Home Blog Page 153

وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کا ایجوکیشن بیٹ کے صحافیوں کے اعزاز میں ظہرانہ

محکمہ تعلیم کی جانب سے ”میٹ اینڈ گریٹ” کے نام سے ایجوکیشن بیٹ کے صحافیوں کے لیئے خصوصی نشست کا اہتمام

وزیر برائے ایلیمینٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبر پختونخوا فیصل خان ترکئی نے ایجوکیشن بیٹ کے صحافیوں کے ساتھ ”میٹ اینڈ گریٹ” کے عنوان سے خصوصی نشست کا اہتمام کیا۔ جس میں انکی جانب سے گزشتہ ایک سال کے دوران کی گئیں کلیدی اصلاحات اور اقدامات پر روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر وزیر تعلیم نے اپنے مستقبل کے وژن کا بھی تفصیل سے ذکر کیا، انھوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ صوبہ بھر سے آوٹ آف سکول بچوں کی تعداد میں واضع کمی لائیں گے اسکے لیئے اس سال میڈیا، سول سوسائٹی اور محکمہ تعلیم کے اساتذہ کے ساتھ مل کر بھرپور داخلہ مہم بھی چلائیں گے۔ وزیر تعلیم کی جانب سے خیبر پختونخوا کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے حوالے سے مثبت رپورٹنگ کرنے پر صحافیوں کے کردار کو بھی سراہا گیا۔تقریب کا اہتمام ایلیمینٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی میڈیا ٹیم کی جانب سے کیا گیا۔ تقریب میں سیکرٹری محکمہ تعلیم حکام کے علاوہ کثیر تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی۔ وزیر تعلیم نے اپنی تقریر میں بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے متعدد اصلاحات اور منصوبے متعارف کروائے گئے ہیں جن میں تعلیم کارڈ، پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ، رینٹڈ بلڈنگ پروگرام، سیکنڈ شفٹ سکولز پروگرام، اساتذہ کے لیئے انڈکشن پروگرام، سکالرشپش میں خصوصی اضافہ اور دیگر پروگرام شامل ہیں۔ جن کا مقصد تعلیمی معیار کو بلند کرنا اور جدید تعلیم کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیکنڈ شفٹ سکول اساتزہ کو بقایا جات کی ادائیگی کیساتھ ساتھ ان کی تنخواہیں کم سے کم ماہانہ اجرت تک لانے کیساتھ کمیونٹی سکول اساتزہ کی تنخواہوں کے بقایا جات بھی ادا کئے جائیں گے۔ 16240 نئے اساتزہ کی میرٹ پر بھرتی سے اساتزہ کی کمی پوری ہو جائے گی۔ ایٹا سکالرشپ کی تعداد ڈبل کرکے 506 کردی ہے۔ سات ہزار بچوں کو رحمت اللعالمین اسکالرشپس دے رہے ہیں۔ تعلیم کارڈ 8 اضلاع سے پائلٹ کررہے ہیں جس کو پھر صوبہ بھر تک توسیع دی جائے گی۔ انڈومنٹ فنڈ قائم کررہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ پرفارمینس سکور کارڈ سے سزا وجزا کا عمل شروع کررہے ہیں۔ اصلاحات کی بدولت ہمارے سرکاری سکولوں کے بچے بورڈز میں پوزیشن لے رہے ہیں۔ ای ٹرانسفر پالیسی لاگو ہے آن لائین تبادلے صرف چھٹیوں میں ہوں گے۔ بنک آف خیبر کیساتھ معاہدہ کرکے صوبہ بھر کے سکولوں کو سولرایزڈ کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا عوام تک درست معلومات پہنچانے اور تعلیمی پالیسیوں کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے اور ان کی تجاویز کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا۔وزیر تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ ہم تعلیم کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس سلسلے میں صحافیوں کی رائے اور تجاویز ہمارے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ ہمارا مقصد خیبر پختونخوا کے ہر بچے تک معیاری تعلیم کی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔تقریب کے دوران سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں صحافیوں نے تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ وزیر تعلیم نے ان تمام تجاویز پر غور کرنے اور انہیں تعلیمی پالیسی سازی میں شامل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

رمضان سے قبل محکمہ خوراک اور فوڈ اتھارٹی کا گراں فروشوں اور غیر معیاری خوراک کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

