمام غیر رجسٹرڈ خوراک تیار کرنے والی یونٹس اور فوڈ پراڈکٹس کے مالکان سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس خصوصی مہم سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور متعلقہ اضلاع میں موجود فوڈ اتھارٹی کے عملے سیاپنا اندراج یقینی بنا نے میں تعاون کریں۔
واصف سعید نے واضح کیا کہ مقررہ مدت کے بعد بھی اگر کوئی خوراکی یونٹ یا پراڈکٹ رجسٹریشن سے گریزاں پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ فوڈ اتھارٹی کا مشن ” محفوظ خوراک، صحت مند عوام” ہے جسے ھر صورت یقینی بنایا جائے گا خصوصی مہم کے حوالیسے صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طوروکا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت شہریوں کو محفوظ اور معیاری کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں عملی اقدامات بھی اٹھا رہی ہے
ڈیرہ جات فیسٹول کے تحت منعقدہ آرکیالوجیکل ٹور کے سلسلے میں
ڈیرہ جات فیسٹول کے تحت منعقدہ آرکیالوجیکل ٹور کے سلسلے میں تاریخی مقام کافر کوٹ کا دورہ کیا گیا جس میں مختلف محکموں کے افسران و نمائندے، آ ثار قدیمہ میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے علاوہ طلباء اور گائیڈز بھی شامل تھے۔کافر کوٹ ایک ایسا تاریخی مقام ہے جو ہندو شاہی دور کی شان،شوکت کا گواہ ہے یہ دورہ نہ صرف معلوماتی تھا بلکہ فیسٹیول کی ثقافتی جہت کو مزید اجاگر کرنے کا باعث بھی بنا۔فیسٹیول کے شرکاء نے قلعے کے بلند و بالا برج، پتھریلی دیواریں، اور مندر کے آثار دیکھے، جو صدیوں پرانی تہذیب کی کہانی سناتے ہیں۔ گائیڈز نے حاضرین کو اس قلعے کی تاریخی اہمیت، اس کی دفاعی ساخت اور ہندو شاہی سلطنت کے پس منظر پر بریفنگ دی جس سے شرکاء کو ایک نیا زاویہ حاصل ہوا۔اس موقع پر ٹور کے شرکاء نے تصاویر لیں، ویڈیوز بنائیں اور تاریخ سے محبت رکھنے والوں نے اسے اپنی زندگی کا یادگار لمحہ قرار دیا۔یہ ایونٹ فیسٹیول کی اُن سرگرمیوں میں سے ایک تھا جو صرف تفریح تک محدود نہیں بلکہ سیکھنے اور پہچان کا ذریعہ بھی بنیں جہاں شرکاء کو تاریخ کے ماہرین کی جانب سے تفصیل سے بتایا گیا کہ یہ مقام کس طرح مختلف تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ مذکورہ مقام کی تاریخی اہمیت اور اس کے مختلف دوروں پر روشنی ڈالی گئی جس سے شرکاء کو یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ کس طرح یہ علاقے پاکستان کی ثقافت اور تاریخ کا حصہ ہیں۔ہر مقام پر ماہر آثارِ قدیمہ نے شرکاء کو اس کی تاریخ، اس کے آثار اور اس کے تعمیراتی ڈیزائن کے بارے میں مفصل معلومات فراہم کیں۔ ہر جگہ کی منفرد خصوصیات اور اس کے تاریخی پس منظر کو جان کر شرکاء بہت متاثر ہوئے۔ہر مقام پر ماہرین نے شرکاء کی رہنمائی کی اور ان کو بتایا کہ یہ آثار کس طرح ہمارے ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔ اس دوران شرکاء نے نہ صرف ان مقامات کی جمالیات کو محسوس کیا بلکہ ان کے تاریخی حوالے سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے تمام شرکاء کو ماضی کی گہرائیوں میں جھانکنے کا موقع دیا۔ٹور کے اختتام پر شرکاء نے اس موقع کو انتہائی تعلیمی اور تفریحی قرار دیا۔ بہت سے شرکاء نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں اس ٹور کے دوران نہ صرف پاکستان کے تاریخی ورثے کے بارے میں علم حاصل ہوا بلکہ وہ اس کے تحفظ اور اس کی اہمیت کو بھی سمجھ پائے۔ شرکاء نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ یہ ٹور ان کے لیے ایک نیا تجربہ تھا جس میں نہ صرف تاریخ بلکہ ثقافت کی گہری سمجھ بھی حاصل ہوئی۔یہ آثارِ قدیمہ کا ٹور ایک شاندار کامیابی ثابت ہوا۔ اس نے شرکاء کو ہمارے ماضی کی اہمیت کا احساس دلایا اور انہیں یہ سکھایا کہ ہمیں اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت اور اسے محفوظ رکھنے کی کتنی ضرورت ہے۔
