Home Blog Page 141

لاہور سے آنے والی گاڑی سے مضر صحت گوشت برآمد، مالکان پر بھاری جرمانہ عائد

گراں فروشی اور ناقص خوراک پر 4 قصائی جیل منتقل، ترجمان محکمہ خوراک

خیبر پختونخوا کے وزیر خوراک کی ہدایت پر رمضان کے مقدس مہینے میں گرانفروشوں اور غیر معیاری خوراکی اشیاء میں ملوث افراد کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اس سلسلے میں فوڈ سیفٹی ٹیم نے پشاور موٹر وے ٹول پلازے پر ناکہ بندی کی اور خوراک کی اشیاء لے جانے والی گاڑیوں کی انسپکشن کی، انسپکشن کے دوران ایک گاڑی سے غیر معیاری سو کلو گرام سے زائد گوشت برآمد کرکے تلف کرتے ہوئے مالکان پر بھاری جرمانہ بھی عائد کیا گیا، ترجمان کے مطابق گوشت لاہور سے پشاور سپلائی کیا جا رہا تھا۔ترجمان نے مزید بتایا کہ محکمہ خوراک کے اہلکاروں نے فروٹ منڈی، فروٹ و سبزی شاپس، دودھ فروشوں اور قصائیوں پر بھی چھاپے مارے ہیں۔ فوڈ اہلکاروں نے دوکانداروں اور شہریوں سے قیمتوں کے بارے میں جانچ پڑتال کی اور گرانفروشی اور ناقص خوراک کی فروخت پر چار قصائیوں اور فروٹ منڈی میں بولی کی خلاف ورزی کرنے پر چار بولی دہندگان کو گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا۔ دریں اثناوزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے گرانفروشوں اور غیر معیاری خوراک بیچنے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھنے کا حکم دے دیا ہے، انہوں نے گرانفروشوں اور غیر معیاری اشیائے کے خلاف انسپکشن مکینیزم میں مزید تیزی لانے کی ہدایت کی ہے۔انکا کہنا تھا کہ گرانفروشی اور غیر معیاری خوراک سے وابستہ کاروباروں کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا،

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کو خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف بیان دینے کے لئے کابینہ میں شامل کیا گیاہے۔ وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو

خیبر پختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا ہے کہ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کو خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف بیانات دینے کے لیے پنجاب کابینہ میں شامل کیا گیا ہے،ان کہنا تھا کہ عظمیٰ بخاری کے پاس اپنے صوبے کے عوام کے لیے کچھ نہیں، اسی لیے وہ خیبر پختونخوا حکومت پر بے جا تنقید کر رہی ہیں۔ صوبائی وزیر نے پشاور سے جاری اپنیایک بیان میں کہا کہ مریم نواز کو علی امین خان گنڈا پور کی طرح عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ محض زبانی بیانات اور ذاتی تشہیر سے صوبہ ترقی نہیں کرسکتا۔ظاہر شاہ طورو نے پنجاب حکومت پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کابینہ میں شامل بیشتر وزراء کرپٹ مافیا کا حصہ ہیں اور ان کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے صوبے کے عوام مزید اس جعلی حکومت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ظاہر شاہ طورو کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت وزیر اعلیٰ کی قیادت میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور ہم عوام کی خدمت جاری رکھیں گے

یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور میں خوداختسابی کے موضوع پر سیمنار

مشیر وزیراعلیٰ برائے اینٹی کرپشن مصدق عباسی کی سیمنار میں بطور مہمان خصوصی شرکت، وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور پروفیسر ڈاکٹر جھان بخت، سٹاف ممبران اور طلباء و طالبات بھی موجود تھے،