گراں فروشی اور غیر معیاری خوردونوش اشیاء کے کاروبار میں ملوث افراد کیساتھ سختی سے نمٹا جائے گا، وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو

فوڈ اتھارٹی کا مردان میں نمکو یونٹ پر چھاپہ، 1 ہزار 136 کلو غیر معیاری کھلا تیل برآمد، سوات سے 300 لیٹر غیر معیاری دودھ تلف بھاری جرمانے عائد

محکمہ خوراک نے گراں فروشی پر 13 مقدمات درج کر لیے،سخت کاروائی کا فیصلہ

وزیر خوراک خیبر پختونخوا ظاہر شاہ طورو کی ہدایت پر رمضان سے قبل محکمہ خوراک اور فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے مضر صحت اور گراں فروشی کے خلاف کارروائیوں میں تیزی کر دی۔ ترجمان نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ فوڈ سیفٹی ٹیم نے مردان میں نمکو یونٹ پر چھاپہ مارا اور انسپکشن کے دوران 1 ہزار 136 لیٹرز سے زائد غیر معیاری اور ناقص کھلا تیل برآمد کر کے تلف کر دیا، کارخانے سے نان فوڈ گریڈ کلر بھی برآمد ہوا جس پر کارخانے کو سربمہر کر کے فوڈ سیفٹی ایکٹ کیمطابق مزید کارروائی کا آغاز کردیا گیا اسی طرح فوڈ سیفٹی ٹیموں نے ڈی آئی خان، سوات اور بنوں میں مین شاہراہوں پر ناکہ بندیاں کی اور خوردونوش اشیاء کی گاڑیوں کی چیکنگ کی، معائنوں کے دوران سوات میں ایک گاڑی سے غیر معیاری 300 لیٹرز دودھ پکڑ کر تلف کر دیاگیا اوربھاری جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔مزید تفصیلات کیمطابق محکمہ خوراک کے اہلکاروں نے بھی پشاور میں جنرل اسٹورز، کباب ہوٹلز، دودھ فروشوں اور قصائیوں پر چھاپے مارے اور سرکاری نرخ نامے چیک کیے اور گاہکوں سے مختلف خوردونوش اشیاء کے بارے میں دریافت کیا، اس دوران گران فروشی پر 13 دوکانداروں کیخلاف ایف آئی آر درج کر کے کاروائی کا آغاز کر دیا گیا۔ ظاہر شاہ طورو نے گرانفروشوں اور غیر معیاری کاروباروں میں ملوث افراد کیخلاف کریک ڈاؤن کو سراہتے ہوئے کہا کہ گران فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کیساتھ سختی سے نمٹا جائے گا، صوبائی وزیر نے افسران کوگران فروشوں، ذخیرہ اندوزوں اور غیر معیاری خوردونوش اشیاء پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔

بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا گورنر کے خط پر ردعمل

0

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے گورنر خیبر پختونخوا کے وفاق کو لکھے گئے خط پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر کی ترجیحات صرف اپنی کرسی بچانا ہے انہیں صوبے کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے تجویز دی کہ گورنر ایک خط وفاق کو صوبے کے حقوق پر بھی لکھ دیں اور اس میں صوبے کے بقایا جات کی ادائیگی اور اس کے ساتھ سوتیلی ماں جیسے سلوک کے خاتمے کی استدعا کریں اور این ایف سی ایوارڈ میں پورا حصہ دینے کی درخواست کریں۔اسی طرح گورنر خیبر پختونخوا کو چاہئے کہ وہ وزیر ا علیٰ سردار علی امین گنڈا پور کی طرح صوبے کی فلاح و بہبود کے لیے بھی کچھ کریں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ گورنر بیچارے کا ویسے بھی کوئی کام نہیں ہے صرف خط ہی لکھ سکتے ہیں اور افسوس ہوتا ہے کہ گورنر ہاؤس کا کردار آج کل محض ایک ڈاک خانے جیسا ہے جہاں ایک مسترد شدہ ڈاکیا بیٹھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف صوبے میں دہشت گردی ہے جبکہ دوسری طرف وفاق خیبر پختون کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کرتے ہیں خیبر پختون خوا کے بقایا جات کے علاوہ دہشت گردی کے مد میں صوبے کے پیسے بھی پورے نہیں دیتے ہیں لیکن اس حوالے سے گورنر فیصل کریم کنڈی نے کبھی وفاق میں بیٹھے حکمرانوں کو خط نہیں لکھا۔ انہوں نے کہا کہ گورنر سیاسی بیان بازیوں اور غیر سنجیدہ خطوط لکھنے کے بجائے وفاق سے اپنے صوبے کا حق لیں۔

سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا ارشد خان نے کہا ہے کہ

سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ خیبر پختونخوا ارشد خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اخباری مالکان اورکارکنوں کے مسائل کے حل کیلئے بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے اور انکی مشکلات کے خاتمے کیلئے بڑا پلان تشکیل دے رہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صحافیوں اور اخباری مالکان کے مسائل حل کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور انکی مشکلات کے خاتمے کیلئے حکومتی کارکردگی کی مضبوط کمپین لانچ کر رہی ہے جس کیلئے کروڑوں روپے ریلیز کر دیئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ اخبارات اور انکے کارکنوں کو آجکل جن مشکلات کا سامنا ہے حکومت ان سے بخوبی آگاہ ہے اس وجہ سے ان مشکلات کے خاتمے کیلئے ماہانہ کی بنیادوں پر اشتہارات کی رقوم کی ترسیل یقینی بنادی ہے اور رمضان المبارک اور عید کیلئے بھی اشتہارات کی رقم کی مد میں چیکس دیئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اخباری مالکان کی مشکلات کے خاتمے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے اور محکمہ اطلاعات کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے تاکہ کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہوسکے اور تمام اخبارات کو انکا صحیح حق مل سکے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی کارکردگی پورے ملک کیلئے ایک مثال ہے جس کی بہترین تشہیر کی جا رہی ہے۔

خیبر پختونخوا میں منکی پاکس (M-Pox) کا پہلا مقامی کیس رپورٹ، مشیر صحت احتشام علی کی تصدیق

مشیر صحت خیبر پختونخوا احتشام علی نے صوبے میں منکی پاکس (M-Pox) کے ایک اور کیس کی تصدیق کر دی ہے۔ ان کے مطابق یہ خیبر پختونخوا میں پہلا مقامی منتقلی (کمیونٹی ٹرانسمیشن) کا کیس ہے اس سے قبل جتنے بھی کیس رپورٹ ہوئے تھے وہ بیرون ملک سفر سے واپسی پر سامنے آئے تھے۔مشیر صحت نے مزید بتایا کہ متاثرہ خاتون کے شوہر حال ہی میں ایک خلیجی ملک سے وطن واپس آئے تھے جن میں ابتدائی طور پر کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں، تاہم بعد ازاں ان میں بھی منکی پاکس کی تصدیق ہو گئی تھی۔ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ ڈاکٹر فضل مجید کے مطابق مریضہ کو 18 فروری 2025 کو بخار اور جسم میں درد کی شکایت پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ 19 فروری کو ان کے جسم اور منہ میں دانے (رَش) نمودار ہوئے جس پر پبلک ہیلتھ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد عامر خان نے کیس رپورٹ کیا۔ 20 فروری کو تحقیقاتی ٹیم نے مریضہ کے نمونے حاصل کر کے خیبر میڈیکل یونیورسٹی پبلک ہیلتھ ریفرنس لیبارٹری، پشاور بھجوائے جہاں 21 فروری کو منکی پاکس کی تصدیق ہوئی۔ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ نے مریضہ کے شوہر کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی وطن واپسی کے وقت کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں تاہم 5 فروری کو انھیں بخار اور جسم میں درد محسوس ہوا اور 6 فروری کو ان کے جسم اور منہ میں دانے نمودار ہو گئے تاہم، انہوں نے طبی سہولیات حاصل کرنے کے بجائے 10 سے 15 دن تک گھر پر ہی قیام کیا۔ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز خیبر پختونخوا کی ہدایت پر پبلک ہیلتھ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر محمد عامر خان اور ڈاکٹر فوزیہ آفریدی کی سربراہی میں ریپڈ رسپانس ٹیم تشکیل دی گئی جس نے 22 فروری 2025 کو مریضہ کی طبی ہسٹری حاصل کی۔ متاثرہ خاندان اور ان کے قریبی افراد کی اسکریننگ کی گئی اور مریضہ کے شوہر سمیت تمام قریبی افراد کو گھریلو آئسولیشن کی ہدایت دی گئی ہے۔ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ ڈاکٹر فضل مجید نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ منکی پاکس کی علامات سے آگاہ رہیں اور کسی بھی مشتبہ علامت کی صورت میں فوری طور پر قریبی مرکز صحت سے رجوع کریں۔

خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ

خیبر پختونخوا کے وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایات کی روشنی میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اولین ترجیح ہے، محکمہ آبپاشی خیبرپختونخوا نے اس قلیل عرصہ میں 8 ڈیموں کی تکمیل کو ممکن بنایا، جڑوبہ ڈیم ضلع نوشہرہ سے 930 ایکڑ بنجر اراضی قابل کاشت ہوگی، صوبائی حکومت عوامی خدمت کیلئے پرعزم ہے۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر آبپاشی عاقب اللہ خان نے گزشتہ روز ضلع نوشہرہ میں جڑوبہ ڈیم دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وزیر آبپاشی کا کہنا تھا کہ اس وقت صوبہ میں کل 36 سمال ڈیمز کی تعمیر پر کام تیزی سے جاری ہے جن میں 8 دیمز تقریباً مکمل ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جڑوبہ ڈیم آبپاشی کیلئے 4.65 کیوسک پانی فراہم کرے گا جس کیلئے ملحقہ دیہات کی آبپاشی کیلئے 6.15 کلومیٹر طویل نہر تیار کی گئی ہے۔عاقب اللہ خان کا کہنا تھا کہ ڈیموں کی تعمیر سے نہ صرف پانی کے مسائل حل ہوں گے بلکہ اس سے زراعت، توانائی، سیاحت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور معیشت مضبوط ہوتی ہے۔

قومی اصلاحی تحریک کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بیرسٹر ڈاکٹر سیف سے

قومی اصلاحی تحریک کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے بیرسٹر ڈاکٹر سیف سے گزشتہ روز صوبائی صدر سہراب علی کی سربراہی میں انکے دفتر میں ملاقات کی، ملاقات میں سینئر نائب صدر ریٹائرڈ ایس ایس پی میاں نصیب جان خان،مرکزی ترجمان جاوید خان ایڈوکیٹ، مردان ڈویژن صدرہمایون خان خلجی، ضلع مردان صدر شیر محمد خان، پشاور صدر جان افضل خان، صوابی صدر شہریار خان، مالیاتی سیکرٹری حاجی ایاز خان، پریس سیکرٹری ساجد گل بہار اور ضلع چارسدہ صدر حاجی ابراہیم مہمند ایڈوکیٹ نے شرکت کی۔ ملاقات میں معاشرتی برائیوں، خصوصاً آئس نشے اور دیگر جرائم کی روک تھام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر قانونی معاونت، آگاہی مہم اور حکومتی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔ وفد نے بیرسٹر ڈاکٹرسیف کو قومی اصلاحی تحریک کے اغراض ومقاصد پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک معاشرے میں نہ صرف اصلاحی کام کرتی ہے بلکہ فلاحی کاموں میں بھی مصروف ہے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے قومی اصلاحی تحریک کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں ہر ممکن حکومتی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو نشے اور دیگر جرائم سے پاک کرنے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں اور حکومت ایسے مثبت اقدامات میں بھرپور تعاون کرے گی۔قومی اصلاحی تحریک کے وفد نے حکومتی دلچسپی اور معاونت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ وہ اصلاحی اور فلاحی کاموں سمیت سماج کو منشیات اور جرائم سے پاک کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

مردان ویلج کونسلز سوکئی اور بھاگو بانڈہ کے لئے علیحدہ فیڈر کی تنصیب پراہل علاقہ میں خوشی کی لہر، صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کا تہہ دل سے شکریہ

