Home Blog Page 151

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان نے کہا ہے کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کے کنٹریکٹ ملازمین

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے محنت فضل شکورخان نے کہا ہے کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کے کنٹریکٹ ملازمین کے ساتھ کئے گئے وعدے کو عملی جامہ پہنایا ہے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا گیا ہے ان کے درینہ مسئلہ کو ہمیشہ کیلیے حل کردیا گیا انہوں نے کہا کہ بورڈ کے کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور کا بہت اہم کردار ہے انہوں نے ڈبلیو ڈبلیو بی کے مستقل ہونے والے ملازمین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستقل ہونے والے ملازمین اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن نبھائیں اور محکمہ کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لئے خوب محنت اور دل لگا کر کام کریں وہ مستقل ہونے والے ملازمین کے اعزاز میں ورکنگ فولکس گرائمر سکول پشاور میں منعقد ہونے والٰ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے اس موقع پر سیکرٹری لیبر ڈیپارٹمنٹ میاں عادل اقبال، سیکرٹری ڈبلیو ڈبلیو بی محمد طفیل، دیگر افسران سمیت مستقل ہونے والے ملازمین بھی کثیر تعداد میں موجود تھے صوبائی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ محکمہ محنت میں انقلابی اصلاحات لانے اور محنت کش مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لئے موجودہ صوبائی حکومت سنجیدہ ہے اور اس ضمن تمام ممکن اقدامات اٹھارہی ہے انہوں نے کہا کہ لیبر کالونیوں میں واقع دکانوں کو حالیہ دنوں نیلامی کرکے مارکیٹ ریٹ پر کرایہ پر دینے سے محکمہ کے ریونیو میں خاطرخواہ اضافہ ہوا اور ان دکانوں سے آنے والی آمدن ریونیو کو مزدوروں اور انکے بچوں کی فلاح و بہبود اور بہتر مستقبل پر لگایاجائیگا۔ انہوں نے مستقل ہونے والے ملازمین سے کہا کہ محکمہ میں بہتر خدمات سرانجام دینے اور محکمہ کو آگے لے جانے کیلیے بھرپور محنت کرنی ہوگی انہوں نے یقین دلایاکہ محکمہ کے ملازمین کے جو بھی مسائل ہونگے انکو حل کرینگے تقریب کے آخر میں صوبائی وزیر نے مستقل ہونے والے ملازمین کو مستقلی کے لیٹرز بھی دئے۔

خیبر پختونخوا کے وزیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اور ترقی نسواں، سید قاسم علی شاہ نے

َََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََِِِِِِِِخیبر پختونخوا کے وزیر برائے سماجی بہبود، خصوصی تعلیم اور ترقی نسواں، سید قاسم علی شاہ نے جمعرات کے روز پشاور میں دارالامان مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کا افتتاح کیا۔اس موقع پراظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت خواتین کی فلاح و بہبود اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کا کردار صرف روایتی مہارتوں جیسے سلائی اور کڑھائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے،اس کی بجائے انہیں مصنوعی ذہانت اور ای کامرس جیسے شعبوں میں تعلیم فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ روزگار کے مواقع حاصل کر کے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے آمدنی پیدا کر سکیں اور معاشرے کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرسکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو وہ زندگی گزارنے کا حق ملنا چاہیے جس کی وہ اصل میں حقدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شادی شدہ خواتین، یتیموں اور 60 سال سے زائد عمر کی بیوہ خواتین کی مالی مشکلات اور جائیداد سے متعلق حقوق پر قانون سازی و دیگراقدامات پر کام کا آغاز کیا جا چکا ہے اور جلد ہی پیش رفت یقینی بنائی جائے گی

خیبر پختونخوا حکومت نے گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی رمضان اور عید پیکج دینے کا فیصلہ کیا ہے، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی رمضان اور عید پیکج دینے کا فیصلہ کیا ہے یہ پیکج صوبے کے مستحق خاندانوں کو فراہم کیا جائے گا،ہر مستحق خاندان کو 10 ہزار روپے دیے جائیں گے،صوبے کے 10 لاکھ سے زائد مستحق خاندانوں کو امدادی پیکج فراہم کیا جائے گا۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ امدادی پیکج 15 رمضان سے پہلے بینکوں اور ایزی پیسہ کے ذریعے شفاف طریقے سے مستحق خاندانوں تک پہنچایا جائے گا،بینک اور ڈسبرسنگ چارجز صوبائی حکومت خود برداشت کرے گی تاکہ مستحق افراد کو پوری رقم ملے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوانے ہدایت کی ہے کہ امدادی پیکج مکمل شفافیت کے ساتھ مستحق افراد تک پہنچایا جائے اور یتیم اور دہشت گردی سے متاثرہ افراد کو ترجیحی بنیادوں پر پیکج فراہم کیا جائے۔ اسی طرح صوبے کے تمام خواجہ سراوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر امدادی پیکج فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