سیمینار بدعنوانی اور خوداختسابی کے حوالے سے آگاہی مہم کا حصہ ہے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے انسداد بدعنوانی مصدق عباسی نے یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور میں خوداختسابی کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس معاشرے میں رولز آف لاء اور انصاف ہوگا وہ معاشرے خوشحال ہوگا۔منفی سوچ و سرگرمیوں کو ختم کرنا ہوگا۔ قائد اعظم نے کرپشن کی روک تھام کیلئے قانون سازی کی اور کرپشن کو ملک کے لئے خطرناک قرار دیا۔کرپشن کی روک تھام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر وزیراعلیٰ مصدق عباسی کا کہنا تھا کہ کرپشن کی روک تھام آگاہی، کرپشن کے مواقعے ختم کرنا اور قوانین کو لاگو کرنے سے ہوسکتی ہے۔ ہمیں دوسرے کے جج اور اپنے وکیل بنانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکموں کے اندر کرپشن کے مواقعوں کو ختم کرنے کے لیے اقدامات اٹھارہے ہیں۔ہمارا بڑا مسل? اشرافیہ کی کرپشن ہے۔ اس کرپشن سے حاصل ہونے پیسہ بیرونی ممالک جاتا ہیں۔ دنیا میں جن معاشروں میں رولز آف لاء نہیں ہے وہاں احتساب کا عمل کمزور ہوتا ہے۔ جن ممالک میں رولز آف لاء بہتر ہے وہاں کرپشن کم اور خوشحالی زیادہ ہوتی ہے۔ مشیر وزیراعلی نے سیمنار سے اپنے خطاب میں کرپشن کے انفرادی و اجتماعی زندگی پر اثرات اور خوداختسابی پر سیر حاصل گفتگو کی۔انہوں نے خوداختسابی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک بندہ اپنے آپ کو تبدیل کردے تو دنیا تبدیل ہو جائے گی۔انہوں نے طلباء و طالبات پر زور دیا کہ کردار سازی کیلئے کتاب بینی کے عادت کو اپنائیں۔ قرآن مجید، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اقبالیات کا مطالعہ کریں۔ قرآن مجید کو پڑھیں، سمجھیں اور عملی زندگی میں اس سے رہنمائی لیں۔ ہمیشہ سچ بولیں اور جھوٹ بولنا ترک کریں۔ اس موقع پر وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور پروفیسر ڈاکٹر جھان بخت نے مشیر وزیراعلیٰ مصدق عباسی کو یونیورسٹی آمد پر خوش آمدید کہا اور خوداختسابی پر جامع لیکچر دینے پر شکریہ ادا کیا۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم میناخان آفریدی نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ یونیورسٹی کے مختلف فیکلٹی کے بھرتی کے لئے حالیہ دنوں ہونیوالے اشتہار کو کینسل کرکے قواعدوضوابط کے مطابق دوبارہ نیڈ اسسمنٹ کرکے نظر ثانی کیلیے محکمہ اعلیٰ تعلیم کو بیھجوائیں صوبائی وزیر نے یہ ہدایات پیر کے روز محکمہ اعلیٰ تعلیم کے کمیٹی روم میں منعقد ہونے والے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کئے۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری اعلیٰ تعلیم، یوینورسٹی کے رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر کو اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے ٹیحرز سٹوڈنٹس ریشو کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ محکمہ اعلیٰ تعلیم میں تمام فیصلے انصاف، میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر ہونگے کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی اور ذیادتی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جامعات پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے ہم ان مضامین پر فوکس کررہے ہیں جن کو مارکیٹ کی ضرورت ہے دور جدید کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں وقت کے ساتھ چلنا ہوگا ورنہ ترقی کے اس دور ہم بہت پیحھے رہ جائینگے۔

چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کی زیرِ صدارت صوبائی مالی امور پر اعلیٰ سطحی اجلاس

چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ خزانہ کا اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی مالی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جس میں بجٹ منصوبہ بندی، فنڈز کی تقسیم اور مختلف شعبوں میں اخراجات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے دوران چیف سیکرٹری کو اہم منصوبوں اور فلیگ شپ اقدامات کے لیے مختص بجٹ اور اس کے استعمال پر بریفنگ دی گئی۔ تنخواہوں اور پنشن کے تخمینے سمیت مجموعی مالی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے آئندہ بجٹ کی پیشگی تیاری پر زور دیتے ہوئے تمام سیکرٹریز کو ہدایت دی کہ وہ اپنے متعلقہ شعبوں کے مالی تقاضوں کا باریک بینی سے تجزیہ کریں۔ اجلاس میں گورننس اور مالیاتی انتظامی اصلاحات کا روڈ میپ بھی پیش کیا گیا، جس میں شفافیت، ڈیجیٹائزیشن اور پراسیس آٹومیشن کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مالی معاملات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے دو سالہ روٹیشن پالیسی نافذ کی جائے گی۔ حکام نے اجلاس میں اہم مالی کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ فنانس بل میں 50 سے زائد ریونیو اصلاحات متعارف کروائی گئیں، جس کے نتیجے میں صوبائی آمدن میں 14 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 25-2024 کی پہلی ششماہی میں 90.7 فیصد ریونیو اہداف حاصل کیے گئے، جو گزشتہ سال کی 66 فیصد کارکردگی سے کہیں زیادہ ہیں۔ اسی طرح، معدنیات کی رائلٹی میں 200 فیصد اضافہ ہوا، اور اس میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ صوبائی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن کا تخمینہ 100 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ترقیاتی فنڈز کے اجرا میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا، جبکہ کان کنی اور معدنیات کے شعبے سے 5.4 ارب روپے کی رائلٹی حاصل کی گئی۔اجلاس میں حکومت کے مؤثر مالیاتی نظم و نسق اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر مالیاتی امور سے متعلق فیصلوں کو مظبوط بنانے کے لیے ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی اور اسٹرکچرل اصلاحات کو فروغ دینے کی کوششوں کی بھی توثیق کی گئی۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان کا گھڑی چندن پلانٹیشن کا دورہ،