وزیر خوراک خیبر پختونخوا ظاہر شاہ طورونے کہا ہے کہ صوبائی حکومت عوامی مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ضلع مردان کے مختلف علاقوں کی ترقی اور خوشحالی ترجیحات میں شامل ہے اور بہت جلد مزید منصوبے جلد شروع کیے جائیں گے ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر نے ویلج کونسل بھاگو بانڈہ اور سوکء ویلج کیلئے علیحدہ فیڈر کی تنصیب کے بعد علاقے کے دورے کے موقع پر کیا، جہاں انہوں نے علاقے کے عمائدین سے ملاقات کی اور عوامی مسائل اور ترقیاتی منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ویلج کونسل بھاگو بانڈہ کے چیئرمین حاجی نور گل مہمند اور چیئرمین لعل بادشاہ اور دیگر معززین نے صوبائی وزیر کا پرتپاک استقبال کیا اور علاقے میں بجلی کی فراہمی کے اس اہم منصوبے پر اظہارِ تشکر کیا۔ عمائدین نے کہا کہ پہلے یہ علاقے رشکئی فیڈر سے بجلی حاصل کر رہے تھے، جس کے باعث شدید لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا، تاہم علیحدہ فیڈر کی تنصیب سے اس مسئلے میں نمایاں کمی آئے گی۔علاقہ مکینوں نے صوبائی وزیر خوراک کے اس اقدام کو علاقے کی ترقی میں سنگِ میل قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حکومت اسی طرح عوامی فلاح و بہبود کے مزید منصوبے بھی مکمل کرے گی-

توانائی منصوبوں میں وفاق کے ساتھ درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا،سیکرٹری توانائی کاخطاب

پیڈوکوصوبے کا سب سے زیادہ آمدن دینے والاادارہ بنایاجائے گا،زبیرخان
متعدد منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں،معیشت کے استحکام اورصنعتی ترقی میں معاون ثابت ہونگے
توانائی منصوبوں میں وفاق کے ساتھ درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا،سیکرٹری توانائی کاخطاب
سیکرٹری توانائی وبرقیات محمدزبیرخان نے کہا ہے کہ توانائی کے جاری منصوبوں میں متعددمنصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں جومستقبل میں صوبے کی معیشت کے استحکام اورصنعتی شعبے کی ترقی کے لئے معاون ثابت ہونگے۔وفاقی اداروں کے ساتھ توانائی منصوبوں کودرپیش مسائل کے حل کے لئے ترجیحی بنیادوں پراعلیٰ سطحی فورمز سے جلدرابطہ کیا جائیگا۔توانائی منصوبوں کی بروقت تکمیل صوبے اورعوام کے مفاد میں ہے اس لئے جاری منصوبوں کوجلدازجلدمکمل کرکے بجلی کی پیداوارشروع کی جائے۔ پیڈو جیسے اہم ترین ادارے کو ٹیم ورک کے تحت ماہرین کے تعاون سے صوبے کا ترقیافتہ اورسب سے زیادہ سالانہ اربوں روپے آمدن دینے والاادارہ بنایا جائے گا۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے پیڈوہاؤس میں توانائی کے جاری منصوبوں میں ہونے والی پیشرفت کے بارے میں منعقدہ جائزہ اجلاس میں کیا۔چیف ایگزیکٹو پیڈوانجینئرریاض احمد جان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیڈو کی نگرانی میں اس وقت ہائیڈرو،سولرپاورسمیت ٹرانسمیشن لائن کے متعدد توانائی منصوبوں پر کام جاری ہے۔پیڈونے پن بجلی کے7منصوبے کامیابی کے ساتھ مکمل کئے ہیں جن سے مجموعی طورپر161میگاواٹ بجلی پیداکی جارہی ہے جس سے صوبے کو سالانہ4ارب روپے سے زائد کی آمدن ہورہی ہے جبکہ12منصوبوں جن میں 300میگاواٹ بالاکوٹ مانسہرہ،157میگاواٹ مدین سوات،88میگاواٹ گبرال کالام،84میگاواٹ مٹلتان سوات،69میگاواٹ لاوی چترال،40.8میگاواٹ کوٹودیر،11.8میگاواٹ کروڑہ شانگلہ،10.5میگاواٹ چپری چارخیل کرم اور6.9میگاواٹ مجاہدین پاورپراجیکٹ تورغر منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جن سے مجموعی طورپر 778میگاواٹ بجلی پیداکی جائے گی اور صوبے کو سالانہ 45ارب روپے سے زائد کی آمدن ہوگی۔ان منصوبوں میں سے بیشترمنصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔بعدازاں پراجیکٹ ڈائریکٹرسولرانجینئراسفندیارنے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ صوبائی حکومت نے صوبے کے مختلف اضلاع میں 8ہزارسکولوں،5762مساجد،6650گھرانوں،187 بنیادی مراکزصحت سمیت سرکاری عمارتوں جن میں وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ وہاؤس اورسول سیکرٹریٹ میں بعض دفاترکو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبوں کومکمل کیا جاچکاہے جن کی مد میں عوام اورحکومت کو ماہانہ بجلی کے بلوں کی مد میں کروڑوں روپے کی بچت ہورہی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوانے گزشتہ دنوں 55ارب روپے لاگت کے2بڑے فلیگ شپ منصوبوں کا افتتاح کیا ہے جن میں 20ارب روپے کی لاگت سے13000سرکاری عمارتوں اور35ارب روپے کی لاگت سے1لاکھ 30ہزارگھرانوں کوآئندہ2سالوں میں شمسی توانائی پرمنتقل کیا جائیگا۔مفت سولر سکیم کے تحت پیڈوکوآن لائن 10لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔اجلاس کے آخرمیں سیکرٹری توانائی نے پیڈوکی مجموعی کارکردگی پر اطمینان کا اظہارکیااور پیڈوحکام کو سختی سے خبردارکرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے جاری منصوبے مقررہ مدت میں ہرصورت مکمل کئے جائیں کیونکہ عوامی فلاح کے منصوبوں میں کسی بھی قسم کی تاخیرناقابل برداشت ہے۔

