خیبر پختونخوا کے وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول خلیق الرحمان کی زیر صدارت محکمہ ایکسائز کے مالی سال 26-2025 کی ماہ جولائی ریکوری اور کارکردگی کا جائزہ اجلاس ڈائریکٹریٹ جنرل ایکسائز پشاور میں منعقد ہوا، جس میں خالد الیاس سیکرٹری محکمہ ایکسائز، عبدالحلیم خان ڈائریکٹر جنرل، شہریار قمر خٹک ڈائریکٹر ایڈمن، انجینئر ڈاکٹر عید بادشاہ ڈائریکٹر ساؤتھ ریجن، سید الآمین ڈائریکٹر پشاور ریجن، جاوید خلجی ڈائریکٹر رجسٹریشن، ارشاد اللہ آفریدی ڈائریکٹر ہزارہ ریجن، فضل غفور ڈائریکٹر ملاکنڈ ریجن، اور ضلعی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں مالی سال 26-2025 کی ماہ جولائی کے محصولات، ریکوری اور مقررہ اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جو کہ جولائی کے مہینے کے مقررہ ہدف 62 کروڑ 50 لاکھ کے مقابلے میں 87 کروڑ 35 لاکھ (140فیصدریکوری) اور مقررہ ہدف سے 24 کروڑ 85 لاکھ روپے زیادہ ریکوری کی ہے۔ اس موقع پر وزیر ایکسائز کو تمام ضلعی ایکسائز دفاتر کے مقررہ اہداف اور محصولات کی وصولیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی اور محکمہ میں جاری مختلف انتظامی اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے کی جانے والی اصلاحات پر پیش رفت سے وزیر ایکسائز کو آگاہ کیا گیا جبکہ وزیر ایکسائز نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے محکمہ ایکسائز کے افسران و اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہا اور ٹیکس دہندگان کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے اور کسی قسم کی شکایت کا موقع نا دینے کے ہدایات جاری کیں۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت تیسرا قبائلی مشاورتی جرگہ، پائیدار امن کے لیے افغانستان سے مذاکراتی جرگہ کی تجویز
وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی میزبانی میں امن و امان سے متعلق علاقائی جرگوں کے جاری سلسلے کا تیسرا مشاورتی جرگہ بدھ کے روز وزیر اعلی ہاوس پشاور میں منعقد ہوا۔ جرگے میں ضلع شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر کے علاوہ ٹرائبل سب ڈیژنز وزیر، بیٹانی، درازندہ اور جنڈولہ کے قبائلی مشران، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اورمتعلقہ ممبران صوبائی و قومی اسمبلی نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ وزیر اعلی کے مشیر بیرسٹر محمد علی سیف، سنیٹر نور الحق قادری، چیف سیکرٹری اور آئی جی پی کے علاوہ متعلقہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور پولیس حکام بھی جرگے میں شریک تھے۔ جرگے میں امن و امان کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی اور آگے کے لائحہ عمل بارے متفقہ سفارشات پیش کی گئیں۔جرگے کے شرکاءنے امن و امان کے سلسلے میں قبائلی عمائدین کے جرگے منعقد کرنے پر وزیر اعلیٰ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن ہماری بنیادی ضرورت ہے، ہم امن چاہتے ہیں اور دہشتگردوں اور دہشتگردی کے خلاف ہم سب متحد ہیں۔ جرگے میں سفارش کی گئی کہ خطے میں پائیدار امن کے سلسلے میں افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے نمائندوں، قبائلی عمائدین اور سیاسی قائدین پر مشتمل جرگہ تشکیل دیا جائے۔ شرکاءکا کہنا تھا کہ ہم ترقی چاہتے ہیں اور ترقی امن و امان سے جڑی ہے۔ جب تک خطے میں امن و امان کی صورتحال مستحکم نہیں ہو جاتی، ترقی اور خوشحالی کی کوئی بھی کاوش دیرپا ثابت نہیں ہو گی۔
یومِ استحصالِ کشمیر پر ریلی، مشیرِ اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی اور بھارت کے غاصبانہ اقدامات کی شدید مذمت
یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر پشاور میں ایک بڑی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیرِ اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے شرکاء سے پُرجوش خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، غیر آئینی اقدامات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ پانچ اگست کا دن کشمیر کی متنازعہ حیثیت کے خاتمے کی ایک افسوسناک یاد دہانی ہے جب بھارت نے آئینی ترمیم کے ذریعے بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو پامال کیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ گمان تھا کہ وقت کے ساتھ کشمیری عوام مزاحمت ترک کر دیں گے، مگر کشمیریوں کی مسلسل جدوجہد اور پاکستانی قوم کی غیر متزلزل حمایت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نہ ہم غاصبانہ قبضے کو تسلیم کرتے ہیں، نہ کسی جابر کو برداشت کرتے ہیں۔ کشمیری عوام کی استقامت اور پاکستانی عوام کی یکجہتی اس تحریک کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ہندوتوا کے فاشسٹ نظریے کو برصغیر پر مسلط کرنا چاہتا ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان کبھی ظلم کے سامنے جھکا ہے نہ جھکے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو روس اور امریکہ جیسے عالمی طاقتوں کے انجام سے سبق سیکھنا چاہیے، جو افغانستان سے ذلت کے ساتھ واپس لوٹے۔انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، اور انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر چند ہزار یہودیوں کے قتل پر دنیا آج تک افسردہ ہے، تو لاکھوں کشمیریوں کے قتل، جبری گمشدگیوں اور استحصال پر مجرمانہ خاموشی منافقت اور دوہرے معیار کی علامت ہے۔خطاب کے اختتام پر انہوں نے واضح پیغام دیا کہ کشمیر کی تحریک آزادی شہداء کے خون سے عبارت ہے، اور ایسی تحریکیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ اگر بھارت نے کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت نہ دیا تو وہ دن دور نہیں جب ظلم کے ایوان لرز اٹھیں گے، اور بھارت کو ایک بار پھر ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وومن یونیورسٹی صوابی اور عبدالولی خان یونیورسٹی کے سینیٹ اجلاس، تعلیمی بہتری و سولرائزیشن کے منصوبوں کی منظوری
یبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز مینا خان آفریدی کی زیر صدارت وومن یونیورسٹی صوابی سینٹ اجلاس ہائیرایجوکیشن سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وائس چانسلر وومن یونیورسٹی صوابی پروفیسر ڈاکٹر غزالہ یاسمین، محکمہ اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا، ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان، محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا اور جامعہ کے دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کا مقصد یونیورسٹی کو درپیش انتظامی، مالی و تعلیمی امور کا جائزہ لینا اور ان کے مؤثر حل کے لیے حکمت عملی ترتیب دینا تھا۔ اجلاس میں یونیورسٹی کی موجودہ کارکردگی، بجٹ امور، اساتذہ کی تعیناتی، طلبہ کی فلاح و بہبود اور دیگر کلیدی معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں مالی سال 2025-26 کے لئے 649.531 ملین روپے سرپلس بجٹ کی منظوری دی گئی۔صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے وومن یونیورسٹی صوابی کو ایک مثالی تعلیمی ادارہ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی اعلیٰ تعلیم حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اور اس سلسلے میں تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ جامعہ کو درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور اس ضمن میں باہمی روابط اور تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔بعد ازاں، خیبرپختونخوا کے وزیر برائے اعلی تعلیم، آرکائیوز و لائبریریز مینا خان آفریدی کی زیر صدارت عبدالولی خان یونیورسٹی مردان سینیٹ اجلاس ہائیر ایجوکیشن سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وائس چانسلرعبدالولی خان یونیورسٹی مردان ڈاکٹر جمیل خان، محکمہ اعلی تعلیم خیبرپختونخوا، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا سمیت جامعہ کے دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ جامعہ عبدالولی خان کے حکام نے وزیر برائے اعلی تعلیم کو جامعہ کی سولرائزیشن، آن لائن ایجوکیشن، ڈیجیٹل ٹرانسفرمیشن، تحقیقی سرگرمیوں کی وسعت، کمرشلائزیشن سمیت دیگر امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر برائے اعلی تعلیم مینا خان آفریدی نے جامعہ عبدالولی خان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ علاقائی سطح پر تعلیم کے میدان جامعہ نے اپنا نام منوایا ہے جس کو مزید بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ جون 2026 کے آخر تک جامعہ کی مکمل سولرائزیشن، ای آفس انوائرنمنٹ اور جامعہ میں طلبہ کی انرولمنٹ میں بہتری کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس میں مالی سال 2025-26 کے لئے سالانہ اخراجات کی منظوری دی گئی۔