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کی زیر صدارت میٹرک امتحانات میں شفافیت و نظم و ضبط کے حوالے سے گرینڈ کوآرڈینیشن اجلاس کا انعقاد
چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت، پشاور تعلیمی بورڈ میں گرینڈ کوآرڈینیشن اجلاس منعقد ہوا جس میں حالیہ میٹرک امتحانات کے دوران شفافیت یقینی بنانے، طلبہ کو سہولیات کی فراہمی اور نقل کی روک تھام کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں کمشنر پشاور ڈویژن و چیئرمین پشاور تعلیمی بورڈ ریاض خان محسود، سیکرٹری تعلیمی بورڈ مہدی جان، ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم محمد شعیب، کنٹرولر امتحانات اور پشاور، چارسدہ، چترال اپر و لوئر، خیبر اور مہمند اضلاع کے امتحانی مراکز کے عملے نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا کے ٹھوس اقدامات کے باعث نقل مافیا کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب صوبے سے اس ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امتحانات میں شفافیت صرف اس وقت ممکن ہے جب امتحانی عملہ اپنی ذمہ داری کو خلوص نیت اور دیانت داری سے ادا کرے۔
چیف سیکرٹری نے مزید کہا کہ اساتذہ کرام، قوم کے معمار ہیں اور تعلیم کی بنیاد انہی کے ہاتھوں رکھی جاتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی نظام میں شفافیت، میرٹ اور بہتری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور نقل کے خاتمے کے لیے ای-مارکنگ جیسے جدید نظام کا جلد آغاز کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت 90 لاکھ بچے سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ 49 لاکھ بچے ابھی بھی سکولوں سے باہر ہیں،جب کہ سکول سے باہر بچوں کے داخلے کو یقینی بنانے کے لئے مربوط حکمت عملی پر کام جاری ہے۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ تعلیم کسی صورت کاروبار نہیں بننا چاہیے اور تعلیمی نظام کو مستحکم کرنے کے لئے اساتذہ کے کردار کو دوبارہ مؤثر بنایا جائے گا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن و چیئرمین پشاور تعلیمی بورڈ ریاض خان محسود نے کہا کہ بورڈ نے امتحانات میں شفافیت اور نقل کے خاتمے کے لیے انقلابی اقدامات کیے ہیں جن کے باعث نقل مافیا کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف کاروائیاں جاری رہیں گی اور انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر حالیہ میٹرک امتحانات میں شفافیت اور نظم و ضبط کے قیام میں نمایاں کردار ادا کرنے والے امتحانی مراکز کے عملے میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔
وفاقی وزیر خزانہ کے اعترافی بیان نے جعلی حکومت کے دعووں کا پول کھول دیا، بیرسٹر ڈاکٹر سیف
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوابیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ اعترافی بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر خزانہ کا مہنگائی پر قابو نہ پانے اور ایف بی آر میں کرپشن کا اعتراف اس جعلی حکومت کے جھوٹے دعووں کی نفی ہے۔