صوبائی حکومت جنگلات کے فروغ اور تحفظ کے لئے عملی اقدامات اٹھارہی ہے، معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت جنگلات کے فروغ اور تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھارہی ہے، پورے صوبے میں موسم بہار شجرکاری کے تحت پودے لگائے جارہے ہیں، ضلع ملاکنڈ میں دس لاکھ پودے لگانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، عوام کے تعاون سے صوبے کو سرسبز و شاداب بنائینگے ان خیالات کا اظہار انھوں نے کوٹ اتمان خیل، ملاکنڈ میں محکمہ جنگلات کی جانب سے ”آشر پلانٹیشن” کے نام سے شجرکاری مہم کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ حامدالرحمان، اسسٹنٹ کمشنر درگئی، محکمہ جنگلات کے افسران کے علاوہ سرکاری سکولوں کے طلباء اور مقامی لوگ بھی موجود تھے، آشر شجرکاری مہم کے تحت محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے مقامی فلاحی تنظیم ”نوے سحر” سرکار ی سکولوں کے طلباء اور مقامی لوگوں کے ساتھ ملکر مختلف انواع کے تقریباً پانچ ہزار پودوں کی شجرکاری کی جبکہ معاون خصوصی برائے جنگلات پیر مصور خان نے مقامی لوگوں میں پودے بھی تقسیم کئے، معاون خصوصی پیر مصور خان نے شجرکاری مہم کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت بانی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے مطابق اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی قیادت میں صوبے میں جنگلات کے فروغ اور تحفظ کے لئے کوشاں ہے، زیادہ سے زیادہ شجرکاری کے ذریعے ہی ہم موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کر سکتے ہیں، انھوں نے شجرکاری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کی ترغیب دی تاکہ ایک صحت مند اور سرسبز ماحول کو فروغ دیا جا سکے، ملاکنڈ میں شجرکاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ محکمہ جنگلات ملاکنڈ میں مجموعی طور پر دس لاکھ پودوں کی شجرکاری کرے گا، حکومت کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری تنظیموں کا شجرکاری مہم میں حصہ لینا قابل تحسین ہے، انھوں نے لوگوں پر زور دیا کہ اپنے گھروں سمیت ہر جگہ پر پودے لگائیں کیونکہ پودے نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کے لئے ضروری ہیں بلکہ علاقے کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث بھی بنتے ہیں، معاون خصوصی پیر مصور خان کا کہنا تھا کہ سکولوں کے طلباء اور نوجوان حکومت کے ساتھ ملکر صوبے کو سر سبز و شاداب بنانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں دریں اثناء معاون خصوصی پیر مصور خان نے گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول کوٹ کا بھی دورہ کیا جہاں انھوں نے شجرکاری مہم کے تحت پودا لگایا انھوں نے اساتذہ کرام کو ہدایت کی کہ طلبہ میں شجرکاری اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے حوالے سے شعور اجاگر کریں۔