حکومت خیبرپختونخوا کا پروکیورمنٹ کے عمل میں شفافیت بڑھانے کی جانب اہم قدم

چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ کی زیر صدارت ای پروکیورمنٹ کے حوالے سے ایک اجلاس جمعرات کے روز پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کو نئے الیکٹرانک پروکیورمنٹ سسٹم (ای۔ پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم)کے حوالے سے خیبر پختونخوا پبلک پروکیورمنٹ اتھارٹی کے حکام نے بریفنگ دی اور بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی ہدایت پر سسٹم کے اجرا کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری نے ای پیڈز سسٹم کو ایک ہفتے کے اندر تیار کرنے اور مارچ کے پہلے ہفتے میں اس کا اجرا یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ ای پیڈز سسٹم کے تحت خیبرپختونخوا کے بڑے محکموں سی اینڈ ڈبلیو، ایریگیشن، بلدیات اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سمیت دیگر محکموں کے پروکیورمنٹ کو خودکار نظام میں تبدیل کیا جائے گا۔اس نئے نظام سے شفافیت کے عنصر کو تقویت ملے گی۔ ای پیڈ سسٹم نادرا، ایف بی آر جیسے اداروں سے لنک ہوگا۔ای پیڈزسسٹم سے سرکاری خریداریوں اور ٹھیکوں کے عمل میں شفافیت آئے گی۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں سرکاری امور میں بہتری اور شفافیت کے لیے ٹیکنالوجی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کیا جائے گا اور حکومت خیبرپختونخوا کا یہ اقدام عوامی وسائل کے استعمال میں شفافیت کی جانب اہم قدم ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ رنگیز احمد نے بدھ کے روز

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ رنگیز احمد نے بدھ کے روز موٹر وہیکل ایگزامنر آفس، ویٹس آفس سوات اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی ملاکنڈ ڈویژن کا دورہ کیا اس موقع پر محکمہ ٹرانسپورٹ کے موٹر وہیکل ایگزامنر محمد اکرام، ویٹس آفس کے انچارج ڈاکٹر امتیاز احمد اور سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی ارشد جمیل نے متعلقہ سیکشنز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، بریفنگ میں بتایا گیاکہ موٹر وہیکل ایگزامنر آفس سوات نے سال 2024میں 98 فیصد ریوینیو ہدف حاصل کیا ہے جبکہ ویٹس آفس سوات نے سال 2024-25میں ٹوٹل 16090 گاڑیوں کا معائنہ کیا جسمیں 10400 کو فٹنس سرٹیفیکیٹ دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ رنگیز احمد نے سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو ہدایت کی کہ تمام ٹرانسپورٹ اڈوں کو جلد از جلد رجسٹر کرواکر صوبائی حکومت کے ریونیو کو بڑھایا جائے اور اسکے علاوہ جتنے بھی غیر قانونی بس سٹینڈ ز ہیں انکے خلاف قانونی کارروائی کرکے بند کیا جائے۔معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ رنگیز احمد نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ دس ہزار لائسنس کارڈز ضلع سوات اور ضلع شانگلہ کے دفاتر کو ایشو کرے تاکہ زیر التواء ڈرائیونگ لائسنس کا مسئلہ بروقت حل ہوسکے۔ انھوں نے مزید کہا کہ محکمہ کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے اور اسے جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا تاکہ نہ صرف ٹریفک مسائل پر قابو پایا جائے بلکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات بھی میسرآسکیں انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ڈیجیٹائزیشن صوبے کے ریونیو جنریشن میں سنگ میل ثابت ہوگی۔ دریں اثناء معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ رنگیز احمد نے سوات کے ٹرانسپورٹرز سے ملاقات کی اور انکے مشکلات ومسائل سن کر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔بعد ازاں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ رنگیز احمد نے کمشنر ملاکنڈ ڈویژن عابد وزیر سے انکے دفتر میں ملاقات کی اور ان سے محکمہ ٹرانسپورٹ کے ساتھ تعاون اور ٹرانسپورٹ بارے امور پربات چیت کی جس پر کمشنر ملاکنڈ ڈویژن نے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر سیکرٹری پراونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر طارق عثمان معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ رنگیز احمدکے ہمراہ تھے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر صحت احتشام علی کی ہدایت پر خیبر پختونخوا فیکلٹی آف پیرامیڈیکل