انہوں نے کہا کہ محمد اورنگزیب ایک ذمہ دار شخصیت ہیں جنہوں نے حکومت کی اصل حقیقت عوام کے سامنے رکھ دی ہے۔ وزیر خزانہ اور وزیراعظم شہباز شریف ایک پیج پر نہیں دکھائی دے رہے، جو حکومتی انتشار اور ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ وزیر خزانہ کے بیان کے بعد کم از کم شہباز شریف کی آواز کو موبائل رنگ ٹون سے ہٹا دینا چاہیے، کیونکہ عوام اب وہ رنگ ٹون سن کر ایک دوسرے کو فون کرنا بھی چھوڑ چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹ میں سودا خریدتے وقت جب یہ رنگ ٹون بجتی ہے توعوام اس کو سن کر اگ بگولہ ہوجاتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نے عوام کو صرف مایوسی دی ہے۔
بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مطالبہ کیا کہ جعلی دعووں کی بجائے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ عوام کو جھوٹے دعوووں اور وعدوں پر مزید ٹرخانا بند کیا جائے
صوبائی وزیر زراعت کی ہدایت پر شعبہ زراعت کی بہتری کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کاضلع کرک سے آغاز
خیبرپختونخوا کے وزیر زراعت میجر (ر) محمد سجاد بارکوال کی خصوصی ہدایات پر ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت کرک ڈاکٹر جان محمد کی زیر نگرانی ڈویژنل مانیٹرنگ آفیسر شمس اقبال کے ہمراہ ڈرون سپریئر (Drone Sprayer) ٹیسٹ فلائٹ کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ اس موقع پرانہوں نے ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر ایگریکلچر آفس کرک میں ڈرون سپریئر کی آزمائشی پرواز کا مشاہدہ کرتے ہوئے اسے کامیاب قرار دیا۔ ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت نے اس جدید ڈرون سپیریئر کی افادیت اور اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ یہ کم سے کم وقت میں بڑے رقبے پر سپرے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے پانی کے ساتھ ساتھ وقت کی بھی بچت ہوتی ہے اور زرعی ادویات کے درست استعمال سے کم سے کم مقدار میں مطلوبہ نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ محکمہ زراعت، ضلع کرک کے توسیعی شعبہ میں ایک نئی جدت ہے۔ یاد رہے کہ وزیر زراعت سجاد بارکوال نے ضلع کرک میں زرعی شعبے کی ترقی اور بہتری کیلئے ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت کرک ڈاکٹر جان محمد کا خصوصی طور پر انتخاب کیا ہے تاکہ یہاں زراعت میں جدید طریقے استعمال کرکے صوبے میں بالعموم اور ضلع کرک میں بالخصوص مختلف فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیا جاسکے۔
ڈیرہ جات 2025 کے تحت مختلف ایونٹس سمیت آرٹ اورکلچر کی سرگرمیوں کا سلسلہ ڈیرہ اسماعیل خان میں
ڈیرہ جات 2025 کے تحت مختلف ایونٹس سمیت آرٹ اورکلچر کی سرگرمیوں کا سلسلہ ڈیرہ اسماعیل خان میں جمعرات کے روز بھی جاری رہا۔ اسی تسلسل میں دو روز تک جاری رہنے والی فنی نمائش کی اختتامی تقریب ڈسٹرکٹ آڈیٹوریم ہال میں منعقد کی گئی جس کے دوران مختلف سینئر و جونیئر آرٹسٹوں میں میڈلز اور سرٹیفکیٹس تقسیم کر کے ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ تقریب میں محکمہ سپورٹس کے ڈائریکٹر آپریشنز نعمت اللہ مروت، ڈپٹی ڈائریکٹر جمشید بلوچ، ریجنل سپورٹس آفیسر رضی اللہ بیٹنی، سینئر آرٹسٹ عجب گل، فاروق سیال، جمشید میتھیو،محمد شریف، دانش خان، قاری عبدلکریم سمیت دیگر سینئر و جونئیر آرٹسٹس، آرگنائزرز، منیجمنٹ ٹیم کے علاوہ کافی تعداد میں آرٹ میں دلچسپی رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ نمائش میں تقریباً 75سینئر و جونیئر آرٹسٹس کی جانب سے پنٹنگز نمایاں کی گئیں تھیں۔ اس موقع پر ریجنل سپورٹس آفیسر رضی اللہ بھٹنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرٹ کو فروغ دینا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور ڈیرہ جات کے تحت ایسی سرگرمیوں کا شمار ایک احسن اقدام ہے جس سے نہ صرف آرٹسٹس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ دیگر لوگوں میں بھی ایسی سرگرمیوں سے متعلق دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔اسی حوالے سے سیئنئر آرٹسٹ عجب گل کا کہنا تھا کہ جہاں پر جونیئر آرٹسٹس میں مرد حضرات دلچسپی لے رہے ہیں وہیں خواتین بھی اس شعبے میں کافی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں جو کہ قابل تحسین ہے۔واضح رہے کہ ڈیرہ جات کے تحت کل ڈسٹرکٹ آڈیٹوریم ہال میں ایک روزہ مشاعرہ کا بھی انعقاد کیا جائے گا۔
چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم تاج محمد خان ترند نے کہا
چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم تاج محمد خان ترند نے کہا ہے کہ میٹرک امتحانات میں تمام کنٹرولر امتحانات امتحان کی شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے نقل کی روک تھام مردان بورڈ میں پرچہ آوٹ ہونیوالے ملوث افسران و اہلکار کو قرار واقعی سزا دینے اور انکوائری رپورٹ جلد جمع کرنے کی ہدایت کردی ہے،ضلع بٹگرام میں زلزلہ سے متاثرہ سکولوں اور صوبہ میں سیلاب اور دیگر قدرتی آفات و دہشت گردی سے متاثرہ سکولوں کی جلد تعمیر کیلئے فی الفور اقدامات اٹھانے کی ہدایت کردی ہے،صحت کارڈ کی طرح صوبائی حکومت تعلیمی کارڈ کا اجراء بھی عنقریب کرنے جارہی ہے تاکہ غریب بچوں کے تعلیمی اخراجات حکومت برداشت کرے،دور دراز علاقوں میں ایٹا کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی میں پاسنگ مارکس کا پچاس فیصد سے زیادہ رکھنے سے سیٹیں خالی رہ جاتی ہیں اسلئے محکمہ تعلیم اس حوالے سے از سر نو پالیسی مرتب کرے اور کوئی بھی سیٹ خالی نہ رہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو سٹینڈنگ کمیٹی برائے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر رکن اسمبلی افتخار مشوانی،رکن اسمبلی عدنان خان،رکن اسمبلی ثوبیہ شاہد،رکن اسمبلی عبدالسلام آفریدی،رکن اسمبلی طارق سعید،رکن اسمبلی عاصمہ عالم،رکن اسمبلی ریاض خان،رکن اسمبلی انور خان،سپیشل سیکرٹری تعلیم خدا بخش،ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم مقبول حسین،ڈائریکٹر یس ایجوکیشن ڈاکٹر ناہید انجم،ڈپٹی سیکرٹری اسمبلی نعیم درانی،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر مردان (فیمیل)ثمینہ غنی،کنٹرولر امتحانات مردان بورڈ محمد فیاض اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں حکام نے چیئرمین کو مردان تعلیمی بورڈ میں پرچہ آوٹ ہونے والے معاملہ کے بارے میں تفصیلی گفتکو کی۔کنٹرولر امتحانات مردان بورڈ محمد فیاض نے ملوث اہلکاروں کیخلاف اٹھائے گئے اقدامات بارے چیئرمین کو آگاہ کیا۔