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان کا گھڑی چندن پلانٹیشن کا دورہ، معاون خصوصی کی اراضی مالکان کو گھڑی چندن کو سفاری پارک ڈکلیئر کرنے کی تجویز، گھڑی چندن میں شمسی توانائی کے حامل تقریباً نو ٹیوب ویلز سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل، پیر مصور خان

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات، ماحولیات، جنگلی حیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے گزشتہ روز پشاور میں گھڑی چندن پلانٹیشن کا دورہ کیا جہاں انھوں نے بلین ٹری شجرکاری منصوبے کے تحت لگائے گئے پودوں کا جائزہ لیا اس موقع پر چئیرمن ڈیڈک پشاور شیر علی آفریدی، کنزرویٹر فارسٹ حیات علی،سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر پشاور ستار خان اور اراضی مالکان بھی موجود تھے، معاون خصوصی پیر مصور خان کو گھڑی چندن پلانٹیشن کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گھڑی چندن میں تقریباً 2400 ہیکٹرز رقبے پر شجرکاری کی گئی تھی جس سے صوبے کے جنگلات میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے، دورے کے موقع پر معاون خصوصی کو گڑھی چندن میں اراضی مالکان نے اپنے مسائل اور تحفظات سے بھی آگاہ کیا پیر مصور خان نے اراضی مالکان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گھڑی چندن اور گردونواح میں شمسی توانائی کے حامل ٹیوب ویلز کا منصوبہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جاچکا ہے جس کے تحت تقریباً نو ٹیوب ویلز نصب کئے جائینگے،انھوں نے گھڑی چندن میں درختوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 30 فیصد رقبے پر یوکلپٹس پودوں کی شجرکاری کی گئی تھی جسکی کٹائی کے لئے سروے کیا جارہا ہے، حاصل آمدن سے 80 فیصد اراضی مالکان کو دیا جائے گا جبکہ معاون خصوصی نے گھڑی چندن کو سفاری پارک ڈکلیئر کرنے کی بھی تجویز دی جس سے نہ صرف جنگلی حیات کا تحفظ یقینی ہو جائے گا بلکہ مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر بھی آئینگے، انھوں نے کہا کہ گھڑی چندن میں محکمہ جنگلی حیات مختلف قسم کے پرندے چھوڑ رہی ہیں،انھوں نے پرندوں کی خوراک کے لئے شاتوت اور اس طرح کے دیگر پودے لگانے کی ہدایت کی اور کہا کہ جنگلی حیات کے لئے پانی کا بندوبست کرنے کے لئے چک ڈیمز بھی بنائے جائینگے جس سے پورا ایک ایکو سسٹم ڈویلپ ہوگا۔ گھڑی چندن میں نگہبان فورس کے اہلکاروں کی تنخواہوں کے حوالے سے معاون خصوصی پیر مصور خان نے کہا کہ بہت جلد ماہ جنوری اور فروری کی تنخواہیں انھیں ادا کی جائے گی، انھوں نے کہا کہ صوبے میں جنگلات کے تحفظ کے لیے تعینات نگہبان فورس کا کردار لائق تحسین ہے

اکوڑہ خٹک دھماکے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت کا وفاق سے ٹی او آرز جلد از جلد منظور کرنے کا مطالبہ،بیرسٹر ڈاکٹر سیف

عوام کے جان و مال کی حفاظت خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے،مشیر اطلاعات وتعلقات عامہ