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر صحت احتشام علی کی ہدایت پر خیبر پختونخوا فیکلٹی آف پیرامیڈیکل اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنس کے زیر انتظام ہونے والے امتحان کے عمل کو شفاف انداز میں مکمل کرنے کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں فیکلٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق امتحانی مواد بشمول سوالیہ پرچے اور جوابی کا پیاں وغیرہ سیل شدہ حفاظتی تہوں میں پیک کیاجارہا ہے۔سی ای او کی براہ راست نگرانی میں یہ عمل مکمل کیا جا رہا ہے تمام امتحانی مواد متعلقہ اضلاع میں بینک کے ذریعے محفوظ طریقے سے پہنچایا جائے گا اور اس میں فیکلٹی کے عمل یا کسی بھی بیرونی فرد کی مداخلت مکمل طور پر ختم کر دیاگیاہے اور پہلی دفعہ ان امتحانات کے لیے بہتر قواعد و ضوابط کو لاگو کرتے ہوئے متعلقہ عملہ کی جانچ پڑتال اور انٹرویوز کے بعد اس کوتعینات کیا گیا ہے اور ڈیجیٹل آلات بھی نصب کیے ہیں تاکہ امتحانی عمل حقیقی معنوں میں شفاف طریقے سے مکمل ہو۔

حقیقی تبدیلی وہی رہنما لاتے ہیں جو مشکلات کے باوجود دیانت داری سے کام کرتے ہیں، بیرسٹر ڈاکٹر سیف

مستقبل ان لوگوں کا ہے جو بڑے خواب دیکھتے ہیں اور اپنے مقاصد کی طرف جرات مندانہ اقدامات کرتے ہیں، مشیر اطلاعات

دنیا کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو ذاتی مفادات کے بجائے بڑے مقصد کے تحت کام کریں،بیرسٹر ڈاکٹر سیف

وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ، بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے ینگ لیڈرز کنونشن 2025 سے خطاب کرتے ہوئے مقصدیت پر مبنی قیادت، دیانت داری اور اعلیٰ اقدار سے وابستگی کی اہمیت پر زور دیا۔ اپنے فکر انگیز خطاب میں انہوں نے نوجوانوں کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذمہ داری، استقامت اور اخلاقی قیادت کو اپنا کر بہتر مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی قیادت طاقت کے عہدے پر فائز ہونے کا نام نہیں بلکہ ایک بڑے مقصد کی خدمت کرنے کا نام ہے۔ انہوں نے کہا، ”ایک رہنما کو اختیار سے نہیں بلکہ اس کے اثرات سے پہچانا جاتا ہے۔“ انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ روایتی کامیابی کے پیمانوں سے آگے بڑھیں اور معاشرے میں بامعنی کردار ادا کریں۔انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کردار ہی پائیدار کامیابی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا، ”تاریخ انہیں یاد رکھتی ہے جو خود سے بڑے مقصد کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔“ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ایمانداری، نظم و ضبط اور اخلاقی جرات کو پروان چڑھائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقی تبدیلی وہی رہنما لاتے ہیں جو مشکلات کے باوجود دیانت داری سے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ”بڑی قیادت کی پہچان یہ ہے کہ وہ مشکل فیصلے ایک واضح اخلاقی اصول کے ساتھ کرتی ہے۔“بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے استقامت اور وژن کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مشکلات کو مواقع میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ہی کامیاب قیادت کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا، ”مستقبل ان لوگوں کا ہے جو بڑے خواب دیکھتے ہیں اور اپنے مقاصد کی طرف جرات مندانہ اقدامات کرتے ہیں۔“ انہوں نے نوجوان رہنماؤں کو تاکید کی کہ وہ ناکامیوں سے نہ گھبرائیں بلکہ انہیں سیکھنے کا ذریعہ سمجھیں۔ ”ہر ناکامی ایک سبق ہے اور ہر چیلنج ایک نئے عروج کی جانب قدم ہے،“ انہوں نے کہا اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مشکلات کا سامنا ہمت اور لچک کے ساتھ کریں۔اپنے خطاب کے اختتام پر، ڈاکٹر سیف نے نوجوانوں کو جوش و جذبے اور یقین کے ساتھ اپنے مستقبل کی ذمہ داری سنبھالنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا، ”دنیا کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو ذاتی مفادات کے بجائے بڑے مقصد کے تحت کام کریں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ آپ آگے بڑھیں، فرق پیدا کریں اور دیانت داری کے ساتھ قیادت کریں۔“ انہوں نے سامعین کو سماجی فلاح و بہبود میں حصہ لینے، جدت کو فروغ دینے اور اپنی برادریوں میں مثبت تبدیلی لانے کی تلقین کی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نوجوان نسل قیادت کی نئی تعریف متعین کرے گی اور پاکستان کو ایک خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنائے گی۔

سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے انصرام اختیارات کے دو روزہ اجلاس کا پشاور میں انعقاد، سینیٹر ڈاکٹر زرکا سہرووردی تیمور نے صدارت کی

سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے انصرام اختیارات کے دو روزہ اجلاس کا پشاور میں انعقاد، سینیٹر ڈاکٹر زرکا سہرووردی تیمور نے صدارت کی
سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے انصرام اختیارات کا دو روزہ اجلاس پشاور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت سینیٹر ڈاکٹر زرکا سہرووردی تیمور نے کی۔ اجلاس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تناظر میں صوبائی حقوق سے متعلق امور کے نفاذ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ان اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا جن کے حل کے لیے وفاقی اور بین الصوبائی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔اجلاس میں سینیٹر عبدالوسعی، سینیٹر ضمیر حسین گھمرو، سابق سینیٹر مہر تاج روغانی، سیکرٹری مشترکہ مفادات کونسل عمر رسول، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی اینڈ ڈی خیبرپختونخوا، اور دیگر متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ہائیڈرو پاور منصوبوں اور نیٹ ہائیڈرو منافع کے تحت خیبرپختونخوا کو نیٹ ہائیڈرو منافع کی منتقلی کے مسئلے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ضم اضلاع میں بجلی کے مسائل پر کمیٹی نے ٹیسکو کی فنڈنگ کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا اور زور دیا کہ یہ ٹیسکو فنڈ کا استعمال صوبائی حکومت کی مشاورت سے کیا جائے تاکہ یہ فنڈز ضم اضلاع کے عوام کی بہتری کے لیے استعمال ہوں۔کمیٹی نے ضم اضلاع کے زیر التوا مالی واجبات کا جائزہ لیا، جس پر خیبرپختونخوا حکومت نے ان واجبات کے جلد حل کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں مشترکہ مفادات کونسل کی سابقہ سفارشات کی روشنی میں فاٹا انضمام سے جڑے امور اور عارضی طور پر بے گھر افراد کے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی برائے تمباکو کے معاملے پرخیبرپختونخوا حکومت نے اپنا مؤقف دہرایا کہ تمباکو پر ایکسائز ڈیوٹی کو صوبے کا حق تسلیم کیا جائے۔اجلاس میں جنگلات کے محکمے کی وفاق کے ذمے پنشن واجبات،ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر فنڈز سے متعلق زیر التوا معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔اجلاس میں خیبرپختونخوا کی 3,147 تاریخی نوادرات کے معاملے پر تبادلہ خیال ہوا جو دیگر صوبوں کے قبضے میں ہیں اور موقف اختیار کیا گیا کہ یہ نوادرات فوری صوبے کو منتقل کی جائیں۔کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی بی بل کے مسودے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جسے خیبرپختونخوا حکومت نے سی سی آئی کی سفارشات کے مطابق تیار کرنا ہے۔اجلاس میں لائیو اسٹاک تحفظ کے لیے قرنطینہ کے اختیار کو صوبے کو منتقلی پر زور دیا گیا، اور خیبرپختونخوا حکومت کو ہدایت دی گئی کہ وہ اس معاملے پر وفاقی حکومت اور متعلقہ کمیٹیوں سے باضابطہ رابطہ کرے۔ اجلاس میں پی ایس بی کوچنگ سینٹر اور یوتھ ہاسٹل خانس پور گلیات کی صوبے کو منتقلی کے معاملات بھی زیرِ غور آئے اور ایسے تمام سہولیات کو صوبے کو منتقل کرنے پر زور دیا گیا۔ سینیٹر ڈاکٹر زرکا سہرووردی تیمور نے آئینی دفعات پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت کو اہم قرار دیا اور کہا کہ 18ویں ترمیم کے من و عن عملدرآمد کے لئے ضروری ہے کہ ان تمام امور پر صوبائی حق نہ صرف تسلیم کیا جائے بلکہ فوری عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔سینیٹر عبدالوسعی نے اجلاس کے شرکاء کو یقین دلایا کہ یہ امور وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھائے جائیں گے تاکہ خیبرپختونخوا کے دیرینہ مسائل کو جلد از جلد حل کیا جا سکے۔

مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف کا پنجاب کے اشتہاری بجٹ کی تحقیقات کا مطالبہ

0

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے پنجاب کے اشتہاری بجٹ کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے غریب عوام کا پیسہ اشتہاروں پر لٹایا جا رہا ہے، یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔سوال یہ ہے کہ پنجاب میں کیا مہنگائی اور بے روزگاری ختم ہو چکی ہے وہ کون سی کارکردگی ہے جس کی تشہیر کی جا رہی ہے، پیکا کالے قانون کے بعد عوام کے ٹیکسوں کے پیسے سے اخبارات اشتہارات میں بدل دئیے گئے ہیں، اخبار میں اب خبر نہیں اشتہار شائع ہونگے، بتایا جائے کتنے پیسے ایک فرد کی تشہیر پر خرچ ہوئے ہیں، یہ بھی تحقیقات ہونی چاہیے کہ سرکاری پیسہ کیوں لٹایا گیا، ذمہ داروں سے یہ پیسہ وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرایا جائے،انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب میں غیر منتخب حکومتوں کی کارکردگی اشتہاری ڈرامہ بازی تک محدود ہے، عوام کو نظر آ رہی ہے نہ انہیں محسوس ہو رہی ہے، مریم نواز شریف کی ”سرکاری پروموشن” کا مزاحیہ اشتہار فرسٹریشن کی انتہا ہے، عوام کا لیڈر بننے کے شوق میں یہ کردار مذاق بن چکے ہیں، سرکاری اشتہاروں کے ذریعے عوام کا پیسہ”دو غیر سیاسی بچوں ” کو زبردستی لیڈر بنانے پر لٹانا بدقسمتی ہے، بیرسٹر ڈاکٹرسیف نے کہا کہ چھبیسویں ترمیم نہ ہوتی تو شاید عدلیہ قومی وسائل کی لوٹ مار اور اپنے حکم کی خلاف ورزی کا نوٹس لے لیتی۔

جنگلات ہمارے آنے والے نسلوں کی بقا کا ضامن ہے،معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات، ماحولیات، جنگلی حیات و موسمیاتی تبدیلی پیر مصور خان نے کہا ہے کہ شجرکاری اور موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات کے حوالے سے عوامی بیداری میں جامعات کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، شجرکاری کے ساتھ ساتھ در ختوں اور پودوں کی حفاظت یقینی بنانا بھی حکومت اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ان خیالات کا اظہار انھوں نے زرعی یونیورسٹی پشاور کے دورے کے موقع پر موسم بہار شجرکاری مہم کے افتتاح کے موقع پر کیا، اس موقع پر پروسٹ زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر ہارون خان، کنزرویٹر حیات علی، ڈی ایف او طارق خادم، سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر پشاور عبد الستار اور یونیورسٹی حکام سمیت انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر اور اراکین بھی موجود تھے، معاون خصوصی پیر مصور خان نے یونیورسٹی میں پودا لگایا اور یونیورسٹی انتظامیہ کو تقریباً پانچ سو پھلدار پودے حوالے کئے جنہیں انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن انتظامیہ کے ساتھ ملکر لگائے گی،پیر مصور خان نے افتتاحی مہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا شکار ہے جس سے نبردآزما ہونے کے لئے ہمیں زیادہ سے زیادہ شجرکاری کرنا ہوگی یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت بانی چئیرمن عمران خان کے ویژن اور وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی خصوصی ہدایات پر صوبے میں جنگلات کے فروغ اور پائیدار ترقی کو اولین ترجیح دے رہی ہے، جنگلات نہ صرف ملکی معاشی استحکام میں کردار ادا کر سکتے ہیں بلکہ صوبے بالخصوص سیاحتی مقاماتِ میں خوبصورتی میں اضافے کا باعث بھی ہیں، پیر مصور خان کا مزید کہنا تھا کہ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے، جنگلات ہماری آ نے والی نسلوں کی بقا کے ضامن بھی ہیں،اس لئے من حیث القوم ہمیں شجرکاری پر بھرپور توجہ دینا ہوگی، معاون خصوصی برائے جنگلات نے کہا کہ موسم بہار شجرکاری کے تحت پورے صوبے میں تقریباً 26 لاکھ پودے لگائے جائیں گے جن کے ماحول پر اچھے اثرات مرتب ہونگے۔