کمیٹی ارکان نے ٹرانسفر پالیسی کے تحت تبادلوں پر بھی اپنی رائے سے آگاہ کیا،سکولوں میں کلاس فور ملازمین کی بھرتی کیلئے محکمہ خزانہ سے این او سی لینے،اساتذہ بھرتی کے عمل کو جلد مکمل کرنے،پی ٹی سی فنڈز کے استعمال میں شفافیت لانے،ایجوکیشن فاونڈیشن میں اساتذہ کی تنخواہ کی ریلیز،وغیرہ پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔چیرمین کمیٹی تاج محمد خان ترند نے اس موقع پر کہا کہ سکولوں کی اپ گریڈیشن،تعمیر متعلقہ منتخب اراکین اسمبلی کی مشاورت سے کیا جائے اور اس سلسلے میں تمام ڈی ای اوز کو مراسلہ ارسال کیا جا ئیگا۔انہوں نے ضلع بٹگرام میں زلزلہ سے متاثرہ سکولوں کی جلد تعمیر اور اس حوالے سے فنڈز کے اجراء کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ سکولوں کی تعمیر کو ترجیحاتی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نئے اساتذہ بھرتی میں کوئی بھی سیٹ خالی نہ رہے اور تمام خالی سیٹوں کو پر کرنے کی ہدایت کی۔انکا کہنا تھا کہ سکولوں میں صفائی ستھرائی اور سیکیورٹی کے حوالے سے چوکیدار اور دیگر درجہ چہارم ملازمین کی تقرری کیلئے محکمہ خزانہ جلد این او سی جاری کرے۔انہوں نے پی ٹی سی فنڈز میں خرد برد روکنے کیلئے ایک سب کمیٹی قائم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
معلومات کی فراہمی میں اداروں کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی: چیف انفارمیشن کمشنر خیبر پختونخوا
شہریوں کی شکایت پر خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن نے اداروں کے پبلک انفارمیشن آفیسرز کو سماعت کیلئے طلب کیا تھا۔ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کرک، ڈی ایس پی کرک، اور لکی مروت کے ضلعی آفیسر برائے سوائل کنزرویشن، کمیشن کے سامنے پیش ہوئے
خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن میں شہریوں کی شکایات پر مختلف اداروں کے پبلک انفارمیشن آفیسرز کو سماعت کیلئے طلب کیا گیا تھا۔ ڈی سی آفس کرک کے خلاف شہریوں کے تین مختلف شکایات (جس میں صائمہ اختر نامی شہری نے لینڈ ریکارڈ، اظہر ممتاز نے پروموشن اور بھرتی کے بارے ڈی پی سی میٹنگ کے مینٹس کی کاپی، جبکہ محمداللہ نامی شہری نے حلقہ پی کے- 98 میں گھریلو اور زرعی سولر سسٹم اور اس سے مستفید ہونے والوں کی تفصیلات مانگی تھیں میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کرک، کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔ کمیشن نے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کرک کو احکامات جاری کئے کہ ڈی پی سی میٹنگ کے مینٹس کی کاپی 4 دنون کے اندر کمیشن میں بھیجنے اور سولر سسٹم سے متعلق معلومات 7 دنوں کے اندر شہری کو فراہم کرے بصورت دیگر مذکورہ آفیسر کے خلاف آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت تادیبی کاروائی شروع کی جائے گی۔ اس کے علاوہ کرک سے تعلق رکھنے والے ایک شہری کے کیس (جس میں انہوں ڈی پی او کرک سے ایک کیس کی انکوائری رپورٹ اور دیگر معلومات مانگی تھیں میں ڈی ایس پی کرک نے انکوائری رپورٹ کی کاپی کمیشن میں معائنے کے لئے جمع کرائی جبکہ بقیہ معلومات کیلئے کمیشن سے 7 دن تک کا وقت مانگ لیا۔ چیف انفارمیشن کمشنر خیبر پختونخوا فرح حامد خان نے کہا کہ معلومات تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ جو بھی ادارہ شہریوں کو بروقت معلومات فراہم نہیں کرے گا اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔
