Home Blog Page 15

خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں میں حاضری کےنئےٹائم ٹیبل سمیت دیگر امور کے لئے ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں

خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں میں حاضری کےنئےٹائم ٹیبل سمیت دیگر امور کے لئے ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں جن کے تحت پرائمری سکولوں میں حاضری صبح 7:30 بجےجبکہ چھٹی دوپہر 1:35 پر ہوگی اس کے علاوہ اسمبلی میں طلباء کی اخلاقی تربیت، مختلف موضوعات پر تقاریر اور عملی سرگرمیاں لازمی قرار دی گئی ہیں سکولوں میں طلباء کو ہفتے میں تین دن تقاریر اور تین دن خاکوں کے ذریعے اخلاقی تعلیم دینے کی ہدایت جاری کی گئی ہے اسی طرح مزید سکول سربراہان کو ہر ہفتے کے آخری ورکنگ ڈے پر بزمِ ادب کے انعقاد کی بھی ہدایت کی گئی ہیں بزم ادب کے بعد آخری تین پیریڈز میں سٹاف میٹنگ اور رجسٹرز مکمل کئے جائیں گے، اعلامیہ میں بتایا گیا ہےکہ اساتذہ کی کمی یا طویل رخصت کی صورت میں ہیڈز اور سبجیکٹ اسپیشلسٹ کلاسز لیں گے، اعلامیہ میں تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران کو سکولوں میں ٹائم ٹیبل پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے

محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول کی عجب باغ چیک پوسٹ پر کارروائی، چرس اور آئس کی بڑی کھیپ برآمد، مقدمہ درج

خیبرپختونخوا حکوت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز سید فخر جہان کے ہدایات کی روشنی میں محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول نے عجب باغ چیک پوسٹ پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں چرس اور آئس برآمد کر لی۔کاروائی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افیسر انٹی نارکوٹکس ماجد خان کی نگرانی میں خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی جس کے دوران ایک مشتبہ گاڑی سے منشیات قبضے میں لے لی گئیں۔محکمہ ایکسائز سے موصولہ تفصیلات کے مطابق نوشہرہ پشاور جی ٹی روڈ پر ایک کاروائی کے دوران گاڑی نمبر AEU-202 سے 12 کلوگرام چرس اور 4 کلوگرام آئس برآمد ہوئی۔ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر (کاؤنٹر نارکوٹکس) ماجد خان کی نگرانی میں کی گئی کاروائی میں انسپکٹر اجمل خان لودھی، لعل گل خان انچارج عجب باغ چیک پوسٹ اور دیگر اہلکار شامل تھے۔برآمد شدہ منشیات کو قبضے میں لے کر ملزمان کے خلاف تھانہ ایکسائز مردان ریجن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس کے سلسلے میں مزید تفتیش جاری ہے

حکومت خیبر پختونخوا کے گڈ گورننس روڈ میپ پروگرام کے تحت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے زیر اہتمام کھلی کچہری کا انعقاد

سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخوا محمد خالد نے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے ملازمین کی ریٹارڈ منٹ پر ان کی پنشن کے کیسز فوری طور پر نمٹائے جائیں اور اگر کسی اہلکار پر کوئی انکوائری بھی چل رہی ہو تو اس کی ماہانہ تنخواہ بند نہ کی جائے تاکہ اس سے ان کا گھر چل سکے۔انہوں نے کہا کہ آن لائن اپلائی کے لئے ہر مہینے کے شروع میں ای ٹرانسفر پورٹل کھولی جائے گی۔ یہ ہدایت انھوں نے پیر کے روز پشاور میں حکومت خیبر پختونخوا کے گڈ گورننس روڈ میپ پروگرام کے تحت عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے منعقدہ ای کھلی کچہری کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سپیشل سیکرٹری تعلیم مسعود احمد ایڈشنل سیکرٹری ظہیر خان ایڈشنل سیکرٹری صالح محمد ڈائریکٹر ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نعمانہ سردار ڈائریکٹر آئی ٹی صلاح الدین سمیت دیگر افسران اور متعلقہ ضلعی ایجوکیشن آفیسرز آن لائن اجلاس میں شریک ہوئے جبکہ عوام نے براہِ راست گفتگو کرکے درپیش مسائل بیان کیے۔ جن میں زیادہ تر پنشن، این او سی (NOCs)، چھٹیوں سے متعلق امور اور ٹرانسفر کے حوالے سے مسائل شامل تھے۔ ای کچہری میں سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم نے آن لائن عوامی مسائل کو سنجیدگی سے سنا اور ان کو فوری طور پر حل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ سیکرٹری ابتدائی و ثانوی تعلیم نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کے کیسز کی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے محکمہ ملازمین کی پنشن کے کیسز کو جلد از جلد نمٹائے اور ریٹائرڈ منٹ کے اگلے مہینے سے ان کی ماہانہ پنشن کی فراہمی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں اور محکمہ تعلیم پنشن کے زیر التواء کیسوں کی بروقت تکمیل کے لیے تندہی سے کام کر ے اور کیسوں کے بلاتاخیر کم وقت میں حل کو یقینی بنا یا جائے۔

قومی مفاد میں: این ایف سی اور ضم شدہ اضلاع پر خیبرپختونخوا کا مؤقف / وزیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم

وزیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ جمعرات 26 مارچ 2026 کو خیبرپختونخوا حکومت نے 11ویں این ایف سی کے سب گروپ VII کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا، جو سابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق 25ویں آئینی ترمیم کے تحت واجب الادا اور مؤخر شدہ مالی ایڈجسٹمنٹس پر غور کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ اگرچہ اس واقعے کی کوریج زیادہ تر درست رہی، تاہم اس اقدام کے بعض پہلوؤں کو غلط سمجھا گیا، جن کی وضاحت حکومت اس بیان کے ذریعے اپنے مؤقف اور نیت کو واضح کرنا چاہتی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ این ایف سی کا طریقہ کار اور اس کے اصول آئین پاکستان کے آرٹیکل 160 میں واضح طور پر درج ہیں۔ آئین کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کی مدت پانچ سال ہوتی ہے، جس کے بعد نئی معاشی صورتحال اور وفاقی تقاضوں کے مطابق نیا ایوارڈ جاری کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔ یہ آئینی حکمت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مالیاتی وفاقیت میں وقتاً فوقتاً ضروری تبدیلیاں کی جائیں تاکہ قومی ضروریات اور معاشی حالات کے مطابق نظام کو ڈھالا جا سکے، اور یہ واضح کرتی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ جامد یا مستقل نوعیت کے نہیں ہوتے۔ ساتواں این ایف سی ایوارڈ 2015 میں اپنی مدت مکمل ہونے کے بعد ختم ہو گیا تھا۔ اس کے بعد آرٹیکل 160(6) کے تحت 2015 میں ایک ترمیمی حکم جاری کر کے اسے برقرار رکھا گیا، بجائے اس کے کہ نیا ایوارڈ جاری کیا جاتا جیسا کہ آئینی تقاضا تھا۔ 2018 میں فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام ایک قومی ترجیح قرار پایا اور اسے 25ویں آئینی ترمیم کے ذریعے قانونی حیثیت دی گئی۔
مزمل اسلم نے کہا کہ اس ترمیم کے نفاذ کے ساتھ ہی خیبرپختونخوا کی آبادی اور رقبہ فوری طور پر تبدیل ہو گیا اور اس میں فاٹا کی آبادی اور رقبہ شامل ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں این ایف سی فارمولے میں خیبرپختونخوا کے لیے استعمال ہونے والی متغیرات کی قدریں خود بخود تبدیل ہو گئیں، لہٰذا فارمولے کو بھی ان نئی قدروں کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے تھا۔ آئین اس تبدیلی کو قانونی اور مالی اثر دینے کا طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 160(6) کے تحت نئے این ایف سی ایوارڈ سے قبل صدر مملکت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ وفاق اور صوبوں کے درمیان محصولات کی تقسیم کے قانون میں ضروری ترامیم یا تبدیلیاں کر سکیں۔ اس شق کے تحت 2015 میں بلوچستان کے حصے میں بھی ترمیم کی گئی تھی۔ تاہم بعد ازاں فنانس ایکٹ کے ذریعے ایوارڈ کو توسیع دی جاتی رہی، مگر 25ویں ترمیم کے مطابق فارمولے میں ضروری تبدیلیاں نہیں کی گئیں، جس کے باعث وسائل کی تقسیم پرانے اور غیر آئینی حصص کی بنیاد پر جاری رہی۔
مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل اس آئینی خلاف ورزی کی نشاندہی کرتی آ رہی ہے، مگر این ایف سی فارمولے میں مطلوبہ ترمیم اور قانونی اقدام کو مختلف وجوہات کی بنا پر مؤخر کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ وسائل جو ضم شدہ اضلاع اور مغربی سرحدی علاقوں کے استحکام پر خرچ ہونے چاہیے تھے، وہ ملک کے زیادہ ترقی یافتہ حصوں کی طرف منتقل ہوتے رہے۔ مزید برآں، کئی برسوں تک این ایف سی کے اجلاس بھی منعقد نہیں کیے گئے، جس کے باعث اس اہم مسئلے کو اٹھانے اور حل کرنے کے لیے کوئی مؤثر فورم موجود نہیں رہا۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ 11ویں این ایف سی کے پہلے اجلاس میں خیبرپختونخوا نے اس اہم آئینی مسئلے کو باضابطہ طور پر اٹھایا، جس پر ایک خصوصی گروپ تشکیل دینے پر اتفاق ہوا تاکہ اپ ڈیٹ شدہ فارمولہ تیار کر کے پیش کیا جا سکے۔ تاہم اس کے باوجود پیش رفت کے بجائے عمل دوبارہ تعطل کا شکار ہو گیا۔
مزمل اسلم نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت این ایف سی عمل، باہمی مشاورت اور وفاقی ہم آہنگی کے لیے پُرعزم ہے تاکہ وفاق اور تمام صوبوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں اور ایک مضبوط وفاق قائم ہو۔ مزید یہ کہ شروع سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس عمل میں شرکت کسی سیاسی مطالبے سے مشروط نہیں بلکہ اسے قومی تعمیر کے عمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ واک آؤٹ بطور آخری راستہ اختیار کیا، جب کئی ماہ کی یقین دہانیوں اور جنوری میں کیے گئے وعدے (جو ریکارڈ کا حصہ بھی ہیں) کے باوجود این ایف سی فارمولے میں ترمیم نہیں کی گئی، حالانکہ یہ آئینی طور پر تقریباً آٹھ سال پہلے ہو جانی چاہیے تھی۔ فاٹا کے انضمام کے بعد سے ہر سال خیبرپختونخوا حکومت اس مطالبے کو باضابطہ طور پر اٹھاتی رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سالوں سے این ایف سی عمل کو طریقہ کار کی تاخیر کے ذریعے مسلسل مؤخر کیا جاتا رہا، حتیٰ کہ مارچ کے اس اجلاس میں دیگر صوبوں نے آرٹیکل 160(6) کے آئینی اصول کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، جو درحقیقت ضم شدہ علاقوں کے مالی وجود سے انکار کے مترادف ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ ان آٹھ سالہ تاخیروں کے نتیجے میں 964 ارب روپے، جو ضم شدہ اضلاع کا حصہ تھا، دیگر صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے۔ یہ وسائل ضم شدہ علاقوں کی ترقی اور مغربی سرحد کے استحکام پر خرچ ہونے کے بجائے دیگر اخراجات پر صرف ہوئے، جو انصاف اور آئینی اصولوں کے منافی ہے۔ ضم شدہ اضلاع کے عوام کوئی محض حسابی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے شہری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دیگر صوبے یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ فارمولہ اپ ڈیٹ کرنے سے ان کے حصے کم ہوں گے، حالانکہ یہ درست نہیں۔ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد حصص خود بخود تبدیل ہو چکے تھے، مگر اس کے باوجود پرانے فارمولے کو برقرار رکھا گیا، جو آئینی حقیقت کے برعکس ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے تکنیکی تجزیہ، ڈیٹا اور مالی ماڈلنگ فراہم کی، مگر اس پر کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔ صوبے تکنیکی نکات پر بحث کر سکتے ہیں، مگر ضم شدہ علاقوں کے مالی وجود سے انکار نہیں کر سکتے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ واک آؤٹ دراصل ایک غیر آئینی فارمولے کے خلاف احتجاج تھا، جس کے ذریعے ضم شدہ علاقوں کے وجود کو نظرانداز کیا جا رہا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2015 میں بلوچستان کے حصے میں ترمیم کی مثال موجود ہے، لہٰذا 2018 میں بھی یہی عمل ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ موجودہ این ایف سی اب متفقہ فارمولہ نہیں رہا، اس لیے وفاقی حکومت فوری طور پر فارمولے پر نظرثانی کرے، اور عبوری طور پر صوبوں کے لیے گرانٹس کا نظام متعارف کروائے تاکہ ریاستی امور متاثر نہ ہوں۔
مزمل اسلم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت این ایف سی عمل، مکالمے اور مضبوط وفاق کے لیے پرعزم ہے، اور امید ظاہر کی کہ دیگر صوبے بھی قومی مفاد میں مثبت کردار ادا کریں گے۔

گرین انرولمنٹ مہم – ای ایس ای ایف خیبر پختونخوا

ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن (ESEF) کے منیجنگ ڈائریکٹر قیصر عالم نے فاؤنڈیشن کمیونٹی اسکولز میں نئے طلبہ کے داخلے کے لیے گرین انرولمنٹ مہم کا آغاز کردیا ہے۔ منیجنگ ڈائریکٹر ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے مہم کا باقاعدہ طور پرآغاز ،ضلع پشاور میں نئے طلبہ کے کامیابی سے اندراج سے کیا، اس موقع پراظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ یہ مہم صوبہ خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں بھرپور طریقے سے شروع کی گئی ہے اوراس اقدام کا مقصد خاص طور پر پسماندہ علاقوں میں تعلیم تک رسائی کو بڑھانا ہے، اور سکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں شامل ہونے کی ترغیب دینا ہے۔ اس مقصد کیلئے مضبوط کمیونٹی شمولیت اور آگاہی مہمات کے ذریعے فاؤنڈیشن کمیونٹی اسکولز کے نیٹ ورک کو مزیدمستحکم بنایا جا رہا ہے۔
گرین انرولمنٹ مہم ،ای ایس ای ایف کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ صوبے کے ہر بچے کو مساوی، معیاری اور جامع تعلیم فراہم کی جائے گی۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان کی بنوں میں پولیس گاڑی پر دہشت گردوں کی فائرنگ کی شدید مذمت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے بنوں میں پولیس گاڑی پر دہشت گردوں کی فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بزدلانہ فعل قرار دیاہے،انہوں نے دہشت گردوں کی فائرنگ سے اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہید پولیس آفیسر نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے شہادت کا عظیم رتبہ پایا ہے۔شفیع جان نے شہید اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کو ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کی بزدلانہ کارروائیاں صوبائی حکومت کے قیام امن کے غیر متزلزل عزم کو ہرگز متزلزل نہیں کر سکتیں۔دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پوری قوم متحد ہے،معاون خصوصی نے شہید پولیس اہلکار کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت دکھ کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکار کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی ہے۔

پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائیاں تیز، متعدد یونٹس سیل،نمایاں ریکوری حاصل

محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا کی جانب سے صوبہ بھر میں پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف جاری خصوصی مہم کے دوران مختلف اضلاع میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں جس کے نتیجے میں متعدد ٹیکس نادہندہ یونٹس سیل کر دیے گئے جبکہ قابلِ ذکر ریکوری بھی عمل میں لائی گئی ہے۔
محکمہ سے موصولہ تفصیلات کے مطابق ضلع نوشہرہ میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر فواد اقبال خان کی نگرانی میں بڑے ٹیکس نادہندگان سے واجبات کی وصولی کے لیے خصوصی مہم جاری ہے۔ متعدد بار نوٹسز کے اجراء کے باوجود ٹیکس ادا نہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔ اس سلسلے میں جہانگیرہ کے علاقے میں کارروائی کے دوران کئی ٹیکس نادہندہ یونٹس کو سیل کیا گیا جبکہ ایک ہی دن میں تقریباً 3 لاکھ روپے کی ریکوری کر کے سرکاری خزانے میں جمع کر دی گئی۔
اسی طرح ضلع مردان میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر محمد خالد خان کی زیر نگرانی مہم کے دوران متعدد نادہندہ یونٹس سیل کیے گئے۔کارروائی کے نتیجے میں سیل شدہ جائیدادوں سے ایک ہی دن میں 21 لاکھ 41 ہزار روپے سے زائد کی ریکوری بھی عمل میں لائی گئی جو سرکاری خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
مزید برآں ضلع مانسہرہ میں بھی یو آئی پی ٹیکس کی عدم ادائیگی پر مختلف جائیدادوں کو سیل کیا گیا، جبکہ پشاور کے علاقے کارخانو مارکیٹ میں پراپرٹی ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مختلف یونٹس کو سیل کر دیا گیا۔محکمہ ایکسائز کے مطابق ٹیکس نادہندگان کے خلاف یہ مہم بلا امتیاز جاری رہے گی اور ٹیکس قوانین پر عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ جائیداد مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے واجب الادا ٹیکسز بروقت ادا کریں تاکہ قانونی کارروائی اور ممکنہ دشواری سے بچا جا سکے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم، ارشد ایوب خان کی ہدایات کے تحت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی جانب سے عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے ای کچہری کا انعقاد کیا جا رہا ہے

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم، ارشد ایوب خان کی ہدایات کے تحت محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی جانب سے عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے ای کچہری کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اس سیشن میں سیکرٹری تعلیم اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران اور متعلقہ ضلعی ایجوکیشن آفیسرز بھی شریک ہوں گے۔ جس میں عوام سے براہِ راست گفتگو کرکے درج ذیل امور سے متعلق شکایات و تجاویز سنی جائیں گی:۔ پنشن کے مسائل،این او سی (NOCs)، چھٹیوں سے متعلق امور اور دیگر تمام مسائل اور مشکلات جو تعلیم سے وابستہ ہیں، فوری حل کیے جائیں گے۔ جس کی تاریخ: 30 مارچ 2026 بروزپیر اور وقت: صبح 9:00 بجے تا 10:00 بجے ہے اس سلسلے میں تمام متعلقہ افراد اپنی شکایات درج ذیل لنک کے ذریعے بھی جمع کرا سکتے ہیں:
https://forms.gle/kz8sEMjUkpUycope7
جبکہ براہِ راست شرکت کے لیے:
Zoom ID: 886 5965 2558
Passcode: 762851
آئیں، اپنے مسائل براہِ راست متعلقہ حکام تک پہنچائیں اور حل کی جانب قدم بڑھائیں۔

د ژوند خکلا‘: پختونخوا ریڈیو کوہاٹ اور کرم کی شعور انگیز مشترکہ کاوش’