مریم نواز بھارت سے سموگ ڈپلومیسی کر سکتی ہیں تو دہشت گردی جیسے اہم مسئلے پر خیبر پختونخوا حکومت کی افغانستان سے بات چیت میں کیا حرج ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وفاق افغانستان سے بات چیت کے لئے خیبر پختون خوا حکومت کے ٹی او ارز جلد از جلد منظور کرے،انہوں نے کہا کہ وفاق ٹی او آرز کی منظوری میں مزید تاخیر سے گریز کرے، مشیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت ہنگامی بنیادوں پر وفد افغانستان بھیجنا چاہتی ہے، مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ اپنے عوام کے جان و مال کی حفاظت خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے، انہوں نے مزید کہا کہ وفاق، صوبے میں دہشت گردی کی روک تھام کی بجائے اس اہم مسئلے پر سیاست کرنے سے گریز کرے، وفاق کو پنجاب اور سندھ کے وزرائے اعلیٰ کے بیرونی دوروں پر کوئی اعتراض نہیں۔مشیر اطلاعات نے کہا کہ مریم نواز بھارت سے سموگ ڈپلومیسی کر سکتی ہیں تو دہشت گردی جیسے اہم مسئلے پر خیبر پختونخوا حکومت کی افغانستان سے بات چیت میں کیا حرج ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاق کی اس دوغلی پالیسی سے صوبے کی احساس محرومی مزید بڑھ رہی ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ وفاق خیبر پختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک بند کریں۔ خیبر پختونخوا بھی پاکستان کا حصہ ہے۔ وفاق صوبہ خیبر پختونخوا کے دکھوں کا مداوا کریں۔

محکمہ خوراک کیخلاف مسلسل بدعنوانی کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، اگر کسی کے پاس ثبوت ہیں کو سامنے لے آئے، وزیر خوراک ظاہر شاہ کی پریس کانفرنس

مہنگائی اور غیر معیاری و ملاوٹی خوراک کی کڑی نگرانی کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، ظاہر شاہ طورو

خیبرپختونخوا کے وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے کہا ہے کہ محکمہ خوراک کو ایک منظم ایجنڈے کے تحت مسلسل بدنام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کروڑوں روپے خرچ کرکے فارم 47 کی پیداوار سے توجہ ہٹانے کے لیے نامعلوم عناصر بدعنوانی کا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر خوراک نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کو اس کا جائز حق فراہم نہیں کر رہی، جس کے باوجود حکومت خیبرپختونخوا نے ایک سالہ اچھی کارکردگی دکھائی ہے جس کی رپورٹ بہت جلد پبلک کی جائے گی انہوں نے کہا کہ کچھ نامعلوم عناصر کروڑوں روپے خرچ کرکے مسلسل بغیر ثبوت کے صوبائی وزراء اور وزیر اعلیٰ کے خلاف کرپشن کا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ ان کے خلاف پروپیگنڈا ناکام ہونے کے بعد اب وزیر اعلیٰ کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری پارٹی میں اندرونی احتساب کا عمل جاری ہے، جو کسی اور سیاسی جماعت میں نہیں ہو رہا۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے عمران خان کو جیل میں قید کر رکھا ہے، ان سے خیبرپختونخوا حکومت کی ایک سالہ کارکردگی ہضم نہیں ہو رہی صوبائی وزیر نے وضاحت کی کہ خیبرپختونخوا حکومت نے گندم کی خریداری وفاقی حکومت کے مقرر کردہ نرخوں پر کی ہے اور مقامی کاشتکاروں سے گندم خرید کر صوبے کو 9 ارب روپے کی بچت دی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ بچت جرم ہے، تو یہ جرم ہم کرتے رہیں گے۔ وزیر خوراک نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ اب تک نہ وزیر اعلیٰ اور نہ انکے بھائی نے محکمہ خوراک کے امور میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ ظاہر شاہ طورو کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے معیاری گندم خریدی ہے اور اگر کسی کے پاس بدعنوانی کے ثبوت ہیں وہ سامنے لے آئے ہم سزا کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے 40 کنال زمین کے الزام کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خاندان کو بھی اس کا علم نہیں اور وہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتے ہیں کہ اس الزام میں کوئی صداقت نہیں۔ انہوں نے چیلنج دیا کہ اگر ان پر لگایا گیا الزام ثابت ہو گیا، تو وہ ہر قسم کی سزا کے لیے تیار ہیں۔رمضان میں مہنگائی اور غیر معیاری خوردونوش اشیاء کی تدارک کے حوالے سے ظاہر شاہ طورو کا کہنا تھاکہ خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی میں خصوصی شکایات سیل قائم کیا گیا ہے انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جہاں بھی گراں فروشی ہو وہ اس کی نشاندہی کریں تاکہ فوری ایکشن لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور غیر معیاری و ملاوٹی خوراک کی کڑی نگرانی کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں،

فوڈ سیفٹی اتھارٹی کا پشاور حاجی کیمپ میں کارخانے پر چھاپہ، ہزاروں کلو گرام سے زائد ملاوٹی مصالحہ جات، خراب تیل، چوکر اور رنگ برآمد، کارخانہ سیل کر دیا

مردان موٹروے سروس ایر یا میں بھی کاروائی، زائدالمیعاد بریڈ،مشروبات، غیر معیاری و مس لیبل سویٹس اور چپس برآمد کرکے ضبط کر لی گئیں، ترجمان فوڈ اتھارٹی

وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کی ہدایت پر رمضان سے قبل فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے مضر صحت اور غیر معیاری خوراک کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا، صوبہ بھر میں فوڈ سیفٹی ٹیموں کی جانب سے مختلف شہروں میں بڑی کارروائیاں کی گئیں،ترجمان فوڈ اتھارٹی نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ پشاور حاجی کیمپ میں مصالحہ جات یونٹ پر چھاپے کے دوران 1 ہزار کلو سے زائد مضر صحت مصالحہ جات، 450 لیٹرز خراب تیل، 500 کلو سے زائد چوکر اور 2 کلو رنگ برآمد کر کے قبضے میں لے لیا۔فوڈ سیفٹی ٹیم نے یونٹ کو سیل کرتے ہوئے مزید قانونی کاروائی کا آغاز کر دیا۔دوسری جانب فوڈ سیفٹی ٹیم مردان نے موٹروے سروس ایریا اور نوشہرہ روڈ میں خوراک سے وابستہ مختلف شاپس کا معائنہ کیا اور زائدالمیعاد بریڈ،مشروبات، غیر معیاری و مس لیبل سویٹس اور چپس برآمد کرکے ضبط کر لیے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ بنوں روڈ ڈی ائی خان میں ایک دکان سے معائنے کیدوران ممنوع چائنہ سالٹ برآمد ہونے پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو نے کامیاب کارروائیوں پر فوڈ سیفٹی ٹیموں کو داد دیتے ہوئے کہاکہ رمضان میں ذخیرہ اندوزی اور مضر صحت خوراک کی فروخت کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے اور کاروائیاں مزید تیز کی جائیں

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم سے جرمنی کے نائب سفیر مسٹر Amo kirchof کی ملاقات

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے کہا ہے کہ احساس ہنر پروگرام کا آغاز نوجوانوں کو آپنا روزگار شروع کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز جرمنی کے نائب سفیر مسٹر ایمو کرچوف سے ملاقات کے دوران کیا ہے۔ اس موقع پر جی ائی ذی (GIZ) کوآرڈینیٹر Ms.Romina kochius اور ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی منصور قیصر بھی موجود تھے۔ معاون خصوصی کے ہمراہ وفد نے سنٹر اف ایکسیلنس گورنمنٹ ٹیکنیکل ٹریننگ سنٹر حیات آباد کا دورہ کیا۔ وفد کو سنٹر اف ایکسیلینس گورنمنٹ ٹیکنیکل سنٹر کے منیجمنٹ نے کارکردگی پرتفصیلی بریفننگ دی ہے۔ اس موقع پر وفد نے سنٹر کے ورکشاپ،لیبارٹری آف سی این سی، پی ایل سی، ہاسپیٹیلیٹی،بیوٹیشن ڈریس میکنگ اور فیشن ڈیزائننگ کا تفصیلی معائنہ کیا اور طلباء کی مہارتوں کو سراہا گیا۔اس دوران معاون خصوصی نے وفد کے ساتھ کارکردگی اور مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو کی ہے۔اس دوران معاون خصوصی برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن طفیل انجم نے وفد سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ صوبائی حکومت نے احساس ہنر پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا ہے جس کے ذریعے فارغ التحصیل ہنر مند افراد کو بلاسود قرضے فراہم کئے جائیں گے جس سے وہ اپنے لئے خود روزگار شروع کر سکینگے۔ وفد نے صوبائی حکومت اور ٹیوٹا کی صوبے میں فنی تعلیم کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا ہے۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ فنی تعلیم کو مزید بہتر کیا جائے تاکہ صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آسکیں۔