خیبرپختونخوا میں پندرہ سکولز اور پچپن کالجز کی آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ، تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے حکومتی اقدام
خیبر پختونخوا میں کمزور کارکردگی والے تعلیمی اداروں کی آؤٹ سورسنگ کے حوالے سے منگل کے روز ایک اعلی سطح اجلاس منعقدہوا، جس کی صدارت چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے کی۔ اجلاس میں متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اور دیگر حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ تعلیم حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور کمزور کارکردگی والے سکولوں اور کالجوں کی آؤٹ سورسنگ کا مقصد معیار کو بہتر کرنا اور طلبہ کے لئے تعلیمی ماحول بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صوبے، خصوصاً ضم اضلاع میں خدمات کی فراہمی بہتر بنانا چاہتی ہے، تاکہ مقامی آبادی کے معیار زندگی کو بلند کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ جامع کے پی آئیز اور ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی کی نگرانی سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ آؤٹ سورس کئے گئے تعلیمی ادارے معیار پر پورا اتریں۔ چیف سیکرٹری نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ان تعلیمی اداروں کے حوالے سے سروے کرواکر آؤٹ سورسنگ کا عمل مکمل کریں تاکہ منتقلی مؤثر اور منظم طریقے سے ہو سکے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پسماندہ علاقوں میں تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لئے حکومت کی کوششوں کے تحت اگلے سال تک کمزور کارکردگی والے 1,500 سکولز اور 55 کالجز آؤٹ سورس کئے جائیں گے۔ منصوبے کے تحت ضم اضلاع کے 500 سکولز آؤٹ سورسنگ کئے جائیں گے۔اجلاس میں ان اداروں کے فنانشل ماڈل پر بھی بریفنگ دی گئی جو تیاری کے آخری مرحلے میں ہے
یوم استحصال کشمیر پر گورنر و مشیر اطلاعات کی قیادت میں واک، کشمیریوں سے یکجہتی اور بھارتی مظالم کی مذمت
یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے منگل کے روز وزیراعلٰی ہاؤس سے گورنر ہاؤس تک واک کا انعقادکیاگیا۔گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیراعلٰی کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے واک کی قیادت کی۔وزیراعلٰی ہاؤس سے گورنر ہاؤس تک واک میں مقامی حریت رہنما، ضلعی انتظامیہ، سرکاری حکام، طلبہ، سول و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔شرکاء واک نے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی اور مودی حکومت کے کشمیری عوام پر مظالم کیخلاف نعرے بازی کی۔شرکاء نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن، غاصبانہ قبضہ کی شدید مذمت کی۔ اس موقع پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنرخیبرپختونخوا نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے مطلوم عوام کئی دہائیوں سے بھارتی جبر و مظالم کا شکار ہیں، دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سفارتی حمایت جاری رکھیں گے، 6 سال پہلے آج کے دن مودی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے ظلم کی ایک نئی داستان رقم کی۔انہوں نے کہاکہ عالمی انسانی حقوق کے ادارے کشمیری عوام پر جاری مظالم کا نوٹس لیں، گورنرنے واضح کیاکہ ہمیشہ سے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں جاری ہیں جو انسانی حقوق کے اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ عالمی مسئلہ کشمیر کے حل کئے بغیر خطہ میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔
خیبرپختونخوا میں علم پیکٹ پروگرام کا آغاز، 80 ہزار آؤٹ آف اسکول بچوں کی تعلیم حکومت کی اولین ترجیح قرار
خیبر پختونخوا حکومت نے تعلیم کے فروغ اور آؤٹ آف اسکول بچوں کو تعلیمی نظام میں لانے کے لیے علم پیکٹ پروگرام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ پروگرام برطانوی حکومت کے ادارے ایف سی ڈی او کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے اور اس کا افتتاح وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور نے کیا۔ علم پیکٹ کے تحت بٹگرام، مانسہرہ، صوابی، بونیر، شانگلہ، خیبر، مہمند اور ڈی آئی خان جیسے پسماندہ اضلاع میں 80 ہزار بچوں کو اسکولوں میں داخل کیا جائے گا۔پروگرام میں اساتذہ کی تربیت، تعلیمی سہولیات، بچیوں، نادار و خصوصی بچوں اور اقلیتوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور رواں سال مزید 10 لاکھ بچوں کو اسکولوں میں لایا جائے گا، جبکہ 18 ہزار نئے اساتذہ بھی بھرتی کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ اور بجٹ میں تعلیم کو 21 فیصد حصہ دینے کو حکومت کے عزم کا ثبوت قرار دیا۔ علم پیکٹ صرف خیبر پختونخوا نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مثالی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ میں جدید لیبارٹریز کا افتتاح، فنی تعلیم کے فروغ کے لیے حکومت پرعزم
خیبرپختونخوا میں فنی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے فنی تعلیم طفیل انجم نے شہدائے اے پی ایس یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، نوشہرہ میں دو نئی، جدید ترین سہولیات کا افتتاح کیا۔ نئی قابل تجدید توانائی کی لیبارٹری اور الیکٹریکل مشینوں کی لیبارٹری طلباء کو ان اہم شعبوں میں عملی تجربہ فراہم کرے گی۔معاون خصوصی طفیل انجم کا استقبال وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سعید بادشاہ اور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عمران خان نے کیا۔ اپنے دورے کے دوران انہوں نے یونیورسٹی کی مالیاتی صحت اور تعلیمی پیش رفت کا جائزہ لیا اور ان کے کام پر اطمینان کا اظہار کیا۔ موصوف نے ان اداروں کے لئے 2025-26 کے بجٹ کو منظور کرانے میں اپنے مکمل تعاون کا وعدہ بھی کیا ہے۔ آفس آف ریسرچ، انوویشن، اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) کے دورے سے انہیں جدید تحقیقی منصوبوں کو دیکھنے کا موقع ملا جبکہ انہوں نے یونیورسٹی کے فیکلٹی اور طلباء کی کامیابیوں کو سراہا۔
نان ٹمبر فارسٹ پروڈکٹس کا فروغ حکومت کی ترجیح، جنگلات سے وابستہ مقامی معیشت کو مضبوط بنایا جائے گا
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے جنگلات و ماحولیات پیر مصور خان نے مشیر وزیراعلیٰ برائے انسدادِ بدعنوانی مصدق عباسی کے ہمراہ ڈائریکٹوریٹ آف نان ٹمبر فارسٹ پروڈکٹس کا دورہ کیا۔اس موقع پر سیکرٹری جنگلات شاہد زمان سمیت دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ دورے کے موقع پر مشیر وزیراعلیٰ نے ماڈل ڈسپلے شاپ اور نرسری کا معائنہ کیا، جہاں جنگلی مصنوعات نمائش کے لیے رکھی گئی تھیں۔ڈائریکٹر این ٹی ایف پی راشد احمد نے اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ محکمہ جنگلات کا یہ ذیلی شعبہ خیبرپختونخوا میں نان ٹمبر فارسٹ پراڈکٹس کے فروغ، پائیدار استعمال، ویلیو چین کی ترقی اور ان مصنوعات کی مؤثر مارکیٹنگ پر کام کر رہا ہے تاکہ جنگلات پر انحصار کرنے والی مقامی آبادی کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں۔انہوں نے بتایا کہ مقامی سطح پر معاشی خود کفالت کے لیے صوبہ بھر میں کمیونٹی بیسڈ نان ٹمبر فارسٹ پروڈکٹس انٹرپرائزز قائم کی گئی ہیں، مستقبل میں صوبے بھر میں ہربل منڈیوں کے قیام کے منصوبوں سے بھی انھیں آگاہ کیا گیا، جن سے مقامی و بین الاقوامی مارکیٹ تک ان مصنوعات کی ترسیل میں آسانی پیدا ہوگی۔معاونِ خصوصی پیر مصور خان نے اس موقع پر کہا کہ محکمہ جنگلات اور اس کے ذیلی اداروں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے اصلاحات جاری ہیں، جن کے مستقبل میں مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔این ٹی ایف پی کے تیار کردہ مصنوعات سے حکومت کو سالانہ خطیر منافع حاصل ہوگا،مشیر وزیراعلیٰ مصدق عباسی نے این ٹی ایف پی کے تیار کردہ مصنوعات میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے اس شعبے کی کارکردگی کو سراہا اور ان مصنوعات کی مؤثر تشہیر کی ضرورت پر زور دیا۔بعد ازاں معاونِ خصوصی پیر مصور خان نے مشیر وزیراعلیٰ مصدق عباسی کو سو ینئیر بھی پیش کیا۔