خیبر پختونخوا کے سنگلاخ پہاڑوں اور وادیوں میں ریڈیو کی سحر انگیز آواز آج بھی شعور و آگاہی کا سب سے معتبر ذریعہ ہے۔ اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے 26 مارچ کو پختونخوا ریڈیو کوہاٹ اور کرم کے سنگم سے ایک خصوصی پروگرام “د ژوند خکلا” (زندگی کی خوبصورتی) نشر کیا گیا، جس نے اپنی مقصدیت اور جاندار پیشکش کے باعث سامعین کے دل جیت لیے۔

اس پروگرام کی خاص بات اسٹیشن منیجر کوہاٹ و کرم ڈاکٹر انجینئر محمد اطہر سوری اور آصف محمود بنگش کی نہایت متاثر کن میزبانی تھی۔ دونوں معزز شخصیات نے اتنے سہل اور دلنشین انداز میں گفتگو کا آغاز کیا کہ کوہاٹ اور کرم کے طول و عرض سے سامعین کی بڑی تعداد نے فون کالز کے ذریعے پروگرام میں بھرپور حصہ لیا اور اس کاوش کو بے حد سراہا۔

موجودہ موسم کی صورتحال کے پیشِ نظر پروگرام میں حالیہ بارشوں کے سلسلے پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔ سامعین کو خبردار کیا گیا کہ بارشوں کے دوران ندی نالوں اور پہاڑی راستوں پر سفر کرتے ہوئے احتیاط برتیں اور کسی بھی ناگہانی صورتحال سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔ یہ پیغام دیا گیا کہ قدرت کی اس نعمت سے لطف اندوز ہوتے وقت اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگی کو محفوظ بنانا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

چونکہ 26 مارچ کو عالمی سطح پر ‘پرپل ڈے’ منایا جاتا ہے، اس مناسبت سے پروگرام میں مرگی (Epilepsy) کے مرض پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ماہرانہ مشوروں کے ذریعے عوام پر واضح کیا گیا کہ یہ ایک قابل علاج اعصابی بیماری ہے، نہ کہ کوئی توہم پرستی۔ اس دوران مریض کو دورہ پڑنے کی صورت میں دی جانے والی فوری طبی امداد اور علاج کے جدید طریقوں پر روشنی ڈال کر عوامی شعور میں اضافہ کیا گیا۔

پروگرام میں بین الاقوامی منظر نامے پر بھی گفتگو کی گئی اور اس اہم نکتے پر روشنی ڈالی گئی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان ایک بہترین ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ مقررین نے بڑے مدلل انداز میں واضح کیا کہ عالمی امن کے لیے پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں خطے میں استحکام لانے کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں۔

پروگرام کا ایک اور اہم پہلو موسمیاتی تبدیلی اور جاری شجرکاری مہم تھا۔ بدلتے ہوئے ماحولیاتی حالات کے پیشِ نظر درختوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سامعین کو ترغیب دی گئی کہ وہ اپنے مستقبل اور نسلوں کی بقا کے لیے اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

پروگرام کے اختتام پر باہمی امن، رواداری اور محبت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے پر زور دیا گیا اور نیک تمناؤں کے ساتھ اس خوبصورت نشریات کا اختتام ہوا۔
تحریر: انجینئر اطہر

سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی، بابر سلیم سواتی کی خصوصی کاوشوں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششوں کے نتیجے میں ضلع مانسہرہ میں اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی گئی ہے

 تفصیلات کے مطابق پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے کوٹکی ڈیم روڈ کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کی لمبائی 6 کلومیٹر جبکہ تخمینہ لاگت 50 ملین روپے ہے۔ اسی طرح داتا روڈ کی تعمیر کے لیے بھی 2.5 کلومیٹر منصوبہ منظور کیا گیا ہے، جس پر 70 ملین روپے لاگت آئے گی۔یہ اہم منصوبے علاقے میں سفری سہولیات کی بہتری، عوامی رابطوں میں آسانی اور مقامی ترقی کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے۔اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے ان منصوبوں کی منظوری پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی فلاح و بہبود اور پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے